روگن کی تعمیر سے ازبکستان اور تاجکستان کے تعلقات میں مزید کشیدگی

بعض تجزیہ کاروں نے دونوں کے درمیان مفاہمت پر زور دیا ہے

رخشونہ ابراگیموفا

2010-03-05

دوشنبہ ۔۔ تاجکستان اور ازبکستان کے مابین ایک پن بجلی گھر کی تعمیر کے معاملے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

دریائے وخش پر روگن منصوبے کی تعمیر کے آغاز سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

تاشقند کو یہ شکایت رہی ہے کہ کسی باہمی سمجھوتے کے بغیر روگن ڈیم کی تعمیر ناقابل قبول ہے جس پر تاجک تجزیہ کار اس بات کی پیش گوئی کر رہے ہیں کہ ازبکستان اس سلسلے میں کس حد تک آگے جا سکتا ہے۔

ازبکستان نے کئی بار ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ فروری میں اس نے اپنے ہمسایہ ملک سے روگن کے ماحولیاتی نتائج کا ایک آزاد جائزہ کرانے کی اجازت مانگی تھی۔ ازبک وزیر اعظم شوکت مرزوئیف نے ممکنہ ماحولیاتی نقصان اور زلزلوں کا حوالہ دینے کے لیے سرکاری اخبار، پراودا ووستوکا کو استعمال کیا تھا۔

ان کے تاجک ہم منصب عاقل عاقلوف نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ بجلی تاجکستان کی ضرورت ہے اور اس نے پن بجلی گھر کی تعمیر میں ماحولیاتی اور ارضیاتی مسائل کو مدنظر رکھا ہے۔

تاہم، ازبکستان نے لفظوں کی جنگ ختم نہیں کی۔ حکومت نواز اخبار نارودنو سلوفو کے مدیر سلیم دونیوروف نے لکھا کہ تاجکستان مشکوک معاہدے کر رہا ہے۔

بعض تاجک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تقریباً 20 سال قبل روس اور ازبکستان نے بجلی گھر تعمیر کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا۔

تاجک سینیٹر حوجی اکبر تراجون زودہ نے بتایا کہ 1992 میں پاکستان نے پن بجلی گھر کی تعمیر کے لئے 60 کروڑ امریکی ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس سے ایک خونریز خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ روس اور ازبکستان دونوں ہی یہ چاہتے تھے کہ پاکستانی تاجکستان میں نہ آئیں۔ لیکن ازبکستان میں ایک آزاد سیاسی تجزیہ کار سرجیائی یزہکوف نے کسی قسم کی سازشوں کی موجودگی سے انکار کیا۔

انہوں نے کہا کہ روس اور ازبکستان کی اسپیشل سروسز کی مذمت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تاجکستان میں ہونے والی خانہ جنگی انہوں نے شروع نہیں کرائی۔ یزہکوف نے کہا کہ دونوں میں سے کوئی ملک بھی ہمسایہ ملک میں ہونے والی جنگ کے اپنی سر زمین میں پھیلنے کا سر درد مول نہیں لینا چاہتا تھا۔

دونوں جانب کے تجزیہ کاروں کا کم امور پر اتفاق ہے۔ لیکن ان کی پیش گوئی ہے کہ اس تنازعے کے ابھی ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

ایک ازبک سیاسی تجزیہ کار الیگزینڈر کنیازیف نے کہا کہ یہ سلسلہ فوجی مداخلت پر منتج ہو سکتا ہے اور ازبکستان بلاشبہ اس میں حق بجانب ہو گا۔ انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین السرحدی دریا پر کسی قسم کی تعمیر کے لئے بین الاقوامی سمجھوتے کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن ایک آزاد تاجک سیاسی تجزیہ کار رستم سمیعیئف نے کہا کہ صورت حال اتنی مبہم ہے کہ کسی ایک فریق کو حق بجانب قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی قانون کے تحت اس پر کوئی واضح پابندیاں نہیں ہیں کیونکہ بین السرحدی پانی کے استعمال کا مسئلہ تاحال بات چیت سے مشروط ہے۔

سمیعیئف کا کہنا تھا کہ دونوں میں سے کسی بھی ملک کی قیادت کے پاس وہ سیاسی اثاثہ موجود نہیں جس کی بناء پر وہ روگن کے معاملے پر جنگ کی متحمل ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں سے ہر ایک کے باشندے خاصی تعداد میں پڑوسی ملک میں آباد ہیں (ازبکستان میں تاجک نژاد، تاجکستان میں ازبک نژاد) اور اس چیز سے سنگین داخلی مسائل پیدا ہونے اور نسلی بنیادوں پر جنگ کی صورت میں دونوں ملکوں کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

ایک آزاد تاجک تجزیہ کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ بجلی گھر پر تنازعے کا ایک جزوی تعلق دونوں ملکوں کے صدور کی اپنی سیاسی ساکھ میں اضافہ کرنے کی کوششوں سے ہے۔

تجزیہ کار نے کہا کہ ازبک صدر اسلام کریموف یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کتنے غیر تاجک ہیں جبکہ تاجک صدر امام علی رحمان اپنے ملک میں یہ ظاہر کرنے کے لئے کوشاں ہیں کہ وہ ازبکستان کے زیرنگیں نہیں ہیں۔

دونیوروف نے کہا کہ تنازعہ خاص طور پر کسی اور کے مفاد میں جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ طاقتیں جن کے دونوں ملکوں سے غیر دوستانہ تعلقات ہیں اور وہ علاقے کے حالات میں عدم استحکام کی خواہاں ہیں، وہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

کئی ازبک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر قسم کا سمجھوتہ ناگزیر ہے۔

کنیازیف نے کہا کہ آبی توانائی کے ایک کنسورشیم کی ضرورت ہے جس میں ارال طاس کے تمام ملکوں کے علاوہ سرمایہ کار ممالک اور توانائی کے غیر ملکی صارفین شامل ہوں۔

یزہکوف نے پن بجلی منصوبے کے ایک بین الاقوامی جائزے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمیشہ ہی آسان اور پرسکون نہیں ہوتا لیکن کسی قسم کے مذاکرات سمجھوتے کی راہ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ آج سب سے اہم چیز اعتماد کی بحالی ہے۔

دونیوروف نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی تحفظ اور ماحولیات سے متعلق جائزہ سر انجام دینا ضروری ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے والے تاجک تجزیہ کار نے منصوبے کے ازبک ناقدین سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ روگن منصوبے پر مزید تنقید مٹھی بھر امراء شاہی کے مفادات کو فروغ دے گی اور اس سے قوم کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں ڈیم کی تعمیر کے مخالفین نے کہا تھا کہ پانی کے رساؤ کو نمک کے ذخائر تک پہنچنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کر دینا ممکن نہیں۔ ڈیم کی بنیاد اتنی کمزور ہو سکتی ہے کہ زلزلے کا چھوٹا سا جھٹکا بھی اسے ہلا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ ہمیں یقین دلا رہے ہیں کہ ہر چیز کو مدنظر رکھا جا رہا ہے اور منصوبے میں نکاسی آب کی سرنگیں بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ پانی کا رساؤ ممکن نہ ہو سکے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا اب انجنئیرنگ کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی صلاحیت موجود ہے؟

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 120)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • خدا کے لیے، انہیں ہائِڈرو پاور پلانٹ لگانے دیں۔ میں حیران ہوں کہ پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ شاید زمشد اور راوشان سے؟

    January 6, 2012 @ 04:01:39PM
    Didon
  • کرنسی کے معیارپر کسی ملک کی معیشت کا اندازہ مت لگائیں۔ مثال کے طور پر، ماضی قریب تک ترک لیرا کی قدر بہت کم تھی، حتیٰ کہ ازبک سوم سے بھی کم، لیکن اس کے باوجود ترکی ایک امیر ملک ہے۔ ہماری کرنسی کے باوجود ہماری معیشت نہایت مضبوط ہے، تاجکستان کے مقابلے میں مسلح افواج بہتر ہیں۔ تاجک اور تاجکستان ازبکوں اور ازبکستان کے بغیر زندہ نہیں رہیں گے۔ آپ ہمارے بل پر زندہ ہیں۔ اس لیے یہاں ایسی باتیں مت کریں۔

    December 13, 2011 @ 01:12:52PM
    Ulug'bek
  • میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے قائدین کو اپنی مشترکہ باتیں تلاش کرنی چاہیں۔ بہرحال ہم کسی نہ کسی طرح روگن تعمیر کریں گے، لہٰذا اس کا مطلب ہے اپنا منہ بند رکھیں۔ ہم اپنے مسائل خود حل کر سکتے ہیں اور آپ کو چاہیے کہ اپنے مسائل نپٹائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کا دنیا میں آنے کا مقصد صرف ہمارے ساتھ رہنا نہیں ہے۔ ہم یہ سب آپ کے بغیر بھی کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلا کام جو آپ کر سکتے ہیں کہ اپنا صدر تبدیل کریں۔

    November 30, 2011 @ 12:11:00PM
    Azaмат
  • اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ازبک یہ چاہتے ہیں یا نہیں۔ تاجک روگن اور دیگر سماجی سہولتیں تعمیر کریں گے تاکہ معمول کی زندگی گزار سکیں۔ کریموف، یہ کون ہے؟ حتیٰ کہ ازبکوں میں سے بھی بہت سے لوگ میرے ہم خیال ہیں۔ روس اور کوریا کی مہربانی سے ہر تیسرا شخص بچ رہا ہے۔ ازبکستان کی کرنسی کی شرح تبادلہ دیکھیں۔ ۔ ۔100 ڈالر 0٫25 سومونی کے برابر ہیں۔ پہلے اسے ملک میں امن قائم کرنے دیں اور پھر آگے دیکھتے ہیں۔

    November 27, 2011 @ 12:11:00PM
    Сафо
  • ازبکوں سنو، ہمیں سمرقند، بخارا نہیں چاہیے ہم ان شہروں کے بغیر ہی اچھے ہیں، اب وہاں اصل تاجک نہیں رہے جبکہ ہمارے ازبکوں کو بھی ازبک ہونے پر شرمندگی ہے۔ آپ اس پر کیا کہیں گے؟ کیا آپ تاجکوں کا مذاق اڑانے کی جرات کریں گے، ازبک قوم تو تاجکوں سے ہی نکلی ہے!

    November 2, 2011 @ 06:11:00AM
    idoyat
  • جلد یا بدیر تمام غریب ملکوں کو پانی کے ہر لیٹر کے بدلے بھی پیسے ادا کرنا ہوں گے۔ لیکن یہ اس قدر جلد نہیں ہو گا جس قدر ہم سوچتے ہیں۔ لوگوں کی سوچ بدلنی چاہیے۔ ان کے لیے یہ ہضم کرنا مشکل ہے کہ انہیں گیس کی طرح پانی بھی خرید کر پینا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی عددی قوت سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ فوجی تصادم کی طرف اشارہ بھی کرتے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں آپ کے لیے ہم سے لڑائی کرنے کی نسبت ہمارا پانی خریدنا زیادہ سستا ہو گا۔ آپ نے ہمیں ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہمارے پا س کھونے کو کچھ نہیں بچا۔ ہم اپنی ازبک حکومت پر بہت بہت ناراض ہیں۔ ازبک عوام اس احمق حکومت سے بہت تنگ ہیں۔

    October 15, 2011 @ 12:10:00AM
    sobir
  • روگن کے بارے میں ماہرین کی کمی نہیں مگر لوگوں کو بجلی کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ پن بجلی گھر تعمیر کرنے دیں تاکہ تمام لوگ صرف چھٹی کے دن کی بجائے ہر روز بجلی سے مستفید ہو سکیں۔ یہ تو ایسی ہی صورت حال ہے کہ کوئی شخص گاڑی خریدنا چاہتا ہے مگر اس کا پڑوسی اس کے خلاف ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ماہرین اس کا جائزہ لیں تاکہ وہ کسی روز کسی شخص کو کچل نہ دے۔ ہمیں احمقانہ باتیں کرنے سے قبل سوچنا چاہیے۔ ازبکستان کی پراپیگنڈا مشینری بہت مضبوط ہے۔ یہ سچ ہے۔

    May 19, 2011 @ 02:05:00AM
    Каримислам
  • عزیز دوستو، میرا تعلق ایران سے ہے۔ میری ملازمت روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے بارے میں مطالعہ اور تحقیق سے متعلق ہے۔ لہٰذا میری ثقافت، سیاست اور معیشت کے موضوعات پر گہری گرفت ہے۔ ادھر، میرے ذہن میں ایک سوال اٹکا ہوا ہے۔ واضح الفاظ میں کہا جائے تو آپ کے ملکوں کی تاریخ ایک جیسی ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب آپ سب ایک پرچم کے نیچے رہتے تھے اور ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرتے تھے اور اب جبکہ آپ اللہ کی مدد سے آزاد ہوچکے ہیں بنیادی حقیقت ابھی تک نہیں بدلی اور آپ اب بھی سابقہ دوست ہیں جنہیں ایک دوسرے سے تعاون کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ آپ کے برسر اقتدار حکام کو اپنے مسائل ہمیشہ کے لئے حل کر لینے چاہئیں۔ انہیں مسائل کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ آپ کے درمیان تنازعہ آپ کی آمادگی اور پختہ عزم سے حل ہو جائے گا۔ اس امید کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں کہ آپ کے درمیان دیرپا امن اور دوستی قائم ہوگی۔

    November 20, 2010 @ 07:11:00AM
    یک خواهان صلح
  • میں ایک چیز سمجھنے سے قاصر ہوں۔ ہم پن بجلی گھر تعمیر کر لیں گے لیکن کوئی بھی پانی کو بند نہیں کر سکتا۔ وہ ہم سے صرف حسد کرتے ہیں۔

    September 21, 2010 @ 04:09:00AM
    Расул
  • لڑنے جھگڑنے کی باتیں کرنے والے ہم دونوں کے دشمن ہیں۔ تیسرا فریق ہمیشہ اپنے دونوں ہمسایہ ملکوں کو ہراساں کرتا رہتا ہے۔ صرف خدا پر ہمارا ایمان اور ایک دوسرے کے ساتھ رواداری ہی ہمیں محفوظ رکھ سکتی ہے۔

    September 21, 2010 @ 02:09:00AM
    Arslon
  • روگن کے بغیر تاجکستان کا مستقبل تاریک ہے۔ ازبکستان مستقبل میں روگن سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تاجکوں اور ازبکوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے یعنی ہمسایوں کی حیثیت سے عمدہ تعلقات، اس کے علاوہ کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں۔ یورپ متحد ہو چکا ہے لیکن ہم مخالف سمتوں میں گامزن ہیں۔

    September 20, 2010 @ 07:09:00AM
    Anonymous
  • تاجکوں نے کسی کا کچھ نہیں دینا خاص طور پر ازبکوں کا۔

    September 20, 2010 @ 06:09:00AM
    Anonymous
  • کنیازیف، ہم تاجک مجاہدین کا ایک گروپ ہیں جو آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ ہم آپ سے کہاں مل سکتے ہیں؟ ہماری بات پر یقین کریں، آپ اور آپ کے ساتھیوں کو ہمارا سلوک پسند آئے گا۔

    September 20, 2010 @ 12:09:00AM
    Spitamen
  • ہم دونوں حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے مسائل کو باہمی مفاہمت سے حل کریں جس میں تباہی کی بجائے ترقی پر توجہ مرکوز ہو۔ اب پرامن انداز سے ایک تعمیری اور ترقیاتی انقلاب لانے اور دنیا کو امن کی جنت بنانے کا وقت آن پہنچا ہے۔

    September 18, 2010 @ 12:09:00AM
    piyar ali sakhi
  • کنیازیف ایک گھامڑ شخص ہیں۔

    September 11, 2010 @ 09:09:00AM
    sudur
  • انہیں ازبک رہنماؤں کو ناراض نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اب تاجکستان کے سیاست دانوں کو اس کا خیمازہ بھگتنا پڑے گا۔ اگر ازبکستان چاہتا تو آپ ایک سال کے عرصے میں اپنا روگن پن بجلی گھر تعمیر کر سکتے تھے۔ اب بھی تعلقات کی تجدید کے لئے زیادہ تاخیر نہیں ہوئی تاہم یہ صدر رحمان کے ساتھ ممکن نہیں۔ وہ ہمارے عظیم اور قابل احترام رہنما اسلام کریموف کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہے ہیں۔ صدر کریموف کو علم ہے کہ کیا کرنا ہے اور ہم ان کی پالیسیوں کی حمایت کریں گے۔

    September 11, 2010 @ 06:09:00AM
    илхом
  • جی ہاں، میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ تاجک ہیں یا ازبک، مسلمان ہیں یا بدھ مت کے پیروکار۔ ہر ملک میں اچھے برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ میں خود ایک ازبک ہوں اور میری عمر 17 سال ہے۔ اگر آپ کا کسی خراب ازبک سے واسطہ پڑتا ہے تو یہ نہ سوچیں کہ تمام ازبک خراب ہیں۔ اسی طرح ازبک باشندوں کو بھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ تمام تاجک باشندے خراب ہیں۔ تاجکستان کے عزیز شہریو، برائے مہربانی حسد نہ کرو، ہمیں خوشی ہوگی اگر ہمارا ہمسایہ ملک ترقی یافتہ ہو۔ اللہ آپ کو وہ تعمیر کرنے کی توفیق دے جو آپ کرنا چاہتے ہیں اور اسی دوران دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی توفیق دے۔ جہاں تک سمرقند اور بخارا کا تعلق ہے تو آپ کو شدید غلط فہمی ہے۔ ان شہروں میں رہنے والا کوئی بھی تاجک باشندہ یہ نہیں کہے گا کہ سمرقند اور بخارا تاجکستان کے شہر ہیں۔ اور اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ لوگ آپ سے لڑنا چاہتے ہیں تو یہاں آ کر نام نہاد تاجک شہروں والی ہماری دیگر اوبلاستوں کا موازنہ کریں۔ آپ یقینی طور پر دیکھیں گے کہ تاجکستان کا ایک بھی شہر بخارا اور سمرقند جیسا خوبصورت نہیں ہے۔ آپ کے لئے ایک اور مثال ہے۔ امریکا میں دس سال سے مقیم ایک تاجک باشندے کی ایک ازبک سے ملاقات ہوئی جس نے 15 سال سے تندور پر بنی ہوئی پتیری روٹی نہیں کھائی تھی۔ انہوں نے فوراً ہی ایک دوسرے کو تیوبیتائیکا ٹوپیوں، چپن کپڑوں اور گلوشوں سے پہچان لیا۔ آپ کے خیال میں انہوں نے کیا کیا ہوگا؟ میں آپ کو جواب دیتا ہوں۔ انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور ایک دوسرے کو پلاؤ کھانے کی دعوت دی۔ یہی حال ہماری طویل اور مختصر تاریخ کا ہے جس طرح یہ لوگ مسلمان اور مشرقی آرتھوڈوکس عیسائی ہیں یا پھر ازبک اور تاجک ہیں۔ آپ سب پر سلامتی ہو۔ سمجھداری کا مظاہرہ کریں۔ ایک دوسرے کو جانے اور اس کی صفات کو سمجھے بغیر ایک دوسرے سے نالاں ہونے کی ضرورت نہیں۔

    September 8, 2010 @ 04:09:00PM
    Uzbek
  • اگر پن بجلی گھر سے کسی کو نقصان نہیں پہنچ رہا تو اس کی تعمیر شروع کر دینی چاہیے۔ تاجکستان ایک غریب اور دوسروں پر تکیہ کرنے والا ملک ہے جو منشیات کی ایک مثالی گزرگاہ ہے۔ یہاں کوئی اچھا کام نہیں ہو سکتا۔

    September 8, 2010 @ 07:09:00AM
    sergio
  • اللہ نے مسلمانوں کو ایک چھڑی دی تاکہ وہ ایک دوسرے کو اس کی نوک چبھو سکیں۔ ابھی تک ہم اپنے باہمی تعلقات میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ دیگر ممالک ترقی کی منزلیں طے کرتے جا رہے ہیں۔ اور ہمارے پاس صرف چھڑی ہی باقی رہ جائے گی۔

    September 5, 2010 @ 09:09:00AM
    G/R/A
  • میرے خیال میں جو واقعات گزر چکے ہیں ان سے متعلق بحث کرنا احمقانہ بات ہے۔ ہم ایک قوم کی مانند ہیں۔ ہم جہاں بھی جائیں گے، ایشیائی ہی کہلائیں گے۔ اس سے یہ مراد ہے کہ ہم ایک خاندان ہیں۔ میری دادی کا تعلق ازبکستان سے ہے۔ جب میرے رشتہ داروں کے ہاں شادی یا کوئی اور تقریب ہوتی ہے تو ہم ویزا ملنے میں حائل مشکلات کی وجہ سے وہاں نہیں جا سکتے۔ روگن کا تصور اچھا ہے کیونکہ اس سے ہمیں بجلی ملے گی۔ اسی لئے میں روگن کا حامی ہوں۔

    August 31, 2010 @ 08:08:00AM
    dilafruz
  • ازبکستان کے شہریو، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کا رویہ انتہائی گستاخانہ ہے؟ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہمارے غریب تاجک عوام اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی خاطر روس کے سرد موسم میں محنت مزدوری کے لئے کیوں جاتے ہیں جہاں ان کی تحقیر کی جاتی ہے اور بعض اوقات نسل پرست انہیں ہلاک بھی کر دیتے ہیں؟ میں تو انہیں تعلیم دینے کی بات بھی نہیں کر رہا اور آپ ازبکوں کا خیال ہے کہ آپ ان کے آقا ہیں؟ ہمارے ہاں متمول تاجک باشندوں کی تعداد زیادہ نہیں۔ حقیقت میں ہر شخص کو پتا ہے کہ ان کے پاس دولت کہاں سے آئی۔ تاہم اللہ موجود ہے اور جلد یا بدیر لوگوں کے خون اور آنسوؤں سے لوٹی جانے والی تمام دولت ان سے چھن جائے گی۔ تو یہ ہونے دیں۔ ہم تاجک لوگ سادے اور غالباً قدیم انداز سے زندگی گزارنے کے عادی ہیں کیونکہ ہمیں جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا ہے۔ سوویت دور میں بہت کم لوگوں نے تعلیم حاصل کی کیونکہ وہ زیادہ وقت کھیتوں میں مزدوری کر رہے ہوتے تھے۔ صرف شمالی تاجکستان کے باشندوں نے تعلیم حاصل کی اور وہ ایسے کام کرتے تھے جن میں ہاتھوں کو گندا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ ازبک باشندے صرف لوگوں کو دھوکا دینے کی تجارت میں مصروف رہے۔ اور اس پن بجلی گھر کے معاملے میں آپ کو ٹانگ اڑانے کا ہرگز کوئی اختیار نہیں۔ اگر یہ آپ کا بجلی گھر ہوتا تو آپ ہم سے پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہ کرتے۔ آپ تو مکار لوگوں کا ایک گروہ ہیں۔ اگر میرا بس چلتا تو میں آپ کو اور تاجکستان میں رہنے والے چینی باشندوں کو جہنم میں پھینک دیتا۔

    August 28, 2010 @ 01:08:00AM
    Не важно
  • ہمیں ازبک باشندوں کو اس طرح بدنام نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے تمام مسائل کے لئے بھی انہیں مؤرد الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ اس طرح تو ہم کبھی بھی ازبکوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ ان کی ثقافت، تعلیم اور حکومت پر نظر ڈالیں۔ اور یہ دیکھیں کہ آزادی کے تقریباً بیس سالوں میں ہم تاجک باشندوں نے کیا حاصل کیا ہے؟ اگر مزید ایسے بیس سال بھی گزر جائیں تو ہمارا روگن پن بجلی گھر مکمل نہیں ہو سکے گا اور ہم ہمیشہ کی طرح روسیوں، ازبکوں اور جلد ہی امریکیوں سے بھیک مانگ رہے ہوں گے۔ ہمارے لوگ ہمیشہ کی طرح احمق ہی رہیں گے۔

    August 24, 2010 @ 12:08:00AM
    Dilka
  • سلام۔ جناب میرا نام وہاب ہے اور میں آپ کے ملکوں کی سیر کرنا چاہتا ہوں۔

    August 20, 2010 @ 07:08:00PM
    rajawahabali
  • کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ازبک دوست بن چکے ہیں۔ ازبک عوام نہیں ہیں۔ وہ ہر وقت یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ کہاں سے انہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ آپ پر لعنت ہو! ہم روگن تعمیر کرنے جا رہے ہیں۔

    August 15, 2010 @ 12:08:00AM
    west
  • آپ اس بات کو بالکل نہیں سمجھ پا رہے۔ روگن ہمارا مستقبل ہے۔ ہم ازبکوں کی مدد کریں گے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سمرقند اور بخارا میں آپ ہماری ہی بجلی استعمال کر رہے ہوں گے۔

    August 6, 2010 @ 09:08:00PM
    рустам
  • اسلام علیکم میرے مسلمان بھائیو! ہم ایک دوسرے کے ساتھ کس چیز پر بحث کر رہے ہیں؟ ہم تاجک اور ازبک ہمیشہ ایک خاندان کی طرح رہے ہیں۔ لیکن کیا آپ کو 2008 کا موسم سرما یاد ہے جب زچگی وارڈوں میں ننھے بچے اور ہوسٹلوں میں طلباء جاں بحق ہو گئے تھے اور دو ماہ تک لوگ بجلی اور گیس سے محروم رہے تھے۔ ہماری بجلی جمہوریہ ازبکستان سے آتی ہے۔ ازبکستان نے ہماری جانب سے ادائیگی کے باوجود بجلی اور گیس کی فراہمی کیوں روک دی؟ سرحد پر بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام ازبکستان کا ہے۔ کتنی خواتین اور بچے ان بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں جانیں گنوا چکے ہیں؟ ازبکستان کے شہریوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے۔ انہوں نے سرحد کو اس لئے کھولا تاکہ ازبک گاڑیاں جا سکیں لیکن وہ ہماری گاڑیوں کو گزرنے نہیں دیتے۔ آپ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟ اگر آپ کے پاس پانی کم ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ آپ کی سرگرمیوں کے باعث دزہیزاک اور سردریا کی اوبلاستیں بنجر ہو کر صحرا بن چکی ہیں۔ اگر آپ پانی کو نہ چھیڑیں تو پھر کہیں بھی خشک سالی نہیں ہو گی۔ آپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ آپ کی حکومت امیر ہے لیکن آپ کے لوگ تو یہاں کام کرنے آتے ہیں۔ آپ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟ ایسی امیر حکومت کا کیا فائدہ جب عوام غریب ہوں۔ آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ہم اپنے ملک اور سرزمین کے ساتھ جو چاہے کریں، کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ میں خود بھی ایک ازبک نژاد باشندہ ہوں اور تاجکستان کا شہری ہوں۔ مجھے اپنے آبائی وطن سے محبت ہے لیکن ہمارے راستے میں نہ آئیں۔ اور اسی طرح ہمیں اس چیز کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ کون کیا کر رہا ہے۔ ہمارے ہاں شیخی باز اور سست الوجود لوگ میزوں کے پیچھے بیٹھے کچھ نہ کرتے ہوئے بھی تنخواہیں لے رہے ہیں۔

    August 3, 2010 @ 10:08:00PM
    Рауф
  • اگرچہ وہ کافی بحث کر رہے ہیں لیکن صاف بات ہے کہ مجھے اس کی بالکل پروا نہیں کہ کون اسے تعمیر کر رہا ہے۔ ان مسائل کی وجہ سے تاجکستان میں ہنگاموں کو کچلنے والے پولیس افسران رات کے وقت ازبک باشندوں کو ہدف بناتے ہیں۔ وہ گاڑیوں کو روک لیتے ہیں، پاسپورٹ چیک کرتے ہیں اور شہریت کے بارے میں سوالات کرتے ہیں۔ میں نے ازبکستان میں اس طرح کے واقعات نہیں سنے۔ وہاں تاجک باشندوں کو کوئی ہراساں نہیں کرتا۔ شہریت سے قطع نظر ہر شخص کو نوکری دی جاتی ہے۔ نوکریوں کا فقدان ہونے کے باعث انہوں نے الزام تراشی کی مہم شروع کر دی ہے۔ ہماری مدد کے بغیر ہی دونوں سربراہان مملکت اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اگر مسئلہ شروع ہو گیا تو صرف عوام کو ہی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ سیاست دانوں کو عوام کی رتی بھر پروا نہیں ہے۔ ہم ان کے لئے بھیڑوں کی مانند ہیں، ہمیں جہاں جانے کو کہا جائے گا ہم چلے جائیں گے۔ لوگو، نتائج کے بارے میں سوچو! یہ اس چیز کا سوال نہیں ہے کہ بجلی گھر سے کسے فائدہ پہنچے گا۔ چاہے آپ تاجک ہوں یا ازبک لوگوں کو سو فی صد نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بحران کی وجہ سے لوگ مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ آپ سخت جان ہیں اور اس سے نمٹ لیں گے۔ کون یہ چاہتا ہے؟ چنانچہ، بولنے سے پہلے دو بار سوچیں۔

    July 29, 2010 @ 05:07:00PM
    anonim
  • تاجک عوام کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے جو اپنی شناخت کھوئے بغیر گزشتہ 20 سالوں سے اس خلیج سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ازبکستان کو امن کی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے کے لئے خانہ جنگی کے مرحلے سے گزرنا ہو گا۔ ازبکوں اور ہمارے تاجک ہمسایوں میں کیا فرق ہے؟ روسی تو دونوں کو اسکبی کہتے ہیں۔ کرغزستان میں پیش آنے والے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر کوئی ہماری ہٹ دھرمی سے عاجز آ چکا ہے۔ اگر ہم اتنے ہی اچھے ہیں تو ہم سرحد کے ساتھ بارودی سرنگیں کیوں بچھاتے ہیں جن پر عام مزدور پاؤں رکھ کر لقمہ اجل بن جاتے ہیں؟ ہم روگن پن بجلی گھر کی تعمیر کے سخت خلاف ہیں۔ ہم کیا حق پہنچتا ہے کہ کہ ہم روگن پن بجلی گھر کی تعمیر پر پابندی لگائیں جو قابل تجدید آبی وسائل پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ کوئی جوہری بجلی گھر تو نہیں ہے۔ ازبکستان کے توانائی کے شعبے کی مثال ہی لے لیں جہاں 60 فی صد بجلی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں سے پیدا ہوتی ہے جہاں ایندھن جلتا ہے اور ماحول میں تاجک المونیم کارخانے کی نسبت لاکھوں گنا زیادہ آلودگی پھیلاتا ہے۔ ہماری ازبک فہم و فراست کہاں گئی؟ ہم اپنے پڑوسیوں سے کیا چاہتے ہیں؟ عام تاجک اور ازبک باشندے متمول نہیں ہیں جبکہ ہر قسم کے مصنفین اور مکتوب نگار حالات کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مجھے ازبک ہونے پر قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور نہ ہی کسی کو کرغیز ہونے پر قصوروار ٹھہرایا جانا چاہیے یا ازبکستان کی طرح اس ملک سے محبت کرنے کو دوش دینا چاہیے۔ میں سب پر زور دیتا ہوں کہ وہ ایک دوسرے پر ایک احسان کریں۔ ازبک حکومت کو فوری طور پر صدر رحمان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر روگن ڈیم کی تعمیر میں مدد کی پیشکش کرنی چاہیے۔ ازبکستان کے عوام وسطی ایشیا کے فسطائیوں کی شہرت نہیں چاہتے۔

    July 28, 2010 @ 10:07:00AM
    Узбак
  • ہمارے محترم ہمسایہ ملک، آپ بیرونی احمقانہ خیالات کا تعاقب کرتے ہیں یعنی بجلی برآمد کرنے سے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے لیکن یہ سب تصوراتی باتیں ہیں۔ ازراہ کرم، حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں۔

    July 25, 2010 @ 12:07:00PM
    Ali
  • ہم تاجک باشندے کبھی بھی پن بجلی گھر تعمیر نہیں کر سکیں گے اور ہر تاجک باشندہ اس امر سے بخوبی واقف ہے۔ آئیے امن سے رہنے کی کوشش کریں۔

    July 20, 2010 @ 07:07:00AM
    Sarvinoz
  • ہم پن بجلی گھر تعمیر کر کے رہیں گے، آپ چاہیں یا نہ چاہیں۔

    July 10, 2010 @ 11:07:00PM
    Anonymous
  • میں نہیں جانتا کہ یہ کس کا کھیل تھا لیکن حکام نے ایک بار پھر تاجکستان کے عوام کو دھوکا دیا۔ انہوں نے رقم جمع کی اور اب انہیں یہ پتا کہ اس کا کیا کرنا ہے۔ وہ اسے استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ ابھی تک بجلی گھر تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ملی۔

    June 24, 2010 @ 12:06:00AM
    Tonya
  • یہ روس کا کھیل ہے۔ روسی ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

    June 1, 2010 @ 12:06:00PM
    atek
  • تاجک اور ازبک عوام ایک ہی قوم ہیں لیکن ان کی زبانیں جدا جدا ہیں۔ آپ کو اس طرح کا رویہ اپنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہمیں جنگ کی ضرورت نہیں۔ دنیا میں پہلے سے جاری جنگ و جدل ہی کافی ہے۔ کیا آپ نہیں جانتے؟ عراق کی حالت کو دیکھیں۔ اس کے بعد ایران کی باری ہے۔ یہ خنزیر چاہتے ہیں کہ ہم جنگ میں پھنس جائیں۔ اس میں ان کا مفاد پوشیدہ ہے۔ روس ایک حریف کا ساتھ دے گا جبکہ امریکا دوسرے کے ساتھ ہو گا اور وہ ہم مسلمانوں کو مروا رہے ہوں گے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ ہمیں متحد ہو جانا چاہیے۔ اسلام علیکم۔

    May 22, 2010 @ 03:05:00AM
    zarif
  • میں خبیب اللو یخیٰی وچ عاریپوف کا بیٹا ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جس شخص نے یہ بات لکھی ہے وہ شرم سے عاری اور بے ضمیر ہے۔ مرزو قربون سخروبوف نے روگن ڈیم سے متعلق اپنی کہانی لکھی اور ایک شخص کا ذکر کیا جو تقریباً تین سال پہلے وفات پا چکے ہیں۔ وہ مرحوم کے وائے عاریپوف تھے جو صغد علاقائی مرکز برائے ایڈز کی روک تھام کے بانی اور ڈائریکٹر تھے۔ اس مرکز نے تاجکستان اور ملک سے باہر ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ مرزو قربون سخروبوف میں آپ کی جانب سے باضابطہ معذرت کی توقع رکھتا ہوں۔

    May 18, 2010 @ 03:05:00AM
    Орифходжа
  • ایک دوسرے کو قتل کر دو اور روسیوں کو خود پر ہنسنے کا موقع فراہم کرو۔ احمق بیوقوف لوگو!

    May 13, 2010 @ 01:05:00AM
    Highlander
  • لوگو، اس چیز کے بارے میں بحث کرنا فضول ہے جو یقینی ہے۔ روگن پن بجلی گھر کی تعمیر اللہ تعالٰی کا حکم ہے۔ اس میں رضائے الٰہی شامل ہے۔ ایک دوسرے پر تنقید کی بجائے ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے۔ ایک حقیقی مسلمان کی حیثیت سے میں وسطی ایشیا کے تمام رہنماؤں اور حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایک بڑی طاقت کے اشاروں پر ناچنا چھوڑ دیں۔ وہ ہماری حقیقی دشمن ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیں سیاہ فام کہہ کر ہماری تذلیل کرتے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف تاجکستان بلکہ ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان اور قازقستان یعنی وسطی ایشیا کے تمام لوگوں کا حوالہ یوں ہی دیتے ہیں۔ روسی ہمیں خارش زدہ جانور کہہ کر بلاتے ہیں۔ روسی حکام نہیں چاہتے کہ وسط ایشیائی ملک متحد ہوں۔ جب ہمارے احمق رہنما اپنی نوک جھونک چھوڑ کر متحد ہو جائیں گے تو ہمیں سب کچھ مل جائے گا۔ یہ اتحاد یورپی یونین سے بھی بہتر ہو گا اور پھر کوئی شخص بھی کام کی تلاش میں روس کا رخ نہیں کرے گا۔ ہم کسی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور تحقیر آمیز زبان کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ اس کا ہم سب پر اطلاق ہوتا ہے۔ ازبکستان اور تاجکستان کے درمیان ویزا نظام سے کس کو فائدہ پہنچا ہے؟ کیا ان ملکوں کے بجٹوں میں ایسی آمدنی کی ضرورت ہے؟ کیا عوام کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے؟ سرحدی علاقوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو پیاتدنیفکا (پانچ دن کی ماں) کہلاتے ہیں، یعنی وہ ازبک خاتون جو تاجکستان میں اپنے کسی رشتہ دار سے شادی کر لیتی ہے اور اسی طرح کوئی تاجک خاتون جو ازبکستان میں اپنے کسی رشتہ دار سے شادی کر لیتی ہے۔ انہیں پانچ سالوں میں ہر پانچ دن سرحد عبور کرنا پڑتی ہے۔ کیا پانچ دن کی ماں کا تین بچے ساتھ لگائے ہوئے اور ایک کو گود میں اٹھائے ہوئے گھنٹوں تک طویل قطار میں کھڑے رہنا مناسب بات ہے جب منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ کے منجمد کرنے والے درجہ حرارت یا 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں سر پر سائے کے لئے چھت بھی دستیاب نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔ ہم سب مسلمان ہیں۔ ہمیں دوسروں پر انحصار کرنے کی کیا ضرورت ہے جب ہمارے پاس، دوستی اور مفاہمت کے سوا، سب کچھ موجود ہے؟

    May 10, 2010 @ 05:05:00PM
    Abdurahmon
  • ہر تاجک باشندے کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں پن بجلی گھر پر فخر ہے اور ہم تاریخ کی روشنی میں حقیقی قوم ہیں۔ تاجکستان کے لوگو، جاگ جاؤ۔ ذرا غور کرو کہ آپ آج کی دنیا میں جی رہے ہو۔ اگر آپ اپنی تاریخ کا احترام کرتے ہیں تو پھر ازبک باشندوں کا بھی احترام کریں کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ آپ کے صدر امام علی رحمان کی ڈوریاں روس کے ہاتھ میں ہیں اور وہ اچھے سیاست دان نہیں ہیں۔ ناراض مت ہوں، یہ بات سچ ہے۔ 1991 سے 2009 کے درمیانی سالوں کا جائزہ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ وسطی ایشیا میں ازبکستان کا طریقہ کار بہترین رہا ہے۔ تاجکستان اب بھی روس کے ذہن سے سوچتا ہے۔ روس کے بغیر آپ کی حکومت کچھ بھی نہیں۔ پھر بھی آپ تاجکستان کو ایک خودمختار ملک سمجھتے ہیں۔ اب آپ کے صدر امام علی کو تبدیل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔

    May 8, 2010 @ 07:05:00AM
    maryyyyyyy
  • ہمارے ہمسایہ ملک کا ہمیشہ یہ خیال ہوتا ہے کہ تاجکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے لیکن امید ہے کہ ایک روز ازبک تاجکستان سے بجلی کی بھیک مانگیں گے جیسا کہ ان دنوں وہ پانی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ اس وقت ممکن ہے جب ہمارے رہنما بدعنوانی چھوڑ دیں اور تعلیم یافتہ لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیں۔ تاہم، اگر تاجکستان کے حالات اسی طرح رہے تو پھر ملک کا حال پہلے سے بھی بدتر ہو جائے گا۔

    May 6, 2010 @ 04:05:00PM
    Ashkon
  • آپ کو اچھا لگے یا برا، ہم پن بجلی گھر تعمیر کر کے رہیں گے۔

    May 6, 2010 @ 03:05:00AM
    Anonymous
  • ٹھیک ہے جناب، دیکھیں۔ ہمیں اتنا زیادہ ہنگامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ ویب سائیٹ اور صفحہ روس کے خفیہ ادارے آپ کے ذہنی خیالات کو بدلنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اسے چارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور آپ اس میں پھنس جاتے ہیں۔ میں نے اسے پڑھ کر اس پر غور کیا ہے۔ ہمیں وسطی ایشیا میں اپنی دولت کے باوجود روس کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارے پاس تیل، گیس، اناج، کپاس، پانی سب کچھ ہے۔ ہم آپس میں دوستانہ تعلقات قائم کر کے تعاون کیوں نہیں کرتے؟ ایوان یہ نہیں چاہتا۔ روسیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ان کے لئے نہ ہوتا تو ہم احمق ہوتے۔ ایران میں تو ایک بھی روسی باشندہ نہیں رہتا، کیا وہ احمق ہیں؟ میرا خیال ہے کہ اگر یہ طفیلی کیڑے وسطی ایشیا سے نکل جائیں تو ہماری حالت بہتر ہو جائے گی۔ بحیرہ ارال کا مسئلہ فوراً ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ روس میں اکثر سیلاب آتے ہیں، کیا بحیرہ ارال تک نہر کھودنا ناممکن ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہم ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کو پھر رہے ہیں اور ایوان گیس اور دیگر وسائل سے مستفید ہو رہا ہے۔ بھائیو، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ آئیے ہم تمام زمانوں کے اس عظیم انسان کی بات کو اپنے پلے باندھ لیں اور ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا ترک کر دیں۔ آئیے اس شیطانی صفحے کو پڑھنا چھوڑ دیں کیونکہ یہ شیطان کا کام ہے۔ آئیے فجر کی نماز کے بعد دعا مانگیں اور اسے اپنے آباؤ اجداد کے نام وقف کر دیں اور وہ ہماری غلطیاں معاف کر دیں گے۔ پھر سؤر نہیں ہوں گے اور مسائل کم ہو جائیں گے۔ آپ اور آپ کے گھروں پر سلامتی ہو۔

    May 5, 2010 @ 11:05:00PM
    Максим
  • میں روگن سے متعلق خبریں پڑھ کر گم صم رہ گیا۔ تاجکستان کی موبائل فون کمپنیاں پن بجلی گھر کے حصص خریدنے کے ہدف کو پورا کرنے میں ناکام رہیں اور حکومت نے انہیں سزا دینے کے لئے تمام بیرونی اشتہارات کے بورڈ اتروا دیے۔ وسطی ایشیا کے تمام ملکوں میں تاجکستان واحد ملک ہے جہاں یہ صنعت سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن ان کمپنیوں پر دباؤ اب بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ حکومت کی سوچ کیا ہے لیکن بہرحال یہ کافی شرمناک بات ہے۔

    May 5, 2010 @ 01:05:00AM
    равшан
  • عزیز ازبک ساتھیو، اگر آپ کے ہاں کوئی لائبریری ہے تو آپ وہاں جا کر ازبک تاریخ پر کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ میری تجویز ہے کہ کتاب کے آخر میں دیکھیں جہاں اشاعت کا سال اور ملک تحریر ہوتا ہے۔ آپ یہ کہہ کر خود کو دھوکا کیوں دیتے ہیں کہ آپ کے پاس زمین موجود ہے؟ اگر آپ کی تاریخ ہی نہیں تو پھر آپ کس زمین کی بات کر رہے ہیں۔ تاریخ میں کوئی ازبک قوم نہیں تھی، صرف ترک گلہ بان ہوا کرتے تھے۔ ان کی کوئی سرحدیں نہیں تھیں اور وہ وسطی ایشیا میں خانہ بدوشوں کی طرح گھومتے تھے۔ آہستہ آہستہ ان کی تعداد بڑھنے لگی اور پھر انہوں نے تاجک ریاست پر حملے شروع کر دیے۔ بعد ازاں، وہاں امن قائم ہو گیا اور وہ بخارا کے سرحدی علاقوں میں آباد ہو گئے۔ انقلاب سے قبل سمرقند اور بخارا کے علاقوں میں ایک بھی ازبک باشندہ نہیں تھا۔ جب فرنز آیا تو اس نے انہیں ہتھیار فراہم کیے اور پھر انہوں نے امیر بخارا پر حملہ کر دیا۔ آپ کو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چھوڑ دیں۔ میرا نہیں خیال کہ ہمیں آپ کو بتانا چاہیے کہ آپ کن لوگوں کی زمین پر رہ رہے ہیں۔ ہم نے آپ کے ساتھ کیا زیادتی کی ہے؟ میرا خیال ہے کہ اب آپ کو پتا چل گیا ہو گا کہ آپ کس کی زمین پر آباد ہیں۔ اگر تاجکستان نے ان علاقوں پر دعوٰی کر دیا تو پھر کیا ہو گا؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ازبکستان کی مثال جارجیا اور یوگوسلاویہ کی مانند ہو جائے؟ اللہ نہ کرے! اگر ہم روگن روس کے حوالے کر دیں تو پھر کیا ہوگا؟ وہ آپ کے ساتھ نرمی سے پیش نہیں آئیں گے۔ روسی ہمارے درمیان اختلافات پیدا کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ان سے کیسے جان چھڑائی جائے لیکن آپ انہیں آنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ تاجک قوم دنیا کی قدیم ترین قوم ہے جو شاندار ثقافت، روایات اور تاریخ کی امین ہے۔ ایک بھی سائنس دان اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا۔ دوسری صورت میں ہمارے ملکوں کے درمیان تجارت بڑھ سکتی ہے اور لوگ رشتہ داروں سے ملنے آ جا سکتے ہیں۔ اللہ ناانصافی کی سزا دینے والا ہے اور وہ عام لوگوں کی بجائے انہیں سزا دے گا جو اس کے حقدار ہیں۔ آپ پر اور آپ کے گھروں پر سلامتی ہو۔

    May 3, 2010 @ 05:05:00AM
    максим
  • روگن ہمارا سرمایہ افتخار اور ہماری اقتصادی خود مختاری کی ضمانت ہے۔ ازبک عوام چاہیں یا نہ چاہیں، ہم اسے تعمیر کر کے رہیں گے۔

    May 3, 2010 @ 01:05:00AM
    Исломудин
  • پانی دولت ہے۔ یہ منڈی کی معیشت ہے۔ ہم چین یا ازبکستان کا حصہ نہیں ہیں۔ اشتراکی نظام مدتوں پہلے ختم ہو گیا۔ میں ازبک گیس کی بر وقت ادائیگی کرتا ہوں۔ آپ کیوں تاجکوں سے پانی نہیں خریدتے؟ اس میں برا ماننے کی بات نہیں کیونکہ میری والدہ خود ازبک ہیں۔

    May 1, 2010 @ 03:05:00PM
    joke
  • ہم پن بجلی گھر تعمیر کریں گے اور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ کیونکہ یہ ہمارے لئے قابل فخر اثاثہ ہے۔ ازبک ہمیں روک نہیں پائیں گے، سمجھ آیا؟!

    April 30, 2010 @ 04:04:00PM
    Shonazar
  • اس زندگی میں سب سے اہم چیز امن ہے۔

    April 30, 2010 @ 01:04:00PM
    курбон
  • ساتھیو، آؤ دوست بن جائیں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ ازبکستان کی جانب سے کھڑی کی گئی تمام رکاوٹیں ہمارے لئے بہتر ہیں کیونکہ اس طرح ہم زیادہ تیزی سے اپنی خودمختار جمہوریہ کی تعمیر و ترقی کا کام سر انجام دے لیں گے۔

    April 30, 2010 @ 01:04:00PM
    хайрандеш
  • گوربا چوف ان تمام تنازعات کے منصوبہ ساز ہیں۔ اپنی آزادی سے لطف اٹھائیں۔

    April 30, 2010 @ 12:04:00PM
    Vladimir
  • کیا آپ کا دماغ خراب ہے؟ اب ہم کس قوم کی نمائندگی کرتے ہیں؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ازبک سخت جان لوگ ہیں جبکہ تاجک احمق ہیں یا پھر تاجک سخت جان اور ازبک احمق ہیں۔ اس پر ذرا غور کریں۔ تاجک اور ازبک ایک ہی قوم ہیں۔ بجلی گھر پر اختلاف کی وجہ سے اپنی قوم کے بارے میں دروغ گوئی پر مبنی باتیں نہ پھیلائیں۔ ایک دوسرے کے بارے میں جھوٹا پراپیگنڈا نہ کریں۔ میں آذر بائیجان سے تعلق رکھتا ہوں اور میرے دوستوں میں ازبک اور تاجک دونوں شامل ہیں۔ فسطائیوں کی مانند نازیبا اور احمقانہ باتیں نہ کریں۔ کوئی ہوش مند شخص ایک ہی قوم اور ثقافت کے بارے میں کبھی اس طرح کی باتیں نہیں کرے گا۔ لوگو، خواب غفلت سے جاگو! اس کی تعمیر کا انحصار اللہ کی مرضی اور سیاست دانوں پر ہے۔ آپ کا اس میں کوئی اختیار نہیں۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ازبک مینڈھے کی مانند ہیں یا پھر تاجک مینڈھے ہیں تو آپ خود مینڈھے کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔ میں نصف ازبک ہوں اور میری ایک تاجک گرل فرینڈ ہے۔ میں اس سے یہ کبھی نہیں کہوں گا کہ وہ احمق یا بھیڑ ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ہم سب ایک جیسے ہیں! خدا حافظ لوگو۔

    April 30, 2010 @ 10:04:00AM
    Атаман
  • پن بجلی گھر کی تعمیر سے قبل آپ کو اپنی تہذیب قائم کرنی چاہیے۔ تاجکستان کی کوئی تہذیب نہیں ہے۔ نشہ روس نامی مزاحیہ شو اس کا ثبوت ہے۔ تاجک صدر اور تاجک عوام دونوں ہی اپنے اقدامات کے لئے جوابدہ نہیں ہیں۔ امام علی احمقانہ حد تک ناعاقبت اندیش ہیں۔ وہ صحافیوں کو انٹرویو دے کر کہتے ہیں کہ یہ گفتگو میرے اور آپ کے درمیان محدود رہنی چاہیے۔ امام علی ذہنی طور پر پسماندہ ہیں۔

    April 28, 2010 @ 01:04:00PM
    Unknown.uz
  • دنیا میں کہیں دو گاؤں تھے۔ ان میں منفرد ثقافت اور رسوم و رواج کے حامل مختلف لوگ آباد تھے۔ ہر گاؤں میں پھولوں کی خوشبو رچی بسی ہوئی تھی اور ہر کوئی خوش و خرم زندگی گزار رہا تھا۔ ہر روز لوگ صبح جب بیدار ہوتے تھے تو پرندوں کے شاندار گیت اور ہر کھڑکی سے ایک بچے کا مسکراتا چہرہ ان کا استقبال کرتا تھا۔ وہ دوستانہ انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہے اور اپنی زندگیوں سے لطف اٹھاتے رہے۔ دونوں گاؤں کے درمیان ایک چھوٹی سی ندی بہتی تھی۔ پھر خشک سالی آ گئی۔ پانی کے بالائی بہاؤ کے گاؤں نے مسئلے کی سنگینی کی نشاندہی کی اور اس کے باشندوں نے پانی کے بہاؤ کو روکنے کا فیصلہ کیا جس سے پانی کے زیریں بہاؤ کا گاؤں پانی سے جزوی طور پر محروم ہو گیا۔ زیریں بہاؤ کے گاؤں میں پانی کی قلت ہو گئی اور جب چھوٹے بچے پیاس سے تڑپنے لگے تو اس سے مزید برداشت نہ ہو سکا۔ زیریں بہاؤ کے گاؤں کے مردوں نے اس کے خلاف قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے ہمسایوں کے پاس آئے اور صورت حال کی نزاکت اور دشواری کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ بالائی بہاؤ کے گاؤں کے سربراہ نے ان کی بات دھیان سے سنی لیکن مشترکہ ندی سے پانی کی شراکت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالائی بہاؤ سے بہہ کر آتا ہے اور ان کے گاؤں کی ملکیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سب پانی پر ہمارا بلاشرکت غیرے حق ہے لیکن ہم آپ کو استعمال کے لئے تھوڑا بہت پانی دے دیں گے جس کے لئے آپ کو ہمارا شکر گزار ہونا چاہیے۔ پانی کے زیریں بہاؤ پر واقع گاؤں کے لوگوں نے بار بار وضاحت کی کوشش کی کہ ان کے پاس فصلوں کی کاشت اور پینے کے لئے پانی نہیں اور اس وجہ سے ان کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور بچے پیاسے مر رہے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ مسئلہ ہمیشہ اس طرح نہیں چل سکتا اور پھر چلے گئے۔

    April 28, 2010 @ 01:04:00PM
    Unknown.uz
  • تین دن بعد زیریں بہاؤ کے گاؤں کے ایک مایوس باشندے نے پانی کا بند توڑ دیا لیکن پانی کے مالکان نے اسے بری طرح مار پیٹ کا نشانہ بنایا۔ اس شخص کا مقصد اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کی مدد کرنا تھا۔ پانی گاؤں کے تمام باشندوں کی زندگی کے لئے ناگزیر تھا جو آہستہ آہستہ مر رہے تھے۔ اس شخص نے ایک بار پھر بالائی بہاؤ کے رہائشیوں کو پانی روکنے سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ دم توڑ گیا۔ جب زیریں گاؤں کے باشندوں کو اس المناک سانحے کا علم ہوا تو انہوں نے دشمن سے انتقام لینے کا فیصلہ کیا۔ دونوں گاؤں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ زیریں بہاؤ کے گاؤں کے باسیوں کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں تھا اور وہ بے جگری سے لڑے۔ اس کے نتیجے میں دونوں گاؤں مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ ہنستی بستی زندگی کی جگہ کھنڈرات، گرے ہوئے چھت اور ٹوٹی کھڑکیاں باقی رہ گئیں۔ اب وہاں کتوں کے بھونکنے اور بھیڑیوں کی نوحہ کرتی آوازوں کے سوا کچھ نہیں۔ اگر بالائی بہاؤ کے گاؤں کے رہائشی اپنے ہمسایوں سے ہمدردی کرتے، ان کی تکلیف کا احساس کرتے اور دوسروں کے بچوں کو اپنے بچے سمجھتے ہوئے سمجھوتے کی کوشش کرتے تو یہ نوبت نہ آتی۔ اور پھر شفاف پانی کی ندی خون سے رنگین نہ ہوتی۔ لہٰذا ہمیشہ مسائل کے بنیادی اسباب کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ انسان کو امن سے رہنے، خالق پر ایمان لانے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو خوشیاں عطا کرنے کے لئے دماغ جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ انسانی زندگی کا مفہوم یہی ہے۔

    April 28, 2010 @ 01:04:00PM
    Unknown.uz
  • ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لوگوں کو قدرت سے ملنے والے تحفے نے تباہ کر دیا۔ زندگی اکثر ہمیں آزمائش میں ڈالتی ہے۔ ان لمحات میں انسانی حکمت اور انسانی فطرت پر انحصار اہم ہے کیونکہ خدا نے اپنے وجود کا کچھ حصہ ہمیں عطا کیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم مشکل اوقات میں انسانی اقدار قائم رکھیں اور جانوروں جیسی حرکتیں نہ کریں۔ یہ خشک سالی جلد یا بدیر ختم ہو جائے گی اور حالات پہلے کی طرح ٹھیک ہو جائیں گے۔ بعض اوقات خودغرضی، ناانصافی اور لالچ غالب آ جاتے ہیں اور ضمیر پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ ان لمحات میں انسانی اقدار بے معنی ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک مشکل وقت ہے اور انسانوں کی قدر و قیمت اور ایک دوسرے کی مدد کا متقاضی ہے۔ تب ہی ہم میں جان پھونکنے والا خالق ہمارا تحفظ اور ہم سے محبت کرے گا اور ہمیں حقیقی خوشیاں عطا کرے گا۔

    April 28, 2010 @ 01:04:00PM
    Unknown.uz
  • ساتھیو، آؤ دوست بن جائیں۔ ہم روگن تو بہرحال تعمیر کریں گے۔ فکر نہ کریں، یہ بے فائدہ ہے۔

    April 28, 2010 @ 10:04:00AM
    сайфиддин
  • بھائیو اور بہنو۔ مجھے لفظ ازبک کی سمجھ نہیں آتی۔ ازبک نام کی کوئی قوم یا لفظ نہیں ہے۔ ازراہ کرم اپنے آئندہ تبصروں میں درست تلفظ ادا کریں جو کہ ازباک ہے۔ لفظ ازبک وسطی ایشیا میں روسیوں کی آمد کے بعد پھیلا۔

    April 28, 2010 @ 08:04:00AM
    Anonymous
  • میں تاریخ کے ماہر سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا سمرقند اور بخارا امیر تیمور نے تعمیر کیے تھے؟ آپ ایک فضول تاریخ دان ہیں۔ جس وقت یہ شہر تعمیر ہوئے تو امیر تیمور ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اب صدر اسلام کریموف ان شہروں کو از سر نو تعمیر کر رہے ہیں۔ آپ کو یہ بات پتا ہونی چاہیے کہ آپ کے آباؤ اجداد کو تو بولنے کی بھی اجازت نہیں تھی، احمق۔ اپنی بزدلی کی وجہ سے آپ ابھی تک جمہوریہ ازبک کا حصہ ہیں۔ میں آپ کو بتا دوں کہ ازبکستان کی تاریخ اتنی عظیم الشان نہیں ہے۔ امیر تیمور چند سال تک انتہائی بہادری سے مردانہ وار لڑتے رہے لیکن بعد میں انہیں وہاں سے بھگا دیا گیا۔ ازبک ریاست کا قیام 1917 کے انقلاب کے بعد عمل میں آیا لیکن اس سے قبل ان کے پاس زمین تھی اور نہ ریاست۔ انہوں نے دونوں چیزیں آپ کے ناسمجھ آباؤ اجداد سے ہتھیا لیں اور ابھی تک انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ آپ یہ تذکرہ کرنا بھی بھول گئے کہ تاجک عوام، نام نہاد صغدی، کئی ہزار سال سے سر دریا کے کنارے آباد تھے۔ وہ عظیم لوگ تھے، آپ کی طرح نہیں تھے۔ میں آپ کے لکھے ہوئے تبصرے کو پڑھ رہا ہوں اور اس بات سے متفق ہوں کہ ازبک انتہائی چالاک تھے اور انہوں نے انتہائی ہوشیاری سے تاجکوں کے ذہنی خیالات تبدیل کر دیے۔ اپنی قوم کی حمایت کی بجائے آپ مہمل باتیں کر رہے ہیں۔ میرے بھائی، یاد رکھو کہ آپ ایک تاجک باشندے ہیں۔ تاجک ایک عظیم قوم ہیں لیکن ازبک عوام نے ہمیشہ ہی ان کے منصوبوں کو ناکام بنایا ہے۔ دوسرے لوگ کیوں ہم سے حسد کریں؟ تاجک عوام کے پاس ماضی ہے جسے تاریخ کا نام دیا گیا ہے۔ ازبک اس چیز سے محروم ہیں اور ان کے پاس یہ ہو بھی نہیں سکتی۔ جس کا ماضی نہیں ہوتا، اس کا مستقبل بھی نہیں ہوتا۔ اپنے آپ پر فخر کریں، اس پر یقین نہ رکھیں۔ ان کی شادی کی مثال ہی لے لیں۔ وہ ہر لحاظ سے روسیوں کی طرح بدتر ہیں۔ 1917 کی تاریخ شاہ ایوان کی ہماری سرزمین پر آمد اور گھامڑوں کی حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔ یہ سب ازبک تاریخ ہے۔ بوبود جون غفوروف کی کتاب "تاجک" کا مطالعہ کریں۔ شاید میں آپ کو بھائی کہہ کر نہ بلاتا لیکن میں نے یہ صرف اپنے آباؤ اجداد کے احترام کی خاطر کیا۔ اللہ انہیں برکت دے اور ان کی مغفرت کرے۔ آپ اور آپ کے خاندان کے لئے امن کا طلب گار

    April 28, 2010 @ 08:04:00AM
    max
  • ازبک غیر مطمئن لوگ ہیں، وہ کبھی مستقبل کے بارے میں اچھی امید نہیں رکھتے۔

    April 28, 2010 @ 05:04:00AM
    Алишер
  • میرے دوستو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ سب روسی سیاست کے کنٹرول کے باعث ہے۔ میں تاجک صدر کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اپنی رفتار کو دھیما کریں اور دوسروں کے دماغ کی بجائے اپنا دماغ استعمال کریں۔

    April 28, 2010 @ 03:04:00AM
    shoh
  • ہمیں جنگ کی دھمکیاں دینے سے قبل، ذرا اس بات کو سوچیں کہ آخر فرغانہ کی مائیں اپنے بچوں کو صرف قراقل پکستن میں پانی کی قلت کی وجہ سے تاجکوں کے خلاف جنگ کے لئے کیوں بھیجیں گی۔ اسی طرح سمرقند اور بخارا کی مائیں اپنے بچوں کو اپنے ہی ہم وطنوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی اجازت نہیں دیں گی۔ تاجکستان جنگ کا سامنا کر چکا ہے اور خدا نہ کرے کہ دوبارہ ایسا وقت آئے۔ جنگ کے نتیجے میں دو خوشحال ملکوں کی جگہ ایک صومالیہ کھڑا ہوگا، کیا آپ یہ چاہتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ اگر تاجکستان کو اپنی ترقی کے لئے پن بجلی گھر کی ضرورت ہے تو اسے بنانے دیا جائے، اور اسے اس معاملے میں کسی کی اجازت بھی درکار نہیں ہے۔ تاجکستان کبھی بھی اپنے ہمسایہ ملک کو پانی کے بغیر نہیں رہنے دے گا۔ یہ تاجک روح کے خلاف ہے جبکہ برادر ملک ازبکستان کے عوام نے ہمیں 2008 کے موسم سرما میں پانی اور بجلی کے بغیر چھوڑ دیا۔ جہاں تک گیس کی ادائیگی کا تعلق ہے تو اپنے ہمسایہ ملک کو اتنی مہنگی قیمت پر گیس فروخت کرنا باعث شرم ہے۔ اگر ہم آپ کو پانی فروخت کرنا شروع کر دیں تو پھر آپ کیا کریں گے؟

    April 27, 2010 @ 01:04:00AM
    Нодирхан
  • میں ازبک عوام سے کہتا ہوں کہ بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، ہم اپنا پن بجلی گھر ہر صورت میں تعمیر کر لیں گے۔ خدا ہمارے صدر کو برکت دے، ہم تاجکستان کو پیرس میں تبدیل کر دیں گے۔

    April 26, 2010 @ 10:04:00PM
    Хуршед
  • ازبکستان کے لوگو، مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں حالانکہ میں خود ازبک ہوں۔ لیکن آپ کے صدر اسلام کریموف اور ان کے نائبین ہیروشیما اور ناگاساکی کے ساتھ موازنہ کر کے عوام کو پاگل بنا رہے ہیں۔ یہ بالکل غلط چیز ہے۔ روگن کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ میں اپنے صدر اور روگن پن بجلی گھر کی تعمیر کے ان کے خیالات کی بھرپور حمایت کرتا ہوں۔ کیا آپ کے ملک میں ایسے لوگ ہیں جو مکمل طور پر آپ کے صدر کے حامی ہیں؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ازبکستان کے لئے بہتر یہی ہے کہ خاموش رہے اور ہمارے لئے دعا کرے۔ آپ کے لوگ کثیر تعداد میں یہاں مہمان کارکنوں کے طور پر آتے رہتے ہیں۔ آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ میری کیا مراد ہے۔ لہٰذا دخل اندازی سے اجتناب کریں، اپنے جذبات کو ٹھنڈا کریں اور بہتر یہ ہو گا کہ اپنی بیٹی پر دھیان دیں۔

    April 26, 2010 @ 04:04:00PM
    тамерлан
  • یہ سب گڑبڑ سوویت یونین کے دور کے سیاست دانوں (ردزوتک اور لینن) کی پھیلائی ہوئی ہے جنہوں نے فیصلہ کیا کہ تاجک قوم کو بھی ایک الگ ملک ملنا چاہیے۔ ہر ذہین شخص کو علم ہے کہ وسطی ایشیا میں تین سلطنتیں تھیں جہاں زیادہ ازبک تھے۔ چنانچہ تاجکوں کو الگ ملک دینا ایک افسوس ناک غلطی ہے۔ میری تجویز ہے کہ ان جنگلی لوگوں کو واپس اورا تپے یا دیگر پہاڑوں میں بھیج دیا جائے اور وہاں رہتے ہوئے ان سے لڑیں تاآنکہ ان کا وجود مٹ جائے۔ جب میرے پاس پیسہ آئے گا تو میں جوہری بجلی گھروں سے تاجکستان کا گھیراؤ کر لوں گا۔ یاد رکھیں، تاجکوں کے پاس اپنے ملک کا اختیار نہیں اور کوئی ذہین شخص انہیں قوم تسلیم نہیں کرتا۔

    April 26, 2010 @ 09:04:00AM
    Ale
  • محتاط رہیں، یہ خطرناک ہے!

    April 23, 2010 @ 08:04:00PM
    none
  • عزیز دوستو، سمرقند اور بخارا کے شہر ایک ازبک حکمران امیر تیمور نے تعمیر کیے تھے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس شہر میں تاجک باشندے آباد ہیں اور یہ ان کا شہر ہے۔ یہ غلط ہے۔ تاجکستان میں ایک شہر شخرتس ہے جس میں ازبک باشندے آباد ہیں، وہ تو اس شہر پر ملکیت کا دعوٰی نہیں کرتے۔ میرے دوستو اس بات پر غور کرو۔ میں ایک تاجک ہوں لیکن میں ازبکوں کی حمایت کروں گا کیونکہ وہ درست ہیں۔ صغدی اسکایا اوبلاست ان کی ملکیت ہونی چاہیے۔ کیوں؟ کیونکہ ان کی ذہنی سطح ایک ہی ہے۔ ختلون اوبلاست افغان عوام کی ہونی چاہیے کیونکہ ان کا لباس اور کھانا پکانا افغانیوں جیسا ہے۔ تو بہتر یہ ہے کہ آپ تاریخ کا مطالعہ کریں کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ صغدی اسکایا اوبلاست وادی فرغانہ کا حصہ ہے۔ اس لئے اس پر باتیں بے کار ہیں۔ اسلام کریموف، سمجھنے کی کوشش کرو!

    April 23, 2010 @ 05:04:00PM
    Рашид
  • اس ویب سائیٹ کے عزیز صارفین کو سلام۔ تاجک اچھے لوگ ہیں۔ ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ کوئی ہمیں ہماری ہی سر زمین پر پن بجلی گھر کی تعمیر سے روکے۔ ہماری زمین پر برف پوش پہاڑ اس کا ماخذ ہیں۔ تو پھر ہم یہ بجلی گھر کیوں تعمیر نہیں کر سکتے؟ ہم روگن ڈیم تعمیر کر کے رہیں گے اور آپ ہمیں اس سے نہیں روک سکتے۔ یہ بات ذہن میں بٹھالیں۔ اللہ ہمارے انتہائی قابل احترام صدر امام علی رحمان کو طویل عمر اور اچھی صحت دے۔ امام علی رحمان اور روگن پن بجلی گھر زندہ باد، یہ بات ذہن میں رکھو حاسدی ازبکو۔ اللہ تعالٰی ہر چیز کو دیکھتے اور سنتے ہیں۔ ہم پر رحم کرو امریکا کے مزارعو۔ ازبک حکومت کو اسی چیز سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے۔

    April 23, 2010 @ 02:04:00AM
    umed
  • ازبکستان کے باشندو، لوگوں کو اچھے کاموں سے روکنا گناہ ہے اور خدا اس کی سزا دے گا۔ آپ نے کئی بار تاجک قوم کو تباہ کرنے اور تاجکستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ بہت سے اچھے لوگ اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔ آپ نے تو ایک بہترین گلوکار کرومت اللو قربونوف کو بھی ہلاک کر دیا۔ لیکن پھر بھی آپ کو اپنی من پسند چیز نہیں ملی۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ آپ کے اقدامات خدا کی ناراضگی کا موجب ہیں؟

    April 22, 2010 @ 08:04:00AM
    Зоир
  • ہم اپنا پن بجلی گھر تعمیر کر لیں گے اور ہمارے اور آپ سمیت ہر شخص خوش ہو جائے گا۔ اس پر بحث لاحاصل ہے، تمام دلائل فراموش کر دیے جائیں گے اور ہمارے دشمن حسد سے مر جائیں گے۔ آئیں دوست بنیں اور ایک دوسرے سے مفاہمت کی کوشش کریں۔

    April 22, 2010 @ 02:04:00AM
    Anonymous
  • کنیازیف افغان سرحد کو قازقستان تک توسیع دینا چاہتے ہیں۔

    April 19, 2010 @ 02:04:00PM
    Joe
  • میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ تاجکستان یہ واویلا کیوں کر رہا ہے کہ وہ پن بجلی گھر تعمیر کر کے رہے گا اور ہم پر حسد کا الزام لگا رہا ہے۔ میں تاشقند کا ایک عام شہری ہوں اور مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہمیں تاجکستان سے حسد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کے پاس فخر کے لئے ہے ہی کیا؟ آپ کا معیار زندگی کمتر ہے، آپ کی معیشت نہ ہونے کے برابر ہے اور آپ ہر لحاظ سے ازبکستان سے پیچھے ہیں۔ اپنے نئے فٹ بال کلب بنیود کور کو ہی دیکھ لیں جس کے کوچ اسکولاری کو سب سے زیادہ معاوضہ ادا کیا جا رہا ہے۔ جہاں تک روگن کا تعلق ہے تو ہمارے صدر کریموف ٹھیک ہیں، ذرا اسے تعمیر کر کے تو دیکھیں۔ ہم بھی دیکھ لیں گے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں۔

    April 19, 2010 @ 02:04:00AM
    MAN
  • مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر ازبکوں کا مسئلہ کیا ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ آپ کی وجہ سے ہماری دل آزاری ہو رہی ہے۔ آپ کو ہمت کیسے ہوئی کہ ہماری ثقافت کے بارے میں بات کریں۔ اور ہمارے صدر کی ذات کو موضوع گفتگو نہ بنائیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ دنیا کے بہترین صدور میں سے ایک ہیں۔ آپ ہم سے جلتے ہیں۔ آپ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا نہیں دیکھ سکتے۔ کسی نے کہا کہ ہم گفتار کی بجائے کردار کے غازی نہیں ہیں۔ بہتر ہے کہ اس مسئلے کو نہ چھیڑیں۔ منافقت آپ میں ہے۔ ترقی کرنے اور دنیا کو یہ دکھانے کی بجائے کہ وسطی ایشیائی عوام بہترین لوگ ہیں، آپ اپنے خودغرضانہ مفادات پر اٹکے ہوئے ہیں اور ان کے حصول کے لئے ہر ممکن حربہ اختیار کر رہے ہیں۔ آپ منافع کے لئے ازبکوں کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ جہاں تک 2 کروڑ 80 لاکھ ازبکوں کا سوال ہے تو اس کا کیا ہے۔ مجھے آپ کی 2 کروڑ 80 لاکھ آبادی کی رتی بھر پروا نہیں۔ آپ سب سے کم ظرف لوگ ہیں!

    April 19, 2010 @ 02:04:00AM
    Jhony - D
  • تو ازبک جنگ چاہتے ہیں؟ ٹھیک ہے، ہمارے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ ہم تاجکستان سے ازبک باشندوں کا صفایا کر دیں گے اور ازبکستان کے ازبکوں تک پہنچ جائیں گے۔ بہتر ہے کہ آپ امن کی فضاء قائم رکھیں ورنہ ہم آپ کو سبق سکھا دیں گے۔

    April 19, 2010 @ 01:04:00AM
    TJK
  • روگن تمام تاجکوں کے لئے سرمایہ افتخار ہے اور ہم مقررہ نظام الاوقات کے تحت اسے تعمیر کرلیں گے۔ اگر جنگ چھڑی تو ہم سمرقند اور بخارا کے علاقوں کو واپس لے لیں گے۔ یہ مذاق نہیں ہے۔ ازبکوں کی کوئی تاریخ نہیں ہے اور بہت سے سائنس دانوں نے اس بات کو ثابت کیا ہے۔ ازبک بھیڑوں کے گلے کی مانند ہیں۔ ازبکوں کو کبھی کچھ نہیں مل سکے گا لہٰذا اپنی توانائیوں کو ضائع نہ کریں۔ روگن کے بعد ہم بلدزہوون پن بجلی گھر تعمیر کریں گے جس کی صلاحیت روگن سے بھی زیادہ ہو گی۔ ازبکستان کے لئے دنیا تاریک ہو جائے گی اور تاجکستان میں خوشحالی کے ایک نئے عہد کا آغاز ہو گا۔ ہم روگن تعمیر کر کے رہیں گے، آپ کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔

    April 18, 2010 @ 09:04:00AM
    far
  • چاہے آپ کو پسند ہو یا ناپسند، ہم بہرحال روگن تعمیر کر ہی لیں گے۔ تاجک باشندو، اپنا کام جاری رکھو!

    April 18, 2010 @ 07:04:00AM
    Парвиз
  • آپ یہ بجلی گھر تعمیر نہیں کر سکیں گے، آپ کو ہم ازبکوں سے التجا کرنا پڑے گی۔

    April 17, 2010 @ 12:04:00PM
    Uzbek
  • عزیز دوستو، ہمیں روگن پن بجلی گھر کی تعمیر سے متعلق بحث نہیں کرنی چاہیے۔ ازبک پہلے بھی ہمارے غلام تھے اور اب بھی ہیں۔ 20ویں صدی سے قبل آپ کے عوام کا وجود تک نہیں تھا۔ ہم نے آپ کو وجود عطا کیا اور اب آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ناسمجھ ہیں۔ آپ صدیوں سے ہمارا پانی استعمال کر رہے ہیں اور آپ کے خیال میں ہم ناسمجھ ہیں۔ تمام ملعون ازبک باشندے تاجکوں کے غلام ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ میں یہ بات ایک حقیقی تاجک شہری کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں۔

    April 16, 2010 @ 04:04:00PM
    Мино
  • تاجک اور ازبک باشندے صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ امن و شانتی سے رہتے آئے ہیں۔ ہمارے کلیاب کے باشندے آخری قطرے تک ہر چیز تاجکوں سے نچوڑتے رہتے ہیں۔

    April 16, 2010 @ 02:04:00PM
    Daler
  • میں خود کو نیا نیا ازبک تسلیم کرنے والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ سمرقند اور بخارا کئی صدیوں تک ہمارے شہر رہے۔ یہ تاجک نسل ہے۔ میرے دوستو، میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ امیر تیمور (تیمور لنگ) نے اپنی ریاست کی بنیاد سمرقند کے گرد رکھی تھی۔ اب آپ کو سمجھ آئی کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔ لہٰذا، میرے نزدیک تعمیر کرنے یا نہ کرنے سے متعلق خیالات کا اظہار غیر اخلاقی ہے۔

    April 16, 2010 @ 12:04:00AM
    JOJO
  • اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اسلام علیکم۔ ہم اپنا پن بجلی گھر ضرور تعمیر کریں گے اور اس میں کسی کو دخل اندازی کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم ایک آریائی قوم ہیں اور ہم اپنی سر زمین پر پن بجلی گھر ضرور تعمیر کریں گے۔ اللہ تعالٰی ہماری حفاظت کرے گا، اللہ اکبر!

    April 15, 2010 @ 08:04:00AM
    Амир
  • ازبک خانہ بدوش بھائیو۔ حسد کرنے کی بالکل ضرورت نہیں۔ آپ پہلے ہی ہم سے سمرقند اور بخارا چھین چکے ہیں اور ہماری ثقافت پر ڈاکہ ڈال چکے ہیں۔ اب ہمیں زندہ رہنے دیں اور اپنی زندگیوں سے لطف اٹھانے دیں۔ خدا ہمارے عوام اور صدر امام علی رحمان کو لمبی زندگی عطا فرمائے۔ آپ پسند کریں یا نہ کریں، ہم انشاء اللہ اس طرح کے سینکڑوں پن بجلی گھر بنا کر دکھائیں گے۔

    April 15, 2010 @ 05:04:00AM
    Мушкиниссо
  • لوگو، یہ سب نفرت کہاں سے آ گئی ہے؟ کیا آپ کے خیال میں اگر کسی شخص کو کوئی بات بری لگتی ہے تو کیا آپ کو اس سے خوشی حاصل ہو گی؟ شاید اچھی دلیل سے خراب خاموشی بہتر ہے۔ ایک منٹ کے لئے رک کر اپنے بچوں کے بارے میں سوچیں۔ آپ ان کے لئے کیا چھوڑ کر جائیں گے؟ آپ کو ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے اور دھمکیاں دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ زمین ایک ہی ہے۔ ہم ایک دوسرے کی رشتہ دار اقوام ہیں۔ ایک دوسرے کو ناراض کرنے اور دھمکانے سے آپ میں باقی رہ جانے والی عقل عام ختم ہو رہی ہے۔

    April 15, 2010 @ 03:04:00AM
    Anonymous
  • ماسکو اور تاشقند ہمیشہ سے اس چھوٹے سے وسطی ایشیائی ملک پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات کا ثبوت 1920 اور 1990 کے عشروں سے ملتا ہے جب ازبک فوجی ریگار سے دوشنبہ میں داخل ہو گئے اور تاجک دانشوروں کو قتل کر دیا۔ بعض مصنفین کا کہنا ہے کہ تاجکستان میں ازبک نژاد باشندوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے لیکن ذرا اعلٰی ترین رہنماؤں کی فہرست اور ان کے آباؤ اجداد پر نگاہ ڈالیں۔ ان میں سے نصف ازبک، لکائی اور ترک زبانیں بولنے والے دیگر تارکین وطن ہیں۔ آپ نے لکھا ہے کہ روگن پن بجلی گھر کی تعمیر سے زیریں علاقوں میں پانی نہیں رہے گا اور بحیرہ ارال مزید خشک ہو جائے گا۔ میں 1980 کی دہائی میں جمہوریہ کراکل پکستن گیا تھا تو پہلے ہی اس کے کناروں پر نمکیات موجود تھے۔ یہ کافی افسوس ناک امر ہے لیکن اس کے لئے تاجک عوام کو مؤرد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ تاجک عوام ایک بہتر زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں اور ازبکستان جیسے پڑوسی پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔ غالباً جب ازبکستان کے موجودہ حکمران اقتدار چھوڑیں گے اور ایشیا کے مستقبل کے بارے میں دلچسپی لینے والے لوگ ان کی جگہ سنبھالیں گے تو دونوں ملکوں کے درمیان اس پر کوئی اتفاق ہو جائے۔ چاہے آپ کو پسند ہو یا ناپسند ہم تو روگن تعمیر کریں گے۔ روس کی جانب دیکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب ان کی حالت وہ نہیں جو اُنیسویں اور بیسویں صدی میں تھی۔ انہوں نے ہمیں دھوکا دیا ہے اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے۔

    April 14, 2010 @ 01:04:00PM
    nik
  • وسطی ایشیا کے یہ آبی وسائل صرف تاجکستان کی ملکیت ہیں، چنانچہ اس اہم پن بجلی گھر کو تیزی سے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ اقتصادی نقطہ نظر سے یہ بہت دلچسپ ہے۔ اس کی تعمیر کے بعد کئی دیگر مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔

    April 13, 2010 @ 11:04:00PM
    рустам
  • اس کی وجہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان بھروسے کی کمی ہے۔ اسلام علیکم۔ اختلافات کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے مذہب سے منحرف ہو چکے ہیں۔ میں ان تبصروں پر حیران ہوں جن میں کہا گیا ہے کہ ہم اسے ہر صورت میں تعمیر کر لیں گے اور تعمیر میں بدنیتی شامل ہے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ ازبک مسلمان ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ اگر جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم متاثر ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث مبارکہ ہے۔ حدیث کے مطابق، ازبکستان کے مسائل ہمارے اپنے مسائل ہیں۔ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یہ بات سب کو یاد رکھنی چاہیے۔

    April 12, 2010 @ 01:04:00PM
    Абу Яхъя
  • ہم اس پر لامتناہی بحث کر سکتے ہیں لیکن ہمیں اس کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھوتہ کر لیں یا پھر چھریاں چاقو نکال کر لڑنا شروع کر دیں۔ تاجکستان کے عوام کو ترقی کے لئے بجلی کی ضرورت ہے اور اس میں بڑی صلاحیت ہے۔ ازبکستان کے لوگ ہمیشہ ہی کسی نہ کسی بات پر غیر مطمئن رہتے ہیں، یا تو انہیں پانی کی قلت کا سامنا ہے یا پھر وہ ہمارے عوام کو پسند نہیں کرتے یا اسی طرح کی کوئی اور بات ہے۔ اگر انہیں پانی کی ضرورت ہے تو ہم ساریز کھول دیں گے اور وہ جتنا جی چاہے پانی لے سکتے ہیں۔ چاہیں تو وہ اس میں تیراکی بھی کر سکتے ہیں۔

    April 12, 2010 @ 11:04:00AM
    PreSIDenT
  • صدر کریموف کو ڈر ہے کہ وہ ہمسایہ ملکوں کو اپنی مہنگی بجلی فروخت نہیں کر پائیں گے۔ انہیں اسی بات کا ڈر ہے۔ ازبکستان میں بہت سے آبی ذخائر ہیں لیکن ان کے متعلق کوئی بات نہیں کرتا۔ ان سب کا سرچشمہ سر دریا ہے۔

    April 12, 2010 @ 10:04:00AM
    Салим
  • اب ازبکوں نے تالکو اور ریلوے کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے کیونکہ انہیں اور کوئی چیز نہیں مل رہی۔ انہیں روگن کی مخالفت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ چاہے بان کی مون بھی اس کی مخالفت کریں ہم پھر بھی اسے تعمیر کریں گے۔ اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل نے ازبکوں کو خاموش کرانے کے لئے تاجکوں سے روگن کے صرف چار یونٹ تعمیر کرنے پر بات کی۔ مجھے اس بات کا یقین نہیں کہ ہمارے صدر اس پیشکش کو قبول کریں گے۔

    April 12, 2010 @ 07:04:00AM
    Саид
  • تاجکستان کے لوگو، اگر آپ کو گیس اور بجلی چاہیے تو ہم ازبکستان میں اس کی فراہمی کے لئے آپ کے منتظر ہیں۔ ازبک مہمان نواز لوگ ہیں۔ ہمیں آپ سے حسد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا آپ کے پاس کوئی ایسی بہتر چیز ہے جس پر ہم آپ سے حسد کریں؟

    April 11, 2010 @ 03:04:00PM
    zarina
  • ہم مسلمان ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور قتل و غارت کے بغیر بھی اچھے طریقے سے رہ سکتے ہیں۔ اگر کسی کو لڑنے کا شوق ہے تو وہ فلسطین چلا جائے اور اسرائیل کے خلاف لڑے۔ ایک پاکستانی

    April 11, 2010 @ 09:04:00AM
    Waqas
  • تعمیر جاری رکھیں، آپ خود ہی اس میں ڈوب جائیں گے۔

    April 10, 2010 @ 09:04:00PM
    Александр
  • ازبکستان کے لوگو، ہم اپنے پن بجلی گھر کی تعمیر کے بعد آپ کا برا حشر کر دیں گے، آپ اس کی مزاحمت بھی نہ کر پائیں گے۔ جہنم میں جاؤ۔

    April 10, 2010 @ 11:04:00AM
    Натсист
  • اسلام علیکم۔ میں نے درج بالا تمام تبصرے پڑھے ہیں اور اس سے میرے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ مجھے انتہائی دکھ پہنچا۔ ازبک اور تاجک بھائی بھائی ہیں اور یہ نہ سوچیں کہ یہ کوئی پراپیگنڈا ہے۔ نہیں۔ دیکھیں ہر کسی کے آباؤ اجداد میں ازبک بھی ہیں اور تاجک بھی۔ مثال کے طور پر کسی کی والدہ ازبک ہیں تو والد تاجک۔ ہمارے لوگ آپس میں رچ بس گئے ہیں لہٰذا ایک دوسرے پر الزام تراشی نہ کریں۔ آپ نے تو یہاں جنگ چھیڑ دی ہے۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ کریموف رحمان کی گردن توڑ دیں گے غلط ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں تاجکستان کی فوج کمزور ہے؟ خدانخواستہ اگر جنگ چھڑ گئی تو نوجوان ہلاک ہو جائیں گے اور ان کی مائیں لاشوں پر بین کر رہی ہوں گی۔ کون یہ چاہتا ہے؟ کسی جنگ کی ضرورت نہیں۔

    April 10, 2010 @ 04:04:00AM
    Anonymous
  • کیا آپ جنگ چاہتے ہیں؟ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس جنگ میں آپ ازبکوں کا زیادہ نقصان ہوگا، آپ اندیجان، فرغانہ، سمرقند اور بخارا جیسے علاقوں سے محروم ہو جائیں گے۔ کیا آپ کا خیال ہے کہ وہ آپ کی خاطر لڑیں گے؟ خاص طور پر کراکل پک کے لوگ؟ آپ کو تاجکستان اور قازقستان میں بانٹ دیا جائے گا اور کرغزستان کو بھی اس زمین سے کچھ حصہ مل جائے گا۔

    April 10, 2010 @ 03:04:00AM
    алишер
  • اسلام کریموف حقیقی مرد ہیں۔ میرے لئے وہ قابل احترام شخصیت ہیں۔ رحمان دنیا بھر میں بھیک مانگتے پھرتے ہیں کیونکہ ان کا دماغ ہی نہیں ہے۔ تاجکستان کے لوگو، آپ کو اپنے ملک کو رہنے کے لئے ایک اچھی جگہ بنانے کی غرض سے ازبک باشندوں کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں۔

    April 10, 2010 @ 03:04:00AM
    Tofik
  • تمام مسائل کی ذمہ داری تاجک عوام پر عائد ہوتی ہے۔ ازبکستان نے جنگ کو ختم کرنے کے لئے رحمان کو صدر مقرر کیا۔ آپ نے انہیں دوبارہ کیوں منتخب کر لیا؟ آپ خود کو "عظیم تاجک عوام" قرار دیتے ہیں لیکن جس طرح آپ نے مشترکہ کھیت کے سربراہ کو صدر منتخب کیا ہے اس سے آپ کی ذہنی پیشرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک مشترکہ کھیت کے کاشتکار کی طرح رحمان آپ سے بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ دوشنبہ میں مقیم میرے ایک کوریا کے دوست کا کہنا ہے کہ وہ ملازمت حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں بتایا گیا کہ پہلے تاجک پاسپورٹ لے کر آئیں۔ میرے دوست کا تعلق کوریا سے ہے۔ کیا آپ یہ کہیں گے کہ اس کے بعد آپ زیادہ ہوشیار لگ رہے ہیں؟ آپ تو بھیڑ بکریوں کی مانند ہیں۔

    April 10, 2010 @ 02:04:00AM
    Anonymous
  • لوگو، اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھو۔ آپ ابھی تک روگن میں اٹکے ہوئے ہیں، بہتر یہ ہے کہ اپنے آبی ذخائر کے تحفظ کے بارے میں سوچیں۔ آپ کے کرایے کے فوجیوں نے 70 سال تک ہماری زندگی اجیرن بنائے رکھی اور خانہ جنگی کے دوران لاکھوں تاجک باشندوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور اب آپ کی نظریں پانی پر لگی ہوئی ہیں۔ آپ کیسے لوگ ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا، آپ کی دھرتی آپ کا بوجھ کیسے اٹھاتی ہے؟ خدائے بزرگ و برتر نے ہر قوم کو دولت سے مالامال کیا۔ آپ کے پاس گیس، تیل، بجلی کی نعمتیں ہیں جبکہ ہمارے ہاں خالص فطرت اور پانی ہے۔ یہ منصفانہ نظام ہے۔ اس کے متعلق فکرمند نہ ہوں بلکہ اپنی توانائی کو کسی اچھے مقصد کے لئے استعمال کریں۔

    April 10, 2010 @ 02:04:00AM
    макс
  • کامریڈو، کیا کسی نے عصر حاضر کی ازبک لغت پڑھی ہے جو ازبک کو ریاستی زبان کا درجہ دینے سے قبل شائع ہوئی تھی۔ اس میں 70 سے 80 فی صد تاجک لفظ تھے۔ لہٰذا، روگن پن بجلی گھر ایک بہانہ ہے۔ ازبکستان اس کی تعمیر کا مخالف ہے کیونکہ یہ تاجکستان کی ترقی کا نقطہ آغاز ہے۔ اگر ملک کی آزاد معیشت ہو، تو وہ اپنی ثقافت اور اقدار کو فروغ دے لے گا جبکہ ازبکستان خالی ہاتھ نہیں رہنا چاہتا۔

    April 9, 2010 @ 07:04:00PM
    ФАТХ
  • اگر کریموف ہماری گردن توڑنے کے قابل ہوتے تو وہ بہت پہلے ہی ایسا کر چکے ہوتے۔ آپ ہمیں جنگ کی دھمکیاں دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ آپ کی تعداد 2 کروڑ 80 لاکھ افراد پر مشتمل ہے، کیا آپ کے خیال میں ہم آپ سے ڈرتے ہیں؟ ہم تو جنگ میں سے گزر چکے ہیں لیکن کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں؟ چاہے ہمارے صدر کیسے بھی ہوں، وہ ایک حقیقی مرد ہیں اور اپنے قول کے پکے ہیں۔ وہ ان کی طرح نہیں ہیں جو کبھی مشرق کی جانب رخ کرتے ہیں تو کبھی شمال کی جانب۔ اس میں برادر عوام کا کوئی قصور نہیں لیکن ہم نے اندیجان میں آپ کی حکومت کا عوام کے ساتھ سلوک دیکھ رکھا ہے۔

    April 9, 2010 @ 07:04:00AM
    Макс
  • روگن پن بجلی گھر کی تعمیر تاجکستان کا داخلی معاملہ ہے اور کسی کو بھی اس میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کل آپ مجھے یہ بھی بتانا شروع کر دیں کہ اپنی اہلیہ کے ساتھ کب اور کس طرح کے ازدواجی تعلقات رکھنے ہیں؟

    April 9, 2010 @ 06:04:00AM
    Масан
  • سب کو دن بخیر! لوگوں اور ہمسائیوں کے اعصاب پر سوار نہ ہوں۔ ہم ہر صورت میں اپنا پن بجلی گھر تعمیر کر کے دم لیں گے۔ آپ کو اس کا فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ میرا خیال ہے کہ حکومت اس معاملے کو بہتر سمجھتی ہے۔ کسی نے بھی آپ کو ہماری توہین کرنے کا اختیار نہیں دیا۔ آپ جو جی چاہے لکھیں لیکن ہمیں ہماری توہین نہ کریں۔ ہم آپ کے ہمسائے ہیں۔ آپ ہمیں توہین کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور اب بھی یہی کر رہے ہیں۔ لیکن ہم صدائے احتجاج بلند نہیں کرتے۔ ہر مسئلے کو پر امن انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام حکام کا ہے، آپ کا نہیں۔ وہ عوامی بھلائی کے لئے اسے تعمیر کر رہے ہیں۔ اگر یہ خطرناک ہوتا تو کیا وہ اسے تعمیر کرتے؟ سب کے لئے امن و شانتی۔

    April 9, 2010 @ 05:04:00AM
    Gulmirzo
  • عزیز ہمسائیو، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم آپ کو گیس، بجلی اور حرارت فراہم کریں گے لیکن آپ کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

    April 9, 2010 @ 04:04:00AM
    poi
  • یہ ہمارے ملک میں ہمارا دریا ہے۔ ہمیں اپنے ملک میں بجلی پیدا کرنے کے لئے اس پر بجلی گھر تعمیر کرنے سے کون روک سکتا ہے؟ کوئی بھی نہیں اور اب ہمیں کوئی چیز نہیں روک سکتی۔

    April 7, 2010 @ 05:04:00AM
    Аноним
  • اپنے پن بجلی گھروں کے منصوبوں سمیت جہنم میں جاؤ۔

    April 6, 2010 @ 02:04:00AM
    001
  • 1930 کی تاریخی اور سیاسی ناانصافیوں کو بھلا دیا گیا ہے لیکن آج کے وسطی ایشیا میں ان واقعات کا تجزیہ کیے بغیر تعلقات قائم نہیں کیے جا سکتے۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ سوویت یونین کے قیام کے ابتدائی سالوں میں ازبکستان کے سیاسی رہنماؤں کی خواہش تھی کہ وہ علاقائی رہنما بن جائیں یا نرم الفاظ میں کہا جائے کہ وسطی ایشیا کا مرکز بن جائیں۔ وہ تاجکستان میں روگن کو ناپسند کرتے ہیں اور اسی طرح وہ قازق، ترکمان اور کرغیز عوام کے خلاف ہیں۔ ان کے عزائم نے ایک لحاظ سے ان پر ہر شخص اور ہر چیز سے متعلق شدید دیوانگی طاری کردی ہے۔ وہ کریلوف کے کھیل موسکا کے مرکزی کردار جیسے لگتے ہیں اور جونہی کسی ہمسایہ ملک میں کچھ ہونے لگتا ہے تو وہ احمقانہ انداز میں واویلا شروع کر دیتے ہیں جس سے ازبک عوام کی بدنامی ہوتی ہے۔ آپ ہمیں ماحولیاتی اثرات کے جائزے سے ڈرانے کی کوشش نہ کریں۔ ہمیں اس سے اتفاق ہے۔ بلکہ بحیرہ ارال کو بچانے کے پروگرام کے طور پر ہمیں بھی ایک ماحولیاتی جائزہ سر انجام دینا چاہیے کہ پانی کہاں غائب ہو جاتا ہے، کتنے آبی ذخائر تعمیر ہو چکے ہیں اور ازبکستان میں پانی کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہاں پر ہی اصل تکلیف ہوگی۔ ان کیمیائی اجزاء کے ماحولیاتی اثرات کے بارے میں کیا خیال ہے جنہیں کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے آمو دریا اور سر دریا کے طاسوں میں گلیشئر پر پھینکا گیا یا پھر ازبکستان کے پورے نظام آب پاشی کی تباہی کو کیوں نہ زیر غور لایا جائے جسے چوتھے پنج سالہ منصوبے میں تعمیر کیا گیا تھا؟ پانی کے اس طرح کے استعمال کا طریقہ دنیا میں کافی عرصہ قبل ترک کر دیا گیا تھا۔ انہیں آفات یا ڈیم ٹوٹنے کے بارے میں خبردار کرنے یا پھر ہلاکتوں کی صورت میں ذمہ داری کی بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح کے واقعات کی پیش گوئی نامکن ہے۔ ہر چیز اللہ کی مرضی سے ہوتی ہے۔ یہ صرف ڈھونگ ہے۔ اگر ہمسایوں کو یہ چیز پسند نہیں ہے تو اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ جیسا کہ کہاوت ہے کتے بھونکتے رہتے ہیں اور قافلے کے مسافر اپنی راہ چلتے رہتے ہیں۔ انہیں اس پر زیادہ سے زیادہ رقم ضائع کرنے دیں۔ ہماری قسمت میں اکٹھے رہنا لکھا ہے۔ تاجک اور ازبک باشندے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہیں گے جیسا کہ وہ طویل عرصے سے رہ رہے ہیں لیکن ایک وقت آئے گا جب ازبکستان کے موجودہ حکمرانوں کے جانشینوں کو اپنے ہمسایوں کے ساتھ نفرت کی پالیسی اختیار کرنے پر ندامت محسوس ہو گی۔

    April 6, 2010 @ 01:04:00AM
    UMED
  • ازبکوں کی جانب سے تاجکستان اور روگن کے متعلق اس طرح کے دور کی کوڑی لانے کے مترادف بیانات کے جواب میں تاجکستان کو مزید پانچ پن بجلی گھر اور 10 صنعتی کارخانے قائم کرنے چاہئیں۔

    April 5, 2010 @ 11:04:00PM
    поли
  • میرے خیال میں دونوں برادرانہ ملکوں کے درمیان اس غلط فہمی کی وجہ بڑی طاقتوں کی سازش ہے جو کئی صدیوں تک ان اقوام کا استحصال کرتی رہی ہیں۔ تاہم، اس صورت حال پر وسطی ایشیائی ملک کا غیر ذمہ دارانہ ردعمل انتہائی باعث تشویش ہے۔ یہ بڑی طاقتوں کی 'تقسیم کرو اور حکومت کرو' پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد ان کے مسائل سے فائدہ اٹھانا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر وسطی ایشیائی ممالک اپنے مسائل کو جمہوری انداز میں اور مل جل کر حل کرلیں تو خطہ خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا اور زیادہ مضبوط ہونے کے باعث وہ بیرونی خطرات کے سامنے کمزور نہیں پڑے گا جس طرح کہ اب ہو رہا ہے۔

    April 5, 2010 @ 10:04:00AM
    Abdurazzo Abdulloev
  • تاجک کوئی 100 بار یہ دہراتے ہیں کہ ہم تو پن بجلی گھر تعمیر کر کے رہیں گے، چاہے آپ کو پسند ہو یا نہ ہو۔ پھر ایک روز وہ اپنی مدد آپ کے تحت روگن کو تعمیر کرلیں گے۔ ایک سنجیدہ نقطہ یہ ہے کہ ازبکستان میں بھی بجلی اور قدرتی گیس کی ترسیل کی حالت کوئی زیادہ بہتر نہیں۔ دارالحکومت کو چھوڑ کر دیگر علاقوں میں بجلی کی بار بار بندش معمول کی چیز ہے۔ بعض علاقوں میں قدرتی گیس کا دباؤ اتنا کم ہوتا ہے کہ لوگ دیگر ذرائع کو استعمال کر کے اپنے گھروں کو گرم رکھنے پر مجبور ہیں۔ تاجکستان بھی ازبکستان کی مانند افغانستان کو بجلی فروخت کرتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب موسم سرما میں اس کے ہاں بچے سردی سے ٹھٹھر کر مر رہے ہوتے ہیں تو تاجکستان کو آخر بجلی فروخت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ وسطی ایشیائی بجلی کے تبادلہ نظام کی موجودگی کے باعث تاجک حکومت ترکمانستان سے ارزاں نرخوں پر بجلی درآمد کر کے اسے مہنگے داموں افغانستان کو فروخت کرکے منافع کمانا چاہتی تھی۔ یہ واضح ہے کہ تاجکستان کی حکومت اپنے مسائل کے لئے ازبکستان کو قربانی کا بکرا بناتی ہے۔

    April 4, 2010 @ 11:04:00PM
    nadir
  • ہم ہر صورت میں ایک روز اپنا روگن بجلی گھر تعمیر کر لیں گے۔ کیا آپ کو میری بات سمجھ میں آ رہی ہے؟

    April 4, 2010 @ 04:04:00AM
    rustam
  • ازبکستان! وہ ہم سے جلتے ہیں اور ہر تاجک کو یہ بات معلوم ہے۔ ہمارے روگن بجلی گھر کی تعمیر جاری ہے اور ہم اسے جاری رکھیں گے۔ پہاڑ ہمارے ہیں، دریا ہمارے ہیں اور روگن ہمارا ہے۔ ازبکوں کو خشک سالی اور سیلابوں جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جو اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ان کے سلوک کی سزا ہو گی۔

    April 3, 2010 @ 11:04:00AM
    Sh@rifJonn
  • میں ایک تاجک باشندہ ہوں لیکن ازبکستان میں رہائش پذیر ہوں۔ ہمیں جھگڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں اپنی مادر وطن ازبکستان اور اپنے شہر سمرقند سے محبت کرتا ہوں۔ تاجکستان کے لوگو، آؤ امن سے رہیں ورنہ آپ کے لئے مسائل پیدا ہوں گے۔ ہمارا خون ایک ہی ہے۔

    April 2, 2010 @ 02:04:00PM
    doston
  • کنیازیف ازبکستان کی اسپیشل سروسز کے ایک افسر ہیں۔ مجھے ایک اور بات بتائیں، اگر ایسی بات ہے تو کیا انہیں وہاں پر ناپسندیدہ شخص قرار دیا گیا ہے؟

    April 2, 2010 @ 07:04:00AM
    Алина
  • ایک بار دو آدمیوں کی ملاقات ہوئی۔ پہلے نے دوسرے سے پوچھا، "کیا؟ تم یہاں چراغ کی روشنی میں بیٹھے ہو؟" دوسرے نے جواب دیا، "بالکل ٹھیک کہا۔ دو سالوں میں تم برتنوں میں پانی لے جا رہے ہو گے۔" اس کا سبق یہ ہے پہلے تولو پھر بولو اور عمل کرو۔

    April 2, 2010 @ 02:04:00AM
    Abdu
  • ایک آزاد عالمی جائزے اور مہارت کے بغیر روگن پن بجلی گھر کی تعمیر انسانیت کے خلاف بڑا جرم ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ روگن کی تعمیر 100 فی صد سیاسی فیصلہ ہے اور یہ کسی طور تاجکستان کے باشندوں کے بہترین مفاد میں نہیں۔ اگر حکومت تاجکستان اپنے عوام کو بجلی فراہم کرنا چاہتی تو وہ کئی سال پہلے ہی چھوٹے اور درمیانے درجے کے بجلی گھر تعمیر کر چکی ہوتی۔ تاجکستان اس وقت دشوار اقتصادی صورت حال کا سامنا کر رہا ہے اور عام لوگ موجودہ نظام سے بیزار ہو چکے ہیں۔ اس وقت رحمان کا بہترین مفاد لوگوں کی توجہ بیرونی دشمن یا ازبکستان کی جانب مبذول کرانے میں ہے۔ رحمان کو درپیش مصائب کے لئے ہر روز نہ صرف ازبکستان کی حکومت بلکہ ازبک نژاد باشندوں کو بھی مؤرد الزام ٹھہرانے سے نسلی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاجکستان میں ازبک نژاد باشندوں کو امتیازی سلوک اور بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ صورت حال ہمیشہ اس طرح نہیں چل سکتی۔

    April 2, 2010 @ 01:04:00AM
    Gairat
  • حسد! یہ حسد ہے اور محض حسد کے سوا کچھ نہیں۔ ہماری عوام اور جمہوریہ کو پن بجلی گھر کی ضرورت ہے۔ ہم اسے خود ہی بنالیں گے اور کوئی بھی ہمیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتا۔ ازبکستان نہیں چاہتا کہ تاجکستان ترقی کرے لیکن تاجک ایک محنتی اور قدیم قوم ہے۔ ہم پن بجلی گھر حاصل کر لیں گے، ہمارے پاس سب کچھ ہو گا۔

    April 1, 2010 @ 09:04:00AM
    Anonymous
  • تاجک باشندوں کو ہمیں بلیک میل نہیں کرنا چاہیے۔ دم سے سر نہیں موڑا جا سکتا۔ اور ہمارے صدر پر تنقید کرنا بند کریں۔ ہم اس طرح کے تاجک باشندوں کو لگام دینا اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ کے المونیم کے کارخانے سے ہمارے ملک کے جنوبی علاقوں کی فضاء آلودہ ہو رہی ہے۔ اب آپ ہمیں پانی سے بھی محروم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں 2 کروڑ 80 لاکھ لوگ یہ برداشت کر لیں گے؟ اور خفیہ اداروں کے متعلق شور مچانے کی بھی ضرورت نہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں لیکن پانی کے بغیر ہم تاجک باشندوں کو بھی امن سے رہنے نہیں دیں گے۔

    April 1, 2010 @ 05:04:00AM
    assan
  • یہ ہمارا دریا ہے۔ ہم اپنا روگن پن بجلی گھر تعمیر کریں گے اور ازبکستان کو اسی طرح بین الاقوامی نرخوں پر بجلی فروخت کریں گے جس طرح وہ گیس فروخت کرتا ہے۔ ان کے تمام دلائل عظیم ازبک عوام پر رشک کے بارے میں ہیں۔

    March 31, 2010 @ 09:03:00AM
    rahim
  • سلام! میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ تاجک اور ازبک باشندوں میں صدیوں سے خونی رشتے موجود ہیں۔ ان کے سوا، چاہے کوئی بھی ہو، کسی اور کو ہمارے مسائل پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔ میرے خاندان میں، میری اہلیہ اور ان کی والدہ ازبک ہیں۔ ان دونوں ملکوں کی داخلی پالیسیوں میں تیسرے ملکوں کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ ہم بھائیوں کی طرح اور اللہ کی مدد سے اپنے مسائل خود ہی حل کر سکتے ہیں۔ اور ہم وقت آنے پر خود ہی روگن پن بجلی گھر کی تعمیر کر لیں گے۔

    March 31, 2010 @ 01:03:00AM
    Шарифхон
  • یہ مسائل کہاں سے پیدا ہو رہے ہیں؟ ایک ہی مذہب کے پیروکار ازبکوں نے حالات کو ماضی کی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ 1930 کے عشرے کے واقعات کو یاد کریں جب نمنگان، بخارا اور سمرقند میں رہنے والے تاجک باشندوں کو بندوق کی نوک پر پاسپورٹ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس سے قبل، کس نے امیر بخارا کے خلاف بغاوت کی؟ یہ فرونز نہیں تھے۔ کیا میں مزید بتاؤں؟ لوگ صحیح کہتے ہیں کہ نئی چیز بھی جلد ہی بھلا دی جاتی ہے۔ میرے سوالات ازبک عوام سے نہیں بلکہ ازبک حکام سے ہیں۔ کیا کسی نے 1990 کی دہائی میں ازبکستان میں ٹرین سے سفر کیا ہے؟ جن لوگوں کو اس کا تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ تاجک باشندوں کو کیسے ذلیل کیا جاتا تھا۔ اس وقت تو روگن کا وجود بھی نہیں تھا۔ اس کی منطق سادہ سی ہے۔ یہ لوگ اپنے ہمسایہ ملکوں کو ترقی کرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ ہر قیمت پر اپنا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سردیوں میں آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ آپ کے پاس بجلی بھی ہے اور گیس بھی، لیکن ہمارے بچے سردی سے ٹھٹھر کر مر رہے ہوتے ہیں۔ ازبکستان کے حکام مغرب کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ان کی ثقافت مغرب جیسی ہے اور وہ مکمل طور پر مختلف لوگ ہیں۔ لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے سریلک رسم الخط کو لاطینی سے بدل دیا۔ انہوں نے اس کھیل کو شروع کیا۔ ذرا اس بات کا تصور کریں کہ ہم خود ہی اپنے ساتھ فٹ بال کھیل رہے تھے۔ پھر آپ آئے اور گول کر دیا۔ ہمیں بھی گول کرنا ہے کیونکہ اگر صرف ایک ٹیم ہی گول کرتی رہے تو پھر فٹ بال کھیلنے کا مقصد کیا ہے؟ اس کے علاوہ، آپ نے یہ ضوابط قائم نہیں کیے۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ اگر آپ گل لالہ کو گلاب کہنا شروع کر دیں تو پھر بھی اس سے گل لالہ کی خوشبو آئے گئی۔ سب کے لئے امن کی تمنائیں۔

    March 30, 2010 @ 06:03:00AM
    Зулфикор
  • اگر آپ سب لوگ روگن پن بجلی گھر کی تعمیر کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر ایک جوہری بجلی گھر کی تعمیر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس پر آپ لوگ کیا کہیں گے؟ اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں بھی لے جائیں۔

    March 30, 2010 @ 04:03:00AM
    tojik
  • ممکنہ طور پر اس جنگ کا حکم ازبکوں نے دیا تھا لیکن اس سے فائدہ کلیاب کے اضلاع نے اٹھایا۔ کلیاب میں تاجک باشندوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ کریموف یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ وہ تاجک نہیں ہیں جبکہ رحمان کی کوشش یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ تاجک ہیں۔ تاجک عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ بنیادی مسئلہ یہی ہے۔ انہیں خود ہی اس کا حل نکالنے دیں۔ ہم اپنا پن بجلی گھر ان کے بغیر بھی تعمیر کرلیں گے۔

    March 30, 2010 @ 03:03:00AM
    кфор
  • آخر کرغیز عوام کنیازیف جیسے شخص کو کیسے برداشت کر لیتے ہیں؟ وہ بشکیک میں رہتے ہیں اور تاشقند اور ماسکو کے گن گاتے رہتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ تاجکستان میں اس طرح کے لوگ موجود نہیں کیونکہ ہم حقیقی لحاظ سے خود مختار ہو رہے ہیں اور ہمارے شہریوں کو وطن کی عزت کا خیال ہوتا ہے۔

    March 29, 2010 @ 11:03:00PM
    мр
  • میں ان باتوں کو پڑھ کر حیران ہوں۔ ہم آپ کی طرح گستاخ نہیں اور نہ ہی یہ تمام باتیں ہم پر صادق آتی ہیں۔ میں تو غیر جانب داری کے حق میں ہوں۔ میں خطے میں امن کا حامی ہوں۔ ابتدا سے ہی سرحدوں کو بند کرنا ضروری تھا۔ اپنے ہمسایے سے منہ موڑ لینے کی بجائے اس کے ساتھ قریبی تعاون ضروری ہے۔ دوسری جانب بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔ ہمارے پاس سب سے اہم چیز امن ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم بجلی گھر تعمیر نہ کریں تو پھر ہماری ضروریات پوری کرنے کے لئے اس کے عوض ہمیں کچھ دیں۔ کیا کوئی اور شخص اس بارے میں خیالات ظاہر کرنا چاہے گا؟

    March 29, 2010 @ 10:03:00AM
    123qwe
  • کریموف کا مؤقف بالکل درست ہے۔ اگر کوئی قدرتی آفت آ جاتی ہے تو کسی کو بھی مؤرد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ تاجک وہ قوم ہے جو کبھی بھی اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی۔ لیکن اگر کبھی جنگ ہوئی تو کریموف آسانی سے رحمان کی گردن توڑ دیں گے، یہ بات یقینی ہے۔

    March 29, 2010 @ 09:03:00AM
    Исмаил
  • ازبکستان میں آزاد سیاسی تجزیہ کاروں کا کوئی وجود نہیں، یہ مضحکہ خیز بات لگتی ہے۔ کنیازیف ازبکستان کی خفیہ سروس کے ایک رکن ہیں۔ اور کرغزستان اور تاجکستان سے مطالبات کرنے والے کریموف کون ہوتے ہیں؟

    March 26, 2010 @ 09:03:00PM
    гэс
  • تاجک عوام کو ہمارے (ازبک) سیاست دانوں اور ماہرین کے ساتھ اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے کہ اگر انہوں نے پن بجلی گھر کی تعمیر جاری رکھی اور خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آ گیا تو بہت سے لوگ جاں بحق ہو جائیں گے اور میرا خیال ہے کہ ازبک حکومت محض بیٹھ کر تماشا نہیں دیکھے گی۔

    March 23, 2010 @ 01:03:00PM
    Doniyor
  • الپ زہامول بینک میں رکھوائے گئے اثاثے واپس کر دیے جائیں گے۔ ازبکستان کے مرکزی بینک کی سرکاری ویب سائیٹ میں کہا گیا ہے کہ "جمہوریہ قازقستان کے مرکزی بینک سے متعلق" قانون کی شق 53 اور "بینکوں اور بینکاری سے متعلق" قانون کی شق 14 کے تحت الپ زہامول بینک کا بینکاری لائسنس اور غیر ملکی کرنسی کے شعبے کا عام لائسنس واپس لے لیا جائے گا۔ مرکزی بینک کے ایک اندرونی ذریعے کا کہنا ہے کہ حقیقی افراد کے تمام اثاثے جمہوریہ ازبکستان کے پیپلز بینک (خلق بینک) میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔ ان اثاثوں میں ملکی اور غیر ملکی کرنسی، انشورنس اثاثے اور ویزا کارڈ کی بین الاقوامی ادائیگی کی رقوم شامل ہیں۔ اثاثے جمع کرانے والے صارفین جمہوریہ ازبکستان کے پیپلز بینک میں درخواست دے کر اپنی رقم واپس حاصل کر سکتے ہیں۔ رقم اسی کرنسی میں واپس کی جائے گی جس میں جمع کرائی گئی تھی۔ شیر زود کریموف

    March 16, 2010 @ 06:03:00AM
    Нелли
  • salom juhuri hamsoya okhir hamsoya gami hamsoya mekhurad na mrdani hamsya gam nakhur mo dushman nestem misli shumo yo bkhil

    March 16, 2010 @ 03:03:00AM
    tolibsho
  • دنیا میں کنیازیف جیسے بدمعاشوں کے لئے کوئی جگہ نہیں جو جنگ کے شعلے بھڑکانا چاہتے ہیں۔

    March 9, 2010 @ 05:03:00PM
    ислом
  • چاہے آپ کو اچھا لگے یا برا، ہم پن بجلی گھر بنا کر رہیں گے۔

    March 9, 2010 @ 08:03:00AM
    Ариф