قازقستان کے فلمی میلے سے امید افزا توقعات

ہالی وڈ کے ستاروں کی آستانہ آمد

جمیلہ کریموفا

2010-06-29

آستانہ ۔۔ آستانہ کے پہلے بین الاقوامی ایکشن فلم میلے میں تیمور بیک ممبیتوف، مائیک ٹائیسن، مکی رورکی، ڈولف لنڈگرین، ہلیری سوانک اور شارلٹو کوپلے ایک ساتھ آئے ہیں۔

دنیا کے نامور ستارے، فلمی شائقین اور صحافی آستانہ میں فلموں کی نمائش میں حصہ لیں گے اور اپنے شاہکار پیش کریں گے۔ ان میں سے اکثر کا یہ قازقستان کا پہلا سفر ہے۔

نئی فلمیں دیکھنے کے لئے آنے والی 26 سالہ ایلویرا قاسموفا نے بتایا کہ ہر چیز اسی طرح ہے جس طرح کی ٹی وی پر ہالی ووڈ کی فلموں میں دکھائی دیتی ہے، حتٰی کہ سرخ قالین بھی ویسا ہی ہے۔ قاسموفا نے بتایا کہ وہ بیک ممبیتوف کے ساتھ تصویر بنوانے کی امید رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممبیتوف ہمارا سرمایہ افتخار ہیں۔ وہ بہت اچھی فلمیں بناتے ہیں۔

یہ میلہ 27 جون سے یکم جولائی تک جاری رہے گا اور یہ 6 جولائی کو یوم آستانہ کی تقریبات کے آغاز کی مناسبت سے ہے۔

ستاروں میں سب سے پہلے آنے والے باکسر مائیک ٹائیسن تھے جو 2008 میں اپنی زندگی پر بنی ہوئی فلم "ٹائیسن" لائے ہیں۔ یہ فلم ان کی مشترکہ کاوش ہے۔ فلم ٹائیسن 29 جون کو رات گئے دکھائی جائے گی۔ ان کے ساتھی لنڈگرین فلم "کمانڈ پرفارمنس" لائے ہیں جس کی ہدایت کاری کے فرائض انہوں نے خود سرانجام دیے ہیں۔

اٹھائیس جون کو باضابطہ افتتاح سے ایک دن قبل آستانہ کے میئر ایمان گلی تسما گمبیتوف نے ستاروں کو بورووو ریزرو میں مدعو کیا۔ وہاں ان کی ملاقات سفید رنگ کے خیمہ نما گھروں یورت میں رہائش پذیر قازق باشندوں سے کرائی گئی اور انہوں نے روایتی ہتھیاروں کا مظاہرہ دیکھا۔ ٹائیسن نے ایک تلوار اٹھا کر چند جنگی آوازیں نکالیں۔

تہوار کا آخری دن نوجوان فلم سازوں کی فلموں کی نمائش پر وقف ہو گا۔

بیک ممبیتوف نے بتایا کہ یہاں فلموں کا مقابلہ نہیں ہو گا۔ چار دن کے دوران ایجنٹ، پیش کار اور سرمایہ کار نوجوان مصنفین کے ساتھ کام کریں گے۔ وہ نئی فلموں کے لئے ان کے خیالات اور تصورات کو منتخب کرنے کا آغاز کریں گے۔ ہم اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تاکہ ناظرین آئندہ سال وہ فلمیں دیکھ سکیں جو یہاں سے آئی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم میلے کے دوران فلمیں بنانے کے منصوبوں پر گول میز مذاکرہ منعقد کریں گے۔ آج کل سینما میں نئی تصویریں تیار کرنے میں مددگار کمپیوٹر گرافکس کا کردار بہت اہم ہو گیا ہے۔ گزشتہ سال بننے والی فلم 'اوتار' کی مسلسل کامیابی نے سینما کے مستقبل اور اس کے لئے اپنائی جانے والی سمت کا تعین کر دیا ہے۔

میلے میں فیچر دورانیے کی تقریباً 20 فلمیں دکھائی جائیں گی۔ ان فلموں میں جرمنی کی فلم "میکس شمیلنگ" (جس کی دنیا بھر میں نمائش ہوئی)؛ چین کی فلم "ٹرو لیجنڈ"؛ روسی فلم "کلوز انیمی"؛ برطانوی فلم "مونسٹرز"؛ اور امریکا کی فلمیں "دی ٹوائیلائٹ ساگا: ایکلپس"، "ڈیسپیکیبل می" اور "دی کراٹے کڈ" شامل ہیں۔

فلمی میلے کے منتظمین قازقستان کی فلمی صنعت کو ترقی دینے کے لئے اس تہوار کو ہر سال سالانہ بنیادوں پر اور مختلف شہروں میں منانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ولیم مورس ایجنسی کے ایک فلمی پیش کار مائیک سمپسن نے بیک ممبیتوف کے ساتھ مل کر اس میلے کا تصور پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں بہت سے لوگوں کو قازقستان کا علم نہیں اور ہم اس میلے کے ذریعے کرہ ارض کے باسیوں کو اس شاندار ملک سے روشناس کرانا چاہتے ہیں۔ عالمی سینما کی توجہ قازقستان کے دارالحکومت کی جانب مبذول کرانے کا یہ ایک اچھا بہانہ ہے کیونکہ ترقی پذیر دنیا میں ملکوں کو ایک دوسرے کو جاننے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے نوجوان فلمی ہدایت کاروں کو مشورہ دیا کہ اپنی فلمیں یو ٹیوب پر اپ لوڈ کریں جہاں لوگ انہیں دیکھ سکیں گے۔

میلے کا آغاز مائیکل ہیفسٹرام کے تاریخی ڈرامے "شنگھائی" سے ہوا۔

تہوار میں شرکت کرنے والی آئیجان گدزہیئیفا نے بتایا کہ میلے میں سب چیزوں کی طرح فلم بھی بہت شاندار ہے۔ کینز اور میلان جیسے فلمی میلوں کا ماحول محسوس کر کے بہت اچھا لگ رہا ہے کیونکہ ہم ان سے متعلق صرف رسالوں میں ہی پڑھا کرتے تھے۔

بیک ممبیتوف کی پیش گوئی ہے کہ یہ میلہ ایک روایت بن جائے گا اور قازقستان کے مخفی جوہر دنیا کے سامنے آشکار کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم چیز سچی لگن ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 21)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • یہ اچھا ہے۔

    December 16, 2011 @ 03:12:06AM
    annasxhan
  • مجھے یاد ہے کہ میں نے ٹائی سن کو دیکھا تھا۔ وہ ایک سخت جان شخص ہیں۔ میلہ بہت پرشکوہ تھا تاہم مجھے اس حیثیت کے عالمی ستاروں کو آستانہ میں دیکھ کر حیرت ہوئی۔

    July 10, 2010 @ 03:07:00PM
    Цыган