لوئر دیر میں بم دھماکہ، سکول کی چار طالبات اور چھہ دیگر افراد ہلاک، 126 زخمی
زخمی ہونے والوں میں 70 طالب علم شامل ہیں
سٹاف رپورٹر
2010-02-03
لوئر دیر، پاکستان -- ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق، تین فروری کو لوئر دیر کی تحصیل بلام بٹ میں لڑکیوں کے ایک سکول کے نزدیک نصب کیے گئے بم کے پھٹنے سے کم از کم دس افراد، جن میں سکول کی چار طالبات بھی شامل ہیں، ہلاک ہو گئے جب کہ دیگر126 افراد زخمی ہو گئے۔
اے ایف پی نے لوئر دیر کے مرکزی شہر تیمرگرہ کے مقامی ہسپتال کے چیف فزیشن، محمد وکیل کے بیان کے حوالے سے بتایا " ہمارے پاس جاں بحق ہونے والے چار افراد کی لاشیں ہیں ، جو کہ دس سے پندرہ سال کی عمر کی سکول کی طالبات کی ہیں"۔
روزنامہ جنگ کے مطابق، زخمی والے 126 افراد میں70 طالبات بھی شامل ہیں، جنہیں پشاور، تیمرگرہ اور سوات کے ہسپتالوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ اخبار نے خبر دی ہے کہ ممکنہ طور پر اور بچے بھی اس دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
بہت سے خبری ذرائع کے مطابق، تحرک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
مقامی ٹیلی ویژن کی طرف سے بنائی جانے والی وڈیو میں سکول کی عمارت کو کافی قابل قدر نقصان پہنچا ہوا نظر آتا ہے جبکہ امدادی کارکن ملبے کو کھود رہے ہیں۔ ایک نیوز رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک نوجوان لڑکی منہدم ہو جانے والی دیوار کے نیچے دب گئی تھی۔
ہلاک ہونے والوں میں تین امریکی فوجی بھی شامل ہیں جو کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے پروگرام کے سلسلہ میں ایک دوسرے سکول تک سفر کر رہے تھے۔
ٹی ٹی پی ، لڑکیوں کی تعلیم کی مخالف ہے اور وہ اسے شریعت کی اپنی تشریح کے خلاف تصور کرتی ہے۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
sorry 2 say sir.k shariut to aik he haiaur us ki defination bhi aik he hai.but agar kirdar kashi he kerna chahtey tu alag bat hai.
میں ایم ایس سی معاشیات میں زیر تعلیم ہوں۔ جب کبھی میں بم دھماکے کے بارے میں سنتا ہوں تو میرا دل ڈوبنے لگتا ہے۔ یہ لوگ طلباء کو کیوں ہلاک کرتے ہیں؟ وہ چاہتے کیا ہیں آخر؟ وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔