سابق صدر بکائیف کے ساتھی دوبارہ اقتدار میں آنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں
وہ کرغزستان کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں
علی شیر کریموف
2010-07-15
بشکیک ۔۔ اگرچہ صدر کرمنبیک بکائیف کرغزستان کے سیاسی منظرنامے سے ہٹ چکے ہیں تاہم آئندہ انتخابات میں ان کی میراث قائم رہنے کا امکان ہے۔
سابق عبوری حکومت کے چیف آف اسٹاف عیدل بائسالوف نے بتایا کہ صدر بکائیف کی واپسی ناممکن ہے، تاہم بکائیف کی حکومت کی روح اور نئے حکام کا بکائیف کے اصولوں کو اپنائے رکھنا حقیقت سے کافی قریب ہے۔ آپ اس حقیقت کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ دونوں سابق صدور کے دور میں خدمات سرانجام دینے والے لوگ ایک بار پھر اقتدار میں آنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
عطا میکن جماعت کے رہنما عمر بیک تیکے بائیف نے بتایا کہ بکائیف کی سیاسی جماعت اک زہول کے اراکین پارلیمانی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور انہوں نے نئے سیاسی اتحاد قائم کر لیے ہیں۔
تیکے بائیف کا کہنا تھا کہ بوتن کرغزستان جماعت کی بنیاد رکھنے والے سابق وزیر خارجہ آداہم مادو ماروف؛ ریسپبلکا جماعت کے قائد اور تاجر عمر بیک بابانوف اور سابق وزیر برائے ہنگامی صورت حال کامچی بیک تاشیئیف کی عطا جرت جماعت، یہ تمام صدر بکائیف کی جاری میراث کی مثالیں ہیں۔
قازقستان کے ادارہ برائے سیاسی حل کے مشیر الیگزینڈر کنیازیف نے بتایا کہ اگر صدر بکائیف کے حامیوں نے اتحاد قائم کر لیا تو پرانی حکومت کی واپسی کا امکان ہے۔
کنیازیف نے کہا کہ بکائیف کی حامی ان تمام جماعتوں اور تحریکوں کا انتخابات سے قبل یا منتخب ہونے کے بعد پارلیمان میں اتحاد قائم کرنا ناممکن ہے تاہم ان میں سے دو یا تین کے متحد ہونے کا امکان ہے۔ اور وہ ایک انتہائی بااثر گروپ بن جائے گا۔
انتخابی مہم اور پارلیمانی امیدواروں کے اندراج کا عمل ابھی تک شروع نہیں ہوا ہے، تاہم متوقع امیدواروں نے ووٹ مانگنے کی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے اور وہ مقبول عوامی اور سیاسی شخصیات کو اپنے ساتھ شمولیت کی دعوت دے رہے ہیں۔
عطا جرت نے میکتی بیک عبد الدائیف کو کونسل کا رکن اور جماعت کا شریک چیئرمین بننے کے ذریعے اپنی صفوں میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ وہ تقریباً دو سال تک بکائیف کے صدارتی انتظامیہ کے سربراہ رہے تھے۔
کرغزستان بھر سے رہائشیوں کی اطلاعات کے مطابق، مالی سرپرستی حاصل کرنے والے امیدواروں نے مختلف علاقوں میں جا کر تقریروں کا آغاز کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تاہم عطا میکن کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تیکے بائیف کے حامی انتخاب میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے آئیں گے تاہم انہوں نے ایسے سیاست دانوں کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد نہیں کیا جو ماضی میں بکائیف کے مخالف رہے تھے۔
تیکے بائیف کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ کرنے میں ابھی کافی وقت باقی ہے۔ میرے دیگر جماعتوں میں بھی حامی موجود ہیں۔ ہمیں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔
انتخابات میں حصہ لینے کے لئے اپنی جماعت تشکیل دینے والے بائسالوف نے کہا کہ بکائیف کے حامیوں کے پاس رقم کی فراوانی ہے۔ ان کی مالی حیثیت مضبوط ہے جو انہوں نے لوٹ مار سے بنائی ہے۔
مرکزی انتخابی کمیشن کے چیئرمین عقیل بیک ساریئیف نے بتایا کہ مرکزی انتخابی کمیشن نے انتخابات میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے اندراج کی شرائط کو معمولی فیس تک محدود کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں، مرکزی انتخابی کمیشن نے انتخابی مہم چلانے کے لئے اندراج کنندہ کی مالی حیثیت سے متعلق کوئی شرط عائد نہیں کی ہے۔
ساریئیف نے بتایا کہ جماعتوں کو پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے 5 لاکھ کرغیز سوم (10,870 امریکی ڈالر) جمع کرانے ضروری ہیں۔ مہم پر زیادہ سے زیادہ 5 کروڑ کرغیز سوم (10لاکھ 90 ہزار امریکی ڈالر) خرچ کرنے کی اجازت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی خواہش مند اندراج کرا سکتا ہے۔
عدیلت قانونی کلینک کی سربراہ چولپون جاکوپوفا نے بتایا کہ بکائیف کے حامی سابق صدر سے اپنی وفاداری کا سرعام اعلان نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پارلیمان میں جگہ بنانے کے لئے کوشاں اور نئی سیاسی جماعتیں قائم کرنے والے بکائیف کے قریبی حلقے کے ساتھیوں میں سے کوئی بھی سیاست دان سرعام یہ بات نہیں کہے گا کہ وہ سابق صدر کی حمایت کرتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہے گا کہ وہ بکائیف کو، چاہے ایک عام شہری کی حیثیت سے ہی، کرغزستان واپس لانا چاہتے ہیں۔ اس میں شکست کا خطرہ کافی زیادہ ہے۔
کنیازیف نے بھی اس بات سے اتفاق کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام لوگ، جنہیں عام طور پر بکائیف نواز کہا جاتا ہے، سیاسی تعلقات کی جڑوں میں موجود مالی روابط کے ذریعے پرانی حکومت سے کافی زیادہ منسلک ہیں۔ انہیں کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اب وہ انتقام لینے کے لئے تیار ہیں۔ بلاشبہ، وہ یہ بات کبھی نہیں کہیں گے کہ وہ بکائیف کے حامی ہیں تاہم وہ سب اقتدار حاصل کرنے اور سابق سیاسی و اقتصادی تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔
جلال آباد کے ایک چھابڑی فروش صادر بیک عثمونوف انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ میں تمام امیدواروں کی تقریریں سنوں گا۔ اگر وہ نئے امیدوار ہوئے تو میں انہیں ووٹ نہیں دوں گا۔ ہو سکتا ہے کہ بکائیف کے دور کے سیاست دانوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کیا ہو تاہم ان کے دور میں فائرنگ یا آتش زنی کے کوئی واقعات پیش نہیں آئے تھے۔
بشکیک کے ایک تاجر سائگن علیئیف نے اس سے اختلاف کیا تاہم وہ متبادل امیدواروں میں بہت کم دلچسپی رکھتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میں نئے یا نسبتاً نئے سیاست دانوں یا اس کی بجائے ان کے بیانات اور پروگراموں کو پسند کرتا ہوں تاہم بکائیف کے حامی پرانے سیاست دان بہتر نہیں تھے۔ میں ان کے خلاف ووٹ ڈالوں گا۔ تاہم، یہ دو برائیوں میں سے چھوٹی برائی کا انتخاب کرنے کے مترادف ہے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
کرغیز اور قازق باشندو، ہمت نہ ہارو۔ اگرچہ نئی حکومت ہمیں کچھ نہیں کہتی لیکن ہر شخص کو ہمارے خوش حال مستقبل کے لئے خود ہی کچھ کرنا ہو گا! بلاشبہ مجھے یقین ہے کہ ہمارا بھی وقت آئے گا۔
اس کا ایک آسان حل موجود ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اسٹالن کو قبر سے جگایا جائے اور وہ کرغزستان کو سیدھے راستے پر لاتے ہوئے 48 گھنٹوں میں سوویت عملداری قائم کر دیں گے۔
متعصب محب وطن اور قوم پرست کنیازیف کس طرح ماہر بن سکتے ہیں؟ بعض ایسے حقیقی غیر جانب دار مبصرین موجود ہیں جو قوم پرستی سے متاثر نہیں ہوتے۔
آپ یہاں پر فضول باتیں کر رہے ہیں جبکہ لوگوں کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ آپ کو دوسروں کے بارے میں رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔ گزشتہ دہائی کو چھوڑ کر شمال کے باشندوں نے کبھی بھی خود کو اوش عوام کا حصہ نہیں سمجھا۔ وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ہمیں دھوکا دیتے ہیں۔ یہ ان کے خون اور سرشت میں شامل ہے۔ وہ آپ کو غدار کہتے ہیں۔
مجھے انتہائی افسوس ہے مگر یہ سچ ہے۔ کافیعرصے تک میں اس تاثر میں مبتلا تھا کہ یہ میرا وطن ہے اور میں اس سے محبت کرتا تھا اور اس کی خوشحالی کے لئے سب کچھ کرتا تھا۔ مگر اب یہ ہمارا وطن اور ہماری سرزمین نہیں ہے۔ ہم سب جلد ہی یہاں سے چلے جائیں گے اور ہمارے پاس جانے والی جگہ موجود ہے۔ آپ یہیں رکیں کیونکہ بہرحال یہ آپ کی سرزمین ہے اور مجھے آپ پر ترس آتا ہے۔ میرے سابق ہم وطنو خدا حافظ! آپ اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ اقتدار میں کون آئے گا اور دوسری جانب وہ آپ پر حکمرانی کر رہے ہیں۔
بیرون ملک مقیم اپنے دانشوروں کو واپس لائیں۔ انقلابات کے بعد آپ کے بے شمار لوگ ملک سے نقل مکانی کر گئے۔ آپ ان بہت سے لائق اور کامیاب سائنس دانوں سے محروم ہو گئے ہیں جو اب قازقستان سمیت ہمسایہ ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں کرغزستان کے معاملات چلانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ان کی وطن واپسی میں مدد کریں۔ انہوں نے اب یورپ میں بھی مختلف بینکوں اور کمپنیوں کی باگ ڈور سنبھال رکھی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مادر وطن کو یاد کرتے ہوں گے۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ قازق باشندوں کو اسیک کول کا آزادی سے سفر کرنے کی اجازت دی جائے۔ ہمارے لئے ترکوں کی بجائے آپ کے ملک میں پیسہ خرچ کرنا بہتر ہے۔ اس گرم جھیل کی یاد اب بھی ہمارے دلوں میں چٹکیاں لیتی ہے۔ میری ایک اور درخواست ہے کہ ازراہ کرم سڑکوں پر تعینات اپنے پولیس افسران کو موسم گرما کی تعطیلات دے دیا کریں۔ ہم ان کے رشوت کے تقاضوں سے تنگ آ چکے ہیں۔
گزشتہ دس سال کو چھوڑ کر شمالی علاقوں کے رہائشی اوش کے باشندوں کے ساتھ کبھی بھی ایک ملک کی حیثیت سے نہیں رہے۔ وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ہمیں دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ان کی فطرت میں ہے۔ جہاں تک عطا زہرت اور بکائیف کو اقتدار میں دوبارہ لانے کا دعوٰی کرنے والے افراد کی جانب سے پارلیمانی نشستیں جیتنے کا تعلق ہے تو اس سے سیاست کی حقیقی روح کی عکاسی ہوتی ہے۔
لوگ جھوٹے اور بدمعاش ہیں! لوگ آپ کی وجہ سے یہ سب بھگت رہے ہیں۔ وہ سب اکائیف اور بکائیف کے تلوے چاٹنے والے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج ہر کوئی اپنی تشہیر کرتا ہے اور آنے والے کل غائب ہو جاتا ہے۔
یا خدا!
آپ کے ہاں کب استحکام آئے گا؟ کیا آپ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ آپ کو اور آپ کی سرزمین کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔
اب مال بنانے کی خاطر ہر کوئی اقتدار کے حصول کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ کرغزستان میں 29 سیاسی جماعتیں ہیں جبکہ اس کے برعکس روس میں ان کی تعداد محض تین ہے۔ اس معاملے میں روس کی پیروی کرنا ناگزیر ہے۔
صدر اکائیف کی حکومت اور موجودہ دور کی نسبت بکائیف کے دور میں ملک مستحکم اور خوشحال تھا۔ صدر اکائیف نے اپنے 15 سالہ دور اقتدار کے دوران اتنے مسائل پیدا کر دیے کہ وہ آج بھی سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ ملک میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ بکائیف کے زمانے میں ملک خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوا اور متعدد نسلوں کے لئے پیشرفت ہوئی۔ موجودہ حکومت کے دور میں بہت سی آفات، مصائب، اموات اور گرفتاریوں کا سامنا ہوا اور یہ سب واقعات چھ ماہ کے اندر پیش آئے۔ وہ ابھی تک اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔ آپ کو خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ کون بہتر ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اعتماد کرنے والے لوگوں پر الزامات عائد کرنے اور ان پر اثر انداز ہونے کا ہمیشہ امکان ہے۔
ہاں، یہ کافی بہتر ہے۔
آخر ہماری حکومت ہر چیز ریاستی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے اپنی جیبوں میں کیوں بھر لیتی ہے؟ زہوگورکو کینیش کے انتخابات منعقد ہو چکے ہیں اور ان کا کیا نتیجہ نکلا؟ عطا زہرت جماعت کے نریمان تیولیئیف پارلیمان میں جا پہنچے ہیں۔ انہوں نے تمام ووٹوں کو پیسے دے کر خرید لیا تھا۔ صدر اکائیف کے دور میں بھی انہوں نے کھلی لوٹ مار کی اور ان کے خیال میں وہ کافی نہیں تھی۔ انہیں تو انتخابات میں حصہ لینے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے تھے۔ اس پر لوگوں کی کیا رائے ہے؟
عطا زہرت کو روکنے کی خاطر تمام وسائل کو بروئے کار لانا ضروری ہو چکا ہے۔ اگر انہوں نے اقتدار حاصل کر لیا تو معزول صدر بکائیف بھی واپس آ کر دوبارہ صدر بن سکتے ہیں۔ ایس ڈی پی کے جماعت کو ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنی چاہیے۔ اس وقت کامیابی حاصل کرنے والی جماعتوں کا اصل چہرہ بکائیف کے عہد میں بے نقاب ہو چکا تھا۔ آئیے بہترین حالات کی امید کریں۔
میرے ذہن میں یہ تاثر ہے کہ میکسم بکائیف کے پاس حکمت عملی تیار کرنے والے اچھے ماہرین موجود ہیں جنہوں نے ہماری ذہنیت کا بغور مطالعہ کر رکھا ہے۔ وہ عطا زہرت سمیت چاروں سیاسی جماعتوں کی مالی امداد کر رہے ہیں۔ ان جماعتوں نے ووٹ حاصل کرنے کی کوششوں کے لئے ملک کے جنوبی علاقوں کا انتخاب کیا جہاں انہیں ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے کیونکہ اندراج شدہ رائے دہندگان کی 45 فی صد تعداد وہاں بستی ہے۔ معزول صدر بکائیف کی دیگر حامی جماعتوں مثلاً ریسپبلکا، بوتن کرغزستان اور سودرزہستفو نے زیادہ تر شمالی کرغزستان میں انتخابی مہم چلائی۔ کے حکمت عملی کے ماہرین چاہتے ہیں کہ عطا زہرت جنوبی کرغزستان میں اکثریت حاصل کرے جبکہ دیگر جماعتیں شمالی کرغزستان میں اپنے بڑے حریفوں مثلاً ایس ڈی پی کے اور عطا میکن کے ووٹ توڑیں جس کے بعد زہورگو کینیش میں وہ مل کر اتحادی حکومت بنائیں گے۔ پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد بکائیف کے حامی ایک بار پھر اقتدار حاصل کر لیں گے۔
میری رائے میں سب سے گھٹیا چیز یہ ہے کہ لوگ 300 سے 500 سوم کے عوض اپنا اور اپنے بچوں، پوتے پوتیوں اور ملک کا مستقبل فروخت کر رہے ہیں۔ بکائیف نواز جماعتیں عطا زہرت، ریسپبلکا، بوتن کرغزستان اور غالباً سودرزہستفو یہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔ بکائیف کے حامی ملنے والی مالی امداد کے ذریعے رائے دہندگان کو رشوت دیں گے۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بکائیف کے حامی سیاست دان ہر قسم کے ممکن اور ناممکن وعدے کریں گے اور کل ان سے مکر جائیں گے۔ کل کے بعد وہ اپنی ناکامیوں کے بارے میں لاکھوں عذر تراشیں گے۔ وہ دنیا بھر میں اسی وجہ سے بدنام ہیں۔
میں پرامن انتخابات کی امید رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اللہ کے فضل و کرم سے نیا سال کرغزستان میں خوشیاں لے کر آئے گا۔
سیاست دان کا کام بس وعدے کرنا ہوتا ہے۔ مختلف حکومتوں کی بہاریں دیکھنے والا کوئی کہنہ مشق سیاست دان سیاسی میدان کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔ یہ ایک لحاظ سے اس کا پیشہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم عوام انہیں اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ ہمیں استعمال کریں۔ ہمیں ان کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیے اور ان پر سختی سے کنٹرول رکھنا چاہیے تاکہ انہیں پتا ہو کہ رکن پارلیمان کا مطلب صرف مراعات لینا نہیں تاکہ حکام بھی رقم کا تقاضا نہ کریں۔ لوگ صرف اسے ووٹ دیتے ہیں جو طاقتور ہو اور اس کا کوئی متبادل نہ ہو۔ تاہم ہمارے ہاں بہت سے جرائم پیشہ رہنما اور دیگر بدقماش لوگ ہیں جن کا ہم پر زور چلتا ہے۔ ہمیں راست باز اور بے داغ لوگوں کو ووٹ دینے کی بجائے انہیں منتخب کرنا چاہیے جو بکائیف کی حکومت کے خلاف مزاحمت کر سکیں۔ ابھی سیاست میں ماہرین کا وقت نہیں آیا اور ہمیں ملک میں سلامتی کی ایک مخصوص سطح حاصل کرنا ہوگی۔ میں تو اس بات پر حیران ہوں کہ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں کیوں ایسے وعدے کر رہی ہیں۔ ہمارے ہاں آزادی اور نفاق کی انتہا ہو چکی ہے۔ ان کے خیالات خلاء میں ایک روشن مستقبل تک پرواز کرتے ہیں۔ کولوف کو ملک کی صورت حال کا تھوڑا بہت ادراک ہے اور وہ تجربہ کار شخص ہیں۔ کرغزستان کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو ریسپبلکا اور آئیکل ال میں ضم ہو جانا چاہیے کیونکہ وہ قومی مفادات کا دفاع کرنے کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں۔ وہ یہ قدم اٹھانے سے کیوں گریز کر رہے ہیں؟ اس کے پس پردہ وہی پرانے سیاسی عزائم ہیں۔ ہر جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں پارلیمان میں داخلے کی بالکل اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ان میں بیبولوف، زہاپاروف وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے وہ بھی اسی طرح منتخب ہو جائیں گے جیسے کہ تولیئیف، مادو ماروف اور تاشیئیف منتخب ہو گئے۔ کتنی بدقسمتی کی بات ہے۔
تیکے بائیف واحد سیاست دان ہیں جنہوں نے ریاستی نظام کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل نہیں کیا۔ مزید برآں، انہوں نے سب کے سامنے ثابت کیا کہ ان کے نزدیک سب سے اہم چیز اقتدار کا حصول نہیں بلکہ ہمارے لئے بہترین طرز حکومت کا قیام ہے۔ وہ ایک دیانت دار، مستقل مزاج اور محب وطن سیاست دان ہیں۔ وہ واحد سیاست دان ہیں جو کرغیز عوام سے محبت کرتے ہیں۔ حتٰی کہ کولوف اور اتم بائیف بھی کسی زمانے میں سرکاری مناصب پر کام کرتے رہے اور انہوں نے اقتدار سے چمٹے رہنے کے واحد مقصد کی خاطر مشکوک شراکت قائم رکھی۔
اس مضمون کے مصنف نے سچ لکھا ہے۔ ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشنوں کی مدد سے لوگوں کو اس کے بارے میں مطلع کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اکائیف اور بکائیف کے دور میں بہت زیادہ خون بہایا گیا۔ میں تو اب یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کل کیا ہو گا۔ ہمیں مل جل کر حالات کا سنجیدگی سے تجزیہ کرنا چاہیے۔
بالآخر، لوگوں کو یہ بات سمجھ آنے لگی ہے کہ حکومت تبدیل کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ آپ ہر چیز تقابلی جائزے سے سیکھتے ہیں۔ لوگ بہتر حکومت کے خواہاں تھے تاہم انہیں پہلے جیسی حکومت پر اکتفا کرنا پڑا۔ بیلاروس کے عوام نے بھی مشکل وقت دیکھا لیکن انہوں نے اپنے مسائل کا ذمہ دار صدر کو ٹھہراتے ہوئے ان پر حملہ نہیں کیا۔ یورپی ثقافت سے یہ مراد ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ بکائیف وہاں روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ملک اور اس کے عوام کا جائزہ لیتے ہیں۔ انہوں نے بکائیف کو اس امید کے ساتھ وہاں بھیجا کہ وہ واپس لوٹ آئیں گے۔ عوام کو پتا ہونا چاہیے کہ صدر بھی عام لوگوں کی طرح سوچ رکھتے ہیں۔ وہ سخت دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور انہیں ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو کلیدی مناصب پر فائز کیا تو اس سے کیا فرق پڑتا تھا؟ کیا وہ بہت زیادہ لوٹ مار کرتے؟ اگر وہ ایسا کرتے تو اس کی تحقیقات کی جا سکتی تھیں۔ وہ بھی وفادار لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے۔ اگر آپ ان کو اپنے عہدے کی میعاد پوری کرنے تک برداشت کرتے اور پھر فیصلہ کرتے تو اس میں کیا مضائقہ تھا؟ ان کے پاس اپنی بے شمار دولت تھی اور وہ اکتا گئے تھے۔ وہ آپ لوگوں کی مدد سے ملک میں خوشحالی لانے کا سوچ رہے تھے۔ یہ صبر و سکون سے حاصل ہو سکتی تھی۔ کوئی بھی صدر راتوں رات آپ کی زندگیوں کو بہتر نہیں بنا سکتے۔ قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود بھی یہ مشکل ہے۔ وقت نے اسے ثابت کیا ہے اور یہ بات واضح ہے۔
روم شہنشاہوں کے زیر سایہ 1 ہزار 5 سو سال تک قائم رہا اور پارلیمان قائم ہونے کے بعد محض 50 سال رہ سکا۔ اب خود ہی نتیجہ اخذ کرلیں۔
کرغزستان کے لوگو، اب ہم سیاسی منشور والی جماعت کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ شخصیات کی بناء پر ووٹ ڈالتے ہیں مثلاً اتم بائیف، تیکے بائیف، ساریئیف، تاشیئیف وغیرہ۔ بنیادی طور پر ان سب کے پاس ایک جیسے پروگرام ہیں جن پر اکائیف اور بکائیف کے دور میں عملدرآمد ہو چکا ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیں دھوکا دیتے آئے ہیں۔ ہر بار ہمیں اس کا علم ہوتا تھا تاہم ہم خاموشی اختیار کیے رکھتے تھے۔ اور وہ غالباً ہمیں آئندہ بھی اسی طرح دھوکا دیتے رہیں گے۔ چنانچہ ہمیں کسی نئی جماعت مثلاً زمان داش کا انتخاب کرنا چاہیے۔
میں صدر بکائیف کے حامیوں کے خلاف ہوں۔
یہ جمہوریت کی انتہا ہے جو طوائف الملوکی میں تبدیل ہو گئی ہے یعنی طاقت کا خلاء۔ لینن کے بقول اس ملک میں ہر سرکاری ملازم ریاست کو چلا سکتا ہے جس سے یہ مراد ہے کہ طاقت کا خلاء پیدا ہو چکا ہے۔ ہر کوئی ریاست نہیں چلا سکتا۔ کیوں؟ کیونکہ فہم و فراست اور ذہنی استعداد کے فقدان کے باعث موجودہ سیاست دانوں میں سے کوئی بھی اس کا اہل نہیں۔ چھوٹی موٹی وارداتوں میں ملوث افراد اور چور ڈاکو کرغیز انداز میں اپنے آپ کو بچانے کے لئے قانونی کارروائی سے استثناء حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قانون ساز اراکین اور ججوں کو ان کے استثناء سے محروم کر دیا جائے تو وہ فوراً اپنے عہدے چھوڑ دیں گے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سیاست دان اس سطح تک گر چکے ہیں۔ انہوں نے بہت عرصے سے لوٹ مار جاری رکھی ہوئی ہے اور اسی لئے وہ پارلیمان کا انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔
یہ بات ناگزیر ہے کہ ذہنیت کو تبدیل کیا جائے اور امیدواروں کا جھوٹ پکڑنے والی مشین سے امتحان لیا جائے۔ وہ سب اسی بدعنوان نظام کا حصہ ہیں۔ حکام اور عہدیداروں کی جھوٹ پکڑنے والی مشین سے چھان بین کے لئے آئینی شق متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ اس ملک میں کوئی شخص اتنا محب وطن نہیں ہے کہ وہ اس اقدام کی حمایت کر سکے۔ وہ ہر سطح پر صرف باتیں کرتے ہیں اور قرضوں اور امداد کی بھیک مانگتے رہتے ہیں۔ یہ ملک جغرافیائی سیاسی لحاظ سے دوسروں پر انحصار کرتا رہے گا یا پھر اس کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ یہ شورش پسندی اور منشیات کی اسمگلنگ کا گڑھ اور جینیاتی امتحان گاہ بن جائے گا۔ آپ کے بچوں کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا اور صرف وہ زنجیریں باقی رہ جائیں گی جن میں آپ خود کو باندھ رہے ہیں۔
میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ لوگوں کو پتا ہونا چاہیے کہ وہ کسے ووٹ دے رہے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ بوتن، عطا زہرت اور ارنامس میں تمام لوگ بکائیف کے حامی ہیں۔ پارلیمان میں ان کا داخلہ بند کرنا چاہیے۔
کیا تیکے بائیف، اتم بائیف یا اوتن بائیفا صدر بکائیف کے لوگوں سے کسی لحاظ سے بہتر ہیں؟ وہ تمام کسی نہ کسی دور میں اکائیف یا بکائیف کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ اتم بائیف کو تو ایک بار صدر بکائیف نے سند قبولیت بھی عطا کی تھی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سب صدر اکائیف اور صدر بکائیف کے حامی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان کی درجہ بندی اس لحاظ سے مناسب رہے گی کہ کس نے دیانت داری سے کام کیا اور کس نے سرکاری خزانے میں لوٹ مار کی۔
اے کرغیز لوگو، خواب غفلت سے جاگو۔ آپ اپنی زندگیاں اور حمایت کس کے لئے وقف کر رہے ہیں۔ اکائیف، بکائیف اور اوتن بائیفا کے تمام حامی سوویت تنظیم کا حصہ ہیں یعنی وہ جماعت جو اقتدار پر قابض ہے۔ وہ اپنے آپ کو کمیونسٹ کہتے تھے اور پھر 1991 میں جمہوریت پسند بن گئے اور اب اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے اقتدار پر قابض ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ کرغزستان ابھی مکمل طور پر تقسیم نہیں ہو سکا۔
محترم قارئین۔ یہ چیز نہیں چل سکتی۔ ہم سب کو بخوبی علم ہے کہ روزا اوتن بائیفا، تیکے بائیف، بابانوب بائی بولوف، اتم بائیف، بیک نذروف وغیرہ جیسے ہمارے حکام پہلے ہی 20 سال سے ملک پر برسر اقتدار ہیں اور یہ ان کی پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے۔ اگر یہ چیز اسی طرح چلتی رہی تو ان سب کو عوام کے دشمنوں کی حیثیت سے جیل جانا پڑے گا اور ہمیں ان کی جائیداد ضبط کرنا پڑے گی۔
اکائیف اور بکائیف، حکومت اور حزب اختلاف۔ لوگو، ہوش میں آؤ۔ یہاں کوئی بھی پرانے اور نئے رہنما نہیں ہیں بلکہ حکمران جماعت کے حریص اراکین ہیں جو 1991 سے قبل کمیونسٹ کہلاتے تھے اور پھر جمہوریت پسند بن گئے۔ وہ آج بھی اس اقتدار کے حصول کے خواہاں ہیں جس کا انہیں سوویت دور میں چسکا پڑ گیا تھا۔ آپ کسی کے بھی ماضی کو کریدیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس دور میں وہ شہری کمیٹی یا علاقائی کمیٹی کے سیکرٹری تھے یا پھر سوویت اداروں اور ٹریڈ یونینوں کے رہنما تھے۔ یہ چیز اسی طرح جاری رہے گی تاآنکہ ملک اور عوام کے لئے فکرمند نوجوان اور پرعزم سیاست دان ان کی جگہ نہ لے لیں۔ لیکن یہ کب ہوگا؟ جہاں تک قازقستان اور ازبکستان کے استحکام کا تعلق ہے تو اس کا پتا اس وقت چلے گا جب نذر بائیف اور اسلام کریموف اقتدار سے رخصت ہو جائیں گے۔
وہ سب اختراع پسند لوگ ہیں اور بکائیف یا اکائیف کے لوگوں کی طرح نہیں ہیں۔ وہ اپنی شرائط پر چلتے ہیں۔ خود کو تبدیل کرنے کی حیران کن صلاحیت کی بناء پر وہ کسی بھی حکومت میں شامل ہو سکتے ہیں چاہے وہ بکائیف کی ہو یا اکائیف اور اوتن بائیفا کی۔ وہ بلاشبہ خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ اقتدار کی جدوجہد کر رہے ہیں جس کا مقصد کسی کو دوبارہ اقتدار میں لانا نہیں بلکہ اپنے لئے ایک محفوظ ماحول کا قیام ہے۔ یہ مکمل سچ ہے۔ وہ اپنے حقیقی عزائم پر پردہ ڈالنے کی خاطر دلفریب نعروں اور منصوبوں کا استعمال کرتے ہیں۔ صرف بکائیف کے غریب رشتہ دار اور ان کے علاقے کے لوگ ہی اب ان کی واپسی کے خواہاں ہیں کہ شاید بکائیف عوامی حمایت کے عوض انہیں کچھ انعام و اکرام سے نواز دیں۔ ہمیں انسانوں کی صلاحیتوں پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
سب سے پہلے تو عوام کا خیال کریں اور پھر سیاست کے بارے میں سوچیں۔ عوام مصائب برداشت کر رہے ہیں جبکہ حکمران اپنی لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عزیز ہم وطنو، اپنے دلی خیالات کے مطابق آئندہ انتخابات میں درست فیصلے کرو۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں سیاست اور ریاستی حکمرانی کے لئے ماہرین کی خدمات مستعار لینا پڑیں گی اور سمجھوتہ کرنے والوں کی راہ روکنا ہوگی۔ وہ لوگ جو کبھی سازشی اور چور تھے وہ تمام زندگی جھوٹ بول کر لوٹ مار کرتے رہیں گے۔ ہمیں نئے انداز میں زندگی گزارنے کی ضرورت ہے ورنہ ہماری حیثیت ایک کوپک سے زیادہ نہیں اور ہم اپنے عظیم جنگجو آباؤ اجداد کے بہادرانہ کارناموں کی توقعات پر پورے نہیں اتر سکیں گے۔
ہر قوم کو ایک اچھے حکمران کا حق پہنچتا ہے۔ آئیے اس بات کو ثابت کریں کہ ہمیں بھی بہتر حکمران کا حق حاصل ہے جیسا کہ ہم نے 7 اپریل کو ثابت کیا تھا۔
میرا خیال ہے کہ اس وقت کرغزستان میں ہمارے پاس ایک حقیقی رہنما کی کمی ہے۔ تمام موجودہ قائدین اس ملک کی قیادت کے مستحق نہیں۔ اکثر لوگ ان پر اعتماد نہیں کرتے اور ان میں صدر روزا اوتن بائیفا بھی شامل ہیں۔ وہ آگ سے کھیل رہی ہیں۔ مجھے انتہائی خدشہ ہے کہ اس سب کا اختتام خطرناک نتائج پر ہو گا۔ مجھے تو اس بات پر حیرت ہے کہ حکام کی تعیناتی میں ہونے والی غلطیاں ابھی تک چل رہی ہیں۔ یہ دونوں صدور اکائیف اور بکائیف کے دور میں ہوتا تھا۔ بظاہر آپ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھ رہے۔ مارات بکائیف محکمہ قانون کے ڈائریکٹر تھے اور اب ان کے سابق معاون نے یہ منصب سنبھال رکھا ہے۔ بیک نذروف نے انہیں ڈائریکٹر مقرر کیا اور اب کوئی بھی اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ رہا۔ بظاہر ایم بکائیف کی تلاش جاری ہے مگر ان کا سابق عملہ محکمہ چلا رہا ہے۔ غالباً انہیں کوئی بہتر شخص نہیں مل سکا۔ بشکیک کی شہری پارلیمان کے تمام اراکین کو اجکولوف لائے تھے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ انہیں برطرف کیوں نہیں کیا جا رہا۔ میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کرغزستان کا مستقبل غیر محفوظ ہے۔ پارلیمانی انتخابات کے نتائج ملک کی سلامتی کی ضمانت نہیں ہیں۔ اس کے نتائج کہیں زیادہ بدتر ہو سکتے ہیں کیونکہ انتخابات میں وہی جماعتی قائدین حصہ لے رہے ہیں جو کہ عبوری حکومت کا حصہ تھے یعنی تیکے بائیف، ساریئیف، بیک نذروف، اتم بائیف وغیرہ۔ مجھے ترسن بائی باقر اولو کے ایک ٹیلی ویژن پروگرام سے پتا چلا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس جون میں ہونے والے اوش کے فسادات سے متعلق اطلاعات موجود تھیں اور انہوں نے عبوری حکومت کو اس بارے میں لکھا بھی تھا تاہم نامعلوم وجوہات کی بناء پر عبوری حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اوش کے واقعات کی سب سے بھاری ذمہ داری عبوری حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ بظاہر اپنے دیگر اہم معاملات میں مصروف تھی اور اس نے جنوبی علاقوں کی صورت حال کی پروا نہیں کی۔ کیا ہم عبوری حکومت، بشمول روزا اوتن بائیفا، کے اراکین پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ ان کے پاس ملک کو مزید چلانے کا اخلاقی جواز نہیں ہے۔ اگر وہ پارلیمان میں پہنچ جاتے ہیں تو میرے خیال میں اس سے کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنے والے محب وطن افراد کو متحد ہو جانا چاہیے۔
بہت خوب۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ اقتدار کی کھینچا تانی میں لگے رہیں گے تاآنکہ کچھ باقی نہ رہے۔
اے کرغزستان کے شہریو، سب کچھ ہم پر منحصر ہے۔ ہمیں سیاسی فعال اور سب سے بڑھ کر سیاسی اہل ہونا چاہیے۔
ہر کوئی اقتدار کے حصول کا خواہش مند ہے اور عوام سے لوٹ مار کے ذریعے حاصل کیے گئے پیسے کو اپنی تشہیر پر خرچ کر رہا ہے۔ ادھر، جنوبی علاقوں کی خواتین اپنے بچوں کے ہمراہ بشکیک کی سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی ہیں۔ جنوبی علاقوں کے ہیرو کہاں گئے جو کامچی بیک تاشیئیف کی طرح یہ شیخیاں بگھارا کرتے تھے کہ چولپون بائی تولے بردیئیف اوش کے عوام کی حفاظت کر رہے ہیں۔ وہ صرف شورش زدہ علاقوں میں دکھائی دیے اور بس۔ بلاشبہ، وہ اپنی تشہیر چاہتے تھے تاکہ وہ پارلیمان کی نشست جیت لیں اور عوامی خزانے کی لوٹ مار جاری رکھیں۔
کرغیز بھائیو، میں اپنے سابق ملک کے حالات پر غمزدہ ہوں۔ مجھے اکثر یہ دیکھ کر شرم آتی ہے کہ قازق ذرائع ابلاغ کرغزستان کے حالات کی کس طرح تصویر کشی کر رہے ہیں۔ کیا یہ بات درست ہوسکتی ہے کہ ہمارے ہاں کوئی بھی قابل اور ایماندار رہنما باقی نہیں رہ گئے جو ہمارے عوام کی رہنمائی کر سکیں؟ اس وقت تو مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ روزا اوتن بائیفا کی موجودہ حکومت کو ناکام بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ وقت ہی بتائے گا کہ کون کیا ہے۔ بصد احترام، آپ کا ایک سابق ہم وطن امان۔
"بدقسمتی سے کرغزستان کے سیاست دانوں نے کرغیز باشندوں کو متحد کرنے کے لئے سب سے خطرناک راستے کا انتخاب کیا یعنی ازبکوں کے خلاف ان کی قوم پرستی کو ابھارنا۔ آخر کار یہ چیز تعمیری نہیں ہے۔ ہمیں قازقستان کی طرح کے ایک قومی تصور کی ضرورت ہے۔" یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ سرکردہ سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ قازقستان میں قازق باشندوں کو بھی سب سے زیادہ تحقیر اور ذلت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ یہاں پر بکائیف کے حامیوں کے علاوہ روس، قازقستان اور ازبکستان کے انٹرنیٹ پر تبصرے لکھنے والے افراد موجود ہیں جو اپنی خدمات کا معقول معاوضہ لیتے ہیں اور کرغزستان میں ترقی پسند تبدیلی کے خلاف ہیں۔ تاہم، میرے کرغیز بھائی اس پر قابو پا لیں گے اور کامیاب ہوں گے۔ ہم قازق باشندوں کو اس کا یقین ہے۔
میرا خیال ہے کہ یہ کہنا بالکل غلط ہو گا کہ بکائیف کے حامیوں کا زور ٹوٹ چکا ہے۔ ہمیں ان کے وضع کردہ نظام کو ختم کرنے میں ایک طویل عرصہ لگے گا اور اس میں حکومت کے ان لوگوں کو ہٹانا بھی شامل ہے جو ان کے مفادات کے لئے کام کرتے تھے۔ ہر چیز کی مکمل تبدیلی ناممکن ہے۔ الف سے یے تک تمام قیادت کو تبدیل کرنے کی سوچ احمقانہ ہے۔ پرانے نظام سے بعض مثبت اور نئی چیزیں نکالنے کی گنجائش موجود ہے۔
اس سب کو عملی طور پر دیکھنے کی بجائے بہتر ہوتا کہ میں تاریخ کے کچھ سبق پڑھ لیتا۔ بکائیف کے متعلق تمام تبصرے درست ہیں۔ وہ کسی چیز پر قانع نہیں ہوں گے اور انہیں اس چیز کی کوئی پروا نہیں کہ ازبک، کرغیز یا دیگر باشندوں میں سے کون مرتا ہے۔ ان کے لئے سب سے اہم چیز بدعنوانی سے کمائی ہوئی رقم کو اپنی جیبوں میں بھرنا ہے چاہے یہ ان کے مسخروں کے ذریعے ہی حاصل ہو۔ بکائیف کا کوئی وطن، ضمیر یا عزت نہیں۔ اب ان کے پاس صرف وہی باقی رہ گیا جو ہمیشہ سے ان کے پاس تھا یعنی ڈھٹائی پر مبنی رویہ، خون کی پیاس، غیر اصولی کردار، لوٹ مار وغیرہ۔
تیکے بائیف ایک چالاک سیاست دان ہیں۔ بیک نذروف احمق ہیں اور اتم بائیف بس اوسط ہیں۔
عوام کو حکومت کا تختہ الٹنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا یہ اس لئے کیا گیا تاکہ بجلی کے نرخ سستے ہو جائیں اور پھل سبزیاں مہنگی فروخت ہوں؟ اور ٹریفک پولیس کا پھر وہی حال ہو گیا ہے جو صدر اکائیف کے دور میں تھا۔ اب وہ دھڑلے سے رشوت لے رہے ہیں۔
نئی حکومت کسی لحاظ سے بھی سابقہ حکومت سے بہتر نہیں ہے، بلکہ اس کا الٹ حساب ہے۔ سابقہ حکومت کے دور میں کم از کم امن و آشتی کی فضاء تو موجود تھی اور لوگوں کو آج کی طرح اپنی زندگیوں کا خوف نہیں تھا۔ اگر حکومت تمام شہریوں کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی تو پھر ہمیں حکومت کی ضرورت ہی کیا ہے؟
ماضی میں صدر اکائیف اور صدر بکائیف کی حمایت کرنے والے نام نہاد نئے عہدیدار عوام اور عبوری حکومت کو کیا پیشکش کر سکتے ہیں۔ وہ سیاست دان تاجروں کی حیثیت سے ظاہر ہوئے اور ان صدور کے ادوار میں انہوں نے سرکاری فنڈز میں غبن کیا اور نجی شعبے کو نقصان پہنچایا اور اب ایک متحدہ پارلیمان میں شامل ہیں۔ عبوری حکومت کے لئے سمجھ بوجھ سے مراد جنوبی علاقوں میں دشمن کے خلاف تمام کرغیز باشندوں کو متحد کرنا ہے۔ تو پھر اس متحدہ پارلیمان کے کیا حالات ہوں گے؟ سات اپریل سے آج دن تک خون ہی بہہ رہا ہے۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مجھے آپ کے مضامین کو پیش کرنے کا انداز اور ان کی بناوٹ پسند نہیں آئی کیونکہ صرف اقتباسات کو پڑھنا دشوار ہے۔ سادہ انداز میں متن لکھیے۔
بدقسمتی سے کرغزستان کے سیاست دانوں نے کرغیز باشندوں کو متحد کرنے کے لئے سب سے خطرناک راستے کا انتخاب کیا جو کہ ازبک باشندوں کے خلاف قومیت پرستی تھی۔ آخر کار یہ تعمیری چیز نہیں ہے۔ ہمیں قازقستان جیسے ایک قومی تصور کی ضرورت ہے۔ ہمیں لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو مختلف لوگوں کے بارے میں رواداری یا سادہ الفاظ میں برداشت کی تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ پھر لوگوں کو خود ہی پتا چل جائے گا کہ ان کے مزاج میں تھوڑی بہت بربریت ہے۔
ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ اس وقت عوامی شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بکائیف کے حامی سیاست دانوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع نہ ملے۔ معاشرہ اس وقت سیاہ فاموں اور سرخ فاموں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ تاہم بہت سے لوگوں نے کسی بھی فریق کا ساتھ نہیں دیا جس کی وجہ ذاتی منفعت نہیں بلکہ ملک کی تباہی پر ان کی تشویش ہے۔ ہمارے جیسے بہت سے لوگ موجود ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو شکایتیں کرنے کی بجائے اپنی کوششوں کو یکجا کر کے اقدامات کیوں نہیں کرتے؟ اب تک میں صرف اس کے متعلق سوچتا رہتا تھا تاہم اب میں سب پر زور دیتا ہوں کہ اس غلطی کو نہ دہرائیں اور ملک کو مزید تباہی سے بچائیں۔ میری پہلی تجویز یہ ہے کہ ایک سماجی نگران ادارہ بنایا جائے جس کے اراکین کا انتخاب بدل بدل کر کیا جائے کیونکہ بدعنوانی کو روکنے کے لئے مستقل بنیادوں پر نگرانی کی پہلے ضرورت ہے۔
کرغزستان کی وزارت برائے ہنگامی صورت حال کتنے فائر انجن خریدنا چاہتی تھی؟ دس؟ بیس؟ اگر ان کی قیمت 50 ہزار ڈالر فرض کر لی جائے تو پھر بھی وہ لاکھوں ڈالر کا غبن نہیں کر سکتے تھے۔ تاشیئیف کے حریفوں نے ان کے خلاف صحافیوں کو پیسے دے کر ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ وہ اس لئے امیر ہیں کہ جوگورکو کینیش میں منتخب ہونے اور وزیر برائے ہنگامی صورت حال کا عہدہ سنبھالنے سے قبل بھی ان کے پاس گیس اسٹیشنوں کا ایک سلسلہ موجود تھا۔
جب بھی پارلیمان منتخب ہوتی ہے تو وہ نااہل ہوتی ہے کیونکہ نیم جرائم پیشہ عناصر اور برادریوں کے گروپ اس میں اقتدار سنبھال لیتے ہیں۔ میرے خیال میں وسطی ایشیا کے ملک ابھی جمہوری اداروں کے لئے تیار نہیں ہیں کیونکہ پارلیمانی حکومت کے لئے بلند جمہوری ثقافت درکار ہوتی ہے۔ ایک مستحکم اور اہل حکومت کو قائم رکھنے کا واحد ذریعہ آمرانہ نظام حکومت ہے جس میں لوگوں میں شعور بڑھنے کے ساتھ ساتھ معیشت و سیاست کو بتدریج آزادی دی جائے۔
عزیز قارئین! ہمیں اس حقیقت کو مدنظر رکھنا ہو گا کہ کرغزستان میں اس وقت ہر صاحب اقتدار اور اختیار شخص سابق صدور اسکر اکائیف اور کرمنبیک بکائیف کے ماتحت بھی کام کر چکا ہے۔ ان میں سے کسی کی دو کوڑی کی بھی حیثیت نہیں ہے۔ بیک نذروف صدر بکائیف کے دور میں پراسیکیوٹر جنرل تھے اور ان پر ناجائز ذرائع سے مال بنانے کا الزام ہے۔ انہوں نے اتنا پیسہ بنالیا کہ پانچ سال تک انہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ ایک بار پھر پیسہ بنا رہے ہیں اور باقی زندگی اس سے عیاشی کرنا چاہتے ہیں۔ روزا اوتن بائیفا صدر بکائیف کے دور میں کئی ماہ وزیر خارجہ رہی تھیں۔ کیا آپ کو یاد نہیں ہے؟ سب کا یہی حال تھا۔ ہمیں نئے سیاست دانوں کو تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کی رکنیت میں نئے اور قابل ماہرین کے نام ہونے چاہئیں لیکن پرانے سیاست دان انہیں موقع دینے پر تیار نہیں ہوں گے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم اس طرح آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔
ہمیں ٹھوس حقائق کے بغیر ان پر تنقید کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ہر شخص کو خود اپنے آپ کو پرکھنا چاہیے۔ ان کی وجہ سے عام لوگ کیوں تکالیف برداشت کریں؟ ہمیں اچھے کرغیز عوام کی طرح دوستوں کی حیثیت سے زندگی گزارنی چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کی پرورش خالص اور مہذب انداز میں کرنی چاہیے اور کرغیز روایات کو نہیں بھلانا چاہیے۔ اس طرح ہم اپنے ملک میں حقیقی محب وطن افراد کی تعداد بڑھا سکیں گے۔ جہاں تک حکام کا تعلق ہے تو ہو سکتا ہے کہ انہوں نے کوئی اچھے برے کام کیے ہوں تاہم وہ دوسری زندگی میں اللہ کے سامنے اپنے اعمال کے خود جوابدہ ہوں گے۔ میں آئندہ نسل کے حقیقی محب وطن افراد کے لئے ایک روشن مستقبل کا خواہش مند ہوں۔
سابق وزیر توانائی کے تاشیئیف نے سرکاری ٹھیکے کے تحت آگ بجھانے والے محکمے کو ناقص معیار کے فائر انجن فراہم کر کے لاکھوں ڈالر بنائے تھے۔ اگرچہ ان کا احتساب ہونا چاہیے تاہم وہ دوبارہ اقتدار میں آنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ عوام کا پیسہ دن دیہاڑے لوٹا جا رہا ہے۔ اس قسم کی حکومت کی کون حمایت کر سکتا ہے؟
فطری طور پر مجھے ان لوگوں سے ہمدردی ہے جو سخت محنت کرتے ہیں اور باوقار انداز میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ دو صدروں نے ملک کو لوٹا ہے اور یہ حقیقت ہے۔ وہ بیرون ملک رہ کر مزے کر رہے ہیں جبکہ یہاں لوگ مر رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر یہ سازش تھی۔ انہیں جیل بھیجنے اور ان پر فوجداری مقدمات قائم کرنے کی بجائے وہ صرف اقتدار کے پیچھے ہیں۔ سابق وزیر برائے ہنگامی صورت حال تاشیئیف زندہ ہیں، انہوں نے آگ بجھانے والے محکمے سے پیسہ چرایا اور انہیں اعلٰی معیار کے انجن فراہم کرنے کی بجائے چین کے گھٹیا انجن دے دیے۔ اور اب ان کے انجن دوبارہ خراب ہو رہے ہیں۔ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں؟
یہ گروہ اقتدار کا متلاشی ہے!
ہر کسی کو عہدے کا انتخاب لڑنے کا حق حاصل ہے۔ تیکے بائیف، اتم بائیف، ساریئیف اور بیک نذروف صدر اکائیف اور بکائیف دونوں کے دور میں برسر اقتدار رہے۔ ہم ایک جمہوری ملک ہیں۔
میں انتہائی نیک نیتی سے کرغزستان کی نئی حکومت کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ ایک قانون منظور کرے جس کے تحت کسی بھی سرکاری منصب پر بیٹھنے والا امیدوار اپنے تمام ذاتی اثاثوں کا اعلان کرے اور اس بات کا ثبوت جمع کرائے کہ یہ دولت کن ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔
میں اس سے مکمل اتفاق نہیں کرتا۔ تاہم بکائیف کے خاندان کی اقتدار کی جانب پیشرفت کے نکتے میں وزن ہے۔ اگر وہ متحد ہو جائیں تو مزید خون بہایا جائے گا اور نئی جھڑپیں پھوٹ پڑیں گی۔