کرغزستان کے دور افتادہ دیہات میں ادویات کے خلاف مزاحم تپ دق کے واقعات میں اضافہ
اوش اوبلاست میں قائم ہونے والے نئے مرکز میں علاج کی بہتر سہولیات کی پیشکش
باکت ابرائیموف
2010-03-09
اوش، کرغزستان ۔۔ اوش بلاست کے انسداد تپ دق مرکز میں 50 بستروں پر مشتمل ایک نئے یونٹ نے کم از کم دو سے زائد ادویات کے خلاف مزاحم تپ دق میں مبتلا مریضوں کا علاج شروع کر دیا ہے۔ جنوبی کرغزستان میں اس مرض کے علاج کا یہ واحد اسپتال ہے۔
اس سہولت میں 220 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے بعض کا تعلق نزدیکی علاقوں سے ہے۔ تعمیر و مرمت کی ایک رابطہ کار انجلینا ایڈلر کے مطابق، مرکز کی لیبارٹری کو جدید سامان سے آراستہ کرنے پر 900,000 کرغیز سوم (20,134 امریکی ڈالر) لاگت آئی ہے۔
سینئر نرس گلنارا ساگن بائیفا نے بتایا کہ اگرچہ جنوبی کرغزستان میں بجلی کی فراہمی اکثر منقطع رہتی ہے لیکن ہماری لیبارٹری میں بجلی اور پانی کی متواتر ترسیل ناگزیر ہے۔ اس سے ہمیں تپ دق کی بروقت تشخیص اور ان اضلاع سے نمونوں کا معائنہ کرنے میں مدد ملتی ہے جہاں تپ دق کے واقعات بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔
لیکن تپ دق کے ایک ماہر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مرکز کے غذا (87.5 کرغیز سوم/1.95 امریکی ڈالر یومیہ) اور ادویات پر (52 کرغیز سوم/ 1.16 امریکی ڈالر یومیہ) فی کس اخراجات طلب کو پورا کرنے کے لحاظ سے ناکافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مریضوں کو انسداد تپ دق کی ادویات کے ساتھ ساتھ اس سے منسلک دیگر امراض کی ادویات بھی دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ماہر نے کہا کہ ہمیں (کم از کم دو سے زائد ادویات کے خلاف مزاحم) تپ دق میں مبتلا مریضوں، خاص طور پر قیدیوں، کو اچھی خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
اوش بلاست کے ضلع الائی کے ایک دور افتادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ مت قاسم عیساکولوف بھی مرکز سے علاج کرانے والے ایک مریض ہیں۔
عیسا کولوف نے بتایا کہ مجھے ایک سال قبل جیل سے رہائی ملی اور میں نے ادویات لینا چھوڑ دیں کیونکہ میں ان کے اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ جب میں مدد حاصل کرنے گلچہ کے ضلعی مرکز میں واقع اسپتال گیا تو انہوں نے مجھے چند گولیاں دیں جن سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
عیساکولف کی حالت بگڑ گئی اور تپ دق کے مقامی ماہرین نے انہیں ہدایت کی کہ وہ علاج کے لئے اوش چلے جائیں۔ وہاں ڈاکٹروں نے تشخیص کیا کہ انہیں ادویات کے خلاف مزاحم تپ دق لاحق ہے۔
اوش میں انسداد تپ دق مرکز کی نائب ڈائریکٹر گالینا لخودید نے بتایا کہ نئے ساز و سامان سے آراستہ لیبارٹری کے فعال ہونے سے تپ دق کے معائنوں کی جانچ زیادہ مؤثر ہو گئی ہے اور (ادویات کے خلاف مزاحم) تپ دق کے زیادہ مریضوں کے لئے اب تپ دق کی تشخیص اور علاج کی سہولیات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی کرغزستان میں تپ دق کے تمام کلینکوں سے معائنوں کے نمونے ہماری لیبارٹری میں بھیجے جاتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں مزاحم تپ دق کی تشخیص کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ لخودید نے کہا کہ مزاحم قسم کے تپ دق کا علاج انتہائی دشوار ہے اور اس کے لاعلاج ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
عیسا کولوف اب پچھتا رہے ہیں کہ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کیوں نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں نے اپنی بیوی اور تین بچوں پر مشتمل خاندان کو اس مرض میں مبتلا نہ کر دیا ہو۔ میں شدید کھانسی اور تھوک میں خون آنے کے بعد ہی ضلعی مرکز گیا تھا۔ اب میرے گھر والوں کو اس ممکنہ اثر کا معائنہ کرانے کی ضرورت ہے ورنہ میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کر سکوں گا۔
کرغزستان میں بین الاقوامی ریڈ کراس کے طبی مندوب گیگم پیٹرو سیان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ (ادویات کے خلاف مزاحم) تپ دق کے مریض ایک وقت میں چھ یا سات گولیاں کھانے پر مجبور ہیں اور انہیں طویل عرصے تک یہ علاج جاری رکھنا پڑ سکتا ہے۔
تپ دق کے علاج اور مطالعے کے قومی مرکز کے ڈائریکٹر اوتندیل علی شیروف کے مطابق، مزاحم تپ دق کا عام ترین علاج اوفلوکساسن ہے۔ ایک مریض کے دو سال تک علاج کے لئے اس کی ایک بوتل کی قیمت 300 کرغیز سوم (6.69 امریکی ڈالر) ہے۔ دیگر ادویات کی سالانہ قیمت 9,000 سے 13,000 امریکی ڈالر ہے اور ایڈز کے خلاف جنگ کا عالمی فنڈ، تپ دق اور ملیریا اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں اس میں مالی معاونت کرتی ہیں۔
پیٹرو سیان نے کہا کہ ریڈ کراس کو اس بات پر تشویش لاحق ہے کہ رہا ہونے والے بہت سے قیدی علاج مکمل کیے بغیر ہی عام زندگی کی جانب لوٹ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں جیل کے نظام اور کرغزستان کی وزارت صحت کے قومی تپ دق پروگرام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ضروری ہے اور اس کے نتیجے میں پہلے ہی اوش لیبارٹری کو جدید ساز و سامان سے لیس کیا گیا ہے۔ کرغزستان میں کل 7,500 قیدیوں میں سے 350 (5 فیصد) تپ دق میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
مقدمے کی سماعت سے قبل حراستی مرکز نمبر 5 کی ایک خاتون معالج دری گل اسرائیلوفا نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ آج ہم (ادویات کے خلاف مزاحم) تپ دق کے ایک مریض سمیت 11 مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ انہیں گوشت، انڈوں، دودھ اور چینی سمیت انتہائی غذائیت بخش خوراک فراہم کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق، رہائی پانے والے سابق قیدیوں کو اچھی خوراک نہ ملنے کے باعث ان کی صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔ مزید برآں، علاج ادھورا چھوڑ دینے والے افراد شاذ ہی مناسب توجہ حاصل کرتے ہیں۔
اوش میں ریڈ کراس کی نمائندہ رخیما گائی نذروفا نے بتایا کہ ہم نے (ادویات کے خلاف مزاحم) تپ دق میں مبتلا جیل سے رہائی پانے والے مریضوں کے اندراج اور ان کا معائنہ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ اوش میں ہمارا گروپ 40 افراد کا معائنہ کر رہا ہے اور انہیں خوراک اور ادویات فراہم کر رہا ہے۔
چوئی اوبلاست کی خصوصی کالونی نمبر 27 ادویات کے خلاف مزاحم تپ دق میں مبتلا قیدیوں کے لئے مخصوص ہے۔ لخودید نے بتایا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوش اوبلاست میں 2009 میں تپ دق کے مریضوں کی تعداد کم ہو کر 101.3 افراد فی 100,000 رہ گئی ہے جبکہ 2000 میں یہ تعداد 142.7 افراد فی 100,000 تھی۔ اس کے علاوہ تپ دق کے علاج کے لئے مختص بجٹ میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
لخودید نے کہا کہ اوش اوبلاست میں تپ دق کے علاج کے دیگر مراکز بھی قائم ہیں جن میں گلچہ میں 30 بستروں پر مشتمل ایک اسپتال، کارا سو میں 80 بستروں پر مشتمل اسپتال اور بچوں کے لئے 150 بستروں پر مشتمل کلینک شامل ہیں۔ ضلعی مراکز میں اسپتال موجود ہیں جہاں عام تپ دق کا علاج کیا جا سکتا ہے لیکن ادویات کے خلاف مزاحم تپ دق کے سامنے وہ بے بس ہیں۔
ملک بھر میں تپ دق کے اندراج شدہ مریضوں کی تعداد 5,335 ہے جن میں سے 3,111 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں۔ ادویات کے خلاف مزاحم تپ دق میں مبتلا 1,290 مریضوں میں سے 97 جیلوں میں قید ہیں۔ وزارت صحت کی پریس سروس کے مطابق، 2008 کے مقابلے میں 2009 میں تپ دق میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں ایک فیصد کمی واقع ہوئی۔
پیٹرو سیان نے کہا کہ ادویات کے خلاف مزاحم تپ دق میں مبتلا ہونے کے فی کس واقعات کے لحاظ سے کرغزستان دنیا میں 20ویں نمبر پر ہے۔ یہ مرض عام طور پر قیدیوں اور غریبوں کو اپنا شکار بناتا ہے۔
اگرچہ کرغزستان میں تپ دق کے خلاف جنگ میں پیشرفت ہو رہی ہے لیکن عالمی ادارہ صحت کی آن لائن ڈیٹا بیس کا کہنا ہے کہ 2007 میں ملک بھر میں تپ دق میں مبتلا افراد کی تعداد 121 فی 100,000 تھی۔ ڈیٹا بیس میں کرغزستان کا صرف اسی سال تک کا ریکارڈ موجود ہے۔ مریضوں کی یہ تعداد اور 2009 میں اوش اوبلاست میں 101.3 افراد فی 100,000 کی شرح عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کسی مرض کو وبائی قرار دینے کی سطح سے دگنی سے زیادہ ہے۔ ادارے کی تعریف کے مطابق، 50 افراد فی 100,000 وبائی مرض کی سطح ہے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
سلام۔ کیا حال ہے آپ کا؟ میں افغانستان سے آپ سے رابطہ کر رہا ہوں۔