اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی دراندازی کی پیش گوئی سے کرغزستان چوکس
کرغیز سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ سال 2000 کے برعکس وہ کسی بھی حملے کو پسپا کرنے کے لئے تیار ہیں
علی شیر کریموف
2010-07-27
باتکن، کرغزستان – اگرچہ بعض سیکورٹی حکام اور تجزیہ کاروں نے رواں موسم گرما میں کرغزستان کی باتکن اوبلاست میں انتہاپسندوں کی ممکنہ دراندازی کے بارے میں خبردار کیا ہے، تاہم سب کا یہ کہنا ہے کہ ملک اسلامی عسکریت پسندوں کے کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔
اگرچہ کرغزستان کے جنوبی علاقوں میں حالیہ نسلی فسادات کو عسکریت پسندوں کے لئے ایک موقع تصور کیا جا سکتا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کوئی بھی تنازعہ سال 2000 کے واقعات کا اعادہ نہیں ہو گا جب کرغزستان کی فورسز نے بھاری نقصانات اٹھانے کے بعد انتہاپسندوں کو شکست دی تھی۔
باتکن اوبلاست کے گورنر سلطان بائی آئیدزہی گیتوف نے بتایا کہ گزشتہ دس سالوں میں کرغیز تاجک سرحد کو سنجیدگی سے محفوظ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے افسران اور سپاہی سال 2000 کی نسبت زیادہ بہتر طور پر مسلح اور تیار ہیں۔
بیس جولائی کو صدر روزا اوتن بائیفا نے ذاکر تائیلنوف کو ریاستی قومی سلامتی سروس کے سرحدی محافظ دستوں کے نئے کمانڈر کے طور پر نامزد کیا اور انہیں دیگر افراد کے ہمراہ فوری طور پر باتکن اوبلاست بھجوا دیا تاکہ وہ کرغیز تاجک سرحد کے نزدیک سرحدی چوکیوں کی حربی تیاریوں کا جائزہ لے سکیں۔
بارہ جولائی کو ریاستی قومی سلامتی سروس کے سربراہ کینیش بیک دوئشی بائیف نے صحافیوں کو بتایا کہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان، القاعدہ یا متحدہ تاجک حزب اختلاف جولائی کے اختتام یا اگست کے اوائل میں باتکن میں دراندازی کی کوشش کر سکتی ہیں۔ نائب وزیر اعظم امان گلدی مورا لائیف نے بھی گزشتہ ہفتے اسی قسم کا انتباہ جاری کیا تھا۔
اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی سابقہ دراندازی
سال 1999 اور 2000 میں اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے جنگجو وادی فرغانہ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش میں تاجکستان کے پہاڑی دروں کے راستے باتکن اوبلاست میں چوری چھپے داخل ہو گئے۔ کرغزستان کے فوجیوں، سرحدی محافظوں اور پولیس نے متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا اور باقیوں کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں واپس تاجکستان فرار ہونے پر مجبور کر دیا تاہم اس دوران انہیں بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
ریاستی قومی سلامتی سروس کے سرحدی دستوں کے نائب کمانڈر اول چولپون بیک توروس بیکوف نے کہا کہ حربی تیاریوں میں کمی کا اب کوئی جواز موجود نہیں ہے۔
توروس بیکوف نے کہا کہ ہم ایک نئی دراندازی کے امکان سے باخبر ہیں۔ ہم نے شمالی علاقوں سے سرحدی محافظین اور فوج کے اضافی دستے نکال کر ان علاقوں میں اپنی پوزیشنوں کو مضبوط بنانے کے لئے بھجوائے ہیں جہاں دشمن کی دخل اندازی کا سب سے زیادہ امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اب مضبوط ہو چکے ہیں اور دس سال پہلے کا سبق سیکھ چکے ہیں، لہٰذا ہم کسی بھی قسم کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔
روس کی سرحد پار تعاون ایسوسی ایشن کی منصوبہ بندی سروس کے سربراہ الیگزینڈر سوبیانن نے کہا کہ وادی فرغانہ میں پہلے ہی متعدد عسکریت پسند گروپ موجود ہیں اور اگرچہ ان کی درست تعداد معلوم نہیں ہے تاہم ان کے اراکین کی تعداد کئی ہزار ہو سکتی ہے۔
حملے کی پیش گوئی پر کئی طرح کے ردعمل
سوبیانن نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک سب کچھ ٹھیک ہے اور ممکنہ حملے کی تاریخیں بدل چکی ہیں لیکن منظرنامہ تبدیل نہیں ہوا۔
سوبیانن کا کہنا تھا کہ ہمارے انتباہات اور ہماری افواج کی نقل و حرکت سے گھبرا کر عسکریت پسندوں نے دراندازی کو جولائی کے اختتام یا اگست کے اوائل تک ملتوی کر دیا ہے اور یہی بات نائب وزیر اعظم مورا لائیف نے بھی اپنے انتباہ میں کہی۔ ہماری پیش گوئی کو نظر انداز کرنے کی کسی کے پاس ایک بھی سنجیدہ وجہ نہیں ہے۔
تاہم کرغیز ماہر سیاسیات مارس ساریئیف نے دراندازی کے امکان پر سوال اٹھایا اور کہا کہ کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت کا خیر مقدم نہیں کیا جائے گا۔
ساریئیف نے کہا کہ میں اس منظر نامے پر یقین نہیں رکھتا۔ نسلی فسادات کے نتیجے میں افواج کی نمایاں تعداد کو جنوبی علاقوں میں تعینات کر دیا گیا چنانچہ کسی بھی ممکنہ حملے، اگر ہوا تو، کو پسپا کر دیا جائے گا۔ تاہم سرحد کے کچھ مقامات ایسے ہیں جو زیادہ محفوظ نہیں اور جہاں سے دراندازی ممکن ہے۔ کسی حملے کی صورت میں مشترکہ سلامتی معاہدہ تنظیم کی مداخلت کا پچاس فی صد امکان ہے۔ تاہم اس سے کرغزستان کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہو گا۔
تیاری بہتر ہے
قازقستان کے انسٹیٹیوٹ برائے سیاسی حل کے ایک تجزیہ کار رستم برناشیف نے بتایا کہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان یا متحدہ تاجک حزب اختلاف وادی فرغانہ میں بڑے پیمانے پر مداخلت کرنے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک میں جانتا ہوں آج اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی ترجیح شمال مشرقی افغانستان میں اپنے قدم جمانا ہے لہٰذا میرے خیال میں وہ وادی فرغانہ کی صورت حال کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش نہیں کر سکتے۔ علاوہ ازیں، وہ اپنی تنظیم کو اندر سے مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ جہاں تک متحدہ تاجک حزب اختلاف کا تعلق ہے تو وہ قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ متحدہ تاجک حزب اختلاف کے بعض انفرادی جنگجو کمانڈر آج زیر زمین ہیں تاہم ایک فوجی یا سیاسی قوت کے لحاظ سے متحدہ تاجک حزب اختلاف کا کوئی وجود نہیں۔
تاہم بعض کا مشورہ ہے کہ تیار رہنا پھر بھی بہتر ہے۔
ماہر سیاسیات توکتوگل کاکچی کیئیف نے بتایا کہ ہمیں سوبیانن کے انتباہ پر توجہ دینی چاہیے تاہم ہمیں ان کی معلومات کی تصدیق بھی کرنی چاہیے۔ ہم جنوبی علاقوں اور ملک بھر میں اتنے مضبوط ہیں کہ کسی بھی دراندازی کو پسپا کر سکتے ہیں۔ باتکن میں سال 2000 کے واقعات نے ہمیں اچھا سبق سکھایا ہے۔
روس کے انسٹیٹیوٹ برائے حکمت عملیانہ تحقیق کے تجزیہ کار دیمتری الیگزینڈروف اور کاکچی کیئیف دونوں کا کہنا تھا کہ مشترکہ سلامتی معاہدہ تنظیم کی مداخلت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
الیگزینڈروف نے کہا کہ مشترکہ سلامتی معاہدہ تنظیم کسی بین الاقوامی دہشت گردانہ دراندازی پر ردعمل ظاہر کر سکتی ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت کا امکان نہیں۔ اس کی بجائے ہم چھوٹے یا بڑے جنگجو گروپوں کی جانب سے اکا دکا حملوں کی توقع رکھ سکتے ہیں لیکن مکمل جنگ کی نہیں۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
اپنے کان کھلے رکھیں۔ زیادہ شیخی بگھارنے کی ضرورت نہیں۔
وہ یہ نہ ہی کریں تو بہتر ہے کیونکہ ہم مکا مار کر ان کے دانت توڑ دیں گے۔ انہیں بھی اس بات کا علم ہے۔