اہلیان سوات کی طرف سے مہمانوں کے لیے محفل موسیقی کا انعقاد

رقص و موسیقی کی محفل امن کی واپسی کی نشانی ہے

حسن خان

2010-07-17

سوات -- یہ محض ایک محفل موسیقی سے کہیں بڑی تقریب تھی۔

انتیس جون سے اٹھارہ جولائی تک "جشن سوات: امن میلہ" کی تقریبات کے دوران گیت اور رقص کے کئی مظاہروں میں سے ایک کے منتظم ضیاء الدین یوسف زئی نے کہا کہ آج سوات کے عوام جبر و استبداد کی قوتوں کے خلاف اپنی فتح کا اعلان کرتے ہیں۔

مرغزار میں برطانوی عہد کے سفید محل ہوٹل میں منعقدہ محفل موسیقی میں اسلامی عسکریت پسندوں پر سوات کی فتح کا جشن منایا گیا اور اس بات کو ثابت کر دکھایا گیا کہ سیاحوں کی وادی میں اب امن کا دور دورہ ہے۔ ان تقریبات کا اہتمام اہلیان سوات اور مقامی تاجروں نے فوج اور مقامی حکومت کے تعاون سے سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے کیا تھا۔

یوسف زئی نے کہا کہ سوات کے عوام ان افراد کی معیت میں اپنی فتح کی خوشی منا رہے ہیں جنہوں نے فوج کی جانب سے درندوں کے خلاف کارروائی کے آغاز کے بعد اپنا گھر بار چھوڑ جانے والے افراد کی مدد کی تھی۔

یہ ضیافت ان لوگوں کے اعزاز میں تھی جنہوں نے حالات انتہائی تنگ ہونے پر اپنی جنت نظیر وادی سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لئے اپنے گھروں اور دلوں کے دروازے وا کر دیے تھے۔

حتٰی کہ حاضرین میں انتہائی شرمیلے افراد بھی مسرت میں رقص کرنے سے خود کو نہ روک سکے۔ تقریب میں موجود افراد نے بلند آواز میں طبلہ (جسے پشتو میں دپڑے کہا جاتا ہے) کے ہمراہ گیت شروع کرنے والے محبوب مقامی گلوکار سردار یوسف زئی کا دیر تک تالیوں سے پرجوش استقبال کیا۔

حسین مناظر پر مشتمل وادی مرغزار میں مقبول اور زیادہ تر قومی دھنوں پر مشتمل موسیقی کی فضاء میں عوام اور فطرت کے امتزاج نے ایک سحر باندھ دیا جو کہ موسیقی اور رقص کو اسلام میں حرام قرار دینے والے عسکریت پسندوں کے موت اور تاریکی کے ایک طویل دور کے بعد ایک تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا تھا۔

کھلی فضاء میں موسیقی کی رات ان بہت سے لوگوں کے لئے ناقابل یقین تھی جنہیں شورش پسندوں کے عہد دہشت کے دوران ہر جگہ موت کا راج اب بھی یاد ہے۔

شیخ نجیب احمد نے کہا کہ یقین نہیں آتا کہ سوات کے عوام فضل اللہ کی زیر قیادت مجرموں کے ٹولے کی جانب سے قتل عام اور غارت گری کے واقعات کو اتنی آسانی سے اور جلد بھلا چکے ہیں۔

اسلام آباد کے ایف ایم 99 ریڈیو اسٹیشن کے مالک اور منتظم شیخ نجیب کو بے گھر افراد کی حالت زار اجاگر کرنے والی اپنے اسٹیشن کی نشریات کے اعتراف میں اس محفل میں شرکت کا خصوصی دعوت نامہ بھجوایا گیا تھا۔

تقریب میں نزدیکی اضلاع کے بہت سے خاندان اور افراد موجود تھے جنہوں نے ایک سال قبل فوج کی کارروائی کے دوران سوات کے بے گھر افراد کو بلامعاوضہ رہائش فراہم کی تھی۔

مردان کے ضلعی ناظم حمایت اللہ میار نے بتایا کہ رات کی اس محفل نے میرے ذہن میں پرانے اچھے دنوں کی یاد تازہ کر دی ہے جب ہم موسم گرما میں سوات آیا کرتے تھے۔

حمایت اللہ میار رات کی اس تقریب میں مردان کے عوام کی نمائندگی کرنے والے خصوصی مہمان تھے۔ ضلع مردان کے عوام نے بے گھر افراد کی سب سے بڑی تعداد کو طویل عرصے تک پناہ دی تھی۔

میار نے کہا کہ حاضرین میں مرد و خواتین کی شرکت سے عسکریت پسندی کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کے بلند حوصلوں کا اظہار ہوتا ہے۔

میار نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ جشن سوات کی تقریبات میں شریک افراد کی تعداد سے پتا چلتا ہے کہ وادی میں امن لوٹ آیا ہے۔ آج سوات اپنی پہلے والی حالت میں واپس آ گیا ہے۔

پشاور میں مقیم ایک سینئر صحافی شمیم شاہد نے بتایا کہ وادی کا امن غارت کرنے اور اپنی حکومت قائم کرنے کا خواب دیکھنے والوں کا آج کہیں نام و نشان نہیں۔

عسکریت پسندی کا شکار قریبی ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے شمیم شاہد نے شورش پسندوں کے پورے دور میں سر نہ جھکایا اور وہ موت کی دھمکیاں موصول ہونے کے باوجود کئی ماہ تک عسکریت پسندوں کی مذمت کرتے رہے۔

مقامی لوک گلوکار وارا خان کے ایک مکمل گیت پر رقص کرنے کے بعد اگلی نشستوں کی قطار میں بیٹھے ہوئے شمیم شاہد نے بتایا کہ مجھے یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہو رہی ہے کہ لوگ کھلی فضاء میں ناچ گا رہے ہیں۔

حاضرین میں موجود قوم پرستوں نے ایک اور مقامی گلوگار امجد شہزاد کے زیادہ سیکولر گیتوں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

امجد نے اپنا ذاتی قصہ بیان کر کے حاضرین کو اداس کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کی آمد سے قبل نسبتاً خوشگوار دنوں میں جب وہ گیت کی ریہرسل کرتے تھے تو ان کا دو سالہ بیٹا ان کی نقل میں گانے کی کوشش کرتا تھا۔

امجد نے رندھی ہوئی آواز میں بتایا کہ اب میرے بیٹے نے ریہرسل کے دوران میری نقل اتارنا چھوڑ دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا توپ کے گولوں اور فائرنگ کی آوازوں سے ڈر جاتا تھا جو کہ وادی میں روزمرہ کی زندگی کا معمول بن چکی تھیں۔

سب سے شاندار منظر رات گئے گروپ کی شکل میں اتنڑ رقص کا تھا۔

بختیار خٹک نے جونہی جانے پہچانے گیت کے بول شروع کیے تو تقریب میں موجود تقریباً تمام لوگ اتنڑ رقص میں شریک ہو گئے۔

اتنڑ پشتونوں کا قومی رقص ہے اور کسی بھی پشتون محفل موسیقی کا لازمی جزو ہوتا ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 8)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • اچھی رپورٹ ہے۔

    March 2, 2011 @ 06:03:00AM
    niaz
  • مجھے واقعی خوشی ہے کہ سوات کے عوام بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ کاش میں ان کے خوبصورت چہروں پر مسرت کی کرنیں دیکھنے کے لئے وہاں خود موجود ہوتا! میری سب سے بڑی خواہش سوات کی خوبصورت وادی کو دیکھنا ہے۔ ان دہشت گردوں نے میرے خوبصورت ملک افغانستان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم اس دن کے منتظر ہیں جب پورے ملک میں امن ہو گا اور کوئی افغان بچہ بھی اسکول جانے سے نہیں ڈرے گا۔ میں اپنے پیارے ملک افغانستان میں مزید خوشیاں اور امن کی فضاء دیکھنے کا متمنی ہوں۔ ہم انسان ہیں اور انسانوں سے پیار کرتے ہیں۔ حافظ اللہ کوہستانی، گاؤں کپیسا، افغانستان۔

    October 2, 2010 @ 12:10:00AM
    حفیظ الله