ازبکستان کے کالج مبینہ طور پر بدعنوانی میں ملوث ہیں

امیدواروں کے والدین کو داخلے کے لئے 300 سے 3,000 امریکی ڈالر تک رشوت دینا پڑتی ہے

شاکر سعدی اور عبید اللو بابا دزہانوف

2010-07-28

تاشقند – سولہ سالہ شخرت کائیبوف ایک نیم روشن کمرے میں بستر پر لیٹے چھت کو گھور رہے ہیں۔

ان کے میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے خواب چکنا چور ہو چکے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل انہوں نے میڈیکل کالج میں داخلے کا امتحان دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ میں کئی سوالات خالی چھوڑ آیا۔

ازبکستان میں ماضی کی نسبت آج کل داخلہ امتحانات کو کافی اہمیت دی جاتی ہے۔ بعض ماہرین تعلیم کے نزدیک اس نظام سے بدعنوانی کا خاتمہ ہوتا ہے تاہم طلباء اور والدین کا کہنا ہے کہ اس نظام سے رشوت کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ کرغزستان کے تعلیمی نظام کو بھی اسی طرح کے الزامات کا سامنا ہے۔

شخرت نے داخلہ امتحان میں اپنی کارکردگی کے بارے میں پوچھے گئے بیشتر سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا اور اس کی بجائے وہ اپنی بستر کی چادر کے کنارے کو موڑنے اور اپنا ہونٹ چبانے میں مصروف رہے۔

ان کی حیاتیات کی درسی کتاب سے ان کی سابق ہم جماعت زلیخا کی تصویر جھانک رہی تھی۔

امتحان کے چند روز بعد شخرت نے خودکشی کی کوشش کی۔ ان کی والدہ نے انہیں نہانے کے ٹب میں پایا جہاں وہ اپنی کلائی کی رگوں کو کاٹ چکے تھے۔ تاہم ڈاکٹروں نے ان کی جان بچا لی۔

شخرت کی والدہ سمیرا نے بتایا کہ شخرت اور زلیخا اکٹھے اسکول جاتے تھے۔ وہ ان کی دوست تھی۔ تاہم اب نویں جماعت کے بعد ان کے راستے جدا ہو جائیں گے۔

بعض افراد کے بقول ازبکستان میں داخلوں کے لئے رشوت درکار ہے

بہت سے طلباء اور والدین کا کہنا ہے کہ امیدوار ازبکستان کے ممتاز کالجوں میں داخلہ اپنی ذہانت اور علم کی بجائے رشوت ادا کرنے کی اہلیت کی بنیاد پر حاصل کرتے ہیں۔

نو سال اسکول میں گزارنے کے بعد نوجوان کالج یا پیشہ وارانہ اسکول میں داخلہ لیتے ہیں جہاں وہ تین سالہ تعلیم کے دوران اپنے مستقبل کے پیشے کی بنیادی باتیں سیکھتے ہیں اور باقاعدہ ہائی اسکول کے کورس مکمل کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتے ہیں یا پھر ملازمت کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔

رواں سال طلباء کی ایک ریکارڈ تعداد نے ملک کے ممتاز ترین کالجوں میں داخلے کی درخواست دی ہے۔ مثال کے طور پر کالانوف انفارمیشن ٹیکنالوجی کالج میں 450 امیدواروں میں سے 150 طلباء کو منتخب کیا جائے گا۔ مجموعی طور پر 6 لاکھ طلباء ازبکستان کے 1,500 کالجوں اور ہائی اسکولوں میں داخلے کے لئے کوشاں ہیں۔

نائب وزیر اول برائے اعلٰی و ثانوی تعلیم شوکت زہافلانوف نے بتایا کہ سب سے ممتاز درس گاہوں میں طب، قانون، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، معاشیات، ہوٹل کا انتظام و انصرام اور موسیقی و سرکس کے فنون کے کالج شامل ہیں۔

تاشقند کے ایک کالج میں داخلہ لینے والی فریدہ کی والدہ مارگریتا زاخدوفا نے بتایا کہ کالجوں کے منتظمین یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ سب سے ذہین امیدواروں کو داخلہ دیں گے تاہم حقیقت میں آپ کو رشوت دینا پڑتی ہے۔ ہم نے داخلے کی امید لگانے کی بجائے 500 امریکی ڈالر رشوت دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ان کے بیٹے نے بھی رشوت کی بنیاد پر اسی کالج میں داخلہ لیا تھا۔

زاخدوفا نے بتایا کہ داخلہ حاصل کرنے کے لئے 300 سے 3,000 امریکی ڈالر تک رشوت دینا پڑتی ہے۔

سمیرا نے بتایا کہ شخرت اور زلیخا دونوں کا خواب ڈاکٹر بننا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ زلیخا کے والد امیر ہیں اور وہ رشوت دے کر اسے یونیورسٹی میں داخل کرا دیں گے جبکہ میں ایسا نہیں کر سکتی کیونکہ میری تنخواہ صرف 80 امریکی ڈالر ماہانہ ہے۔ اگر شخرت اچھے نمبر حاصل کر بھی لے تو رشوت کے بغیر اسے میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملے گا۔

رشوت کو زندگی کی ایک حقیقت تسلیم کرنے والوں میں صرف والدین اور طلباء ہی شامل نہیں۔

یونیورسٹی کی ایک استاد ولیدہ کافوروفا نے بتایا کہ سب سے زیادہ رشوت 3,000 امریکی ڈالر کے قریب ہے جو یونیورسٹی آف ورلڈ اکنامکس اینڈ ڈپلومیسی کے خصوصی اسکول میں داخلے کے لئے لی جاتی ہے اور مزدوروں اور کلرکوں کے بچوں کو بالکل داخلہ نہیں دیا جاتا۔

ہائی اسکول کے معدودے چند طلباء ہی اپنی تعلیمی قابلیت کی بناء پر داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس پہلے ہی ان طلباء کی فہرست موجود ہے جنہیں داخلہ دیا جائے گا اور بیشتر والدین پہلے ہی اپنے بچوں کے داخلے کے لئے رقم ادا کر چکے ہیں۔

صوفیہ نوسیکوفا نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سچ نہیں ہے، ہم نے کوئی رشوت نہیں دی۔ ان کی بیٹی نے یونیورسٹی آف ورلڈ اکنامکس اینڈ ڈپلومیسی کے خصوصی اسکول میں داخلہ حاصل کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو امتحان کی تیاری کرانے کے لئے ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی تھیں جن کی اوسط فیس 3 سے 5 امریکی ڈالر فی گھنٹہ ہے۔

امیدوار زورینہ گدزہی مرادوفا نے چار نجی ٹیوٹر رکھ کر ایک سال تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ میں ان میں سے کسی ایک کی بجائے کسی ممتاز کالج میں داخلہ لینا چاہتی ہوں۔ آپ رشوت ادا کیے بغیر کسی اچھے کالج میں داخلہ نہیں لے سکتے۔ ٹیوشن کے باوجود، میرے والد نے کالج ریکٹر کو 1,500 ڈالر رشوت دی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ داخلہ امتحانات سے بدعنوانی کا خاتمہ ہوتا ہے

والدین اور طلباء کی جانب سے رشوت دینے کی اطلاعات کے باوجود بعض تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ امتحان کی بنیاد پر طلباء کو داخلہ دینے سے بدعنوانی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

تاشقند کے اطلاعاتی ٹیکنالوجی کالج میں مثلثیات کے ایک لیکچرر قادر عوظیموف نے بتایا کہ جب داخلہ نمبروں کی بنیاد پر دیا جاتا تھا تو اسکولوں کے پرنسپل اچھے نمبروں والے ہائی اسکول ڈپلومے جاری کرنے کے لئے رشوت لیا کرتے تھے۔ آج نوجوان اپنے داخلہ امتحانات دیانت داری سے دینے آتے ہیں۔

تاشقند میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کالج کے ڈائریکٹر کخرامون زوپاروف نے بتایا کہ داخلہ امتحانات سے امیدواروں کی علمی استعداد کی عکاسی ہوتی ہے اور صرف لائق امیدواروں کا ہی انتخاب کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بدعنوانی اب بہت کم ہو چکی ہے۔

زوپاروف نے بتایا کہ پرانے نظام کی خامیاں اس وقت عیاں ہو گئیں جب سال اول کے یونیورسٹی طلباء نے بہت سے آزمائشی امتحانات دیے۔

ہائی اسکول کی استاد منیرہ خاسانوفا نے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پرانے نظام میں اساتذہ رشوت کے عوض یا پرنسپل کی سفارش پر زیادہ نمبر دیا کرتے تھے۔

تعلیمی کمیشن اس عمل کا حصہ ہیں

زہافلانوف نے کہا کہ آج کی صورت حال مختلف ہے۔ داخلہ ٹیسٹ کمیشن کا کام ہے جس میں اسکول کے ڈائریکٹر، ریاستی امتحانات مرکز، وزارت تعلیم اور حاکمیتوں (علاقائی، ضلعی یا شہری انتظامیہ) کا ایک ایک نمائندہ، اور پیشہ وارانہ اسکول و کالج کے اساتذہ شامل ہوتے ہیں۔

زہافلانوف نے کہا کہ کمیشن میں شامل ان مختلف افراد کے باعث ہائی اسکول کے فارغ التحصیل طلباء کی علمی سطح کے غیر منصفانہ یا متعصب جائزے کا امکان مسترد ہو جاتا ہے۔

وزارت برائے اعلٰی و ثانوی تعلیم کے مطابق، نیا نظام نوجوانوں کی ایسے پیشے میں رہنمائی کرتا ہے جہاں ملازمتوں کے مواقع موجود ہوتے ہیں اور وہ ان کی ذاتی دلچسپیوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔

ازبکستان میں داخلہ امتحان کا نظام متعارف کرانے سے قبل نویں جماعت کے صرف 56 فی صد فارغ التحصیل طلباء خصوصی اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لیتے تھے۔ باقی تمام تین مزید سالوں تک ہائی اسکول میں رہتے تھے اور وزارت کے خیال میں وہ پیشہ وارانہ لحاظ سے بھٹکتے رہتے تھے۔

تاہم اس نظام کو ابھی جانچا نہیں گیا اور رشوت ادا کرنے کے امکانات کے پیش نظر کم از کم بعض واقعات میں طلباء باہر رہ جاتے ہیں۔

شخرت نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ مجھے اپنے ذہن سے ڈاکٹر بننے کا تصور نکالنا ہو گا اور زلیخا کو بھی بھولنا ہوگا۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 8)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • میں نے کالج کا داخلہ امتحان پاس کیا تاہم حاصل ہونے والے پوائنٹس کی بنیاد پر میرا نمبر 25واں تھا۔ اب جبکہ تعلیم کا آغاز ہو گیا ہے تو مجھ سے پہلے 24 لوگوں کی کارکردگی بہتر نہیں جو کہ منطق کے حساب سے ہونی چاہیے تھی۔ درحقیقت ان کی کارکردگی مجھ سے بدتر ہے۔ یہ ہے رشوت۔ کسی اوسط امیدوار کے لئے رشوت ادا کیے بغیر داخلہ حاصل کرنا سخت دشوار ہے اور یہ عالمگیر مسئلہ ہے۔

    June 11, 2011 @ 12:06:00AM
    Jamshid
  • میں نے اپنے بل بوتے پر تاشقند یونیورسٹی برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا اور میری پہلی پوزیشن آئی اور سرکاری وظیفہ ملا۔ میرے خاندان کے اکثر افراد سرکاری ملازم اور اسکول اساتذہ ہیں۔ میں نے دن رات محنت کی اور عجز و انکساری اپنائے رکھی۔ سب سے اہم چیز کسی شخص کا ذہن ہوتا ہے۔ میرے تمام ہائی اسکول کے ساتھیوں کو کسی قسم کی رشوت کے بغیر وظیفہ مل گیا۔ کسی نے بھی انہیں کچھ نہیں دیا اور نہ ہی ان سے کچھ لیا۔ لہٰذا صرف پڑھائی میں محنت کریں اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

    March 26, 2011 @ 02:03:00PM
    Равшан
  • مجھے اس چیز کا علم نہیں۔ بلاشبہ میں امیر والدین کی بیٹی نہیں ہوں لیکن اس سال میں داخلہ لینے کی کوشش کروں گی اور دیکھوں گی کی رشوت کی کیا صورت حال ہے۔ اگر میں داخلہ حاصل کرنے میں ناکام رہی تو یہ یقیناً مایوس کن صورت حال ہوگی۔ میں ایک بڑا خطرہ مول لے رہی ہوں۔

    March 20, 2011 @ 02:03:00PM
    Кристина
  • سب سے زیادہ رشوت یعنی تقریباً 3 ہزار امریکی ڈالر یونیورسٹی برائے عالمی اقتصادیات و سفارت کاری کے پیشہ وارانہ اسکول میں داخلے کی ہے جہاں مزدوروں یا کلرکوں کے بچوں کو بالکل داخلہ نہیں دیا جاتا۔ یہ بات یونیورسٹی کی ایک استاد ولیدہ کفوروفا نے بتائی۔ میرے بیٹے کو بغیر کسی رشوت اور سفارش کے اس پیشہ وارانہ اسکول میں داخلہ ملا۔ اگر کوئی امیدوار قابل ہو تو کوئی کمپیوٹر یا شخص بھی اسے داخلے سے محروم نہیں کر سکتا۔ میں خود بھی ایک عام انجنئیر ہوں۔

    November 26, 2010 @ 02:11:00AM
    Алишер
  • سلام۔ میرے بیٹے کو بغیر کسی رشوت کے اس پیشہ وارانہ اسکول میں داخلہ ملا اور اب وہ ایک عام انجنئیر ہے۔ تاہم چونکہ یہ لڑکا ذہانت سے عاری تھا لہٰذا اسے رشوت دینا پڑی۔ سب سے زیادہ رشوت یعنی تقریباً 3 ہزار امریکی ڈالر یونیورسٹی برائے عالمی اقتصادیات و سفارت کاری کے پیشہ وارانہ اسکول میں داخلے کی ہے جہاں مزدوروں یا کلرکوں کے بچوں کو بالکل داخلہ نہیں دیا جاتا۔ یہ بات یونیورسٹی کی ایک استاد ولیدہ کفوروفا نے بتائی۔

    November 24, 2010 @ 11:11:00PM
    Алишер
  • ماہر تدریس، ان اساتذہ کے بارے میں کیا خیال ہے جو جان بوجھ کر نمبر کم دیتے ہیں تاکہ اس کے عوض رشوت لی جا سکے۔ ہمارے ہاں ایک ایسا ہی نظام ہے اور آپ اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ دوسری چیز یہ کہ کیا تعلیمی اسکولوں کی بجائے پیشہ وارانہ کالجوں سے موجودہ مسائل حل ہو جائیں گے؟

    November 7, 2010 @ 02:11:00PM
    Advocate
  • درحقیقت، ہر چیز کا دارومدار خود بچے پر ہے۔ اگر وہ کوئی چیز سیکھنے پر آمادہ ہے تو وہ اسے سیکھ لے گا۔ تاہم رشوت بھی موجود ہے۔ ہر کوئی اپنا انتخاب خود کرتا ہے۔ 2008 میں میڈیکل یونیورسٹی میں صرف ان درخواست گزاروں کو داخلہ دینا غلط فیصلہ تھا جن کے پاس اعزاز کی حامل سندیں موجود تھیں۔ ان میں سے بہت سوں نے رقم دے کر یہ سندیں خریدی تھیں۔ کیا کالجوں اور ہائی اسکولوں میں تدریس کو غیر لازمی قرار دینا بہتر ثابت نہیں ہو گا؟ پھر وہی پڑھیں گے جن کو شوق ہو گا۔

    October 30, 2010 @ 05:10:00PM
    Secret
  • میری بیٹی کو بغیر کسی رشوت کے اپنے بل بوتے پر لسانیات انسٹیٹیوٹ میں داخلہ ملا۔ جب اس بات کا اعلان ہوا کہ اسے داخلہ مل گیا ہے تو مجھے سڑک پر ایک نئے نیکسیا کی پیشکش کی گئی۔ اگر میں رشوت لے لیتا تو اس کی بجائے انہیں داخلہ مل جاتا۔ بلاشبہ، میں نے اس سے انکار کر دیا۔ میرے تمام بھائیوں کو بھی اپنی صلاحیت کی بناء پر داخلہ ملا۔

    September 12, 2010 @ 01:09:00AM
    Илхом
  • میں ایک استاد ہوں اور مجھے وسیع تجربہ ہے۔ میرے تمام طلباء جنہوں نے اچھے نمبر حاصل کیے انہیں رشوت دیے بغیر کالجوں اور تعلیمی اسکولوں میں داخلہ مل گیا۔ تاہم، سست اور نالائق بچوں کے والدین کو انہیں داخل کرانے کے لئے رشوت دینا پڑتی ہے۔ مدیران کے نام پیغام: ہمارے ہاں تعلیمی اسکولوں کی بجائے پیشہ وارانہ کالجوں کا نظام رائج ہے۔ والدین کو خود ہی اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کرنی چاہیے تاکہ بعد میں انہیں رشوت دینے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

    July 31, 2010 @ 08:07:00AM
    Pedagog