تاجکستان کی حزبِ مخالف جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم کی خلاف ورزیوں کا الزام

تجزیہ کاروں کی پیش گوئی ہے کہ نئی پارلیمان میں بہت کم نئے چہرے دکھائی دیں گے

رخشونہ ابراگیموفا

2010-02-25

دوشنبہ -- تاجکستان کے پارلیمانی انتخاب سے چند روز قبل صدر امام علی رحمان نے مرکزی انتخابی کمیشن (سی ای سی)، پراسیکیوٹر جنرل اور سپریم کورٹ کو شفاف اور جمہوری انتخابات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

لیکن بعض افراد کے خیال میں یہ ہدایات بہت تاخیر سے کی گئی ہیں اور ان کا کوئی زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

ادھر جبکہ تاجک باشندے 28 فروری کو ایک نئی پارلیمان منتخب کرنے کے لئے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، بعض سیاسی جماعتوں اور ایک بین الاقوامی تنظیم نے حکومت اور برسر اقتدار پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (NDPT) پر انتخابی قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

22 فروری کو یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کے انتخابی مبصر مشن نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا کہ کئی سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پولیس کی مداخلت اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے سرکاری وسائل کے استعمال کی شکایت کی ہے۔

یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مرکزی انتخابی کمیشن نے وسط جنوری کے بعد سے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل اجلاس نہیں بلایا۔ علاوہ ازیں، اس نے نہ تو شکایت سنی ہیں اور نہ ہی درج کرائی گئی شکایات کے ازالے کے لئے کوئی ہدایات جاری کی ہیں۔

اس کے جواب میں مرکزی انتخابی کمیشن نے یورپی تنظیم کی شکایات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے فروری کی 11 اور 16 تاریخ کو اجلاس منعقد کیے تھے۔ یورپی تنظیم کی رپورٹ میں مرکزی انتخابی کمیشن کو بہت کم باضابطہ شکایات درج کرانے پر حزب اختلاف کی جماعتوں پر بھی نکتہ چینی کی گئی ہے۔

صرف دو سیاسی جماعتوِں، اسلامی رینائسنس پارٹی برائے تاجکستان اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی برائے تاجکستان، نے انتخابی مہم کی خلاف ورزیوں کے سر عام الزامات عائد کیے ہیں۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی برائے تاجکستان کے امیدوار شخرت قدرتوف نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ انتخاب کا دن قریب آنے کے ساتھ سرکاری محکموں کے مقامی نمائندوں نے ہماری راہ میں مزید روڑے اٹکانا شروع کر دیے ہیں۔

قدرتوف نے بتایا کہ انتخابی مہم کے آغاز پر بھی ہم نے محسوس کیا تھا کہ پولنگ اسٹیشنوں میں آویزاں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے پراپیگنڈا پوسٹر اجازت شدہ اے تھری سائز سے بڑے تھے۔ ہم نے مرکزی انتخابی کمیشن کے نام اپنی اپیل میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور کمیونسٹس پارٹی کے خلاف شکایت کی کیونکہ ان دونوں نے انتخابی قواعد کی خلاف ورزی کی تھی۔

کمیونسٹس پارٹی کے پوسٹر مقررہ معیار سے چند سینٹی میٹر ہی بڑے تھے جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے پوسٹروں کا سائز مبینہ طور پر ڈیڑھ گنا زیادہ تھا۔

شخرت قدرتوف نے مزید بتایا کہ کمیونسٹس پارٹی نے اس خلاف ورزی کی تصحیح کر لی لیکن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے پوسٹروں کا وہی سائز رکھا اور انہیں اسی حالت میں تمام پولنگ اسٹیشنوں پر بھجوا دیا۔

قدرتوف نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی انتخابی عمل میں مداخلت کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کے ایک گشتی دستے نے ان کے انتخابی دفتر کے داخلی دروازے کے اوپر آویزاں ان کے رہنما رخمت اللو زوئروف کا ایک پوسٹر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ قدرتوف نے بتایا کہ وہ پہلے ہی وزیر برائے امور خارجہ کو اس کی شکایت کر چکے ہیں۔

اسلامی رینائسنس پارٹی برائے تاجکستان کے ہیڈ کوارٹر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ورزوب علاقے کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے ایک اہلکار نے اسلامی رینائسنس پارٹی برائے تاجکستان کے ایک سرگرم کارکن اور صحافی توکل بوبوئیف پر حملہ کیا۔ بزور طاقت اور ان کی تذلیل کرتے ہوئے پراسیکیوٹر دفتر کے اہلکار نے بوبوئیف کے ہاتھ سے ہفت روزہ اخبار ازودگان کا ایک شمارہ چھین لیا۔

زخمی صحافی کا قانونی طور پر طبی معائنہ کیا گیا جس کے بعد انہوں نے پراسیکیوٹر کے دفتر میں اپیل داخل کی۔

اسلامی رینائسنس پارٹی برائے تاجکستان کے ہیڈکوارٹر سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، وخدت کے علاقے میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ رونما ہوا جس میں گاڑیوں کی سرکاری نظارت (جی اے آئی) کے افسران نے اسلامی پارٹی کی تشہیر کرنے والی ایک گاڑی کو بند کر دیا۔

اسلامی رینائسنس پارٹی کے پریس سیکرٹری شمس الدین سید نے کہا کہ خلاف ورزیوں کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حکام آئندہ انتخابات میں برسر اقتدار جماعت کو جتوانے کے لئے ہر ممکن حربہ اختیار کر رہے ہیں۔

سید کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اب تک عدالتوں، پراسیکیوٹر جنرل اور مرکزی انتخابی کمیشن کے پاس پچاس سے زائد شکایات اور اپیلیں درج کرا چکی ہے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ اس نے مرکزی انتخابی کمیشن کو 15 سے زائد شکایات ارسال کی ہیں۔

قدرتوف نے کہا کہ متعلقہ حکام میں سے کسی نے بھی کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ان شکایات پر غور کیا گیا ہے، لیکن صورت حال میں ایک انچ تبدیلی نہیں آئی۔

تاہم، مرکزی انتخابی کمیشن کے چیف آف اسٹاف مخب اللو دودو جانوف نے کہا کہ تمام شکایات پر قانون کے تحت کارروائی کی جاتی ہے اور سیاسی جماعتوں کو اس سے آگاہ کر دیا جاتا ہے۔

تاجک پراسیکیوٹر جنرل شیر خون سلیم زودہ نے ایک اخباری کانفرنس کے دوران بتایا کہ اسلامی رینائسنس پارٹی کی جانب سے انتخابی مہم کی خلاف ورزیوں کے دعووں کی تعداد اور حالات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

سلیم زودہ نے کہا کہ ہم نے وخدت کے معاملے کا جائزہ لیا۔ گاڑیوں کی سرکاری نظارت کے افسران کو ان کی گاڑی روکنے کا پورا اختیار حاصل تھا کیونکہ اس قسم کی گاڑیوں کے گزرنے کی ممانعت تھی۔ انہوں نے اسلامی رینائسنس پارٹی برائے تاجکستان کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ اس نے پچاس سے زائد شکایات درج کرائی تھیں۔

سلیم زودہ کے بقول ابھی تک عدالتوں میں صرف چار شکایات جبکہ پراسیکیوٹر کے دفتر میں ایک شکایت درج ہوئی ہے۔ ان کا جائزہ لینے کے بعد ان پر فیصلہ کر دیا گیا۔ مرکزی انتخابی کمیشن کو مزید 18 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے اسلامی جماعت کی شکایات پر کیے جانے والے فیصلوں کی تفصیل نہیں بتائی۔

تاجکستان کے ایک خود مختار سیاسی تجزیہ کار رستم سمیعیئف نے بتایا کہ اسلامی رینائسنس پارٹی برائے تاجکستان اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے علاوہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت کو کسی اور سیاسی جماعت سے خطرہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکنامک ریفارمز پارٹی اور ایگریرین پارٹی کا قیام 2006 میں صدارتی انتخابات کے موقع پر عمل میں آیا تھا۔ اس وقت بھی ان کی آزاد حیثیت سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ اب وہ برسر اقتدار اکثریتی جماعت کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہیں۔

سمیعیئف نے کہا کہ اسلامی رینائسنس پارٹی کو دو یا تین نشستیں جیتنی چاہئیں کیونکہ اسے نظر انداز کرنا خطرناک ہو گا۔

سمیعیئف کے خیال میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی شاید ہی کوئی نشست جیت سکے۔ اسے پڑھے لکھے طبقے کی بہت تھوڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے لیکن اس جماعت کی کوئی سیاسی بنیاد نہیں ہے، حالانکہ یہ حزب اختلاف کی ایک متحرک جماعت ہے۔ سمیعیئف نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ حکام سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مساوی رویہ اختیار نہیں کرتے اور بعض اوقات اسے ذاتی توہین کی سطح پر لے آتے ہیں۔

زوئروف سرکاری اخبار جمخوریت میں ایک مضمون کی اشاعت کے خلاف مبینہ طور پر ہرجانے کا دعوٰی کریں گے جس میں ان پر غداری اور ازبکستان کے ساتھ روابط کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

سمیعیئف نے کہا کہ روگن پن بجلی گھر کی تعمیر کے خلاف ازبک حکومت کی تقریروں اور ازبک باشندوں کے ساتھ روابط، چاہے وہ کتنے غیر متعلق ہی کیوں نہ ہوں، کے تناظر میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبولیت کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ بدقسمتی سے، اس جماعت کی شناخت صرف اس کے رہنما سے ہے اور زوئروف کی غلطیوں سے پوری جماعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا لب لباب یہ ہے کہ 28 فروری کے انتخابات میں زیادہ تبدیلی کی توقع رکھنا خام خیالی ہے کیونکہ چاہے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی قواعد کی خلاف ورزی کرے یا نہ کرے، ہر صورت میں سب سے زیادہ ووٹ اسے ہی ملیں گے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 2)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے