کرزئی کا 2014 تک افغانستان کو ملکی سلامتی میں خودمختار بنانے کا عزم
کانفرنس کے شرکاء کا حکومت کے ذریعے زیادہ امداد دینے کا فیصلہ
قاسم یوسف زئی
2010-07-20
کابل -- ستر سے زائد ملکوں کے نمائندوں نے کم سے کم 50 فیصد ترقیاتی امداد افغان حکومت کے ذریعے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات 20 جولائی کو ذرائع ابلاغ کی خبروں میں بتائی گئی۔
افغانستان سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس نو سال میں پہلی بار افغانستان میں منعقد ہو رہی ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی عالمی برادری پر افغان حکومت کے ذریعے مزید امداد کی فراہمی پر زور دیتے آئے تھے۔ بی بی سی اردو کی خبر کے مطابق، اس وقت 20 فیصد امداد حکومت کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔
صدر کرزئی بین الاقوامی عطیہ دہندگان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 2014 تک افغان پولیس اور فوج ملک میں سلامتی کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہو جائے گی۔
صدر کرزئی نے ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ہم افغانستان کی قومی فوج کی پیشرفت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ میں اس بات پر پختہ عزم ہوں کہ ہماری افغان قومی سیکورٹی فورسز 2014 تک ملک بھر میں تمام فوجی اور قانون نافذ کرنے والی کارروائیوں کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔
کرزئی نے مزید بتایا کہ ہماری پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے عمدہ پیشرفت کا مظاہرہ کیا ہے۔
کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف اپنی قومی سیکورٹی فورسز کے تین ستونوں کو قابل اعتماد قومی اداروں میں تبدیل کرنا ہے جو ہمارے ملک کی سالمیت اور سلامتی کو یقینی بنانے کی اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر کاربند ہوں۔
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان صدر کرزئی کی امن قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
گزشتہ ماہ صدر حامد کرزئی نے ملک میں امن کی بحالی کے طریقے تلاش کرنے کے لئے ایک امن جرگہ منعقد کیا تھا۔
بی بی سی اردو کی خبر کے مطابق، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم مقامی امن جرگوں کی کامیابی کے لئے پرامید ہیں۔
تاہم، ان کا کہنا تھا کہ افغان سیکورٹی فورسز کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ قریشی نے کہا کہ پاکستان اس ضمن میں افغانستان کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔
قبل ازیں، کابل کے ہوائی اڈے پر ایک راکٹ حملے کے باعث اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور سویڈن اور ڈنمارک کے وزرائے خارجہ کی آمد میں تاخیر ہو گئی۔
ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کی خبر کے مطابق، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ نیٹو کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ سیکورٹی فورسز ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھیں اور انہوں نے کانفرنس پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے متعدد مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک یا گرفتار کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ نیٹو افواج کی معاونت سے افغان سیکورٹی فورسز نے کابل میں سخت حفاظتی اقدامات کیے تھے اور کانفرنس کے اردگرد سیکورٹی کا حصار بنا رکھا تھا۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
میں چاہتا ہوں کہ افغانستان ایک پرامن ملک بن جائے اور افغان عوام کے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہوں اور ان میں اتحاد قائم ہو جائے۔
میں چاہتا ہوں کہ افغانستان پاکستان سے بہتر ملک بن جائے۔
میں کسی افغان مسلم لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔
عطیہ دہندگان کی جانب سے صدر کرزئی کو مزید رقم دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک ٹیکس گزار کی حیثیت سے میرے ٹیکس کی رقم ان کی مدد پر خرچ ہو رہی ہے اور میرے خیال میں کرزئی حکومت کو رقم دینا درست نہیں کیونکہ وہ بدعنوان حکومت ہے۔ اسی طرح پاکستانیوں پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کی آئی ایس آئی کئی سالوں سے پس منظر میں رہ کر اشتعال انگیز کارروائیوں کے ذریعے مسائل پیدا کر کے اپنے ایجنڈے کو فروغ دے رہی ہے۔ عطیہ دہندگان کو ایک نئے افغانستان کی تشکیل میں مدد دینی چاہیے جو ان کی روایات پر مبنی ہو۔
سلام۔ کابل ایئر پورٹ پر تعینات افغان پولیس اہلکار بدعنوان اور رشوت خور ہیں۔ وہ غیر ملکیوں سے رشوت طلب کرتے ہیں۔ انہیں روکنا چاہیے۔ کابل میں پولیس کی چوکی پر بھی یہی حال ہے۔ حکومت کو اس کی روک تھام کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ افغانستان امن اور خوشیوں کا گہوارہ بن جائے۔
افغانستان کے عوام کے سوا کوئی بھی آپ کے لئے امن نہیں لا سکتا۔ اسلام کی پیروی کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اسلام بذات خود امن ہے۔ اگر آپ کا ملک اور حکومت اسلامی ہے اور آپ اپنے تمام بھائیوں کے ساتھ متحد اور مل جل کر رہتے ہیں تو پھر یقین جانیے کہ افغانستان اور اس کے آس پاس کوئی بھی جنگ اور عدم سلامتی کی فضا نہیں ہوگی۔ آپ کا شکریہ۔
سب کو اسلام علیکم! افغانستان ایک مسلمان ملک ہے اور میری اپنے اللہ سے دعا ہے کہ وہ انہیں آزادی کی دولت عطا کرے اور انہیں ایک خودمختار ملک بنائے۔ مجھے امید ہے کہ وہ کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔
پوری دنیا گہرے سیاسی، اقتصادی اور سماجی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں نفرت، نسل پرستی، علیحدگی پسندی، نااتفاقی، قتل و غارت گری اور اشتعال میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تو پھر گزشتہ 30 سالوں سے بنیاد پرست اور دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں میں یرغمال غریب افغان مسلمان کیسے مدد اور امن حاصل کریں گے؟ اگر ان کی کوئی مدد کرے گا بھی تو اس کے ذہن کے نہاں خانوں میں خفیہ مفادات ہوں گے۔
مجھے اپنے وطن افغانستان اور اس کے تمام عوام سے محبت ہے۔ میں افغانستان میں امن کے قیام اور واپس لوٹنے کا خواہش مند ہوں۔
مجھے امید ہے کہ افغانستان ایک پرامن ملک بن جائے گا۔
میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ نیٹو افواج ہمارے پرامن خطے سے نکل جائیں۔
میں مستقبل میں افغانستان کو ایک خوبصورت ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔ انشاء اللہ اس کا مستقبل تابناک ہو گا۔ صدر حامد کرزئی کو میری تجویز ہے کہ وہ غریب عوام کی مدد کریں اور انہیں رہنے کی جگہ فراہم کریں۔ اگر صدر حامد کرزئی نے ہمارے ملک کے لئے کچھ کیا تو تاریخ میں انہیں اچھے صدر کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔
سلام، میرا نام حبیب ہے اور میرا افغانستان کے عوام کے نام یہ پیغام ہے کہ تمام لوگ امن چاہتے ہیں اور ہمارے امن سے افغانستان ایک طاقتور ملک بن کر ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہو جائے گا۔ ازراہ کرم باہر کے لوگوں کی باتوں پر یقین نہ کریں کیونکہ وہ ہمارے خوبصورت ملک کو امن کا گہوارہ نہیں بنا سکتے۔ یہ کام 2014 کی بجائے 2012 میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ امن، امن اور صرف امن ہی افغانستان کے لئے ترقی کا زینہ ہے۔ بہت شکریہ۔ محمد عباس اور حبیب اللہ میار، وردک۔
مجھے یہ پسند آیا۔
مجھے افغانستان پر فخر ہے۔ تمام دنیا کے پشتون باشندوں کو نقل مکانی کر کے افغانستان آ جانا چاہیے۔ میں پاکستانی ہوں لیکن میری قوم افغانستان ہے۔
میں اپنے ملک سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ دنیا کی راہ پر چلے۔
وہ حقیقی معنوں میں مسلمان ہیں۔
2014 کے خاتمے کے بعد کیا کیا جائے گا؟
افغانستان اور اس کے عوام کو سلام۔ مجھے یہ ملک پسند ہے اور میرا خواب ہے کہ کسی روز وہاں جا کر اس کے خوبصورت مقامات اور لوگوں کو دیکھوں۔ شکریہ۔
میں چاہتا ہوں کہ افغانستان ترقی کر کے ایک روز پاکستان اور دیگر مسلم ملکوں کے برابر کھڑا ہو جائے۔ انشاء اللہ وہ دن آئے گا جب افغانستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا۔ اللہ حافظ۔
آپ کی ویب سائیٹ اچھی ہے۔
آپ کی ویب سائیٹ عمدہ ہے۔ اگر پاکستان نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
حامد کرزئی ایک محب وطن شخص ہیں تاہم پاکستان انہیں چین سے رہنے نہیں دیتا۔
افغانستان کو امن کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ صدر کرزئی ملک کے ساتھ مخلص ہوں۔ افغانستان میں تعلیم اور مزید کمپنیوں کی ضرورت ہے۔ ان دو چیزوں سے ہمارا ملک مضبوط ہو جائے گا۔ شکریہ۔
پاکستان افغانستان میں طالبان کی بنیادی جڑ ہے۔ پاکستان کی انٹیلیجنس افغانستان میں بم دھماکے کرا رہی ہے۔
یہ اچھی بات ہے کہ عالمی برادری ایک شاندار تاریخی ورثے اور غیور عوام پر مشتمل ملک افغانستان کی مدد کرے گی۔ افغانستان کے ہمسایہ ملکوں کو مزید مداخلت ترک کر کے اس مسلم ملک کو اپنے طور پر ترقی کرنے اور جدید بننے میں مدد دینی چاہیے۔ اللہ ہر مسلمان ملک کو برکت عطا کرے، آمین۔
تمام مسلمان بھائیوں کو سلام۔ میری تمام بین الاقوامی برادری سے اپیل ہے کہ وہ امن کی خاطر افغانستان سے نکل جائے اور اس تباہ حال ملک پر مزید جنگ مسلط نہ کرے۔ افغانستان پشتونوں کی سرزمین ہے۔ اللہ افغانستان کو ایک مستحکم اور مضبوط ملک بنائے، آمین۔
ہم 2014 تک امن اور خوشحالی کی توقع کر رہے ہیں۔ مجھے اپنا ملک اپنی ذات سے بھی بڑھ کر عزیز ہے۔ میں دنیا کے نقشے پر افغانستان کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے عزت مآب صدر حامد کرزئی سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ تمام افغان مہاجرین کب اپنے وطن واپس لوٹیں گے اور اگر وہ واپس آ کر افغانستان میں رہنا چاہتے ہیں تو آپ ان کی رہائش یا مکانوں کی فراہمی کے لئے کون سے اقدامات اٹھائیں گے؟
میں اسلامی حکومت اور اسلام کے نفاذ کا خواہاں ہوں۔
میرے خیال میں امریکا کو افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنی چاہیے ورنہ تمام افغان باشندے حکومت میں اپنا حصہ لینے کے لئے آپس میں لڑ مریں گے۔ اس کے نتیجے میں افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ افغانستان کی بیرونی سلامتی کی صورت حال انتہائی متاثر ہوجائے گی اور افغانستان کے دشمن اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اور تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ طالبان پھر آ جائیں گے اور افغانستان اور دنیا میں ایک بار پھر طالبانائزیشن اور دہشت گردی میں اضافہ ہو جائے گا۔ طالبان انتہاپسند ہونے کے ساتھ ساتھ بنیاد پرست بھی ہیں اور وہ دنیا میں تبدیلی کے مخالف ہیں۔ بہ الفاظ دیگر، وہ وحشی اور سفاک ہیں۔ وہ خدا کی سرزمین پر فساد پھیلا رہے ہیں۔ قرآن کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ زمین پر فساد پھیلانے والوں کو نہ چھوڑو۔ لہٰذا ان کا خاتمہ ضروری ہے اور ان کی ہتھیاروں، اقتصادی اور سماجی حمایت سے کنارہ کشی ضروری ہے، چاہے یہ امریکا کی جانب سے ہو یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے۔ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے طالبان کے خاتمے کے حق میں ہوں ورنہ وہ زمین پر فساد بپا کریں گے اور دنیا کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیں گے۔ آپ کا شکریہ۔
ایک افغان صحافی، افغانستان کی تاریخ کے ایک مصنف اور پاکستان میں افغان مہاجر کی حیثیت سے میرا صدر حامد کرزئی کے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے نہیں کرتے۔ میری خواہش ہے کہ وہ افغانستان میں بہت سی اصلاحات متعارف کراتے اور اپنے وعدوں میں مخلص ہوتے تاہم ان نو سالوں میں صدر حامد کرزئی نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ اقوام متحدہ سن 2001 سے افغانستان میں امن لانے اور ملک کے مسائل کا خاتمہ کرنے کے لئے کوشاں ہے تاہم بدقسمتی سے افغانستان کے رہنما حامد کرزئی مخلص نہیں ہیں۔ افغانستان کی سیاست و حالات سے متعلق میرے دیگر مضامین ایشیا فرنٹ نیوز میں شائع ہو رہے ہیں جن میں صدر حامد کرزئی کی پالیسیوں کے بارے میں لکھا ہے۔ آپ کا شکریہ۔
میرا خیال ہے کہ افغانستان کے عوام حقیقی مسلمان ہیں۔ وہ نڈر لوگ ہیں اور اسلام کی حقیقی علامت ہیں۔
افغانستان مذہبی لحاظ سے انتہائی زیادہ اسلامی اور مقبول ملک ہے۔ میں لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے کے لئے افغانستان جانا چاہتا ہوں۔
افغانستان کو ترقی دینے اور جدید تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ترقی یافتہ ملکوں کی انتہائی توجہ درکار ہے۔
ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان کی بھی یہی کوشش ہے۔
پاکستان ایک مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے کیونکہ یہ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ تاہم افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت پاکستان کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ یہ بہت تشویش ناک صورت حال ہے۔
اگر پاکستانی فوج افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے والے طالبان کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لے تو افغانستان ایک پرامن ملک بن جائے گا۔
تمام مسلمانوں کے ہمراہ افغانستان اور افغانی عوام سے محبت کریں اور غیر مسلموں کا بھی احترام کریں۔ میں چاہتا ہوں کہ افغانستان میں امن ہو اور اس اسلامی ملک کا مستقبل روشن ہو۔ انشاء اللہ۔
مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اگر ہم نے پاکستان میں طالبان کے خلاف جنگ جاری رکھی تو افغانستان میں امن قائم نہیں ہو گا۔
میں اپنے دل کی گہرائیوں سے اعلٰی حکام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ مادر وطن کو مزید تباہ نہ کریں۔ اگر ہمارے پڑوسی مداخلت نہ کریں تو ہم محفوظ رہیں گے۔
سلام
میرا تعلق پاکستان کے شہر کوئٹہ سے ہے اور میں آپ کے ساتھ شامل ہونا چاہتا ہوں۔ افغانستان میرا وطن ہے اور مجھے اس سے بہت زیادہ محبت ہے۔
طالبان نہیں بلکہ سب سے پہلے پاکستان۔
میں 2014 میں افغانستان کی ٹیم کی جانب سے کھیلنا چاہتا ہوں۔
میں افغانستان میں ایک پرامن ملازمت کا خواہش مند ہوں۔
اگر کرزئی پاکستان کے کردار کو ختم کر دیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ اگر کرزئی نے پاکستانی دراندازی کا بوجھ امریکا پر رکھ دیا تو پھر امریکا مثبت اقدامات کرے گا۔ تاہم اس کا انحصار امریکا پر بھی ہے جس کا مقصد امن اور خوشحالی ہو نہ کہ دیگر مقاصد۔ مجھے افغانستان سے محبت ہے اور میں اسے ایک پرامن ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔
اگر بین الاقوامی سلامتی مددگار فورس افغانستان سے نکل گئی تو افغانستان کی کیا حالت ہوگی؟ کیا طالبان دوبارہ افغانستان پر کنٹرول حاصل نہیں کر لیں گے؟ اگر یہ ممکن ہے تو افغانستان میں طالبانائزیشن کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا پاکستان ان عناصر سے براہ راست متاثر ہو گا؟
اگر پاکستان نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
یہ ہر شخص کے لئے اچھا ہے۔
مجھے صدر مملکت سے ملاقات کی ضرورت ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ افغانستان میں امن کا دور دورہ ہو جائے۔