سرحدی چوکی کی بندش سے ازبکستان اور کرغزستان کے درمیان سرحدی تنازعے میں مزید اضافہ
سرحدوں کی حد بندی پر سمجھوتے کے لئے کمیشن کام کر رہا ہے
باکت ابرائیموف
2010-03-04
اوش، کرغزستان ۔۔ عبد العزیز خاکیموف کا کہنا ہے کہ اگر آپ چند اضافی کرغیز سوم خرچ کر سکیں تو ازبکستان کی سرحد عبور کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
جلال آباد اوبلاست کے ضلع الا بوکا کے گاؤں یزار کے رہائشی خاکیموف نے بتایا کہ دیہی باشندوں کو دو چوکیوں، نانائی (کرغزستان) اور کاسن سائی (ازبکستان)، سے 10 کرغیز سوم فیس کی ادائیگی کے عوض بلا روک ٹوک سرحد عبور کرنے کی اجازت ہے۔ اگر آپ رقم ادا نہیں کرتے تو پھر آپ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خاکیموف نے کہا کہ 10 کرغیز سوم کوئی سرکاری فیس نہیں بلکہ رشوت ہے۔ خاکیموف کے بقول، اگر آپ ادائیگی نہیں کرتے تو سرحدی محافظ آپ سے کافی دیر تک سوال جواب کریں گے اور وہ آپ کو گرفتار کر سکتے ہیں یا آپ سے منشیات کی برآمدگی کا جھوٹا الزام لگا سکتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے بیشتر کرغیز باشندے تھوڑا بہت سامان فروخت کرنے کی کوشش کے طور پر ایسا کرتے ہیں۔ اگر وہ رشوت دیں تو پھر ان کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ چنانچہ وہ ان علاقوں سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں گشت کا خطرہ نہیں ہوتا اور اس مقصد کے لئے وہ دریاؤں کو عبور کرتے ہیں، پہاڑوں پر چڑھتے ہیں یا دیگر جغرافیائی رکاوٹوں کو تسخیر کرتے ہیں۔
کسی زمانے میں سرحد عبور کرنا آسان تھا۔ لیکن جون 2009 میں ازبکستان کے شہر خان آباد میں دہشت گردوں کی جانب سے بم دھماکوں اور اقدام قتل کی وارداتوں کے باعث ازبکستان نے اسمگلنگ کی روک تھام اور انتہا پسندوں کا داخلہ روکنے کے لئے سرحد کے بعض حصوں کے نزدیک خندقیں کھود دیں۔
یکم مارچ کو ازبکستان نے اپنی دوسری بڑی سرحدی چوکی کاراسو اوتو دوروزہنی کو یہ کہتے ہوئے بند کر دیا کہ اس کی تعمیر نو کی ضرورت ہے۔
اپنی ملازمت سے محروم ہونے کے خدشے کے پیش نظر اپنا آخری نام نہ بتانے والے ازبک سرحدی محافظ کیپٹن سیتک نے کہا کہ اس چوکی کی بندش کے بعد نہ صرف کاریں بلکہ پیدل لوگ بھی یہاں سے سرحد عبور نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار جانے کے خواہش مند افراد نزدیک ترین چوکی دوستک اوتو دوروزہنی کو استعمال کر سکتے ہیں جو یہاں سے 23 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سرحدی چوکیوں کی بندش، رشوت کے مبینہ تقاضوں اور قازق ازبک سرحد کے درمیان واضح حد بندی نہ ہونے کے باعث حالیہ عرصے میں سرحدی تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔
اوش اوبلاست کے ضلع کارا سوئی کے علاقے سورا تاش سے تعلق رکھنے والے عبد الواخد اکراموف نے بتایا کہ ازبک سرحدی محافظین نے ان کے 29 سالہ پڑوسی الوگ بیک عثمانوف کو چوری چھپے سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
اکراموف نے پوچھا کہ آخر کسی شخص کو اس چیز کے لئے کیوں ہلاک کر دیا جاتا ہے؟ اب ان کی اہلیہ بیوہ اور دو بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ اب کون ان کی پرورش کرے گا؟
ایسے واقعات کی روک تھام کی غرض سے کرغزستان اور ازبکستان کے درمیان سرحد کی حد بندی کے لئے ایک بین الحکومتی کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ کمیشن کے چیئرمین سلامت علامانوف نے بتایا کہ کمیشن کا ہدف 1,375 کلومیٹر طویل سرحد کی حد بندی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 50 علاقوں میں 365 کلومیٹر کے لگ بھگ علاقہ متنازعہ ہے کیونکہ سرحد کے یہ حصے گھروں، صحنوں اور باغیچوں میں سے گزرتے ہیں۔
علامانوف نے کہا کہ کمیٹی کا اجلاس اپریل میں ہو گا۔ امید ہے کہ سرحد ی علاقوں کی حد بندی کا کام مثبت طریقے سے جاری رہے گا۔
کمیٹی برائے دفاع، سلامتی، قانون اور امن و امان، انصاف اور انسداد رشوت ستانی کے سربراہ اور کرغیز رکن پارلیمان رشید تگائیف نے کہا کہ کرغزستان اورازبکستان حد بندی کے عمل کو تیز کرنے میں یکساں دلچسپی رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس پیچیدہ مسئلے پر انتہائی احتیاط سے غور کرنے اور دونوں فریقوں کی جانب سے پیش کردہ ہر دستاویز پر مکمل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز کرنے سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں بہت سے اجلاسوں اور کانفرنسوں کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔ ایسا نظر آ رہا ہے کہ اس بار مصالحت ناگزیر ہے۔
عوامی فاؤنڈیشن برائے عالمی رواداری کے عکسی علاقے میں واقع دفتر کے ڈائریکٹر نور بیک ساریئیف نے کہا کہ اگرچہ سرکاری حکام سرحدی تنازعات کو طے کرنے میں مصروف ہیں لیکن مقامی سطح پر جھڑپوں میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کشیدگی میں کمی لانے کے لئے، ہم نے مقامی باشندوں کے لئے معلوماتی مہم شروع کی ہے اور ریاستی سرحد کو عبور کرنے کے قوانین کی وضاحت کے لئے اجلاسوں کا انتظام کیا ہے اور کتابچے اور پوسٹر تقسیم کیے ہیں۔
خاکیموف محافظوں کی مبینہ بھتہ خوری کی روش سے متعلق تشویش میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے حقوق کی پاسداری پر اصرار شروع کر دیں تو آپ کو انتہائی خراب صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہ آپ سے ساری رقم نچوڑ سکتے ہیں اور آپ کو بالکل قلاش کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ چوکیوں سے بچنے کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کسی اور جگہ سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن اس عادت سے ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ ازبک اور کرغیز قوانین میں لکھا ہے کہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے شخص کو 72 گھنٹے کے لئے گرفتار کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے۔ اگر گرفتار ہونے والے شخص کے پاس کوئی تجارتی سامان ہو تو اسے اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کی سزا دو سے پانچ سال قید ہے۔
کرغیز ریاستی سرحدی سروس کی ایک خاتون افسر سالکائن عبدی کاریئیفا نے بتایا کہ 2009 کے دوران غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے 148 واقعات جبکہ سرحدی ضوابط کی خلاف ورزیوں کے 130 واقعات کا اندراج کیا گیا۔
کرغیز سرحدی سروس کے ایک ترجمان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی سکونت سے متعلق درست اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن اندازاً ان میں سے 70 فیصد کرغیز شہری ہیں۔
عبدی کاریئیفا نے بتایا کہ ازبک سرحدی سروسز کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور تعاون بڑھانے کے لئے 2009 میں ہم نے اندیجان، تاشقند اور اوش میں فعال اجلاسوں کا ایک سلسلہ منعقد کیا۔ ان اجلاسوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرحد کے بعض حصوں پر مشترکہ گشت کا لائحہ عمل ترتیب دینا تھا۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
قانون شکنی کا ارتکاب؟ ناراض نہ ہوں! ناراض ہو رہے ہیں؟ تو پھر قانون شکنی کا ارتکاب مت کریں!
مناسب انداز سے کام کرنا ضروری ہے۔ اس وقت بہت سی چیزیں مبہم ہیں لیکن بالآخر وہ واضح ہو جائیں گی۔