تاجک اسکولوں میں اسلام کی تدریس کا آغاز

اساتذہ کو امید ہے کہ اس سے طلباء میں بنیاد پرستی کی تعلیمات کی جانب مائل ہونے کی حوصلہ شکنی ہو گی

نعمت اللو میر سیدوف

2010-03-08

خجند ۔ تاجکستان کے اساتذہ کو بنیاد پرست اسلام سے فکر لاحق ہے۔

اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والے بنیاد پرستوں سے اپنے نوجوانوں کو بچانے کی خاطر اساتذہ نے ملک کے اسکولوں میں مذہبی تعلیم میں اصلاحات لانے اور اسلام کی ایک اعتدال پسند شکل کی تدریس کا فیصلہ کیا ہے۔

نئے تعلیمی سال کے آغاز سے تاجکستان میں ثانوی اسکولوں کے طلباء ان درسی کتب سے اسلام کی تعلیم حاصل کرنا شروع کریں گے جو ماہرین تعلیم نے خاص طور پر اسی مقصد کے لئے لکھی ہیں۔

اسلامی ثقافت (معرفتی اسلام) کے نام سے شروع ہونے والا نیا مضمون ہر سال 34 تعلیمی گھنٹوں پر مشتمل ہو گا۔

وزارت تعلیم کے قبل از اسکول اور اسکول کی عمومی تعلیم کے دفتر کی سربراہ بی بی ہافو شرو پوفا نے بتایا کہ نئے مضمون کا مقصد نوجوان نسل کو انتہا پسند مذہبی تحریکوں کے پھیلائے ہوئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خارجی نظریات سے محفوظ رکھنا ہے۔

صغد اوبلاست کے شہر خجند میں ایک ہائی اسکول سے وابستہ خاتون استاد مہفرت عظیموفا نے بتایا کہ اسکولوں میں رواں سال سے معرفتی اسلام کی تعلیم کا آغاز کر دیا گیا ہے لیکن ابھی باقاعدہ درسی کتب یا رہنمائے تعلیم دستیاب نہیں ہیں۔ کورس کے مواد کی عدم دستیابی کے باعث اساتذہ اپنے طور پر وزارت تعلیم کی شائع کردہ کتاب "رہنمائے اساتذہ برائے 'اسلامی ثقافت'" سے مواد منتخب کرنے پر مجبور ہیں۔

وزارت نے اسلام پر ایک نئی درسی کتاب کی ضرورت کی وجہ وسطی ایشیا میں بنیاد پرستوں کی در اندازی بتائی ہے جو کہ خطے میں خلافت قائم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

شرو پوفا کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا میں اپنی سرگرمیوں میں شدت لانے والی انتہا پسند مذہبی تنظیمیں نظریاتی تعلیم میں پائے جانے والے کسی قسم کے خلاء کو فوراً پر کر سکتی ہیں۔

2009 تک تاجکستان کے سرکاری اسکولوں میں سوویت دور کا وضع کردہ ایک مضمون 'تاریخ مذاہب' پڑھایا جاتا تھا۔ اس میں موجود بیشتر معلومات فرسودہ اور ضمیر اور مذہب کی آزادیوں کی ضمانت دینے والے آئین سے متصادم تھیں۔

تاجکستان کی قومی اکیڈمی برائے سائنسز کے رکن جرابیک نذریئیف نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے عرصے میں دنیا میں اس قدر تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں کہ تعلیمی ماہرین فنون کے مضامین میں اس لحاظ سے اضافہ اور ترامیم کرنے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔

نذریئیف نے کہا کہ عالمی اشتراکی نظام ختم ہو چکا ہے اور ہر طرح کی انتہا پسند مذہبی تنظیمیں اسلام کے جھنڈے تلے سیاسی اکھاڑے میں داخل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں نہ صرف نوجوان بلکہ جدید دور کے سیاست دان بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کی غلط تشریح سے انتہا پسندی کے نظریات کی حوصلہ افزائی ہوئی اور نتیجتاً وسطی ایشیا میں ظلم و جبر کی ایک فضاء قائم ہو گئی۔

نذریئیف نے مزید کہا کہ اس صورت حال کو کسی نہ کسی طرح تبدیل کرنے کے لئے روایتی اسلام اور اور مسلمانوں کے مذہب کی بحالی کی کوششوں کے نتیجے میں منظر عام پر آنے والی تعلیمات کے درمیان ایک حد قائم کرنا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ملک کی وزارت تعلیم کے پاس یہ حد قائم کرنے کا کوئی تصور موجود نہیں۔ اور مطالعہ اسلام کا مجوزہ کورس محض سربراہ مملکت کی ہدایات کے جواب میں تیار کیا گیا ہے۔

ہفتہ وار اخبار صغد کے ساتھ خدمات سر انجام دینے والے ایک صحافی ناظم الدین شوہین بود نے کہا کہ نیا کورس پرانے سے بہتر ہے۔ تاہم، ان کی دلیل یہ تھی کہ ہفتے میں ایک کلاس نوجوانوں کو رجعت پسند رجحانات سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے ناکافی ہے۔

شوہین بود نے کہا کہ ہم مسلمانوں اور غیر مسلموں کو آپس میں لڑانے کی بات نہیں کر رہے بلکہ ان کے ذہنوں سے 'جہاد'، 'کافر' اور ہر وہ چیز نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی رجعت پسند علماء نت نئی تشریح کرتے ہیں اور اب وہ دہشت گردی سے ہم آہنگ ہے۔

صغد اوبلاست کے کانی بدم علاقے کے گاؤں دزہیک دالک میں قائم کرغیز زبان کے واحد اسکول کے ڈائریکٹر ہولک جون رحمونوف کو مطالعہ اسلام میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا کی سرزمین پر زیادہ تر مسلمان آباد ہیں۔ ازبک، تاجک، ترکمان، قازق اور کرغیز باشندے ایک ہی عقیدے کے پیروکار ہیں اور ان کے پاس اپنے مذہب سے متعلق کم از کم ایک عام تصور ہونا چاہیے۔

بیس سے زائد نسلی اقلیتوں کے گھر شکالوف میں روسی ثقافتی مرکز کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ منصفانہ چیز یہ ہوتی اگر روسی اسکولوں میں 'تاریخ مذاہب' کو ایک مضمون کے طور پر متعارف کرایا جاتا اور اسلام اور عیسائیت کی جماعتوں کو مساوی وقت دیا جاتا۔ درسی کتاب مرتب کرنے والے ماہرین کو اس مسئلے کے بارے میں خاص طور پر حساس ہونا چاہیے اور انہیں ملک کے آئین میں دی گئی ضمیر کی آزادی کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

نئی درسی کتاب کے مصنفین میں سے ایک سید احمدوف، پی ایچ ڈی نے کہا کہ کرغیز اور ازبک اسکولوں میں 'اسلامی ثقافت' کو ایک مضمون کے طور پر متعارف کرانے سے قانون کی تعمیل یا ملک کی کرغیز اور ازبک اقلیتوں کے تحفظ کے مسائل پیدا نہیں ہونے چاہئیں۔

احمدوف نے کہا کہ اب صرف یہ سوال باقی ہے کہ ہم کتنی جلد اس درسی کتاب کا ان لوگوں کی زبانوں میں ترجمہ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ بھی اسلام کے پیروکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روسی زبان کے اسکولوں کا معاملہ ذرا مختلف ہے کیونکہ وہاں ایسے طلباء بھی زیر تعلیم ہیں جن کا تعلق دیگر مذاہب سے ہے۔

اس ابتدائی مرحلے پر وزارت تعلیم نے صرف تاجک زبانوں کے اسکولوں کی بڑی کلاسوں میں یہ کورس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم، مستقبل میں وہ اس کورس کو ازبک، کرغیز اور روسی زبان کے اسکولوں میں بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 3)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے