ایک غیر معروف بنیاد پرست گروپ کو وسط ایشیائی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا گیا ہے
تجزیہ کاروں نے بنیاد پرست تنظیم اسلامی جہاد یونین کو بعض دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ متشدد قرار دیا ہے
طالب قربانوف اور تمارا گریگوریئیفا
2010-03-02
تاشقند ۔۔ بنیاد پرست تنظیم اسلامی جہاد یونین ازبکستان میں زور پکڑ رہی ہے۔
روس کے میموریل نامی انسانی حقوق مرکز سے وابستہ دہشت گردی پر نظر رکھنے والے ایک مبصر ویلری پونو ماریف نے کہا ہے کہ یہ تنظیم کچھ زیادہ معروف نہیں اور پولیس اکثر غلطی سے اس کے اراکین کو اسلامی تحریک برائے ازبکستان (آئی ایم یو) جیسے دیگر بنیاد پرست گروپوں کے اراکین سمجھ لیتی ہے۔
ازبکستان کے انسانی حقوق کے آزاد دفاع کاروں کے فعال گروپ کے رہنما سورت اکراموف کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ازبکستان میں اسلامی جہاد یونین کے ڈیڑھ سو سے زائد مشتبہ اراکین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم از گولک کے ایک سابق سرگرم رکن اسرائیل رضائیف نے بتایا کہ سر دریا اوبلاست میں اسلامی جہاد یونین کے 67 اراکین زیر تفتیش ہیں۔
رضائیف نے کہا کہ یہ تمام افراد ازبک سر زمین پر غیر آئینی سرگرمیوں اور انتہا پسند مذہبی گروپوں کے قیام کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکام نے پہلے ان مشتبہ افراد کا تعلق الجماعت اور برودرلر سے جوڑا لیکن پھر یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ اسلامی جہاد یونین کے عسکریت پسند ہیں جن کا ہدف ازبکستان میں اعلٰی سطحی مذہبی رہنماؤں اور سیاست دانوں کو قتل کرنا ہے۔
ازبکستان کے مسلم مذہبی بورڈ کے نائب چیئرمین عبد العزیز نے بتایا کہ 2009 میں یہ گروپ تاشقند کے اعلٰی ترین امام خطیب انور قاری ترسونوف کے اقدام قتل اور وزارت داخلہ کے اعلٰی عہدیدار حسن اسدوف کو ان کے گھر میں قتل کرنے میں ملوث رہا۔ انہوں نے بتایا کہ اس گروپ کے اراکین نے انہیں بھی قتل کرنے کی کوشش کی اور اس لئے اب انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے محافظوں کا ایک دستہ رکھ لیا ہے۔
پونو ماریف نے کہا کہ 2002 میں اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے بعض انتہاپسند اراکین اہداف پر پیدا ہونے والے اختلافات کی بناء پر اس سے علیحدہ ہو گئے اور انہوں نے اسلامی جہاد یونین کی بنیاد رکھی۔ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کا منصوبہ صرف ازبکستان میں اقتدار کا حصول تھا جبکہ زیادہ پر عزم تنظیم اسلامی جہاد یونین اپنا اثر و رسوخ وسطی ایشیا کے تمام ممالک اور بعد ازاں یورپ تک پھیلانا چاہتی تھی۔
اسلامی جہاد یونین کے رہنما ناظم الدین جلولوف، جو یخیو یا احمد کے نام سے بھی معروف ہیں، طاہر یلداشیف اور جمعہ نمنگانی کے ہمراہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے ایک ممتاز سرگرم رکن ہوا کرتے تھے۔ وہ 14 ستمبر 2009 کو پاکستان میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔ تاشقند کے سخائیل ان کے جانشین مقرر ہوئے۔
اسلامی جہاد یونین کے اراکین کی اکثریت ازبک باشندوں پر مشتمل ہے لیکن اس تنظیم میں کرغیز، تاجک اور قازق جنگجو بھی موجود ہیں۔ گروپ نے پاکستان کے علاقے وزیرستان میں ٹھکانے بنا رکھے ہیں لیکن چونکہ، اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی طرح، یہ گروپ بھی جلاوطنی میں قائم کیا گیا تھا لہٰذا پولیس کی کارروائیوں کے دوران یہ انتہائی تیزی سے اپنے ٹھکانے بدلتا رہتا ہے۔
اسلامی جہاد یونین افغانستان اور پاکستان سے اسلحہ خریدتی ہے اور اس کے غیر ملکی ہمدرد اسے عطیات فراہم کرتے ہیں۔
پونو ماریف کے بقول، اسلامی جہاد یونین نے اندیجان اور خان آباد میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن اپنے ویڈیو خطابوں میں اس نے القاعدہ جیسی دیگر بنیاد پرست تنظیموں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
ازبکستان کے سریع الحرکت یونٹ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ اسلامی جہاد یونین کے اراکین کی تعداد 2,000 کے لگ بھگ ہے۔
میموریل مرکز کے پونو ماریف کا تخمینہ ہے کہ اسلامی جہاد یونین کے اراکین کی تعداد کئی سو کے قریب ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان اور اسلامی جہاد یونین کے عسکریت پسندوں کی تعداد ہزاروں میں ہونے کی بات درست نہیں۔
پونو ماریف نے کہا کہ قازقستان اور جرمنی کی عدالتوں میں اسلامی جہاد یونین کے مشتبہ اراکین پر مقدمات چل رہے ہیں۔ اس تنظیم کو قازقستان، ازبکستان، روس اور کرغزستان میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ متبادل ناموں (جیسا کہ وسطی ایشیا کے مجاہدین کی جماعت) سے بھی موجود ہے جن میں سے بعض تفتیش کاروں کی ذہنی اختراع ہیں۔
منصور نے اسلامی جہاد یونین کو حزب اللہ، حزب التحریر، وہابی، اسلوم لشکر لری یا اکرومستوں کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ اور ظالم قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ بالا تحریکوں کا ہدف پر امن ذرائع سے خلافت کا نظام قائم کرنا ہے لیکن اسلامی جہاد یونین کا انداز واضح طور پر مختلف ہے۔ وہ شریعت کے لحاظ سے جانوروں کو ذبح کرنے کے طریقے 'نہر' کے مطابق لوگوں کو ذبح کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا مجھے یقین ہے کہ ہماری پولیس کی جانب سے ان کی سرگرمیوں کو سختی سے کچلنے کے لئے تیز کارروائیاں بالکل درست تھیں۔ پونو ماریف نے کہا کہ اسلامی جہاد یونین وسطی ایشیا کی پہلی تنظیم ہے جس نے خودکش دہشت گرد تیار کیے اور اب یہ خطے میں پہلے سے کہیں زیادہ فعال ہو رہی ہے۔
لیکن اکراموف کے خیال میں حال ہی میں گرفتار ہونے والے اسلامی جہاد یونین کے مشتبہ افراد کے ذہن میں جہاد کی سوچ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ دہشت گردی اور قتل کے ان تمام واقعات کے پیچھے ازبک سیکورٹی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔
اکراموف نے کہا کہ ازبکستان کی حکومت اکثر سیاسی بنیادوں پر بے گناہ شہریوں کو گرفتار کر لیتی ہے اور پھر اپنی کارروائیوں کا جواز پیش کرنے کے لئے انتہاپسندی کے خلاف جنگ کا عذر تراشتی ہے۔
لیکن سریع الحرکت یونٹ کے نام ظاہر نہ کرنے والے اہلکار نے اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ حقوق سے محروم ازبک شہری اسلامی جہاد یونین کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
اہلکار نے کہا کہ آج اسلامی جہاد یونین یا اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی حمایت کرنے والے افراد اسلام کریموف کی حکومت سے تنگ پڑ چکے ہیں اور حزب اختلاف کی عدم موجودگی کے باعث انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اور کس کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ وادی فرغانہ میں خاص طور پر اسلامی جہاد یونین کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم کوئی شخص بھی سر عام اس کا اقرار نہیں کرے گا۔ اہلکار نے کہا کہ اسلامی جہاد یونین کے حامیوں کی اکثریت محض ان مایوس افراد پر مشتمل ہے جو انتہا پسندوں کے مذموم اثر و رسوخ کی گرفت میں ہیں۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
آپ کو سچے مسلمان ملیں گے جو کسی استثناء کے بغیر اللہ کے تمام احکامات بجا لاتے ہیں۔
یہ بہترین ویب سائیٹ ہے۔
اسلامی جہاد کو غلط انداز میں سمجھا اور پھیلایا گیا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ اسلام کے کسی بھی موضوع کو پڑھے سمجھے یا اس سے متعلق کوئی بھی معلومات حاصل کیے بغیر غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے جہاد اور دہشت گردی کے تصورات کو گڈمڈ کر دیا ہے۔ جہاد جان و مال اور اسلام کے نظریے اور تعلیمات کا تحفظ کرنے کا آخری دفاعی حربہ ہے اور اس صورت میں جائز ہے اگر مسلمان دیگر مذہبی طاقتوں، حکومتوں یا تنظیموں کی جانب سے مٹا دیے جانے کے خطرے سے دوچار ہوں۔ اس کے علاوہ اگر مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے، ان کی املاک کو تباہ کرنے اور اسلام یا اس کے احکامات پر عملدرآمد سے روکنے کے کافی شواہد موجود ہوں تو تمام مسلمانوں اور ان کے ہمسایوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے تاکہ اس طرح کے ظالمانہ اقدامات کو روکا جا سکے جو ان کے مٹانے کے درپے ہوں۔ دہشت گردی جہاد سے قطعی مختلف ہے۔ شاہ منظور احمد، سابق امیر جمعیت المجاہدین، جموں و کشمیر رابطہ نمبر 0092333 5444 797 ای میل: shah_m61ahmed@yahoo.com
ہم سب مسلمان ہیں اور اپنے مذہب سے محبت کرتے ہیں۔
دہشت گردی اور جہاد دو بالکل مختلف تصورات ہیں۔ مسلمان قرآن و سنت کی ہدایت اور روشنی میں جہاد کرتے ہیں۔ جب غیر مسلم انہیں اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکیں اور مسلمانوں کی جان و مال کو تباہ کرنے کے درپے ہوں تو یہ ہر مسلمان پر واجب ہے۔ یہ اس صورت میں بھی واجب ہے اگر غیر مسلم مسلمانوں کو غیر اسلامی روایات اور اقدار قبول کرنے پر مجبور کریں۔ مسلمانوں کی معیشت کو تباہ کرنے، ان کے گھروں اور زمینوں پر قبضہ کرنے یا ان کی دولت اور وسائل کو حاصل کرنے کی صورت میں بھی جہاد فرض ہے۔ بصورت دیگر اسلام امن و آشتی اور محبت کا درس دینے والا مذہب ہے۔ یہ ہر مذہب کے پیروکار کو اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کے حقوق دیتا ہے۔ مسلمان حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ برابری کی بنیاد پر ہر غیر مسلم شہری کی سلامتی اور خوشحالی کی ضمانت دے۔ کسی بھی مسلمان کو کسی بھی انداز میں غیر مسلم رہائشیوں کے لئے مسائل پیدا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مسلمان ان کی جان و مال اور عبادت گاہوں کے احترام اور حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہر کوئی اس نقطہ نظر کو سمجھے گا اور اگر کسی کو مزید تفصیل درکار ہو تو اسے چاہیے کہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرے۔ یہ دونوں ذرائع مسلمانوں کے لئے زندگی گزارنے کا تعین کرتے ہیں اور انہیں یہ سکھاتے ہیں کہ اپنی زندگیاں کیسے گزاری جائیں۔ یہ مبادیات اسلام ہیں۔ ان کے تراجم دنیا کی ہر بڑی زبان میں موجود ہیں جن میں انگریزی، ہسپانوی، ولندیزی، فرانسیسی وغیرہ شامل ہیں۔ اگر کسی کو یہ ڈھونڈنے میں مشکلات پیش آئیں یا وہ اسلام کے بارے میں مزید مطالعہ کرنے کا خواہش مند ہو تو مجھ سے مندرجہ ذیل ای میل پتے پر رابطہ کرے۔ irfan.a.mirza@gmail.com اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور عملی مذہب ہے۔
میں آپ کی ویب سائیٹ کے لئے مضامین کیسے لکھ سکتا ہوں؟
برائے مہربانی مذاہب کو فراموش کریں۔ سب سے پہلے تو ہم انسان ہیں اور جہاد زندگی کا کوئی اصول نہیں ہے۔ اسلام میں اس کا صرف مفروضہ اور کہانی ہے۔ خدا اور دیگر تصورات کی کوئی اہمیت نہیں۔ لہٰذا آپ سیدھا راستہ اختیار کریں جو امن کا راستہ ہے۔ شکریہ۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور عملی مذہب ہے۔
بلاشبہ اسلام واحد سچا مذہب ہے۔ اگر ہم صدق دل سے اس مذہب کا احترام اور پیروی کریں اور اللہ کی بتائی ہوئی راہ پر چلیں تو یہ سیدھا جنت کا پروانہ ہے۔ اللہ سب سے عظیم اور لافانی ہے۔ اللہ نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن مجید نازل کیا اور انہوں نے اپنے اور خدا کے بارے میں پیغامات پھیلائے۔ اللہ نے ہمیں اسلام کو قبول کرنے کا حکم دیا جس میں دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔
بلاشبہ اسلام دنیا کا واحد مذہب اور نظام ہے جو کمزور اور پسے ہوئے لوگوں کو طاقتور بناتا ہے اور انسانیت کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ ہمیں ظلم، سنگدلی اور دہشت گردی کا ہر سطح اور مرحلے پر خاتمہ کرنا چاہیے اور اسی لئے ان برائیوں کے خلاف لڑائی ایک مقدس جنگ ہے۔ یہ ہر مسلمان کے لئے عبادت اور فریضہ ہے کہ وہ تمام نسل انسانی کے لئے ایک پرامن ماحول فراہم کرے جو اسلام کے سنہری اصولوں کی روشنی میں کسی دباؤ اور خطرے کے بغیر قیاس آرائیوں کی آزادی اور زندگی کی آزادی کی ضمانت دے سکے۔ تاکہ ایسے تمام نظاموں کا خاتمہ کیا جا سکے جو ایک انسان کو دوسرے کا غلام بناتے ہیں۔ دنیا کے ان ظالمانہ نظاموں سے جان چھڑانے کا واحد باقی طریقہ اسلامی جہاد ہے۔
اسلام کی درست انداز میں ترویج کریں۔ یہ ایک اچھی ویب سائیٹ ہے اور مجھے پسند ہے۔ اسے برقرار رکھیں۔
ہم مسلمان ہیں اور اپنے مذہب سے محبت کرتے ہیں۔ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔
حیران کن بات ہے کہ یہ ویب سائیٹ اب فارسی زبان میں بھی دستیاب ہے۔ میں اس پر بہت خوش ہوں۔
مجھے پاکستان سے متعلق کچھ اچھی معلومات درکار ہیں۔
جہاد جسے غیر مسلم دہشت گردی کہتے ہیں وہ صرف اسلام کے دشمنوں کے باعث ہے۔
میں صرف سیاسی خبریں پڑھتا ہوں۔
مجھے اسلام سے محبت ہے۔
wuzu ka tarika
islaam ki sarbulandi k liye jihad farz hain.q k aaj sari dunya main sirf musli, comunity parhi zulam horaha hai if woh apne haq k kasool k liye kary hojai tou eis mai kia guna hai jihad oos waqt tak jari rahe ga jab tak hamary dushman kataam nahe ho jaty.
شریعت کی رو سے خاندان میں جائیداد کی تقسیم کا اصول کیا ہے؟ میرے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے اور ہمارا گھرانہ پانچ افراد پر مشتمل ہے، مجھ سمیت دو بھائی، دو شادی شدہ بہنیں اور والدہ صاحبہ۔ ہمارے والد صاحب نے ہمارے لئے ترکے میں 7700,000 روپے کی رقم چھوڑی ہے۔ ہم اس رقم کو اپنے خاندان میں کیسے تقسیم کر سکتے ہیں؟
محترم، اسلام آخر تک زندہ رہے گا اور اس کے پیروکار لڑیں گے
یہ ایک معلوماتی ویب سائیٹ ہے۔ J
مجھے یہ بہت پسند ہے۔