تاجکستان میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ

شہری اس اضافے پر شاکی ہیں جبکہ ماہرین کے درمیان توانائی کے نرخوں کی حکمت عملی کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں

رخشونہ ابراگیموفا

2010-01-30

دوشنبہ، تاجکستان – تاجکستان میں یکم جنوری سے بجلی کے نرخوں میں 20 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ قدر اضافی ٹیکس کے بعد، بجلی کی قیمت 0.09 سوم (0.02 امریکی ڈالر) فی کلو واٹ گھنٹہ ہو گئی ہے۔ اس سے قبل، یہ نرخ 0.075 سوم (0.017 امریکی ڈالر) فی کلو واٹ گھنٹہ تھا۔

دوشنبہ کے 76 سالہ گرگک مرزوئیف کو نرخوں میں اضافے کی اطلاع شہر میں بجلی کمپنی کے میٹر چیک کرنے والے اہلکار سے ملی۔

"میرے تقریباً 40 سوم (9 امریکی ڈالر) خرچ ہو گئے۔ یہ اخراجات 17 دسمبر کو نیا میٹر نصب کرنے کے بعد بڑھے ہیں۔ یہ میٹر انتہائی تیز چلتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ میرے گھر میں تو ریفریجریٹر تک نہیں ہے، باقی آسائش زندگی کا تو تذکرہ ہی چھوڑیں۔ مجھے لگتا ہے کہ نئے نرخوں کے باعث غالباً میری پوری پینشن ہی بجلی کے بلوں کی ادائیگی پر صرف ہو جائے گی"، مرزوئیف نے کہا۔

مرزوئیف تنہا رہتے ہیں۔ انہیں کل 77 سوم (17 ڈالر 60 سینٹ) پینشن ملتی ہے جس میں سے 60 سوم کم از کم پینشن ہے جبکہ 17 سوم اضافی ملتے ہیں۔ اپنی پینشن وصول کرنے کے بعد ان کا پہلا کام بجلی کے بل کی ادائیگی ہوتا ہے۔

"میں 1994 سے پینشن وصول کر رہا ہوں۔ اس وقت انہوں نے میری کل پینشن 24,000 بیکار روبل طے کی تھی"، انہوں نے اس زمانے میں رائج کرنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو اپنی قدر کھو چکی تھی۔ "چاہے آپ نے ایک دن کام کیا ہو یا پھر 40 سال ملازمت کرتے رہے ہوں، پینشن کی رقم سب کے لئے یکساں تھی۔ اب نئی کرنسی میں منتقلی کے بعد، مجھے بہت تھوڑی رقم ملتی ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ میں نے 45 سال تک معاون طبی عملے کی حیثیت سے ملازمت کی ہے۔ میں تو پہاڑی علاقوں میں بھی جا کر مریضوں کا علاج کرتا تھا"۔

تاجکستان کی سرکاری ملکیتی توانائی کمپنی برقی توچک کے سربراہ انجنئیر راشد گلوف نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ "اس وقت، بجلی کی کھپت پر رقم کی وصولی 80 سے 85 فیصد (حقیقی استعمال کی) تک ہے اور کاروباری اداروں کے معاملے میں یہ 95 فیصد کے قریب ہے۔

مستقل نادہندگان میں زیادہ تر صاحب ثروت لوگ شامل ہیں۔

"بنیادی طور پر، جو لوگ درحقیقت سب سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں وہی اس کی ادائیگی نہیں کرتے۔ ایک دو منزلہ گھر کو حرارت پہنچانے یا ایک بڑے سوئمنگ پول کو گرم کرنے کے لئے آپ کو اتنی بجلی درکار ہوتی ہے جو ایک پورے شہری بلاک کے لئے کافی ہے۔ لیکن غریب لوگ اس کی فوراً ہی پوری ادائیگی کرنے کی کوشش کرتے ہیں"، ماہر اقتصادیات خوجی مخمد عمروف نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا۔

تاجکستان میں بجلی کے بل گھر گھر جا کر وصول کیے جاتے ہیں۔

"ادائیگی وصول کرنے کے اس انتہائی فرسودہ طریقے کے باعث بڑے پیمانے پر رقوم واجب الادا رہتی ہیں۔ میٹر چیک کرنے والا اہلکار کسی صاحب ثروت شخص کے گھر جاتا ہے، وہاں سے رشوت وصول کرتا ہے اور میٹر چیک کرنا بھی گوارا نہیں کرتا لیکن وہی اہلکار کسی غریب شخص کو ایک اضافی سوئچ (رکھنے) پر بھی جرمانہ کر دے گا"، عمروف نے الزام لگاتے ہوئے کہا۔

چھ ماہ بعد بجلی کے نرخوں میں دوبارہ اضافہ متوقع ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک (ڈبلیو بی) نے سفارش کی ہے کہ برقی توچک کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے کافی محصول کی فراہمی اور سرکاری مراعات کو ختم کرنے کے لئے تاجکستان میں بجلی کے نرخ 0.13 سوم (0.03 امریکی ڈالر) کر دیے جائیں۔

"میں نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی سفارشات کی روشنی میں ملک میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ ۔۔۔ (ان) کے خیال میں نرخوں میں اضافے سے توانائی کی صنعت سرمایہ کاروں کے لئے زیادہ باعث کشش ہوگی۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، کوئی بھی یہاں سرمایہ کاری کے لئے بے تاب نہیں ہے"، عمروف نے کہا۔

ان کی رائے میں تاجکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے اس وقت زیادہ دلچسپی کا باعث ہو گا اگر نرخ کم رکھے جائیں، خاص طور پر صنعتوں کے شعبے میں۔ گلوف نے کہا کہ برقی توچک خود انحصاری کے قریب پہنچ چکی ہے۔ "رواں سال جون میں، اس بات کا غالب امکان ہے کہ آئندہ اضافے کے بعد ملک میں اوسط نرخ 13 درہم ہو جائیں گے۔ اس وقت تک برقی توچک خود انحصاری کی منزل حاصل کر چکی ہو گی"، گلوف نے کہا۔

عمروف کے لئے ایک باعث نزاع نکتہ صنعت، خاص طور پر ملک میں بجلی کی انتہائی زیادہ کھپت والی تاجک المونیم کمپنی (TALCO)، اور آب پاشی کے مقصد کے لئے پانی کھینچنے والے اسٹیشنوں سے وصول کیے جانے والے نرخ ہیں۔

تاجک المونیم کمپنی میں بجلی کی روزانہ کھپت 2 کروڑ کلو واٹ گھنٹے ہے۔ یکم جنوری کو المونیم کمپنی کے لئے بجلی کے نرخ 0.0515 سوم سے بڑھ کر 0.082 سوم (0.018 امریکی ڈالر) فی کلو واٹ گھنٹہ ہو گئے۔ پانی کھینچنے والے اسٹیشنوں کے نرخ 0.0364 سوم سے بڑھا کر 0.057 سوم (0.013 امریکی ڈالر) کر دیے گئے۔ دیگر صنعتی و غیر صنعتی صارفین کے لئے بجلی کی لاگت 0.1368 سوم سے بڑھا کر 0.213 سوم (0.048 امریکی ڈالر) فی کلو واٹ گھنٹہ کر دی گئی۔

"تاجک المونیم کمپنی کا تاجکستان کی معیشت کی ترقی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ 35 فیصد اوسط ٹیکس بوجھ کے ساتھ، کمپنی کو سرکاری خزانے میں تقریباً 35 کروڑ امریکی ڈالر جمع کرانے چاہئیں لیکن اس کی بجائے وہ محض 6 سے 7 کروڑ ڈالر ادا کرتی ہے۔ بقیہ رقم ملک سے باہر چلی جاتی ہے"، عمروف نے کہا۔

"وہ پہلے ہی ہم سے روگن پن بجلی گھر کی تعمیر کے لئے رقم اکٹھی کر چکے ہیں۔ اب سونے پر سہاگہ نرخوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے"، 40 سالہ گل بخور تارابوفا نے انتہائی برہمی سے کہا۔ "میرا خیال ہے کہ ہمارے حکام حدود کے احترام کی صلاحیت سے عاری ہوتے جا رہے ہیں۔ اور میرے تخمینے کے مطابق، ہمیں اب روگن کی تعمیر کے لئے 60 کروڑ ڈالر کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم دو ٹربائنوں کی خریداری کے لئے ناگزیر ہے لیکن ٹربائنیں تو آئندہ پانچ یا دس سال تک بھی نصب نہیں کی جائیں گی۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ عوام کی رقم دوسرے منصوبوں پر خرچ کر دی جائے گی"، عمروف نے کہا۔ انہوں نے دیگر منصوبوں کی وضاحت نہیں کی۔

بجلی کے استعمال میں کمی لانے کی کوشش میں، تاجکستان نے گزشتہ سال اگست میں عام بلبوں کی درآمد روک دی اور بعد میں ان کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔

"توانائی کی بچت والے بلب یا انرجی سیور استعمال کرنے کے بعد لوگوں کے (بجلی کے) بلوں کی ادائیگی پہلے کی نسبت کم ہو گئی ہے"، گلوف نے کہا۔

ان کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ چھ ماہ کے دوران ملک میں 81 لاکھ انرجی سیور بلب تقسیم کیے گئے جس کے باعث بجلی کی روزانہ کھپت میں 52 لاکھ کلو واٹ گھنٹے کمی واقع ہوئی۔ ان کے بقول، یہ سنگچودن پن بجلی گھر نمبر 1 میں بجلی کی یومیہ پیداوار کے مساوی ہے۔

لیکن تارابوفا اور مرزوئیف کا اس بارے میں مختلف نقطہ نظر ہے۔

"بازار میں انرجی سیور بلب کی قیمت 40 تا 45 سوم (9 سے 10 امریکی ڈالر) ہے لیکن عام بلب صرف 2 سوم (0.40 امریکی ڈالر) میں دستیاب ہے۔ (نئے بلب) مسلسل فیوز ہوتے رہتے ہیں۔ یہ کس قسم کی بچت ہے؟"، تارابوفا نے سوال کیا۔

"وہ ایک غریب اور تنہا رہنے والے عمر رسیدہ شخص کو تین بلب دے گئے۔ وہ پہلے ہی اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ میں نے اپنے پیسوں سے پرانے بلبوں کو تبدیل کیا"، مرزوئیف نے کہا۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 1)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • سب کو علم ہے کہ امراء کے لئے بجلی تقریباً مفت ہے جبکہ کسی غریب پینشنر خاتون کو میٹر باہر نصب نہ کرنے پر جرمانہ کرنا عام سی بات ہے۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ 60 سوم کی قلیل پینشن میں کوئی شخص میٹر گھر سے باہر کیسے نصب کرا سکتا ہے؟ اگر کوئی اسے چوری کر لے یا توڑ دے تو پھر کیا ہوگا؟ یقیناً اس کا بوجھ بھی صارف کے کندھوں پر پڑے گا۔ میٹر چیک کرنے والے اس تنہا بزرگ عورت کے پاس آتے ہیں اور ایسا سلوک کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے کسی مافیا رہنما کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہو۔ وہ رشوت طلب کرتے ہیں اور جارحانہ انداز میں اس پر بجلی چوری کا الزام لگاتے ہیں حالانکہ انہیں پہلے اس کا ثبوت دینا چاہیے۔ وہ میٹر میں نقائص تلاش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ درست انداز میں کام نہیں کر رہا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بزرگ افراد کی صحت اچھی نہیں ہوتی مگر میٹر چیک کرنے والوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ لوگوں سے اس طرح کا سلوک کریں چاہے وہ کتنی ہی عمر کے کیوں نہ ہوں۔ انسانی یا اسلامی قوانین کے تحت بھی اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ توانائی کی بچت والے یہ بلب توانائی کی بچت کا مذاق ہیں۔ اگر مجھے ہر ہفتے ایک نیا انرجی سیور بلب خریدنا پڑے تو اس کی بجائے میں ایک عام بلب خرید کر بجلی کے فرق کی قیمت ادا کرنا پسند کروں گا۔ اور میں آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ رات کو جا کر دیکھیں کہ توانائی کے شعبے کے اعلٰی حکام کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ رات کے وقت جب اندھیرا ہوتا ہے اور کسی کے ہاں بجلی نہیں ہوتی تو وہ نہ صرف گھر میں بلکہ صحن، باڑے اور بیت الخلاء میں بھی روشنیاں جلا کر عوام کا تمسخر اڑا رہے ہوتے ہیں۔ کیا بجلی کی پابندی کااطلاق صرف عام لوگوں پر ہوتا ہے۔

    January 28, 2011 @ 04:01:00AM
    фируза