پاکستان میں ازبک جنگجوؤں کی تعداد تاحال نامعلوم
اسلامی تحریک برائے ازبکستان کو قبائلی علاقوں میں مزید پذیرائی نہیں مل رہی اور بہت کم نئے لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں
رحیم اللہ یوسف زئی
2010-02-26
پشاور، پاکستان ۔۔ گزرتے سالوں میں ازبک عسکریت پسندوں کی سفاک اور متشدد فطرت کی داستانیں زبان زد عام ہو چکی ہیں۔ ان کے ہاتھوں اغوا ہونے والے افراد ان کے مظالم کی دلدوز کہانیاں سناتے ہیں۔
ازبکستان واپس لوٹنے سے قاصر اور ایک اجنبی جگہ پر اپنی بقاء کے لئے جدوجہد کرنے والے ازبک جنگجوؤں نے قبائلی علاقوں میں ہی رہنے کے لئے پاکستان کے انتہائی بنیاد پرست عسکریت پسند کمانڈروں کے ساتھ روابط قائم کر لیے ہیں۔ لیکن اب اسے بھی خطرہ لاحق ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ازبک عسکریت پسندوں سے متعلق اطلاعات اتنی مبہم ہیں کہ حکام جنوبی وزیرستان میں کئی ماہ قبل ایک فضائی حملے میں اسلامی تحریک برائے ازبکستان (آئی ایم یو) کے سربراہ طاہر یلداشیف کی ہلاکت کی تاحال تصدیق نہیں کر سکے۔
یہ حملہ گزشتہ سال 27 اگست کو ہوا تھا جس میں شبہ ہے کہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے 43 سالہ سربراہ طاہر یلداشیف ہلاک ہو چکے ہیں۔ ٹھیک 22 روز بعد اسی طرح کے ایک اور حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے بانی رہنما بیت اللہ محسود ہلاک ہو گئے تھے۔
اکتوبر میں پاکستانی سیکورٹی حکام نے بتایا کہ طاہر یلداشیف جنہیں عسکریت پسند عرف عام میں قاری فاروق کہتے ہیں، اگست کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم، جنوبی وزیرستان کے قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں یلداشیف اور پاکستانی طالبان کے کمانڈر نور اسلام زخمی ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نور اسلام بعد میں زخموں سے صحت یاب ہو گئے تھے لیکن یلداشیف کے متعلق کوئی واضح اطلاعات موجود نہیں ہیں۔
حتٰی کہ افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں مصروف کار ازبک عسکریت پسندوں کی درست تعداد بھی معلوم نہیں ہے۔ بی بی سی کی ازبک سروس کے سراج الدین طولیبوف نے اکتوبر 2009 میں اپنے مضمون میں لکھا کہ پاکستان میں ازبک عسکریت پسندوں کی تعداد کا تخمینہ 500 سے 5,000 کے درمیان لگایا گیا ہے۔ پاکستانی فوج اور سیکورٹی کے حکام ان کی تعداد کئی سو سے چند ہزار کے درمیان بتاتے ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان، جہاں ازبک جنگجو اکثریتی تعداد میں ہیں، کے قبائلی ذرائع کے خیال میں ان کی تعداد 500 سے 600 کے لگ بھگ ہے۔
ان کی تعداد سے قطع نظر، پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے حال ہی میں ازبک جنگجوؤں کے حوالے سے کہا کہ ان کی تعداد معلوم نہیں ہے اور وہ وزیرستان میں جس مقامی عسکریت پسند کمانڈر کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کریں گے، طاقت کا توازن اسی کے حق میں ہو جائے گا۔
غالباً ان کی بات درست ہے کیونکہ حالات سے مجبور ہو کر اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی قیادت اکثر زیادہ بنیاد پرست گروپوں جیسے کہ القاعدہ، افغان طالبان اور کئی کالعدم عسکریت پسند اور فرقہ پرست تنظیموں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی جہادیوں کے ساتھ اتحاد کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ لیکن ازبکوں کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ جن علاقوں میں روپوش ہوتے ہیں وہاں اپنے موجودہ روابط ختم کر کے نئے دشمن پیدا کر لیتے ہیں۔
ازبک جنگجوؤں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مقامی عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر جنوبی اور شمالی وزیرستان، باجوڑ اور دیگر قبائلی علاقوں میں قبائلی عمائدین کو موت کے گھاٹ اتارنے کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں جس کا مقصد ایک طرف تو طالبان کے قبضے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا تھا اور دوسرا حکومت کے حامی اور طالبان مخالف قبائلیوں کو یہ سخت پیغام بھیجنا تھا کہ ان کا بھی ایسا ہی حشر ہو گا۔ اس بارے میں مختلف اعداد و شمار پائے جاتے ہیں لیکن خیال ہے کہ ان کارروائیوں میں چند سو قبائلی سردار ہلاک ہو چکے ہیں اور اس حکمت عملی کے باعث دوسروں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی ہے۔
لیکن ہر کسی نے ازبکوں کو برداشت نہیں کیا۔ جنوبی وزیرستان کا احمد زئی وزیر قبیلہ کسی زمانے میں اسلامی تحریک برائے ازبکستان کا شراکت دار تھا لیکن پھر ازبکوں کے خلاف اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ ازبک عسکریت پسندوں کو علاقے سے بے دخل کرنے کے لئے پاکستانی طالبان کے کمانڈر مولوی نذیر کی سربراہی میں ایک لشکر تیار کیا گیا۔ پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے مولوی نذیر کے لوگوں کو اسلحہ اور رقم فراہم کی اور ازبک عسکریت پسندوں کو جنوبی وزیرستان کے ان علاقوں میں منتقل ہونے پر مجبور کر دیا جہاں محسود قبیلے کے لوگ بستے ہیں۔
بعض ازبک جنگجوؤں نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں پناہ حاصل کر لی جہاں ازبک خاندان پاکستان کے قبائلی عسکریت پسندوں کے زیر سایہ رہ رہے ہیں۔ بعد ازاں، میر علی سے یہ اطلاعات آئیں کہ مقامی آبادی کی خواہش ہے کہ ازبک جنگجو ان کے علاقے سے نکل جائیں لیکن وہ انہیں زبردستی باہر نکالنے سے قاصر ہے۔ علاقے کے قبائلیوں کو شکایت تھی کہ ازبک عسکریت پسند ان برادریوں کے لئے خطرہ تھے جنہوں نے ان کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔
جنوبی وزیرستان کے گاؤں کانی گرم کے ایک مولوی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اکتوبر 2009 میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی کارروائی سے قبل ان کے علاقے میں کافی تعداد میں ازبک رہائش پذیر تھے۔ ان سے کہا گیا کہ وہ مقامی مسجد میں نماز پڑھنے نہ آئیں کیونکہ وہاں ان کی موجودگی سے عسکریت پسندوں کا تعاقب کرنے والی سیکورٹی فورسز مسجد کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔
اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی بنیاد 1996 میں رکھی گئی تھی۔ وادی فرغانہ اس کا مضبوط گڑھ تھا۔ اس کا ہدف ازبکستان پر آہنی گرفت سے حکومت کرنے والے سابق کمیونسٹ صدر اسلام کریموف کی حکومت کا تختہ الٹنا اور ملک میں شریعت کا نفاذ تھا۔
1990 کی دہائی کے وسطی سالوں میں صدر اسلام کریموف کی حکومت نے اسلامی تحریک برائے ازبکستان کو کچلنے کی سخت کارروائیاں شروع کیں جس پر تحریک کی مرکزی قیادت فرار ہو کر ازبکستان سے باہر پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہو گئی۔ اگست 1998 میں، جب طالبان افغانستان کے 90 فیصد حصے پر قابض تھے، اسلامی تحریک برائے ازبکستان نے افغانستان کے شمالی صوبوں میں عسکری تربیت کے کیمپ قائم کر لیے۔
دسمبر 2001 میں اسلامی تحریک برائے ازبکستان کو افغانستان میں بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے رہنما جمعہ نمنگانی مبینہ طور پر مارے گئے۔ نمنگانی سوویت چھاتہ بردار دستے کے ایک سابق رکن تھے اور انہوں نے افغانستان پر سوویت قبضے کے دوران 1987 سے 1989 تک افغان مجاہدین کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔
یلداشیف نے ان کی جگہ لے لی اور طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کی قیادت میں ازبک جنگجوؤں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ گاہیں حاصل کر لیں۔ 2002 کے اوائل میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ازبک باشندوں اور کئی دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پناہ لینا شروع کر دی۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ عرب قومیت کے حامل عسکریت پسندوں کے برعکس ازبک جنگجو پشتون قبال کے ساتھ امن و آشتی سے نہیں رہے۔ مقامی باشندوں کی شکایت ہے کہ ازبکوں نے اپنے میزبانوں پر حاوی ہونے کی کوشش کی اور خود پر تنقید کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ ازبکوں پر قبائلی عمائدین کو اغوا اور قتل کرنے اور علاقے میں سر قلم کرنے اور تشدد کی دیگر اقسام متعارف کرانے کا الزام لگایا گیا۔
قبائلی علاقوں میں پاکستان کی فوجی کارروائیوں اور میزائل حملوں کے باعث عسکریت پسند کمزور ہو گئے ہیں جن میں اسلامی تحریک برائے ازبکستان بھی شامل ہے۔ غیر ملکی عسکریت پسندوں نے اس وقت راہ فرار اختیار کر لی ہے اور وہ نئی پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں۔ ان میں سے بعض نے تو موت اور گرفتاری کو جل دینے کے لئے پاکستان کے شہری علاقوں کا بھی رخ کر لیا ہے۔ اسلامی تحریک برائے ازبکستان نے القاعدہ اور افغان اور پاکستانی طالبان کے ساتھ مضبوط روابط برقرار رکھے ہیں۔ لیکن اب بہت کم نئے لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں۔
اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی جانب سے ایک نظریے کے طور پر تشدد کا استعمال بھی نئے اراکین کو اس میں شامل ہونے سے روک رہا ہے۔ اسلام کریموف کی حکومت کی جانب سے سخت سیکورٹی اقدامات کے باعث اس گروپ کی ازبکستان میں موجودگی اور لوگوں سے رابطے اور اپنے ساتھ نئے لوگوں کو شامل کرنے کی صلاحیت بھی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی قیادت ازبکستان سے کافی دور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہے اور اسی وجہ سے ازبک سیاست میں اس کا کردار کافی کم ہو گیا ہے۔ اور اسلام کریموف کی آمرانہ حکومت کے ایک قابل عمل جمہوری متبادل کی عدم موجودگی میں یہ تحریک ازبکستان کی حکومت کے لئے مسلسل خطرہ ہے۔
اس نے جون 2001 میں اپنا نام تبدیل کر کے اسلامی جماعت برائے ترکستان رکھتے ہوئے وسطی ایشیا کے دیگر باشندوں کو اپنی صفوں میں شامل ہونے کی دعوت دی اور یوں اپنی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھانے کی کوشش کی۔ تاہم، لگتا ہے کہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی اسلام کریموف کی حکومت کے ایک اسلامی متبادل کے طور پر آنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔
رحیم اللہ یوسف زئی پشاور میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ وہ پشاور میں انگریزی روزنامے دی نیوز کے مقامی مدیر اور جیو ٹی وی کے سینئر تجزیہ کار ہیں۔ وہ صوبہ سرحد میں بی بی سی کی پشتو اور اردو سروسز کے بھی نمائندے ہیں۔ رحیم اللہ یوسف زئی افغان امور اور پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے معاملات کے ماہر ہیں اور وہ اسامہ بن لادن اور طالبان کے رہنما ملا محمد عمر کا بھی انٹرویو کر چکے ہیں۔ شعبہ صحافت میں ان کی گرانقدر خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز سے نوازا جو کہ پاکستان کے تیسرے اور چوتھے اعلٰی ترین شہری اعزازات ہیں۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
میں ایک ازبک باشندہ ہوں اور مجھے ازبک ہونے پر فخر ہے۔ پاکستان میں رہنے والے ازبک باشندوں کو دہشت گرد اور طالبان کا نام دیا جاتا ہے۔ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں روسی ہمارے لوگوں کو باسمچی کہتے تھے۔ روسی، انگریز، فرانسیسی، امریکی اور اسرائیلی خنزیر خود باسمچی اور دہشت گرد ہیں۔
ملک کے بارے میں ایسی باتیں پھیلانا بند کریں۔ ہم پہلے ہی ان جیسے گدلیانوں کو بھگت چکے ہیں جو سات سال تک ازبکستان میں نسل کشی کے ملزم رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ بغیر کسی وجہ کے مسائل میں اضافہ کرنے کی بجائے ان کی تردید کریں جو ایک دوسرے کو نگل رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ برطانیہ کے عوام کی مانند ہو جائیں جو ملک کے اندر تو ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں مگر بیرونی دشمن کے سامنے متحد ہو جاتے ہیں۔ گدلیان اب روس میں رحم اور انسانی حقوق کی ایک فاؤنڈیشن چلا رہے ہیں۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں؟ وہ انتہائی مکار شیطان ہیں۔ ان کے چہرے سے پردہ ہٹانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہمارے ملک کو لوٹا اور عوام اور مادی وسائل دونوں کو ہدف بنایا۔ اور اب وہ دوسروں کو استحکام اور امن کی حفاظت کا درس دے رہے ہیں۔
کس نے ازبکستان کی معیشت کے مستحکم ہونے کی احمقانہ بات کہی؟ اس کی بدولت چالیس لاکھ ازبک شہری ملازمت کی غرض سے بیرون ملک جا چکے ہیں، درست ہے یا غلط؟ اور اس کی بدولت قازقستان کی نصف طوائفوں کے پاس ازبکستان کا سبز پاسپورٹ ہے۔ آپ غالباً کبھی اپنے کشلاک سے باہر نہیں نکلے یا پھر قومی سلامتی سروس کے کوئی اہلکار ہیں۔ لوگوں کی توہین نہ کریں۔ ایسی باتوں سے احتراز کریں۔
یہ ایک اچھا آرٹیکل ہے۔ اگر کریموف نہ ہوتا تو ازبکستان دوسرا افغانستان بنا ہوا ہوتا۔ کریموف ہی ہے جس نے ملک کو ٹوٹنے اور مختلف اقسام کے شدت پسندوں کی جانب سے گند سے بچایا ہوا۔ اگر ازبکستان ٹوٹتا ہے - پورا وسطی ایشیا غیر مستحکم ہو جائے گا۔ یہ وسطی ایشیا کا ترنوالہ ہے۔ ہر طرح کے شدت پسندوں کی نظر ازبکستان پر ہے - بے وقوف طالبان سے لیکر امریکہ کے پرسرار سی آئی اے ایجنٹوں تک، جن کا کرغزستان میں ہونے والے حالیہ قتل عام کے پیچھے ہاتھ تھا۔ وہ کرغزستان اور ازبکستان کو آپس میں لڑانا چاہتے تھے تاکہ ان دونوں ملکوں میں امریکی بیس قائم کیے جائیں، جن کا مقصد چین میں مداخلت کرنے کے لیے لانچ پیڈ بنانا ہے۔ اللہ ہمارے صدر کو صحت یاب رکھنے۔ خدا نہ کرے کہ اگر وہ ایک مضبوط اور وفادار جانشین چھوڑے بغیر اچانک فوت ہوجاتا ہے، تو ازبکستان جنگ سے تباہ حال عراق کی طرح بن جائے گا - اور سانپوں کی آماج گاہ بن جائے گا۔ اور، بلاشبہ، ان بے چارے، قابل رحم، بے قیمت، جاہل شدت پسندوں اور عسکریت پسندوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ کس لیے لڑ رہے ہیں - اور انہیں اصلی اسلام کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اللہ ان پر رحم کرے۔
ہماری پالیسی بہترین ہے اور ہمارا صدر سب سے اچھا ہے۔ آئی ایم یو ایسے لوگوں کا ایک گروہ ہے جو دھشتگرد گرہوں کے رہنماؤں کے غلام بن گئے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کیوں قتل کرتے ہیں اور کیوں لڑتے ہیں۔ میں ان لوگوں کو کمپیوٹر سمجھتا ہوں جن کو آسانی سے اپنی منشا سے چلایا جاسکتا ہے۔ مجھے دھشتگردی سے نفرت ہے۔ اگر آپ دھشتگردوں سے پوچھیں، تو ان کو ایک دعا بھی صحیح طرح پڑھنی نہیں آتی ہو گی۔ اسلام قتل اور تشدد کو منع کرتا ہے۔
مت بھولیں کہ اس میں دو فریق ہیں۔ سب سے پہلے تو خود سے یہ سوال کریں کہ ازبکستان میں کون حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کو اس کی ضرورت نہیں۔ اسلامی تحریک برائے ازبکستان ایک بڑے نظام کا چھوٹا سا پرزہ ہے اور یہ نظام پرسکون مقامات پر بڑی بڑی عمارتوں میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے اراکین جنونی لوگ ہیں جو اپنے خیال میں سچائی کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ یہ وہ سچ ہے جو انہیں بتایا گیا ہے اور وہ اسے مرکزی نظام سے حاصل کرتے ہیں۔ ہم اسے دماغ کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ دماغ انہیں کھلاتا پلاتا ہے، انہیں لباس اور ضرورت کی چیزیں فراہم کرتا ہے۔ ایک وقت آئے گا جب یہ چھوٹا پرزہ ختم ہو جائے گا اور کوئی اور اس کی جگہ لے لے گا۔ یاد رکھیں کہ اکیسویں صدی میں اطلاعاتی جنگ سب سے اہم جنگ ہے لہٰذا افواہوں کو خاطر میں نہ لائیں۔ دوسروں کے بتائے ہوئے سچ کو ماننے کی بجائے اپنا دماغ استعمال کریں۔ ازبکستان وسطی ایشیا کا سب سے مستحکم ملک ہے اور اس کی معیشت اپنے ہمسایہ ملکوں کی نسبت کہیں آگے ہے۔ یہاں کی ریاست اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے سب کچھ کر رہی ہے اور مجھے اس پر خوشی ہے۔
مجھے ان گھٹیا لوگوں کی حرکتوں پر حیرت ہے۔ وہ بے گناہ افراد کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر بدنما داغ ہیں۔
لوگو، قوم کا اس سے کیا تعلق ہے؟ ہر جگہ اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔ لڑنے اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ظلم کرنا شیطان صفت لوگوں کا کام ہے اور ازبک باشندوں کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ قوم پر الزام نہ لگائیں۔ کاش دنیا میں سب جگہ امن کا دور دورہ ہو۔
ٹھیک۔
آپ اپنے صدر کے خلاف جدوجہد کی آڑ میں لوگوں کو کیسے قتل کر سکتے ہیں؟ اگر وہ واقعی لوگوں کو آگاہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ قلم اٹھا کر ملک میں اپنی قوم کو آگاہ کریں جس طرح کہ ایران میں آذری لوگ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہیں۔
یہ طفیلیے غیر ملک میں رہتے ہیں اور انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ کس کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ یہ بدمعاش ازبکستان میں رہنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ ہم انہیں اس طرح رہنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ازبکستان میں حالات بالکل ٹھیک ہیں اور اس سے بہتر نہیں ہو سکتے مگر یہ احمق ازبکستان کو بدنام کر رہے ہیں۔ مجھے ازبکستان کا شہری ہونے پر فخر ہے۔
میں حیران ہوں۔ یہ مضمون انتہائی احمقانہ انداز میں لکھا گیا ہے اور اس کی سطح ان تمام نانیوں دادیوں کے لئے ہے جو بنچ پر بیٹھ کر گپ شپ لگا رہی ہوں۔ کون احمق اس طرح کی بیزار کن خبریں شائع کرتا ہے؟
دوشنبہ۔
انسانوں کے ساتھ ظلم یا وحشیانہ سلوک ان انسانوں کی خصوصیت ہے جو اپنے تحت الشعور میں مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی بزدلی کا انتقام لینے کی غرض سے اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ اپنا دفاع نہ کر سکنے والے لوگوں کے خلاف اتنے مظالم صرف بزدل ہی کر سکتے ہیں۔ یہ چیز فرغانہ کے واقعات سے عیاں ہے جہاں انہوں نے میشیتی ترک باشندوں کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اوش میں 2010 کے واقعات میں کرغیز باشندوں کا بدترین قتل عام کیا گیا، حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کر دیے گئے اور لوگوں کے سر قلم کیے گئے۔ ازبک کبھی بھی جنگجو نہیں رہے، وہ ہمیشہ سے بزدل تھے۔ جب وہ تعداد میں تھوڑے ہوتے ہیں تو بہت اچھے بن کر رہتے ہیں، لیکن جب ان کی تعداد آپ سے بڑھ جاتی ہے تو پھر آپ خطرے میں ہیں۔ ان کی مثال گیدڑوں جیسی ہے۔
عام طور پر ازبک عسکریت پسند گیڈروں کی مانند ہیں۔ میں مجموعی طور پر ان کی بات نہیں کرتا تاہم وہ گیڈروں کی مانند ہیں جن کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ جنگجو بلبلوں کے لئے لڑ رہے ہیں اور ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ حقیقی اسلام کیا ہے؟ وہ اختراعات، خوشحالی اور انسانیت کے دور جدید میں ایجاد ہونے والی چیزوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں لیکن وہ کلاشنکوف رائفلیں، اسلحہ، گولیاں اور ٹینک تک استعمال کرتے ہیں۔ ان پر کوئی پابندی نہیں لیکن ریڈیو، انٹرنیٹ اور عام طور پر جدید چیزوں پر پابندی ہے۔ وہ کس چیز کے لئے لڑ رہے ہیں؟ آئیے اس کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیں۔ وہ مسلم ممالک اور وسطی ایشیا میں اقتدار کے حصول اور اختیار کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ اگر وہ اقتدار میں آ گئے تو بری فوج اور عسکری صلاحیتوں کو ترقی دینے کے تمام مواقع استعمال کریں گے تاکہ دیگر ملکوں کو فتح کیا جا سکے۔ وہ امریکا اور روس جیسے ترقی یافتہ ممالک سے ہتھیار حاصل کرنے کی رقم ادا کرنے کے لئے منشیات اگاتے ہیں۔ انہیں شرم آنی چاہیے کیونکہ اسلام کی مقدس تعلیمات کو جانے بغیر وہ مصنوعی ترجیحات کے لئے لڑ رہے ہیں۔
پاکستان کے ایک محترم صحافی کے ان الفاظ کو پڑھنے کے بعد مجھے ان کی پیشہ وارانہ اہلیت پر مزید اعتماد نہیں رہا۔ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے جنگجوؤں کا مقصد صدر کا تختہ الٹنے اور اسلامی قوانین کی پاسداری قائم کرنے سے مختلف تھا بلکہ ان کی جدوجہد ازبکستان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے تھی اور وہ نام نہاد پھلتی پھولتی جمہوریتوں کو ختم کر کے بنیاد پرست وہابی تحریک (سلفیوں) کو لانا چاہتے تھے۔ ان وہابیوں نے گزشتہ صدی کے اوائل میں سعودی عرب میں اقتدار سنبھالا تھا۔ اور حقیقت میں وہ آج دن تک امریکا، برطانیہ اور اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔
یوسف زئی اس بات کا ذکر کرنا بھول گئے کہ ازبک طالبان اس حد تک ڈھٹائی کا شکار ہیں کہ وہ مقامی باشندوں کو ان کے گھروں سے زبردستی بے دخل کر کے خود ان پر قابض ہو رہے ہیں۔ وہ مکان کی قیمت ادا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زمین اللہ کی ملکیت ہے۔ حکومت کی مدد کے بغیر وہ کیسے یہ کر سکتے ہیں؟
یوسف زئی اس بات کا ذکر کرنا بھول گئے کہ ازبک طالبان اس حد تک ڈھٹائی کا شکار ہیں کہ وہ مقامی باشندوں کو ان کے گھروں سے زبردستی بے دخل کر کے خود ان پر قابض ہو رہے ہیں۔ وہ مکان کی قیمت ادا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زمین اللہ کی ملکیت ہے۔ حکومت کی مدد کے بغیر وہ کیسے یہ کر سکتے ہیں؟
میں نیوز اخبار اور سینٹرل ایشیا آن لائن ویب سائیٹ پر رحیم اللہ یوسف زئی کے مضامین کا باقاعدہ قاری ہوں۔ میں مصنف کے اس مضمون کو شاہکار قرار دیتا ہوں۔ ان کے خیالات کی روانی شاندار ہے۔ میں سینٹرل ایشیا آن لائن کا حقیقتاً مشکور ہوں کہ انہوں نے ان معاملات پر ایسے ماہرین کو لکھنے کی دعوت دی ہے۔