پشتون عسکریت پسندی کا مقابلہ فنون لطیفہ سے کر رہے ہیں

پشتون ثقافتی ورثے کا تحفظ ناگزیر ہے

ضیاء الرحمٰن

2010-07-03

پشاور - پاکستان کے پشتون علاقوں میں فن اور ثقافت کی سرگرمیاں عسکریت پسندی اور بنیاد پرستی کے خاتمے میں مدد دے سکتی ہیں۔ یہ بات گزشتہ ہفتے پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں منعقدہ ایک ثقافتی تقریب میں ماہرین فن نے کہی۔

یہ تقریب باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام فنون، ہنر، لوک ریت اور فنون لطیفہ کے ایک چھ ہفتے کے تربیتی پروگرام کے اختتام پر منعقد کی گئی تھی۔ اس پروگرام میں صوبہ خیبر پختونخواہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے طلباء نے شرکت کی۔

باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اور تقریب کے منتظم خادم حسین نے بتایا کہ طالبان اور القاعدہ کے دہشت گرد پشتون معاشرے کے سماجی و ثقافتی اداروں کو الگ تھلگ کرنے اور انہیں اپنے زیر اثر لانے اور تباہ کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور انہوں نے پہلے ہی ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جسے انہوں نے اپنے نظریاتی اور تزویراتی نظام کے ذریعے بھرنے کی کوشش کی۔

خادم نے بتایا کہ اس تربیت کا اہتمام باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ایک منصوبے بعنوان "پختونخواہ میں فنون، ہنر اور ورثے کا فروغ، تحفظ اور بقاء" کے تحت کیا گیا تھا جو ان علاقوں میں نوجوانوں پر مرکوز ہے۔ اس پروگرام میں فن کاروں، شعراء، سازندوں، مصنفین، ثقافتی آرٹس کونسلوں کے اراکین اور باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اسکولوں کے طلباء و اساتذہ نے شرکت کی۔

اسلام آباد کے ہنرکدہ کالج برائے بصری فنون و فنون لطیفہ کے ڈائریکٹر اور ایک پشتون اداکار اور منصوبے کے تکنیکی مشیر جمال شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پشتون علاقوں کی ثقافت، فنون اور ورثے کے فروغ اور تحفظ کی آج سے پہلے کبھی اتنی ضرورت نہیں تھی۔

جمال شاہ نے بتایا کہ ہنرکدہ منتخب سرگرم نمائندوں کو نہ صرف بصری فنون، ہنر، فنون لطیفہ، لوک ریت اور دیگر ثقافتی پہلوؤں کی تربیت فراہم کرتا ہے بلکہ وہ باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو ثقافتی تقریبات کے انعقاد اور فن کاروں، ہنرمند افراد اور دستکاروں کے ساتھ روابط قائم کرنے میں بھی مدد دے گا۔

خادم نے بتایا کہ پشتون باشندوں کو خطے میں گزشتہ تین دہائیوں سے جاری عسکریت پسندی کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فنون اور ثقافت کے خلاف مستقل انتہاپسندی اور معاندانہ رویوں نے ایک خلا پیدا کر دیا ہے جسے انتہاپسند قوتوں، خونریزی اور عرب اثر و رسوخ کی غیر ملکی بیہودہ ثقافتی مداخلتوں نے پاٹنے کی کوشش کی ہے۔

خادم نے بتایا کہ ثقافت برائے سماجی تبدیلی پروگرام کو طالبان کے خلاف ایک نرم مگر مضبوط ہتھیار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون سرزمین ایک دلکش ثقافتی ورثے سے مالامال ہے جس کی اہمیت اور مخفی صلاحیتوں پر فیصلہ سازوں نے کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر برائے کھیل و ثقافت سید عاقل شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخواہ میں آباد پشتون باشندوں نے بدھ مت اور اسلامی اقدار کو اپنے پشتون رسوم و رواج کے ساتھ انتہائی ہم آہنگی سے ملا لیا اور محبت، امن اور رواداری پر مبنی معاشرہ قائم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے پروگراموں کی مدد کے ذریعے موجودہ حکومت صوبے میں ثقافتی اور فنی سرگرمیوں کو عسکریت پسندی کے خلاف ہتھیار کے طور پر فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

تقریب میں گلوکاری کا مظاہرہ کرنے والے ایک صحافی اور گلوکار امجد شہزاد نے کہا کہ طالبان نے پشتون معاشرے کی آزاد خیال ثقافتی روایات کو زک پہنچائی۔

شہزاد نے کہا کہ موسیقی پشتون معاشرے کا جزو لاینفک ہے جہاں موسیقی اور ادب کا ایک زرخیز ورثہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند فن کے اظہار کے دروازے بند کرتے ہوئے ایک ایسا ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں انتہاپسندی پروان چڑھے۔

انہوں نے 2009 کی فوجی کارروائی میں بے دخل ہونے سے قبل طالبان کے ہاتھوں بدترین زیادتیوں کی جانب توجہ دلائی۔

انہوں نے کہا کہ موسیقی پر طالبان کی یلغار کے بعد سینکڑوں گلوکار، موسیقار، شعراء اور رقاص صوبے سے نقل مکانی کر گئے۔ شہزاد نے بتایا کہ 2008 میں ایک نوجوان گلوکار سردار یوسف زئی قاتلانہ حملے میں بچ گئے لیکن ان کے ساتھی انور خان جانبر نہ ہو سکے۔ اسی طرح 2009 میں گلوکارہ شبانہ کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا اور ان کی سی ڈیز کے ہمراہ ان کی لاش کو سڑک پر پھینک دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے پرتشدد واقعات کے نتیجے میں بہت سے فن کار نقل مکانی کر گئے یا اپنے فنون کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

شہزاد نے بتایا کہ 2006 کے بعد سے صوبے میں موسیقی کی سینکڑوں دکانوں پر بم حملے کیے گئے اور طالبان کے زیر اثر علاقوں میں دکانداروں کو صرف طالبان کے جہادی پراپیگنڈے کی سی ڈیز فروخت کرنے کی اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں متحدہ مجلس عمل کی سابق حکومت نے موسیقی کی تقریبات پر پابندی اور صوبائی دارالحکومت پشاور کے واحد ثقافتی مرکز نشتر ہال کی بندش کے ذریعے پشتو موسیقی کو پہلا دھچکا پہنچایا۔ اس پابندی کے نتیجے میں پشتون گلوکار ملک کے دیگر علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

تقریب کا اختتام ایک محفل موسیقی پر ہوا جس میں خیبر پختونخواہ کے نوجوان موسیقاروں نے حاضرین پر سحر طاری کر دیا۔

ضلع صوابی کے ایک نوجوان علاقائی سرگرم کارکن گوہر ننگیال نے بھی اس پروگرام میں تربیت حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتون علاقوں میں اس طرح کی ثقافتی اور فنی سرگرمیوں کا انعقاد وقت کا تقاضا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے خصوصاً وادی سوات میں ملک کے بدھ مت ورثے کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آثار قدیمہ کے لئے یہ بدترین وقت تھا۔

طالبان نے دو مواقع پر اپنے افغان بھائیوں کی پیروی کرنے کی کوشش کی جنہوں نے 2001 میں بامیان میں ساتویں صدی کے بدھا مجسموں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا تھا۔ شورش پسند اپنی کوششوں میں ناکام رہے لیکن انہوں نے وادی سوات میں بدھا کی شبیہہ والی کندہ کاریوں پر مشتمل ایک چٹان کو تباہ کر دیا جس کی زائرین صدیوں سے زیارت کرتے آئے ہیں۔

ننگیال نے اس بات کو تسلیم کیا کہ شورش پسند پشتون معاشرے کے ثقافتی اداروں پر حملوں کے ذریعے اسے عرب رنگ میں رنگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کے عروج سے قبل کسی نے بھی موسیقی کی دکانوں اور موسیقاروں پر حملوں کے بارے میں نہیں سنا تھا۔

انہوں نے اپنے فنی علم کو اپنے علاقے میں پھیلانے کا تہیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوانوں کو بنیاد پرستی کے چنگل سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 11)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • جمال شاہ ہمیشہ عوام اور قوم کی خاطر سخت محنت کرتے ہیں۔ وہ خود بھی خوبصورت ہیں اور ان کا ذہن بھی۔

    August 10, 2010 @ 02:08:00AM
    Anonymous
  • یہ سچ ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں نے پختون سرزمین کے تاریخی مقامات کو تہس نہس کر دیا اور یوں پختون تاریخ کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے دنیا کے سامنے پشتونوں کا عسکریت پسند روپ پیش کرنے کی کوشش کی۔ جب میں نے یہ مضمون پڑھا تو طالبان عسکریت پسندوں کے عہد کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ میرا خیال ہے کہ مذکورہ بالا جدوجہد علاقے میں امن کے دوبارہ استحکام کے لئے کافی اہمیت رکھتی ہے۔

    July 5, 2010 @ 03:07:00AM
    Zuhra
  • ضیاء صاحب۔ خطے میں تشدد اور جنگ روکنے کے لئے یہ واقعی بہت اچھی کاوش ہے۔ میں آپ کی کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

    July 4, 2010 @ 05:07:00PM
    Nadeem Khan
  • محترم ضیاء، بہت اچھا مضمون ہے۔ جمال شاہ اور باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔

    July 4, 2010 @ 08:07:00AM
    Hassan Buneri