طالبان وسط ایشیائی ملکوں میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منشیات کی اسمگلنگ سے ہاتھ رنگ رہے ہیں

اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ وسطی ایشیا کے راستے سالانہ 126 ارب امریکی ڈالر کی منشیات اسمگل ہو رہی ہے

شاکر سعدی

2010-03-10

تاشقند ۔۔ کئی صدیوں تک وسطی ایشیا سے گزرنے والی شاہراہ ریشم مشرق اور مغرب کے درمیان ریشم، مصالحہ جات اور دیگر سامان کی تجارت کا راستہ تھی۔ آج وسطی ایشیا سے گزرنے والا ایک نیا تجارتی راستہ بھی ہے جو شمالی راستہ کہلاتا ہے۔ یہ راستہ افغانستان سے تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان تک پھیلا ہوا ہے۔

لیکن شمالی راستے سے گزرنے والا سامان نقصان دہ اور مہلک ہے اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی دہشت گردی کو جاری رکھنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ افغانستان میں تیار ہونے والی 21 فیصد غیر قانونی منشیات شمالی راستے کے ذریعے بیرونی دنیا پہنچتی ہے۔ اس میں سالانہ 126 ارب امریکی ڈالر مالیت کی تقریباً 95 ٹن ہیروئن بھی شامل ہے جبکہ افغانستان میں تیار ہونے والی منشیات کی سالانہ فروخت کا تخمینہ 600 ارب امریکی ڈالر کے قریب لگایا گیا ہے۔

یہ آمدنی طالبان کی افغان حکومت اور شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی مہم کے مالی وسائل کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

تاجکستان کے انسداد منشیات ادارے کے ڈائریکٹر رستم نذرف کے مطابق، وسطی ایشیا سے گزرنے والی منشیات کی ترسیل کے کئی راستے ہیں۔ ان میں افغانستان کے صوبہ ہرات سے ترکمانستان کے راستے روس اور آگے یورپ یا پھر قندوز سے تاجکستان کے راستے روس تک ترسیل شامل ہیں۔

تیسرا راستہ قندوز سے شروع ہوتا ہے جو تاجکستان سے گزرتا ہوا کرغزستان، قازقستان اور پھر روس تک جاتا ہے۔ اسمگلر منشیات کو افغان صوبے بلخ سے مزار شریف کے راستے ازبکستان کے ترمیز، قرشی، بخارا، ارگینچ اور نوکس شہروں اور پھر قازقستان اور روس لے جاتے ہیں۔

اگرچہ ازبکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد صرف 137 کلومیٹر طویل ہے لیکن ایک تجزیہ کار کے بقول ترمیز کے نزدیک سنگلاخ پہاڑوں کے باعث سرحدی پٹی پر گشت دشوار ہے اور ان پہاڑوں میں موجود سینکڑوں راستوں کا علم صرف مقامی رہبروں کو ہے۔ اندر کا علم رکھنے والے اس راستے کو وسطی ایشیا میں ہیروئن کی اسمگلنگ کے لئے بہترین قرار دیتے ہیں۔

تاہم، ازبکستان کی سرکاری کسٹم کمیٹی کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ازبک افغان سرحد سے منشیات اسمگل کرنے کی کوششیں بے سود ہیں۔ سرحدی محافظین سرحد کی کڑی نگرانی کرتے ہیں اور دریائے آمو پر بنے ہوئے پل کے نزدیک واقع کسٹم چوکی پر گاڑیوں اور مسافروں کے سامان کی نگرانی کے لئے حساس آلات نصب ہیں۔

کسٹم کے نمائندے نے کہا کہ منشیات کے سوداگر ازبک تاجک سرحد کی خلاف ورزی کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی جارحانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ اس سرحد کی طوالت 1,161 کلومیٹر ہے۔

انسداد منشیات کے حوالے سے ازبکستان کے قومی مرکز برائے تجزیہ معلومات کے ایک ذریعے نے بتایا کہ منشیات کی 61 فیصد اسمگلنگ میں پیدل چلنے والے افراد ملوث ہیں جبکہ باقی گاڑیوں، ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے ذریعے اسمگل کی جاتی ہے۔

ازبکستان کے ہی ایک اور کسٹم عہدیدار ارکن خدجائیف نے بتایا کہ منشیات کے کارندے اکثر اسے سبزیوں، پھلوں، گاڑیوں کے خفیہ خانوں، دستی سامان، گھریلو آلات اور کپڑوں میں چھپا کر لے جاتے ہیں۔ بعض ہیروئن کے کیپسول نگل جاتے ہیں لیکن اگر معدے کے تیزاب کے باعث کیپسول پھٹ جائے تو اس کا نتیجہ کارندے کی موت کی صورت میں نکلتا ہے۔

ایک آزاد ماہر عمرانیات اور ماضی میں منشیات کی لت کی تحقیق و علاج کرنے والے انور تورائیف نے کہا کہ بڑے کنبے پر مشتمل مائیں یا مفلس نوعمر افراد عام طور پر اسمگلروں کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ روزی کمانے کے لئے یہ کام کرتے ہیں۔

منشیات کی اسمگلنگ اور ایک کم سن بچے کو جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث کرنے کے الزام کا سامنا کرنے والی خاتون آئدین اخمیدوفا نے بتایا کہ ان کے شوہر پانچ سال قبل ملازمت کی تلاش میں روس گئے تھے لیکن لاپتہ ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس روزی کمانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ محض خوراک اور لباس خریدنے کے لئے کام کرتی تھیں۔ اخمیدوفا کو 15 سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

منشیات کی اسمگلنگ قومی سلامتی کا مسئلہ بھی بن سکتی ہے۔

آزاد ماہر سیاسیات ذاکر خود زہیئیف نے بتایا کہ تاجکستان میں خانہ جنگی، کرغزستان میں انقلاب اور اندیجان کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسط ایشیائی ملکوں کے سربراہوں کو خاص طور پر عوام کی غریب اکثریت کے مقابلے میں انتہائی با اثر اور امیر منشیات مافیا پر ہاتھ ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث قوتیں ہمیشہ علاقائی ملکوں کو عدم استحکام سے دوچار حالت میں دیکھنا چاہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی حکومتیں منشیات کے استعمال کے خلاف کارروائیوں اور اپنی سرحدوں پرگشت بڑھانے کے سلسلے میں کچھ زیادہ سرگرم نہیں ہیں۔

خود زہیئیف نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر سرکاری اداروں میں پائی جانے والی بدعنوانی سے منشیات کی اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بھی واضح طور پر ناکافی ہے۔

اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم سے متعلق دفتر کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اداروں کے مابین عدم تعاون سے انسداد منشیات کے اقدامات کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

لیکن بعض واقعات میں ملکوں نے مل جل کر کام کرنے میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔

2008 میں افغانستان، ازبکستان، تاجکستان اور قازقستان کے حکام نے افغانستان سے روس منشیات اسمگل کرنے والے وسطی ایشیا کے ایک گروہ کی سرگرمیوں کو کچلنے کے لئے کامیابی سے آپریشن ٹائفون نامی کارروائی مکمل کی۔ اس کارروائی میں تفتیش کاروں نے 980 کلوگرام منشیات ضبط کی اور 42 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

اقوام متحدہ کا انسداد منشیات پروگرام 1994 سے ازبکستان، کرغزستان اور تاجکستان کی حکومتوں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور منشیات کی تجارت کی بیخ کنی کی کوششوں پر کام کر رہا ہے۔

آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ، مشترکہ سلامتی معاہدہ تنظیم، شنگھائی تعاون تنظیم اور ایشیا میں رابطے اور اعتماد سازی کے اقدامات کی کانفرنس جیسی علاقائی تنظیموں نے بھی اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔

مشترکہ سلامتی معاہدہ تنظیم کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ علاقائی ممالک مناسب انداز میں تعاون کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ صورت حال رہے گی، طالبان وسطی ایشیا کے راستے منشیات کی اسمگلنگ جاری رکھتے ہوئے بے تحاشا پیسہ کماتے رہیں گے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 0)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے