اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی وسطی ایشیا پر غلبے کی مبینہ کوششیں
دیگر انتہاپسند تنظیموں کی مانند یہ خطے میں خلافت قائم کرنا چاہتی ہے
نوشتۀ توکتوگل کاکچکیف دیدگاه های نویسنده معرف دیدگاه های آسیای میانه آنلاین نیست
2010-03-06
بشکیک - اسلامی تحریک برائے ازبکستان (آئی ایم یو) کا آغاز وادی فرغانہ کی روایتی بنیادوں سے ہوا۔ وہاں، محلوں کی زندگی میں مذہب کو ایک سانچے اور نمونے کی حیثیت حاصل تھی۔
سیکولر زندگی سمیت اسلامی برادری کے تمام معاملات کی مجموعی طور پر معاشرے میں توثیق کی جاتی تھی۔ مشرق قریب اور مشرق وسطٰی کے اسلامی ملکوں کے تجربات اور تاریخ نے وادی فرغانہ اور جنوبی کرغزستان میں اسلامی تنظیموں کے رہنماؤں کو اپنی جانب راغب کیا۔ محتاط تخمینوں کے مطابق، صرف اوش اوبلاست میں دس لاکھ کے لگ بھگ ازبک نژاد افراد آباد ہیں۔
سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے دوران افراتفری کے دور میں نمنگان میں عدولت ایوش ماسی اور اسلوم لشکر لری جیسی انتہاپسند اسلامی تنظیموں کی بنیاد رکھی گئی۔ ان تنظیموں کے ابتدائی تجربات سے مذہبی طبقات کے احیاء اور اقتدار کی کشمکش میں ان کی شمولیت کی راہ کھل گئی۔ روس کے شہر آسترا خان میں ایک سیاسی جھکاؤ رکھنے والی مذہبی تنظیم اسلامی احیاء پارٹی کی بنیاد رکھی گئی اور کچھ ہی عرصے میں ازبکستان اور روس میں بھی اس کے پیروکاروں نے جگہ بنا لی۔
ان انتہاپسند مذہبی گروپوں کا بنیادی مقصد وسطی ایشیا میں اسلامی ریاستوں کے گروپوں یا خلافتوں کا قیام ہے۔ انتہا پسند تنظیموں کی بلا استثناء جڑیں خاندانی تعلقات اور مذہب پسند محلہ طبقات میں ہیں۔ ان کے اراکین اور ہمدرد بازاروں، چائے خانوں، مذہبی اور خاندانی رسومات و تقریبات میں اپنی تنظیم کی معلومات عام کرتے ہیں۔ یہ معلومات اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی کسی بھی قسم کی سرگرمیوں سے متعلق ہو سکتی ہیں، حتٰی کہ فعال اور عسکری چالوں سے متعلق معلومات بھی اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔
تنظیم کے روحانی قائدین لڑاکا یونٹوں کی ساخت کا تعین کرتے ہیں۔ یہ روایت اس خطے میں عام ہے جہاں ڈیڑھ صدی قبل باسمچی کے نام سے زار روس کے خلاف بغاوت کی ایک طاقتور تحریک چلائی گئی تھی۔
وادی فرغانہ میں اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی پہلی نسل نے ازبک صدر اسلام کریموف کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔ ازبک حکام کے دباؤ سے مجبور ہو کر وہ متحدہ تاجک حزب اختلاف کی صفوں میں شامل ہو گئے۔ ان دستوں نے تاجکستان کی خانہ جنگی میں فعال کردار ادا کیا۔ اس عرصے میں افغانستان اور پاکستان میں قائم کیمپوں میں ان گروپوں کو کمان، انتظام و انصرام، سبوتاژ، پراپیگنڈا، انٹیلیجنس اور دہشت گردی کی مشقوں کی تربیت دی گئی۔ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے بعض اراکین نے خود ساختہ جمہوریہ اچکیریا میں بھی تربیت حاصل کی اور وہ چیچنیا اور داغستان میں لڑتے رہے۔ شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے عرب ممالک میں بھی عسکریت پسندوں کو تربیت دی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے لڑنے کی ابتدائی تربیت تاجکستان کی خانہ جنگی کے دوران حاصل کی لیکن اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ بہت سے عسکریت پسندوں نے سب سے پہلے عسکری تربیت سوویت فوج میں اپنی ملازمت کے دوران حاصل کی تھی۔
وسط ایشیائی ملکوں (بالخصوص کرغزستان) کی امور داخلہ کی وزارتوں کے جرمیات کے جائزوں کے مطابق، انتہاپسند گروپوں سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند کرایے کے قاتلوں کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور ان کی بعض کارروائیوں کے خلاف سخت عوامی ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا۔
افغانستان اور پاکستان جیسے مسائل کا شکار ملکوں سے تعلق رکھنے والے انتہاپسندوں سے ان کی مماثلت کو دیکھتے ہوئے تجزیہ کاروں کو اس بات کا کافی حد تک یقین ہے کہ کرغزستان میں منشیات کی اسمگلنگ کا کچھ حصہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے جنگجوؤں کے کنٹرول میں ہے۔
اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے اراکین کے لئے خطے میں غیر قانونی طور پر اسمگل ہونے والے ہتھیاروں کو نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ سرحدی ملکوں میں بھی بہت سے دہشت گردی کے حملوں میں استعمال کیا گیا ہے۔
اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے وسطی ایشیا کے لئے وسیع عزائم ہیں۔ تنظیم کی مخفی سرگرمیوں کے باوجود تجزیہ کار اسے القاعدہ کا حصہ قرار دینے کے لئے پر یقین ہیں۔ اس کے نتیجے میں، آئندہ چند سالوں میں یہ تنظیم وسطی ایشیائی ملکوں کی نسبتاً آزاد معیشتوں اور سیاسی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ملکوں کی سماجی زندگی میں کافی زیادہ اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لئے انتہائی انقلابی اقدامات اٹھائے گی۔
اس منصوبے پر عمل درآمد کا ایک ممکنہ طریقہ منی لانڈرنگ ہے۔ یہ رقم ان سرپرستوں کی جانب سے آئے گی جو صنعتی اور تجارتی شعبہ جات میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ طریقہ ان بنیاد پرست گروپوں کے اراکین کو ان ملکوں کی سیاسی زندگی میں براہ راست شمولیت کا موقع فراہم کرے گا۔ وہ غیر متشدد ذرائع سے اقتدار حاصل کر سکتے ہیں جن میں اقتصادی اور انتخابی دونوں طریقے شامل ہیں۔
اب بھی، اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے بعض حامیوں نے مبینہ طور پر بدعنوانی کے ذریعے کرغزستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں، قومی سلامتی کے اداروں، فوج اور غیر منافع بخش انسانی حقوق کی تنظیموں میں جگہ بنا لی ہے۔
اسلام پسندوں کی موجودہ لیکن نظر نہ آنے والی سرگرمیوں کے باعث وسطی ایشیا میں اسلامی نشاتہ ثانیہ کے عہد کا سامنا ہے جو انتہا پسندی، بنیاد پرستی اور جدیدیت میں شامل ہو رہا ہے۔ اسلامی یکجہتی پر انحصار کرتے ہوئے اسلامی تحریک برائے ازبکستان اور اس سے ملتی جلتی تنظیمیں پر امن بقائے باہمی کے اصول پر عمل پیرا ہیں، اگرچہ اسلام پر ان میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
اپنے عالمی عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے، کچھ عرصہ قبل اسلامی تحریک برائے ازبکستان نے اسلامی جماعت برائے ترکستان میں شمولیت اختیار کرلی۔ مؤخر الذکر کا سب سے بڑا مشن مشرقی ترکستان (آج کل چین کا صوبہ ژن ژیانگ) کو وسط ایشیائی ترکستان کے ساتھ دوبارہ متحد کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے بہت زیادہ رقم اور وقت درکار ہوگا کیونکہ چین نے اسے روکنے کی خاطر زیادہ طاقت استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
بنیاد پرستوں کو وسطی ایشیا میں نئے افراد کی بھرتی کے لئے ایک زرخیز زمین میسر آئی ہے کیونکہ کرغزستان اور تاجکستان کی کمزور معیشتوں اور ازبکستان میں قانون کی حکمرانی کی عدم موجودگی کے احساس کے باعث بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسلامی جماعت برائے ترکستان اپنے اہداف کے حصول کے لئے تمام وسطی ایشیا میں بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کا آغاز کر سکتی ہے۔ کسی بھی سیاسی تنازعے کی صورت میں، اسلامی محاذ کے حامی اپنے اہداف حاصل کر لیں گے۔ ضرورت پڑی تو وہ مسلح جدوجہد کا آغاز کر سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا کے ہر ملک میں اس مشن کو سر انجام دینے کے لئے انتہاپسند تنظیموں کے اراکین کی خاطر خواہ تعداد موجود ہے۔
وسطی ایشیا کے سیکولر ذہن رکھنے والے سیاسی رہنماؤں نے لاعلمی میں اپنے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں۔ حالیہ سالوں میں، ان رہنماؤں نے انتخابی مہم سمیت مختلف عوامی اور سیاسی مجالس میں مذہبی شخصیات کو شرکت کی دعوت دے کر اپنی حمایت میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان علماء کی خوشامد کے ذریعے انہوں نے اسلامی تنظیموں کو طاقت کے روحانی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔
توکتوگل کاکچی کیئیف ایک ماہر سیاسیات اور کرغیز عسکری ریزرو میں کرنل کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ سوویت وزارت برائے امور داخلہ کے لینن گراڈ ہائر پولیٹیکل اسکول کے مشترکہ شعبہ برائے فوج و سیاست کے فارغ التحصیل ہیں۔ ان کے خصوصی جنگی چالوں سے لے کر منظم جرائم، انتہاپسندی، دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف جنگ کے علاوہ جرمیات اور سیاسیات پر 120 سے زائد تحقیقی مقالہ جات شائع ہو چکے ہیں. مصنف کے خیالات سینٹرل ایشیا آن لائن کے نکتہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
یہ لکھنا بہت عجیب ہے کہ 95 فیصد مواد من گھڑت ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب 95 فیصد مواد مصنف کے اندرونی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے اور قارئین یہ نہیں جان سکتے کہ آیا یہ ذہنی اختراع ہے۔ جہاں تک کاکچی کیئیف کا تعلق ہے تو وہ کافی عرصہ قبل خطے میں قومی سلامتی کے ممتاز ماہرین کی صف میں شامل ہو گئے تھے۔ ان کی رائے پر غور کرنا اہم ہے۔
پانچ ڈالر کی قیمت کا مضمون
یہ مضمون کن معلومات کی بنیاد پر لکھا گیا ہے؟ کیا آپ اسے شائع کرنے سے پہلے اس پر غور کرتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ اس میں تھوڑا بہت سچ ہو لیکن 95 فیصد باتیں من گھڑت ہیں۔
کرنل صاحب، میں کافی حیران ہوں۔ کسی افسر، چاہے سابق ہی ہو، کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ اس مضمون کی طرح آپ کے تمام سابقہ 120 مضامین بھی تاریخی اعتبار سے درست معلومات پر مشتمل نہیں۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض کرتا چلوں کہ روس کے صوبہ ترکستان میں عہد زار کے دوران کوئی طاقتور شورش کی تحریک نہیں اٹھی تھی۔ اس زمانے میں قومیت سے قطع نظر ہر شخص اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ ریاستی شماریاتی سروس کے مطابق، روسیوں کی نسبت مقامی آبادی میں لکھ پتی افراد کی تعداد کہیں زیادہ تھی اور وہ انتظامیہ میٰں ڈاکٹروں، اساتذہ اور معماروں کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ جب کمیونسٹوں اور بولشوائیوں نے اقتدار پر قبضہ کیا تو خانہ جنگی چھڑ گئی۔ کرغیز، ازبک اور ترکمان باشندوں نے باسمچی شورش کی اتنی ہی حمایت کی جتنی کہ بولشوائیوں نے کی تھی اور اسی وجہ سے اسے خانہ جنگی کا نام دیا گیا۔ یہ جنگ 1920 اور 1930 کے عشروں میں ہوئی اور اس وقت زار روس کا نظام ختم ہو چکا تھا۔ جدید وسطی ایشیا میں آپ کو آزاد خیالی پر مبنی جمہوریت کہاں دکھائی دیتی ہے؟ یہ انتہائی مضحکہ خیز بات لگتی ہے کہ انتخابی نظام کے ذریعے اقتدار سنبھالا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کسی اور کے احکامات پر عمل کرتے ہیں تو پھر بھی آپ کو اپنی ساکھ کا خیال رکھنا چاہیے۔