کالعدم مذہبی تنظیموں کے حامیوں کی گرفتاریوں میں اضافہ

سرگرم اراکین کا کہنا ہے کہ نوکت مظاہروں کو کچلنے کے بعد سے صورت حال ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گئی ہے

علی شیر کریموف اور الان نذروف

2010-02-02

اوش ۔۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ کرغزستان میں حکومت اور مذہب پسندوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ انتہاپسندی کی طرف مائل اسلام پسند ایک خطرہ ہیں۔

"کرغزستان میں مذہب کے حوالے سے صورت حال انتہائی تباہ کن ہے اور اس کے لئے فوری طور پر مناسب اقدامات اٹھانے اور عوام کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے"، ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے نائب چیئرمین رستم ماما صادقوف نے اکتوبر 2009 میں کہا۔

حکومت اور اسلام کے پیروکاروں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا آغاز 2008 میں ہوا جب حکام نے نوکت میں رمضان کے اختتام پر عیدالفطر کا تہوار منانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر مشتعل مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ کی عمارت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد حکومت نے 30 سے زائد افراد کو گرفتار کر کے انہیں سزا سنائی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

حکام کی توجہ کا مرکز اب کالعدم تحریک حزب التحریر ہے جس پر نوکت مظاہرے اور اس قسم کی دیگر احتجاجی سرگرمیوں کو منظم کرنے کا الزام ہے۔

"کرغزستان میں سیاسی رنگ میں ڈھلنے والا اسلام ایک حقیقت ہے"، آزاد سیاسی تجزیہ کار مورات کازاکوف نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا۔ "حال ہی میں مسلمان برادری کا ملکی سیاست میں عمل دخل بڑھ گیا ہے اور اس کے باعث وہ حکام کی انتہائی توجہ کا مرکز بن گئی ہے"۔

کازکوف نے بتایا کہ اس سیاسی رنگ سے خوفزدہ ہو کر حکومت نے مذہبی تحریکوں کو ایذا رسانی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ لیکن اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اکتوبر 2009 میں، حکمران جماعت اک زہول کے ایک اجلاس میں رکن پارلیمان علی شیر صابروف نے کہا "حزب التحریر کے حامیوں کو جیل میں بند کرنا ایک خطرناک اقدام ہے کیونکہ قیدیوں کے ساتھ ان کے میل جول سے ہمیں ایک خطرناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس پر قابو پانا دشوار ہو جائے گا۔ بہت سی جیلوں میں پہلے ہی مساجد موجود ہیں۔ اور یقیناً یہی وجہ ہے کہ نظریاتی رجحان میں اہم اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے"۔

مذہبی امور کے ماہر قادر مالکوف نے کہا کہ حزب التحریر کو جیل کے قیدیوں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے لیکن ریکارڈ تلف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی درست تعداد معلوم نہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم اسپراویدلی ووست میں نسلی و مذہبی مسائل کے ایک ماہر عبدو مالک شریپوف نے کہا کہ جہاں تک اس کے اراکین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو جیل منتقل کرنے کا تعلق ہے تو "پولیس اور اسپیشل سروسز ۔۔۔ کو اس بات کا علم نہیں کہ (حزب التحریر ) کے حامیوں سے کیسے نمٹا جائے۔ ان کے نزدیک گرفتاری ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے"۔

شریپوف نے کہا کہ حکام آسانی سے حزب التحریر کے بیشتر حمایتیوں کی نشاندہی اور گرفتاری عمل میں لاسکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی وابستگی کو نہیں چھپاتے۔ پولیس اور سیکورٹی سروسز ان میں سے اکثر کو نام سے جانتی ہیں۔ کئی سال تک وسطی ایشیا میں اپنے پیشہ وارانہ امور سر انجام دینے والے ڈنمارک کے صحافی مائیکل اینڈرسن کا کہنا ہے کہ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ کرغزستان اور دیگر وسط ایشیائی ملکوں کے سیاسی رہنما اسلام کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور وہ اس بات کی نشاندہی نہیں کرسکتے کہ کون سا شخص انتہا پسند ہے اور کون سا اعتدال پسند، لہٰذا وہ تمام مذہبی پیروکاروں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہوئے ایذا رسانی کا نشانہ بناتے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک فلم میں انہوں نے بتایا کہ اس سے انتہاپسند اسلام کو فروغ ملتا ہے۔

لیکن حزب التحریر کے اراکین کا کہنا ہے کہ وہ امن کے لئے خطرہ نہیں ہیں۔

"ہم انتہا پسند نہیں ہیں۔ ہم نہ تو کسی کو قتل کرتے ہیں اور نہ ہی تشدد کے قائل ہیں۔ ہمارا بنیادی نکتہ پر امن تبدیلی ہے"، ایک اسلامی پیروکار باکت نے کہا۔

شریپوف اس سے متفق دکھائی دیتے ہیں۔ "حزب التحریر بنیادی طور پر دیگر تنظیموں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہ لڑنے کے پر تشدد طریقوں کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ اس کے اراکین ایک خلافت کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن پر امن ذرائع سے"، انہوں نے کہا۔

"یہ سچ ہے کہ بعض واقعات میں حزب التحریر کے اراکین کی گرفتاری کے دوران ان کے قبضے سے مذہبی مواد اور ہتھیار اور منشیات برآمد ہوئیں۔ لیکن حقیقت میں یہ لوگ ان سب چیزوں کے خلاف ہیں۔ پولیس انہیں معاشرے کے سخت دشمنوں اور انتہائی خطرناک دشمنوں کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ تلاشی کے دوران پولیس خود ہی یہ ہتھیار، گولیاں اور ہیروئن وہاں چھپا دیتی ہے تاکہ ان اراکین کو طویل عرصے تک جیل میں رکھنے کا جواز مل جائے جبکہ صرف انتہاپسند مواد اپنے پاس رکھنے کے جرم میں انتہائی تھوڑے عرصے کی سزا دی جا سکتی ہے"، انہوں نے پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا۔

وزارت داخلہ کی پریس سروس کے مطابق، 2009 میں پولیس نے مذہبی تحریکوں کے کارکنوں سے انتہاپسند نوعیت کے مذہبی مواد پر مشتمل مطبوعہ مواد کی تقریباً 14,000 نقول اور برقی ذرائع ابلاغ کے 2,000 سے زائد آلات قبضے میں لیے۔ علاوہ ازیں، انہوں نے 13 آتشیں ہتھیار، تین دستی بم اور 40 ڈیٹونیٹر برآمد کیے۔ وزارت نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ پولیس نے یہ ہتھیار کیسے برآمد کیے۔

ماسکو میں قائم آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کے ملکوں کے انسٹیٹیوٹ کی بشکیک شاخ کے ڈائریکٹر الیگزینڈر کنیازیف نے حزب التحریر کی مقبولیت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "کالعدم مذہبی تحریکوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا محرک معاشی صورت حال ہے۔"

کنیازیف نے کہا کہ غربت، بے روزگاری اور سماجی عدم تحفظ کے باعث لوگ حکومت سے متنفر ہوکر مذہبی پراپیگنڈا بازوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں جو انہیں بتاتے ہیں کہ صرف مذہب ہی انہیں حقیقی آزادی اور خوشحالی دے سکتا ہے۔

"لوگ جمہوریت اور آزاد منڈی پر مبنی معیشت جیسے تصورات سے مایوس ہو چکے ہیں"، جنوبی کرغزستان کے ایک گاؤں میں شاکر عطا نامی مسجد کے امام خطیب نے کہا۔ "اور اکثر وہ 'خالص مذہب' سے بھی بیزار ہو جاتے ہیں۔ حزب التحریر جماعت کے اراکین جو کچھ انہیں پیش کرتے ہیں اس سے نہ صرف مذہب بلکہ حکومت کو بھی نقصان پہنچتا ہے"۔

سیاسی تجزیہ کار مورات سیون بائیف نے کہا کہ معاشرے کے محروم طبقات میں حزب التحریر کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ اس کے حامی خلافت کی صورت میں سماجی انصاف کی ایک شکل پیش کرتے ہیں جو وہ وسطی ایشیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔

"اسلام دنیا میں سب سے زیادہ سماجی میلان رکھنے والا مذہب ہے۔ اس کے پیروکاروں میں سماجی ذمہ داری کا احساس بہت زیادہ ہے۔ نئے اراکین بھرتی کرتے وقت کالعدم مذہبی تنظیموں کے پراپیگنڈا بازوں کی توجہ عام طور پر ان نکات پر ہوتی ہے اور وہ سرکاری اسلام کے نمائندوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں"، سیون بائیف نے کہا۔

سیون بائیف نے کہا کہ کرغیز باشندوں میں مذہبی انتہاپسندوں کی پوزیشن اتنی مضبوط نہیں ہے۔

"کرغیز باشندے کبھی بھی مذہب کی جانب زیادہ مائل نہیں رہے۔ ان کے نزدیک، ثقافت میں اسلام کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا کہ موسیقی یا ادب کا ہو سکتا ہے۔ اسلامی سوچ کی نسبت کئی خداؤں پر اعتقاد رکھنے والا قدیم مذہب تنگریت کرغیز باشندوں کے لئے زیادہ قابل قبول ہے"، سیون بائیف نے کہا۔

حزب التحریر کے ایک رکن نے جماعت کی رکنیت کا کھلم کھلا اقرار کیا لیکن اپنا حقیقی نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ روس میں مقیم اور ملازمت کرنے والے اس رکن نے ٹیلی فون پر کیے جانے والے انٹرویو میں کہا "اگر یہ صرف میری ذات ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی! لیکن اب میرے بعض واقف کاروں کو محض اس لئے گرفتار کیا جا رہا ہے کہ وہ مجھے جانتے تھے اور اس سے یہ مراد ہے کہ، پولیس کے مطابق، وہ بھی حزب التحریر کے رکن ہیں"۔

شریپوف نے حکام کی جانب سے گرفتاری کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا۔

"یوں لگتا ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ کی آڑ میں ان لوگوں کو بھی گرفتار کرلیا جاتا ہے جن کا زیر زمین تنظیموں سے دور دور تک واسطہ نہیں۔ ان کی گرفتاری کا سبب حکام کی جانب سے ان کے لئے ناپسندیدگی اور [حکام کے خیال میں] انہیں تنہا کرنے کی ضرورت ہے"، شریپوف نے کہا۔ "یہ دنیا کے سامنے انتہاپسند مذہبی تنظیموں کا خطرہ ظاہر کرنے کا ۔۔۔ بھی ایک طریقہ ہے اور انہیں کنٹرول کرنے کا جواز بھی ہے، جس کے لئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روا رکھی جاتی ہیں"، انہوں نے کہا۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 0)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا حزب التحریر کے پیروکاروں اور حکام کے آپس میں روابط موجود ہیں یا ان کے خیال میں مکالمے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔

    February 4, 2010 @ 04:02:00AM
    Эркин Асроров