تاجکستان کے انتخابات میں برسر اقتدار جماعت 71.7 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیاب

حزب اختلاف کی جماعتوں اور مغربی مبصرین نے انتخاب کے انتظامات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے

رخشونہ ابراگیموفا

2010-03-01

دوشنبہ ۔۔ تاجکستان میں برسر اقتدار جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے لیکن حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں اور مغربی مبصرین انتخابات کے انتظامات پر اعتراض کر رہے ہیں۔

یکم مارچ کو مرکزی کمیشن برائے انتخابات و ریفرنڈم کے جاری کردہ ابتدائی نتائج کے مطابق، 28 فروری کے پارلیمانی انتخابات میں صدر امام علی رحمان کی زیر سربراہی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی برائے تاجکستان نے 71.7 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

مرکزی انتخابی کمیشن نے بتایا کہ 7.7 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی اسلامی رینائسنس پارٹی سمیت چار دیگر جماعتوں نے بھی کامیابی حاصل کی۔ مرکزی انتخابی کمیشن کے ڈائریکٹر مرزو علی بولتوئیف کے مطابق، پارلیمان میں نشستوں کے لئے 5 فیصد ووٹوں کی مطلوبہ شرط سے تجاوز کرنے والی دیگر جماعتوں میں کمیونسٹ پارٹی (7.22 فی صد)، تاجکستان کی ایگریرین پارٹی (5.01 فی صد) اور اکنامک ریفارم پارٹی (5.09 فی صد) شامل ہیں۔

بولتوئیف نے کہا کہ باقی سیاسی جماعتوں جن میں سوشل ڈیموکریٹس، ڈیموکریٹس اور سوشلسٹس شامل ہیں، نے ایک فیصد سے کم ووٹ حاصل کیے۔

اتوار کے انتخابات میں پارلیمان کے ایوان زیریں اور اوبلاست، شہر اور دیگر مقامی دفاتر کے لئے اراکین کا انتخاب کیا گیا۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً 3,154,000 اہل ووٹروں کی 87 فیصد تعداد نے ووٹ ڈالا۔

تاجک صدر امام علی رحمان نے صدارتی محل سے 300 میٹر دور ایک پولنگ اسٹیشن میں اپنا ووٹ ڈالا۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات جمہوریہ تاجکستان کے لئے اہمیت کے حامل ہیں اور وہ جتنے زیادہ شفاف، جمہوری اور آزادانہ ہوں گے عالمی سطح پر ملک کا وقار اتنا ہی بلند ہو گا۔

اگرچہ صدر کا کہنا ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے سازگار حالات فراہم کیے گئے تھے لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں نے انتخابات کے انتظامات اور نتائج پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

اسلامی رینائسنس پارٹی کے چیئرمین مخی الدین کبیری نے اعلان کیا کہ شفافیت کی بات کا تو ذکر ہی بیکار ہے۔ ہماری گنتی کے مطابق، ہمیں ملک بھر سے کم از کم 35 فیصد ووٹ ملنے چاہیے تھے۔ انتخابی کمیشنوں کے اراکین نے، اپنے استثنٰی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ہر پولنگ اسٹیشن پر بلا روک ٹوک ووٹوں کے نتائج میں ہیرا پھیرا کی۔

انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے دفاتر میں موجود ہمارے نمائندوں کو رات دس بجے نتائج کی مصدقہ نقول فراہم کی گئی تھیں لیکن اگلی صبح نئے نتائج سامنے آئے جن میں بالکل مختلف تعداد دکھائی گئی۔

کبیری نے اگرچہ نتائج سے اختلاف کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ 2005 کے مقابلے میں اس بار مہم کافی زیادہ مثبت رہی۔ انہوں نے کہا کہ 2005 میں بہت سی بے قاعدگیاں ہوئی تھیں۔

لیکن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی برائے تاجکستان کے چیئرمین رحمت اللو زوئروف نے کبیری سے اختلاف کرتے ہوئے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اس بار 2005 کے مقابلے میں حکومت کی مداخلت کچھ زیادہ ہی رہی۔

انہوں نے بتایا کہ دو جماعتوں نے خاص طور پر بہت زیادہ دباؤ کا سامنا کیا جن میں ایک ان کی اپنی جماعت اور دوسری اسلامی رینائسنس پارٹی تھی۔

یورپ میں سلامتی اورتعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) نے انتخابات پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔

یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے انتخابی جائزہ مشن کے سربراہ آرٹس پیبرکس نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ حکومت کی جانب سے جمہوری عوامل پر عمل درآمد کے اعلانیہ ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ہی اہم خامیوں کو دور کیا گیا جس کے باعث انتخاب سے قبل انتخابی مہم اور انتخاب کے دن پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

کل 3,067 ووٹنگ اسٹیشنوں کی ایک چوتھائی تعداد پر انتظامات تسلی بخش نہ تھے۔

یورپ کی تنظیم کی پارلیمانی اسمبلی کی نائب صدر پیا کرسمس مولر نے کہا کہ اگرچہ تاجکستان میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کچھ پیشرفت نظر آئی ہے لیکن وہ ابھی تک ان بہت سی ذمہ داریوں پر پورے نہیں اترتے جو یورپی تنظیم کی جانب سے ملک پر عائد ہیں۔

کرسمس مولر نے کہا کہ سرکاری ٹیلی ویژن نے انتخاب سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کی مہم کو تقریباً نظر انداز کر دیا اور اس طرح ووٹروں کو انتخابات میں آگاہی پر مبنی انتخاب کے عمل میں رکاوٹ ڈالی۔ انہوں نے گروپ اور خاندان کی وساطت سے ووٹ ڈالنے کی بھی مذمت کی جس میں ایک شخص کسی عمارت کے تمام رہائشیوں یا اپنے وسیع خاندان کے تمام افراد کی جانب سے ووٹ ڈال آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سنگین خلاف ورزیوں سے معتبر جمہوری عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں ابھی کافی پیشرفت ہونا باقی ہے اور مجھے امید ہے کہ نئی پارلیمان اس پیچیدہ مسئلے کو حل کر لے گی۔

دوشنبہ کی رہائشی سلیمہ رسولوفا نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ وہ اپنے والدین کی نسبت دیر سے ووٹ ڈالنے گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میں اپنی انتخابی پرچی حاصل کرنے کے لئے کمیشن کے اراکین کے پاس گئی تو پتا چلا کہ میرے والد ہمارے پورے گھرانے کی جانب سے پہلے ہی ووٹ ڈال کر جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن اس بات کی وضاحت پیش نہ کر سکا کہ ایسا کیوں ہوا۔ کچھ بحث کے بعد انہوں نے مجھے انتخابی پرچی دے دی۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب چیئرمین شوکپ جون خاکیموف نے بتایا کہ ضلع کانی بدمسک میں، جہاں وہ بطور امیدوار کھڑے تھے، اندراج شدہ ووٹروں کی تعداد سے 5,000 کم پرچیاں پائی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ ووٹ ڈالے بغیر ہی رخصت ہو گئے اور پھر شام 7 بجے بغیر کسی وضاحت کے یہ پرچیاں مل گئیں۔ لیکن پھر کون ووٹ ڈالنے آتا؟

آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے مبصرین نے پارلیمانی انتخابات کے انتظامات کو سراہا ہے۔

آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کے انتخابی مبصر مشن کے سربراہ سرجیائی لیبیدیف نے کہا کہ اگر ووٹ ڈالنے کی خلاف ورزیوں کے اکا دکا واقعات، مثلاً خاندان کی وساطت سے ووٹ ڈالنے کی کوششیں، ہوئے بھی ہیں تو وہ وسیع پیمانے پر نہیں ہیں اور ان سے انتخابات کے نتائج میں کوئی بڑی تبدیلیاں نہیں ہو سکتیں۔

کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ شودی شب دولوف نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ووٹ ڈالنے کے عمل میں سنگین بے قاعدگیوں کا مشاہدہ نہیں کیا اور ہم مجموعی طور پر آج کے نتائج سے مطمئن ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتیں اسلامی رینائسنس پارٹی برائے تاجکستان اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی برائے تاجکستان انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

کبیری نے کہا کہ اگر ہمارے دعووں اور شکایات کا جائزہ اور ان پر غور نہ کیا گیا تو ہم قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے مزید سخت اقدامات اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں جن میں مظاہروں کا انعقاد بھی شامل ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 2)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی چھا گئی ہے! اچھی خبر ہے۔

    March 16, 2010 @ 09:03:00PM
    Joe