ازبکستان میں سوویت عہد کی یادگاریں تبدیل کرنے کا عمل

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکام ان یادگاروں کو تباہ کرنے کے ذریعے تاریخ کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں

طالب قربانوف

2010-02-05

تاشقند – 12 جنوری کو مسلح افواج کے عجائب گھر کے سامنے ایک نئی یادگار تعمیر کی گئی۔ اس میں ایک فوجی گھٹنوں کے بل جھک کر ازبکستان کے پرچم کو عقیدت سے چومتے ہوئے حلف اٹھا رہا ہے۔ پس منظر میں فوجی کے اوپر ایک علامتی ماں کا سایہ دکھائی دے رہا ہے۔

اس یادگار نے سوویت عہد میں نصب کی گئی سوویت فوجیوں کی ایک پرانی یادگار کی جگہ لی ہے جسے حکام نے گزشتہ سال ایک رات وہاں سے ہٹا دیا تھا۔

"ایک رات میں ڈرل مشین کی بھاری آوازوں سے اٹھ بیٹھا۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو وہاں (فوجی عظمت پارک میں) فوجیوں اور تعمیراتی کارکنوں کا ایک ہجوم دکھائی دیا"، ایک قریبی عمارت کے رہائشی نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا۔ "تقریباً ایک ہی رات میں انہوں نے مکمل فوجی یادگار کو ہٹا دیا"۔

تمام سابق سوویت ریاستوں میں سوویت عہد کی یادگاروں کو گرا دیا گیا ہے یا پھر انہیں منہدم کر دیا گیا ہے۔ ان میں نہ صرف لینن اور دیگر کمیونسٹ رہنماؤں کے یادگاری مجسموں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ جنگ عظیم دوم میں فسطائیت کے خلاف سوویت جدوجہد کی یادگاروں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اور اب سڑکوں کے ناموں اور سوویت اثر کی دیگر نشانیوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔

تاشقند میں جنگ عظیم دوم کی یادگار کو ہٹانے کے واقعے سے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو صدمہ پہنچا ہے۔

"اس جگہ ایک یادگار میں ایک فوجی اپنے ہاتھوں میں بندوق لیے کھڑا تھا ۔۔۔ اور آگے بڑھنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ ۔۔۔ اور اس کے بدلے ہمیں کیا ملا؟ ایک فوجی جس کا سر جھکا ہوا ہے۔ ۔۔۔ جب آپ یہ دیکھتے ہیں تو آپ کا دل ڈوب جاتا ہے"، انسانی حقوق کے ایک آزاد کارکن عبدو رخمان تاشانوف نے کہا۔ "ملک میں اس طرح کی بہت سی یادگاریں ہیں۔ ۔۔۔ (اور) جہاں بھی اس قسم کے یادگاری مجسمے ہیں، ان کے نزدیک ہمیشہ سنگ مرمر کی تختیاں نصب ہوتی ہیں جن پر یہ لازمی لکھا ہوتا ہے کہ کس نے یا کس کے حکم پر یہ یادگار وہاں کھڑی کی گئی تھی"۔

ایک سابق فوجی نے اس تبدیلی کو ازبک حکومت کی جانب سے سابق فوجیوں میں مایوسی پھیلانے کا اقدام قرار دیا۔

"عظیم محب وطن جنگ (جنگ عظیم دوم) نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا اور ازبک عوام بھی اس کا حصہ ہیں"، سابق جنگی فوجی جلول سلطانوف نے کہا۔ "آج آزادی دلانے والے فوجی کی یادگار کا انہدام ان سابق فوجیوں کے ذہنوں سے تاریخ کو مٹانے کی کوشش ہے جنہوں نے اس عظیم مادر وطن کی آزادی کے لئے جنگ میں حصہ لیا تھا۔ اب ہمیں کرایے کے فوجیوں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو کسی اور ملک کی خاطر لڑتے رہے"۔

روس کی وزارت خارجہ نے بھی اس اقدام پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ازبک وزارت خارجہ نے اس کے جواب میں کہا: "منہدم یادگار کی کوئی دانشوارانہ حیثیت نہیں ہے بلکہ یہ صرف ایک پرانی حکومت کے نظریے کی عکاسی کرتی ہے"۔

ازبک وزارت دفاع کے ایک نمائندے نے بتایا کہ نئی یادگار اس لحاظ سے اہم تھی "کیونکہ آزاد ملک کی قومی فوج کے قیام کی اٹھارویں سالگرہ کے موقع پر ۔۔۔ (اس) سے فوجیوں اور افسروں کے حوصلے بلند ہوں گے"۔

ایک اور تبدیلی ازبک مسلح افواج کے عجائب گھر کی حیثیت ہے۔ عجائب گھر کے مہتمم عبد ملک قدرتو خونوف نے بتایا کہ عجائب گھر اب اکیڈمی آف آرٹس کے زیر انتظام ہے جو اس میں آرٹ کے ایسے فن پارے آویزاں کرے گی جو نئے ازبکستان کی طاقت کی علامت ہیں۔

شابدر اکمانوف نے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں سے ازبکستان کی تاریخ تبدیل کرنے کی مہم انتہائی زور و شور سے جاری ہے۔

"سوویت عہد کے تمام دانشوروں کے نام پر رکھی گئی سڑکوں ۔۔۔ کے نام تبدیل کر کے غیر جانب دار رکھے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ سڑک جہاں نئی یادگار نصب کی گئی ہے اس کا نام شعبہ تعلیم سے وابستہ ایک مشہور شخصیت حبیب عبدل لائیف کے نام کی مناسبت سے رکھا گیا تھا۔ وہ ایک مشہور ارضیاتی ماہر تھے جنہوں نے ملک کی دھات سازی کی صنعت کے قیام میں ایک عظیم کردار ادا کیا تھا۔ اب اس سڑک کا نام تبدیل کر کے مرزو الوگ بیک رکھ دیا گیا ہے"، شابدر اکمانوف نے کہا۔

مغربی قازقستان ریاستی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے پروفیسر جرات اودا بائیف نے بتایا کہ اسی طرح ایستونیا، جارجیا اور یوکرائن میں بھی سوویت عہد کی یادگاروں کو ختم کیا جا رہا ہے۔

اودا بائیف نے عوامی دوستی یادگار کو منہدم کرنے کا واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یادگار شاہ مخمودوف خاندان کی تھی جنہوں نے عظیم محب وطن جنگ کے دوران 15 یتیم بچوں کو گود لیا تھا اور وہ ازبکوں کے رحم و کرم اور انسان دوستی کی علامت بن گئے تھے۔

"کاراکل پک خودمختار جمہوریہ کے شمال میں واقع نوکس شہر کے وسط میں کبھی کراکل پک اور روسی لڑکیوں کا ایک مجسمہ دونوں عوام کی دوستی کی علامت تھا۔ اس یادگار میں چند تبدیلیاں کی گئیں: روسی لڑکی کو اس میں سے ہٹا دیا گیا جبکہ کراکل پک لڑکی اپنی جگہ موجود رہی"، اودا بائیف نے کہا۔

انہوں نے بتایا کہ کسی زمانے میں قازقستان کے شہر اکسو میں سائبیریا کے فاتح یرماک کا ایک مجسمہ آویزاں تھا۔ 1993 میں قوم پرستوں نے اس کا بالائی حصہ توڑ ڈالا جس کے نتیجے میں حکام نے پوری یادگار کو منہدم کر دیا۔

"تاریخ اور ہر اس چیز کو تباہ کرنا جو ماضی کی حکومت کا حصہ تھی اور اس کی جگہ ایک نیا نظریہ مسلط کرنے کا عمل تمام سابق سوویت ریاستوں اور وسطی ایشیا میں عام ہوتا جا رہا ہے۔ ترکمان باشی نے بھی یہی کام کیا اور اب اسلام کریموف اور بردی مخمیدوف بھی اس پر عمل پیرا ہیں"۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 5)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • آپ نے یہ کیا بکواس لکھا ہے؟ ازبکستان کا یوکرائن اور جارجیا سے مقابلہ کرنا مضحکہ خیز بات ہے۔ ان ملکوں میں پائی جانے والی طوائف الملوکی کا ازبکستان کی پالیسیوں سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ ازبکستان سابق سوویت یونین کا واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ اقلیتیں آباد ہیں۔ ان تمام افراد کے درمیان امن و آشتی کی فضاء قائم ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ تاریخ کو از سر نو لکھا گیا ہے۔ ہر ریاست ایک نظریہ قائم کرنا چاہتی تھی جو کہ وقت کی ضرورت تھی۔ ہم کون سی تاریخ دوبارہ لکھنے کی بات کر رہے ہیں؟ ان کی جانب سے فوجی کی یادگار ہٹانے کا مقصد، غالباً، یہ تھا کہ حکام بالا کو اس سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ میری رائے دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔ لیکن میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ اپنے والدین کے ہمراہ گھومنے پھرنے یا سیر کی غرض سے ان پارکوں میں جانے والے چھوٹے بچے بندوق اٹھائے ایک شخص کو دیکھتے ہیں۔ کیا پتا ہمارے نظریہ سازوں کی اس وقت یہی سوچ ہو۔ اگر آپ تنقید کرتے ہیں تو از سر نو تاریخ لکھیے۔ جب تک انسانیت زندہ ہے کوئی بھی اس جنگ کو نہیں بھلا سکتا۔ گھنٹوں کے بل جھکا ہوا فوجی۔ یا اللہ، آپ کس قسم کے جھکے ہوئے سر کی بات کر رہے ہیں؟ گھٹنوں کے بل اپنی والدہ اور ریاست کے سامنے جھکا ہوا یہ فوجی وفاداری اور ہمیشہ مادر وطن اور خاندان کے دفاع کی اطاعت اور وفاداری کی علامت ہے۔ ہم ہمیشہ گھٹنوں کے بل جھک کر اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ لوگو، اپنی آنکھیں کھولو کیونکہ ہر وہ چیز جو آپ کی مرضی کے مطابق نہ ہو غلط نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ہر چیز کا کوئی مطلب ہوتا ہے۔ میں صرف عوامی دوستی کی یادگار کے معاملے پر آپ سے متفق ہوں لیکن اسے منہدم نہیں کیا گیا بلکہ اسے شہر کے داخلی راستے پر منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ مختلف علاقوں سے آنے والے تمام لوگ یہ دیکھ سکیں کہ ازبکستانی لوگ (ازبک نہیں) دوستانہ رویہ رکھنے والے مہربان لوگ ہیں۔

    February 22, 2010 @ 02:02:00PM
    Камила
  • بہت خوب ۔۔بہت اعلیٰ۔۔ویب سائٹ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وسط ایشیائی ریاستیں پاکستان سےتعلقات وروابط بڑھانےمیں کس قدرپرجوش اورعمل پسند ہیں۔زیرنظرمضمون سےآپ کےعلاقےکی سوچ،خٰیالات ونظریات جاننےکاموقع ملا۔۔۔

    February 7, 2010 @ 09:02:00AM
    محمد ناصر زیدی