طالبان کے راہ فرار اختیار کرنے کے دوران ہلمند کے باشندوں کی جانب سے فوجی کارروائی کا خیر مقدم

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی از سر نو عملداری کے لئے تیار ہیں

عبدالہادی حیران اور صادق امر خیل

2010-02-13

مرجا، صوبہ ہلمند، افغانستان ۔۔۔ صوبہ ہلمند میں طالبان کے زیر قبضہ ضلع ناد علی اور ضلع مرجا میں بے گھر ہونے والے افراد نے 13 فروری کو شروع ہونے والی ایک بڑی فوجی کارروائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد شورش پسندوں کو باہر نکال کر تعمیر نو کی سرگرمیوں کی راہ ہموار کرنا اور حکومتی عملداری کی بحالی ہے۔

اس کارروائی کا آغاز 13 فروری کو علی الصبح کیا گیا۔ اس سے قبل کئی ہفتوں تک اس کی تشہیر کی جاتی رہی جس میں پریس کانفرنسوں کا انعقاد اور عام شہریوں کی ہلاکت سے بچنے اور شورش پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کا ایک موقع دینے کی خاطر فضاء سے پرچیاں گرانا شامل تھا۔

اس کارروائی کے دوران 6,000 کے قریب فوجی دستوں، جن میں اکثریت افغان فوجیوں کی ہے، نے مرجا شہر پر حملہ کیا جو کہ تقریباً تین سال سے شدت پسندوں کے قبضے میں تھا۔

"آپریشن مشترک" یا دری زبان میں "مل جل کر" کے خفیہ نام سے ہونے والی اس کارروائی کا آغاز ہفتے کو علی الصبح ہوا اور یہ طالبان کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے مبینہ طور پر سب سے بڑی فوجی کارروائی ہے۔

اس کارروائی میں افغان فوجیوں اور پولیس کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ بین الاقوامی فوج کے دستے بھی حصہ لے رہے ہیں۔

ہلمند کے گورنر گلاب منگل نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ افغان اور بین الاقوامی فوج کے کل 15,000 اہلکار مرجا اور ناد علی کے اضلاع میں ہونے والی اس کارروائی میں شریک ہیں۔

افغان وزیر دفاع رحیم وردگ کا کہنا ہے کہ افغان قومی فوج (اے این اے) اور اتحادی افواج کو عسکریت پسند طالبان کی جانب سے بہت تھوڑی مزاحمت کا سامنا ہے۔ انہوں نے ہفتے کو رات گئے کابل میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ طالبان مقامی باشندوں کو انسانی ڈھالوں کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن افغان قومی فوج اور اتحادی افواج عام شہریوں کی ہلاکت سے بچنے کے لئے محتاط انداز میں کارروائی کر رہی ہیں۔

مرجا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ کارروائی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور انہوں نے طالبان کے دور کے حالات کو 'بھیانک' قرار دیا ہے۔

"تقریباً تین سال تک مرجا پر طالبان کا قبضہ رہا۔ اس دوران وہاں کوئی سڑک، کلینک، اسکول، ملازمت نہیں تھی، بلکہ کچھ بھی نہیں تھا۔ ہم انتہائی خوفناک حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔ ہمیں امید تھی کہ حکومت آ کر ہمیں نجات دلائے گی۔ اب ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گی"، مرجا کے ایک بے گھر باشندے حکمت اللہ نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو ٹیلی فون پر بتایا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دیہاتی باشندوں کو اس بات کی خوشی ہے کہ حکومت کارروائی کر رہی ہے کیونکہ شورش پسندوں کی سرگرمیوں کے باعث شہر کھنڈر بن چکا ہے۔

"ہم نے فوجی کارروائی کی درخواست کی تھی۔ ہم حکومت، فوج اور پولیس کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں جنگ نہیں بلکہ سڑکوں، کلینکوں، اسکولوں اور ملازمتوں کی ضرورت ہے"، حکمت اللہ نے مزید کہا۔

ماضی میں کی جانے والی فوجی کارروائیوں کے برعکس، افغان اور بین الاقوامی افواج اس بار ایک نئے منصوبے پر عمل پیرا ہیں جس میں علاقے کا شورش پسندوں سے صفایا کرنا، فوج کی مستقل بنیادوں پر تعیناتی اور تعمیر نو کے کاموں کا آغاز شامل ہیں۔

ہلمند کے گورنر منگل نے رواں ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ ایک بار علاقوں کو محفوظ بنانے کے بعد سرکاری نمائندے وہاں فوری طور پر منتقل ہو جائیں گے اور از سر نو حکومتی عملداری اور تعمیر نو کی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے پہلے تو فوجی کارروائی کو محض ایک "پراپیگنڈا جنگ" قرار دیا، لیکن بعد میں انہوں نے دعوٰی کیا کہ وہ اپنے مضبوط گڑھ کا دفاع کرنے کے لئے اپنے جنگجوؤں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ تاہم، افغان حکام کا کہنا ہے کہ اب تک انہیں بہت کم مزاحمت کا سامنا ہے۔

"ابھی تک کوئی قابل ذکر مزاحمت نہیں ہوئی"، صوبہ ہلمند کے گورنر کے ترجمان داؤد احمدی نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا۔ "ہماری فوج کو درپیش واحد مسئلہ وہ سینکڑوں بارودی سرنگیں ہیں جو شورش پسندوں نے سڑکوں اور شہر میں ہر جگہ نصب کر رکھی ہیں۔ ہم محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں"۔

مرجا ہی کے ایک بے گھر رہائشی، جو اس وقت صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ میں مقیم ہیں، نے اس بات کی تصدیق کی اور سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، "جب ہم گھروں سے بھاگ رہے تھے تو طالبان شہر میں ہر جگہ بارودی سرنگیں بچھا رہے تھے"۔ وہ انتقامی کارروائی کے خوف کے باعث اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ "ہم حکومت کی فوجی کارروائی کے آغاز سے قبل بے یارو مددگار اور مایوس تھے۔ ہمیں امید ہے کہ کارروائی جلد ہی پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گی اور اس کے بعد ہم اپنے گھروں کو لوٹ کر اپنے شہر کی تعمیر نو کا جائزہ لیں گے"۔

ان کے بقول بے گھر خاندانوں کی تعداد 500 تھی لیکن احمدی نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ کم از کم 550 خاندان بے گھر ہیں۔ "ہم بے گھر افراد کی مدد کر رہے ہیں؛ ان میں بنیادی اشیائے ضرورت تقسیم کی جا رہی ہیں،" انہوں نے مزید کہا۔ شہر کی آبادی 80,000 نفوس پر مشتمل ہے۔

احمدی نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ بہت سے اعلٰی سطحی کمانڈر اور شورش پسند علاقے سے پہلے ہی فرار ہو چکے ہیں۔ دیگر افغان حکام نے اطلاع دی ہے کہ ضلع ناد علی کے ایک عارضی گورنر کو پاکستان کے شہر کوئٹہ فرار ہونے کی کوشش کے دوران ملحقہ صوبے قندھار میں گرفتار کر لیا گیا۔ خیال ہے کہ طالبان کی قیادت کوئٹہ شہر میں روپوش ہے۔

احمدی نے بتایا کہ کارروائی کے آغاز کے چند گھنٹوں کے اندر پانچ شورش پسند مارے گئے اور آٹھ کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عام شہریوں کے تحفظ اور فوجی دستوں کو سڑکوں کے کنارے نصب بموں سے بچانے کی خاطر کارروائی سست روی سے جاری ہے۔

یہ کارروائی بظاہر ایک نئی کثیرالجہتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے جس کا مقصد پہلے طالبان کے زور کو توڑنا اور پھر انہیں مصالحت کی پشکش کرنا ہے۔ نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کئی ہفتوں تک یا غالباً آئندہ امن جرگے کے انعقاد تک جاری رہے گی۔ صدر کرزئی کے ترجمان وحید عمر کے مطابق، یہ امن جرگہ اپریل میں کابل میں منعقد ہو گا۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 8)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • میں اس پر مطمئن نہیں ہوں اور درج بالا معلومات پر مجھے رتی بھر یقین نہیں۔ یہ مذہب پسند افغانوں کے خلاف پراپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔ درحقیقت آپ لوگ افغانستان میں اپنی بھیانک اور بزدل فوج کی حمایت جاری رکھنے کے لئے اپنے بزدل لوگوں کے حوصلے بلند کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    April 7, 2010 @ 01:04:00AM
    shoaib iqbal
  • اس مضمون میں دیے گئے اعداد و شمار 100 فی صد درست نہیں ہیں لیکن مجموعی طور پر اس کی معلومات درست ہیں، لہٰذا یہ گہری تحقیق کی ایک شاندار کوشش ہے۔

    March 19, 2010 @ 11:03:00AM
    shahid
  • مجھے آپ کا نقطہ نظر پسند آیا

    February 16, 2010 @ 12:02:00AM
    asghar hussain shamsi