تاجکستان کے حراستی مرکز سے پچیس سزا یافتہ عسکریت پسند فرار
فرار ہونے والوں میں ضیوئیف برادران بھی شامل ہیں
بزرگ مخر انصوری
2010-08-23
دوشنبہ -- بائیس اور تیئس اگست کی درمیانی شب دوشنبہ میں ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے حراستی مرکز سے پچیس سزا یافتہ عسکریت پسند فرار ہو گئے۔ ان میں متحدہ تاجک حزب اختلاف کے سابق کمانڈر مرحوم مرزو ضیوئیف کے دو بیٹے سید اخمد اور مخمد رضو ضیوئیف بھی شامل ہیں۔
ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے مطابق، فرار ہونے والے عسکریت پسندوں نے اس کارروائی کے دوران ایک محافظ کو ہلاک کر کے ہتھیار قبضے میں لے لیے اور کیموفلاج وردیاں پہن کر وہاں سے فرار ہو گئے۔
ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے نائب چیئرمین اول قوسم غفوروف نے بتایا کہ فرار کا منصوبہ بنانے والوں میں ضلع جلال الدینی رومی کے ابروخم نصر الدینوف، روس کی ریاست داغستان کے ماگامد اخمیدوف اور ضلع پنج کے خکمت عزیزوف شامل ہیں۔
غفوروف نے بتایا کہ نصر الدینوف، اخمیدوف اور عزیزوف نے محافظ پر حملہ کر کے اسے قتل کیا اور پھر مسلح ہو کر دیگر 22 قیدیوں کو بھی رہا کرا لیا۔
اس کے بعد انہوں نے وزارت انصاف کے عارضی حراستی مرکز کے محافظوں پر ہلہ بول دیا۔ مجرمان اور وزارت انصاف کے محافظین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چار محافظ جاں بحق ہو گئے۔
صدر امام علی رحمان نے وزیر داخلہ عبدو راخم قخ خوروف کو ملک بھر میں مجرموں کی تلاش کے کام کی قیادت سونپی ہے۔
تمام سیکورٹی اداروں کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے اور پولیس اور سرحدی محافظوں کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
حکام کو شبہ ہے کہ مفرور عسکریت پسند مشرقی تاجکستان میں وادی رشت کی جانب فرار ہوئے ہیں اور انہوں نے وزارت داخلہ اور ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے دستوں کو وہاں روانہ کر دیا ہے۔
ماہر سیاسیات عبدو غنی مامد عظیموف کی پیش گوئی کے مطابق، اس فرار سے سیاسی مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ فرار ہونے والے کسی بھی شخص کا اسلامی رینائسنس پارٹی سے تعلق نہیں ہے جو حقیقی معنوں میں اثر و رسوخ کی حامل جماعت ہے۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق اسلامی تحریک برائے ازبکستان سے ہے جسے عوام میں کوئی حمایت حاصل نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عوام سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے بارے میں محتاط ہیں اور بے روزگاری اور غربت کی بلند شرح کے باوجود بعض گروپوں کی تخریبی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بنیں گے۔
مامد عظیموف نے اس فرار کو سیکورٹی اداروں کی کارروائیوں میں پائی جانے والی خامیوں سے منسوب کیا۔ اسلامی رینائسنس پارٹی کے عہدیدار خکمت اللو سیف اللو زودہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے عوامی تشویش میں اضافہ ہو گا اور یہ سوال اٹھ کھڑا ہوگا کہ اتنی بڑی تعداد میں عسکریت پسند دو اداروں کے زیر نگرانی حراستی مرکز سے فرار ہونے میں کیسے کامیاب ہوگئے؟ صورت حال اس لحاظ سے مزید گھمبیر ہے کہ کسی کو بھی علم نہیں کہ وہ فرار ہو کر کہاں گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت انصاف اور ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی پر نظر ثانی اہم ہے اور ملکی استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے سرحدوں پر حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ فرار ہونے والے بیشتر افراد ان 46سزا یافتہ ملزمان میں شامل ہیں جنہیں 20 اگست کو سپریم کورٹ نے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں 19 سے 30 سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وہ 2009 میں سرکاری فوج اور شورش پسندوں کے مابین لڑائی میں ہلاک ہونے والے مرزو ضیوئیف کے حامی تھے۔ سپریم کورٹ نے فرار ہونے والے دو مشہور افراد یعنی ضیوئیف کے بیٹوں سید اخمد اور مخمد رضو کو جولائی میں بالترتیب 30 اور 28 سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
نیازوف کے ہمراہ ریاستی قومی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ اور وزیر داخلہ سید امیر زخوروف کھڑے ہیں۔
اس وقت خطے میں ان کے فرار کا معاملہ کافی زیر بحث ہے۔ مجھے اس موضوع پر آپ کی تحریریں پسند آئیں۔ ذرائع ابلاغ کے دیگر اداروں کے برعکس آپ پہلے جانچ پڑتال کرتے ہیں اور پھر خبر دیتے ہیں۔ آپ کی ویب سائیٹ افواہوں سے پاک ہوتی ہے اور یہ بہت اچھی چیز ہے۔
آپ کو حال ہی میں جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں کے بارے میں لکھنا چاہیے۔ سب جگہ یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ جیل سے فرار ہونے والوں کی تعداد 25 سے زائد ہے۔
کم از کم تصویروں کے عنوانات کو ہی درست کرلیں۔ یہ آپ سے کس نے کہا کہ ضیوئیف کے ہمراہ قہاروف کھڑے ہیں؟ یہ تو کوئی مختلف شخص ہیں۔ کوئی چیز لکھنے سے قبل بہتر ہے کہ عواقب پر غور کیا جائے اور کسی باخبر شخص سے تصدیق کر لی جائے۔