طالبان کمانڈر نے ہتھیار ڈال دیے، شمالی افغانستان میں حکومت کی حمایت کا اعلان
سابق کمانڈر کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند بے گناہ افراد کو قتل کرتے ہیں
عبد الہادی حیران
2010-05-20
کابل – انیس مئی کو ملا عبد اللہ المعروف ملا ملنگ نامی ایک طالبان کمانڈر نے حکومت کے امن عمل میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنے بھاری اور چھوٹے ہتھیار حکام کے حوالے کر دیے۔ انہوں نے افغانستان کے پرآشوب صوبہ قندوز میں تشدد کی باضابطہ مذمت بھی کی۔
مقامی حکام کے مطابق، ملا عبد اللہ نے کم از کم 25 جنگجوؤں کی کمان سنبھال رکھی تھی اور وہ سب اب حکومت کے امن عمل میں شامل ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ حال ہی میں ان کے پانچ جنگجو اتحادی افواج کی ایک کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔
ملا عبد اللہ نے قندوز میں منعقدہ ایک باضابطہ تقریب میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ امام صاحب اور گل تپہ کے علاقوں میں سرکاری فوج کے خلاف لڑتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں بے گناہ افراد کو جاسوس قرار دے کر قتل کرنے کے معاملے پر ان کے عسکریت پسندوں کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ طالبان ملک اور عوام کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن میں نے دیکھا کہ وہ تو بے گناہ افراد کو قتل کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں کئی بار متنبہ کیا کہ وہ بے گناہ افراد کی جانیں لینے سے احتراز کریں لیکن انہوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی اور آبادی کو دہشت زدہ کرنے کا عمل جاری رکھا۔ ملا عبد اللہ نے مزید کہا کہ اکثر وہ بے گناہ دیہاتیوں کو جاسوس قرار دے کر بلاامتیاز قتل کر دیتے ہیں۔ میں اس عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ لہذا میں نے ان کی مذمت کرنے اور ایک پر امن زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔
قندوز افغانستان کے شمال میں دفاعی لحاظ سے ایک اہم صوبہ ہے اور حالیہ چند ماہ میں یہاں طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ نظر آیا ہے۔
رواں ہفتے کے اوائل میں افغان اور بین الاقوامی افواج نے گل تپہ میں ایک کارروائی کے دوران 35 طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا جن میں ازبک اور پاکستانی بھی شامل تھے۔
ادھر جبکہ ملا عبد اللہ نے بے گناہ دیہاتیوں کو قتل کرنے پر طالبان کی مذمت کی ہے، جنوب مشرقی صوبہ غزنی میں ایک اعلٰی عہدیدار نے بتایا کہ شورش پسند ان کے علاقے میں بھی اسی طرح کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
صوبے کے ایک اعلٰی پولیس عہدیدار خیال باز شیر زئی نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں بتایا کہ شورش پسندوں نے بدھ کے روز ایک طالب علم خلیل الرحمٰن اور غزنی کے ایک اور باشندے کو جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیا۔ رواں ہفتے، طالبان نے انہی الزامات کے تحت سات بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ انہوں نے غزنی میں سلطان شہاب الدین غوری ہائی اسکول کے ایک استاد کو بھی اغوا کر لیا ہے۔
انیس مئی کو تشدد کی مزید کارروائیوں میں طالبان نے افغانستان کے شمالی صوبہ بلخ میں ایک سابق سینیٹر کو ہلاک کر دیا۔ مقامی رہائشوں نے بتایا کہ محمد ابراہیم بادشاہ ظاہر شاہ کے دور میں سینیٹر تھے لیکن حال ہی میں انہوں نے مزار شریف میں سکونت اختیار کر کے وہاں زمینداری شروع کر دی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ ابراہیم چند روز قبل ضلع شلگر میں اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے آئے تھے اور عسکریت پسندوں نے رات کے وقت ان پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
اگر افغانستان سے امریکی فوج نہ نکلی تو پھر میرے خیال میں طالبان حق پر ہوں گے۔
ان کی بدقسمتی ہے۔
طالبان سانپ کی مانند ہیں۔ سوویت یونین کے حملے کے دوران ہم نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں پناہ دی لیکن انہوں نے ہمیں ہی ڈس لیا۔ وہ بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں اور پولیو کے قطرے پلانے پر بھی اسپتالوں پر بم حملے کرتے ہیں۔ وہ وحشی درندے ہیں۔
مجھے آپ کا درست پتا درکار ہے۔ مجھے اپنا پتا دیں۔ بہت شکریہ اور اللہ حافظ!
طالبان کو اپنی نیک نامی کو قائم رکھتے ہوئے پاکستان کے کسی بھی علاقے پر کبھی حملہ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اچھی خبر ہے کہ وہ افغانستان میں ہتھیار ڈال رہے ہیں۔
مجھے تمام افغان عوام سے محبت ہے۔
یا اللہ
میں صدر حامد کرزئی کی نئی حکومت کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے افغان عوام سے امن لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تاحال اس کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اگر کرزئی نے درست کہا تھا تو اپنے اس وعدے کا پاس کریں اور اگر غلط کہا تو پھر افغانستان کے عوام سے جھوٹا وعدہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
طالبان کبھی ہتھیار نہیں ڈالتے۔
خبروں پر: غیر مجاز مسلح افراد کا حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنا امن کی ایک اچھی نشانی ہے۔ میں ان کی اپنے صوبوں میں واپسی اور اپنے خاندانوں کے ہمراہ پرامن زندگی گزارنے کا تجربہ کرنے کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ اب میں اوپر ایک صاحب کے دیے گئے تبصرے پر کچھ کہنا چاہوں گا جس میں لکھا تھا کہ وہ اچھے لوگ نہیں بلکہ خراب لوگ ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ افغانستان کی خدمت کرنے کے لئے صدر کرزئی سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میرا انہیں مشورہ ہے کہ فوج، پولیس یا کسی اور سیکورٹی فورس میں شمولیت اختیار کر لیں کیونکہ اپنے ملک کی خدمت کرنے کا یہ بہترین اور باعزت طریقہ ہے۔ علاوہ ازیں، میرا یہ بھی خیال ہے کہ صدر کرزئی کے لئے ملک کے ہر شہری سے ملنا ممکن نہیں ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی صدر کرزئی سے کچھ کہنے کا خواہش مند ہے تاہم صدر سے روبرو ملاقات کی انفرادی درخواست کوئی اتنا اچھا خیال نہیں ہے۔
جی ہاں، ہم دیکھتے ہیں کہ طالبان کے ہلاکت خیز حملوں میں معصوم افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔ لہٰذا عوام اب انہیں اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے روکنا چاہتے ہیں۔
میرا نام خان ہے۔ میں پاکستان میں رہتا ہوں۔ میں بہت غریب ہوں۔
وہ اچھے لوگ نہیں ہیں۔ وہ بہت خراب لوگ ہیں۔
کرزئی صاحب، میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے ملک کو پسند کرتا ہوں اور مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ میں بی بی اے کا طالب علم ہوں اور میری عمر صرف 16 سال ہے۔ میں اپنے ملک کے لئے کام کرنا چاہتا ہوں۔ گزارش ہے کہ میری ای میل قبول فرمائیں۔