ایران کا وسطی ایشیا سے جوہری مواد کے حصول کا امکان نہ ہونے کے برابر

بین الاقوامی اور مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاگو ضوابط یورینیم کو محفوظ رکھیں گے

اسٹاف رپورٹ

2010-01-08

الماتی ۔ گزشتہ ہفتے ان اطلاعات کے منظر عام پر آنے کے بعد کہ ایران اپنے ختم ہوتے ہوئے یورینیم ذخائر کی کمی کو پورا کرنے کے لئے وسطی ایشیا سے رابطہ کرسکتا ہے، عالمی برادری میں یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ جوہری طاقت بننے کا خواہش مند کوئی ملک کتنی آسانی سے جوہری مواد حاصل کرسکتا ہے۔

لیکن بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں معاہدوں کی موجودگی، مغرب سے تعلقات قائم رکھنے پر انحصار اور نگرانی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث ایران کے لئے جوہری سلامتی کے حکام کی نظر میں آئے بغیر، سر عام یا خفیہ، معاہدہ کرنا انتہائی دشوار ہوگا۔

30 دسمبر کو ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے خبر دی تھی کہ یورینیم دھات میں کمی کی وجہ سے ایران کے جوہری پروگرام میں پیشرفت سست ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں ایرانی حکام قازقستان سے 1,350 ٹن تیار یورینیم رازداری سے خریدنے کے لئے اس کے بعض "عناصر" سے خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں۔

ایران اور گزشتہ سال دنیا میں سب سے زیادہ یورینیم پیدا کرنے والے ملک قازقستان نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ایک نامعلوم رکن ملک کی انٹیلیجنس رپورٹ پر مبنی ان اطلاعات کی فوری طور پر تردید کی۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر مونٹیرے میں قائم عدم پھیلاؤ کے مطالعاتی مرکز کی ایک تحقیق کار گوخر مخت زہانوفا نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی قانون ایران اور وسطی ایشیا کے درمیان کسی قسم کے معاہدے کی راہ میں مزاحم ہے۔ "درحقیقت، ایران اس موقع پر کسی بھی وسط ایشیائی ملک سے رجوع نہیں کر سکتا۔ وسطی ایشیائی جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقے (CANWFZ) کے معاہدے کی شرائط کی رو سے، اس کا کوئی بھی رکن ملک، یعنی وسطی ایشیا کے تمام پانچوں ملک، کسی بھی ایسے ملک کو جوہری مواد برآمد نہیں کرسکتے جس پر اضافی پروٹوکول (جوہری سلامتی کو بہتر بنانے کے لئے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے جاری کردہ) کا اطلاق نہ ہوتا ہو۔ ایران نے دسمبر 2003 میں اضافی پروٹوکول پر دستخط کیے تھے لیکن اس نے ابھی تک اس کی توثیق نہیں کی ہے، لہٰذا وہ جوہری مواد کی فراہمی کے لئے وسطی ایشیائی جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقے کے معاہدے کی شرائط پر پورا نہیں اترتا"، انہوں نے ایک ای میل میں سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں وسط ایشیائی امور کے ایک نامور سیاسی ماہر شامل ینیکیف نے زہانوفا کی بات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کے ساتھ قازقستان کا معاہدہ علاقے میں قازقستان کی خارجہ پالیسی کے لئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے۔

"1991 میں سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے بعد سے قازقستان کی قیادت اپنے ہمسائیوں (بشمول روس، چین، بحیرہ کیسپیئن اور وسط ایشیائی ممالک) اور اہم بیرونی طاقتوں کے ساتھ ہمیشہ سے ایک محتاط خارجہ پالیسی پر کاربند رہی ہے"، انہوں نے کہا۔

ینیکیف نے مزید کہا کہ اس کے نہ صرف علاقائی مضمرات ہوں گے بلکہ علاقائی اور عالمی طاقتیں بننے کی تگ و دو کرنے والے ایران اور قازقستان پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

"قازقستان اور ایران کے درمیان یورینیم کا معاہدہ نہ صرف ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا بلکہ 2010 میں یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کے صدر کی حیثیت سے قازقستان کی ساکھ کو بھی متاثر کرے گا"، انہوں نے کہا۔

یونیورسٹی آف جارجیا میں قائم مرکز برائے بین الاقوامی تجارت و سلامتی میں ایک سینئر تحقیق کار کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینے والی توغزن کاسینوفا نے بھی اس سے اتفاق کیا۔

"اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجوہات دکھائی نہیں دیتیں کہ قازقستان کبھی بھی ایران یا کسی اور ملک کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بارے میں غور کرے گا جس سے بین الاقوامی جوہری عدم پھیلاؤ کی اقدار اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوتی ہو"، انہوں نے کہا۔ "قازقستان کا جوہری عدم پھیلاؤ پر ایک قابل تحسین ریکارڈ رہا ہے۔ سوویت یونین کی تحلیل کے وقت قازقستان نے اپنی سرزمین پر موجود ایک ہزار سے زائد جوہری ہتھیار ختم کر دیے تھے"۔

کاسینوفا نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے کا قازقستان کی اقتصادی صورت حال پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ قازقستان نے 2009 میں 14,000 ٹن یورینیم پیدا کیا تھا جس کے باعث وہ دنیا میں سب سے زیادہ یورینیم پیدا کرنے والا ملک بن گیا تھا۔ ایران کے ساتھ کسی قسم کے خفیہ معاہدے کی صورت میں اس کی دنیا میں سب سے زیادہ یورینیم پیدا کرنے والے ملک کی صلاحیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

"اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ قازقستان کی حکومت یا یورینیم پیدا کرنے والی سرکاری کمپنی قاز ایٹم پروم کی انتظامیہ کوئی ایسا معاہدہ کرے جس سے ملک کی سیاسی یا تجارتی ساکھ کو نقصان پہنچے"، انہوں نے کہا۔

مخت زہانوفا نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ان ضوابط کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے "اگر ہم قانونی طور پر تکمیل شدہ آزاد معاہدوں کی بات کریں"، لیکن ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یورینیم کی اسمگلنگ بھی قابل عمل نہیں ہوگی۔

"ذاتی طور پر میرا یہ خیال ہے کہ کسی ایک عہدیدار کی جانب سے 'بے ایمانی' کافی نہیں ہے، اس عمل میں مختلف عناصر اور مراحل ملوث ہیں جس میں کان سے لے کر اس کو تیار کرنے والے مقام تک لے جانا اور پھر اس کی نقل و حمل اور کسٹم سے گزارنا شامل ہیں"، انہوں نے کہا۔

اگرچہ قازقستان کے پاس سوویت عہد کے افزودہ یورینیم کی کافی زیادہ مقدار موجود ہے لیکن اس مواد کو اتنا زیادہ خطرناک تصور کیا گیا ہے کہ اس کی سلامتی کا درجہ بڑھا کر اس میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی بھی شامل کر دی گئی ہے۔

مخت زہانوفا نے کہا کہ قدرتی یورینیم کی کانوں کے حفاظتی اقدامات اتنے زیادہ سخت نہیں ہیں لیکن اتنے زیادہ خام یورینیم کی ضرورت پڑے گی کہ اس کی اسمگلنگ کے لئے بھی کافی زیادہ لوگ درکار ہوں گے جس پر حکومت یا غیر ملکی حکام کا تشویش میں مبتلا ہوجانا لازمی امر ہے۔

"سرکاری اداروں یا حکام کی مدد کے بغیر کسی فرد یا چھوٹے گروپ کے لئے یورینیم کی اتنی بڑی مقدار کو اسمگل کرنا کافی دشوار ہوگا جس سے فرق پڑسکے"، انہوں نے کہا۔ "میرا خیال ہے کہ اس کی چکانے والی سیاسی قیمت اور قازقستان کو حاصل ہونے والے برآمدی کنٹرول کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اس کی فروخت کی اجازت نہیں دے گی۔ میں امید کرتی ہوں کہ قاز ایٹم پروم اور وزارت توانائی میں کام کرنے والے لوگ ان معاملات میں ماہر ہیں"۔

کاسینوفا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی قسم کے خفیہ معاہدے یا جوہری مواد کو رازداری سے لے جانے کا کوئی امکان نہیں۔

"یہ تجویز کہ مبینہ معاہدے پر مذاکرات "سرکاری سطح" سے ہٹ کر کیے گئے کچھ غیر مصدقہ سی بات لگتی ہے کیونکہ معاملہ ایک ٹن سے زائد تیار یورینیم دھات کا ہے، یہ کوئی عام سی اجناس کے سودے کی بات نہیں ہو رہی"، انہوں نے کہا۔

لیکن ایران کی جانب سے یورینیم کے حصول کے لئے صرف قازقستان پر ہی ڈورے نہیں ڈالے جا رہے۔ سینٹرل ایشیا آن لائن نے اپنی 4 جنوری کی خبر میں بتایا تھا کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی جانب سے، سوویت یونین کے جوہری ہتھیاروں اور جوہری طاقت کے پروگراموں کے اہم وسیلے، تاجکستان کے دورے نے بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا ایران اس سلسلے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے مدد طلب کرسکتا ہے۔

رحمان ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی حمایت کا اعادہ کرتے رہے ہیں۔

لیکن مخت زہانوفا کا کہنا تھا کہ تاجکستان کے یورینیم کے تمام ذخائر ختم ہوچکے ہیں حالانکہ رحمان نے اپنی 2008 کی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ان کے ملک کے پاس اب بھی دنیا کے ذخائر کا 13 فیصد حصہ موجود ہے۔

"تاجکستان کے پاس یورینیم کے اپنے ذخائر موجود نہیں ہیں اور درآمد شدہ یورینیم سے جوہری ایندھن تیار کرنے والی کمبائن (ووستوک ریدمت) اب زیادہ تر قیمتی دھاتوں کی تیاری پر مرکوز ہے"، انہوں نے کہا۔

جوہری عدم پھیلاؤ پر کام کرنے والے جوہری خطرے کا منصوبہ نامی ایک تھنک ٹینک کے مطابق، سوویت یونین کے لئے سالانہ دس لاکھ ٹن یورینیم تیار کرنے والی ووستوک ریدمت اب یورینیم کی صرف تھوڑی سی مقدار تیار کرتی ہے۔ خطرے کا منصوبہ نامی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1990 کے اختتامی سالوں اور 2000 کے اوائل میں کئی چینی اور روسی کمپنیوں نے کمبائن سے یورینیم تیار کرنے کے معاہدوں پر تبادلہ خیال کیا تھا لیکن ابھی تک ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 3)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے