تاجکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ
اس کی بڑی وجوہات اقتصادی و سماجی ہیں
جمیلہ سجود
2010-02-23
رومی، تاجکستان – ختلون اوبلاست کے ضلع رومی میں رہائش پذیر گلریتر نے بتایا کہ ان کے خاوند انہیں ہر روز مارتے پیٹتے تھے۔
28 سالہ گلریتر نے تاجکستان کی خواتین وکلاء کی لیگ سے رجوع کیا جس نے انہیں عدالت میں پیش کرنے والے ثبوت جمع کرنے میں مدد دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں عدالت نے ان کے شوہر کو جیل کی سزا سنائی۔
"تاجکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے"، لیگ کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر زیبو شریفوفا نے بتایا۔ "اس تذبذب کا شکار (خواتین) ہم روز ہمارے پاس آتی ہیں۔ مدد طلب کرنے کے لئے ہمارے پاس پہنچنے والی ہر تیسری خاتون کی یہ شکایت ہوتی ہے کہ (خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد) انہیں مار پیٹ کا نشانہ بناتا ہے"۔
غیر منافع بخش ادارے جاخون کی ڈائریکٹر شخلو جرائیفا نے بتایا کہ 99.9 فیصد خواتین کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ "میرا خیال ہے کہ اگر کوئی خاتون یہ دعوٰی کرتی ہے کہ ایسی بات نہیں تو پھر وہ تشدد کی مختلف شکلوں یا اقسام سے لاعلم ہے"، جرائیفا نے بتایا۔
جاخون وزارت برائے امور داخلہ کے ساتھ تعاون کے ذریعے اپنے ملازمین کی قانونی خواندگی میں اضافہ کرتی ہے جس میں گھریلو تشدد سے متعلق معاملات کی وضاحت بھی شامل ہے۔
فرنگیز اعلٰی تعلیم یافتہ ہیں اور وہ دارالحکومت میں ملازمت کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ہر روز نفسیاتی تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ "میرے شوہر کسی نہ کسی وجہ سے یا اس کے بغیر ہی میری توہین شروع کر دیتے تھے"، انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا۔ "میں بچوں کی خاطر اسے برداشت کرتی رہی۔ میں اپنے بچوں کو باپ کے سائے سے محروم نہیں کرنا چاہتی تھی"۔
فرنگیز نے بتایا کہ ان کے شوہر کسی اور کے ساتھ ان کے تعلق پر شک کرتے ہوئے انہیں مار پیٹ کا نشانہ بناتے رہتے تھے حالانکہ ایسی کوئی بات ہی نہیں تھی۔ جب ان کے والدین نے ان کے جسم پر مار پیٹ کے نشانات دیکھے تو وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے۔
"اگر ہمارے معاشرے کی ذہنیت ایسی نہ ہوتی تو میں اپنے شوہر کی طرف سے تذلیل ایک دن بھی برداشت نہ کرتی"، فرنگیز نے کہا۔ "میرے بچے مار پیٹ کے ان تمام واقعات کے عینی شاہد ہیں"۔
پولیس کی ایک لیفٹیننٹ کرنل اور وزارت برائے امور داخلہ کے قانونی سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کے محکمے کی سربراہ انسپکٹر لولا اوتا بائیفا نے بتایا، "خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں، اب بھی موجود ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گے اور انہیں اس وقت تک ختم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جاتے"۔
ان کے بقول، تاجک قانون میں 'خواتین کے خلاف تشدد' کو جرم کی مختلف قسم نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن ضابطہ فوجداری میں خواتین کے حقوق سے متعلق 20 شقیں ضرور موجود ہیں۔ وزارت برائے امور داخلہ نے "گھریلو تشدد" کو جرم قرار دینے کے لئے ایک مختلف شق متعارف کرانے کی حمایت کی ہے۔
"جب اس مسئلے کے لئے ایک مختلف شق موجود ہوگی تو ہم گھریلو تشدد کے جرائم کے اعداد و شمار سے بہتر طور پر آگاہ ہوسکیں گے"، اوتا بائیفا نے کہا۔ "بہت سی خواتین، بالخصوص دیہی علاقوں میں رہائش پذیر، کا خیال ہے کہ اگر آپ کے شوہر (آپ کو) مارتے پیٹتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں (آپ سے) محبت ہے"۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے سے گھریلو تشدد کا خاتمہ کرنے کے لئے تاجک خواتین کے قانونی شعور میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، خواتین کو اس بات کا لازمی علم ہونا چاہیے کہ ان کے لئے تحفظ دستیاب ہے۔
یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے تاجکستان دفتر میں تعینات قومی صنفی افسر زیتونا نائیموفا نے بتایا کہ آئین اور بہت سے قوانین کے مطابق، خواتین کو معاشرے میں ایک پر وقار مقام حاصل ہونا چاہیے۔ "لیکن درحقیقت، اقتصادی نقطہ نظر سے، تاجک خواتین کے لئے حالات آسان نہیں ہیں"، نائیموفا نے کہا۔
یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم ملک کے 11 علاقوں میں سے ہر ایک میں خواتین کے وسائل مرکز کے قیام کی حامی ہے۔ خواتین قانونی اور نفسیاتی مشورے اور مالی امداد کے لئے ان مراکز سے رجوع کر سکتی ہیں۔ ان مراکز میں خواتین خواندگی، نمونے بنانا، سلائی، بنائی اور قومی کشیدہ کاری کے ہنر سیکھ سکتی ہیں۔ یہ مراکز خواتین کے حقوق اور خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لئے عوامی اجلاس منعقد کرتے ہیں۔
ماضی میں صنف پر مبنی بہت سے پروگراموں میں کام کرنے والی عزیزہ فراموزوفا کے خیال میں ملازمت پیشہ اور اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونے والی خواتین کے لئے ایسے مسائل بہت کم رہ جاتے ہیں۔
فراموزوفا نے اس کا سبب دقیانوسی اخلاقی بنیادوں کو قرار دیا ہے۔ "والدین کے اصرار پر کم عمری کی شادی کا نتیجہ بھی خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کی صورت میں نکلتا ہے"، انہوں نے کہا۔
ایک اور وجہ معاشرے کی توقعات ہیں۔
"خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی بڑی وجہ ہمارے عوام کی پرورش اور ذہنی سوچ میں پنہاں ہے"، غم خوری تنظیم کے جنرل ڈائریکٹر بخودر توشماتوف نے بتایا۔
توشماتوف کی تجویز ہے کہ صنفی مسائل سے متعلق تعلیمی اور تربیتی سیمیناروں میں مردوں کو بھی شرکت کرنی چاہیے۔ "مجھے خواتین سے متعلق اپنی غلط سوچ کا احساس 1997 میں ہوا جب میں نے صنفی امور سے متعلق پہلی بار ایک سیمینار میں شرکت کی"، انہوں نے کہا۔
توشماتوف نے بتایا کہ صنفی تربیت کے سیمینار سے متاثر ہو کر انہوں نے ختلون اوبلاست میں خواتین کی مدد کے لئے غم خوری کے نام سے ایک غیر سرکاری تنظیم قائم کر لی۔ انہوں نے خواتین کے لئے ایک بحران مرکز بھی قائم کیا۔ "اس مرکز کے بنیادی ڈھانچے کے تحت، ہم گھریلو تشدد کا شکار خواتین کو قانونی امداد کے علاوہ تشدد کے بعد نفسیاتی امداد فراہم کرتے ہیں"، انہوں نے بتایا اور مزید کہا کہ یہ مرکز سال میں 3,500 کے لگ بھگ خواتین کو امداد فراہم کرتا ہے۔
2007 میں مائرم نامی ادارے نے ختلون اوبلاست کے شہر کلیاب میں 240 خواتین کا سروے کیا۔ سروے سے پتا چلا کہ 55 فیصد خواتین کو اپنے شوہروں اور سسرالی رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
مخبوبہ شریپوفا کے مطابق، تقریباً 20 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ انہیں "الگ گھر نہ ہونے کی وجہ سے" گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ "اکثر نوجوان جوڑوں کو اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ اسی گھر میں رہنا پڑتا ہے"۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
جب خاتون صحافی فرنگیز سے روانہ ہوئی تو اس نے بچے کو ایک طرف دھکا دیا، گھر سے نکلی اور ٹیکسی پکڑ کر اپنے محبوب سے ملاقات کرنے رات کے شہر دوشنبہ چلی گئی۔
اس طرح کا سلوک کرنے والے شوہر کو یوم حساب خدا کو جواب دینا ہو گا۔ ہم میں سے کوئی بھی خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ ان مردوں کو اللہ سخت سزا دے گا۔ بدی کا صلہ بدی ہے اور خدا کی نظر میں لوگوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
"تاجکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ" مضمون کے حوالے سے میں کہنا چاہوں گی کہ بدقسمتی سے یہ صرف تاجکستان میں نہیں بلکہ تمام خطے میں موجود ہے۔ ہم یہ سنتے آئے ہیں کہ دنیا بھر میں تشدد کے خلاف جدوجہد کی جا رہی ہے لیکن نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک میں یہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ یہ اچھی بات ہے کہ آپ نے اس مسئلے کو کافی گہرائی میں جا کر اجاگر کیا ورنہ آج کل تو مختلف ملکوں کی صورت حال کے بارے میں معلومات حاصل کرنا کافی مشکل ہے۔ میں آپ کے کام میں خوش قسمتی کی متمنی ہوں اور ایک مستقل قاری کی حیثیت سے نئے مضامین کی منتظر ہوں۔ آپ کا بہت شکریہ، آداب، عینا
!!!!یہ ایک بہترین مضمون ہے۔ تمام مردوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے