یونیسکو کی فہرست میں ماناس کی رزمیہ نظم کو چین کی ملکیت قرار دینے پر کرغزستان کا احتجاج

بیجنگ کا دعوٰی ہے کہ اس نے اپنے کرغیز نژاد شہریوں کے توسط سے شمولیت کی درخواست دی تھی

میری بیکی شیفا

2010-02-20

بشکیک ۔۔۔ کرغزستان نے چین کی جانب سے کرغیز ثقافتی ورثے کی چوری پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے قائم کردہ یونیسکو کی بین الحکومتی کمیٹی کے اکتوبر 2009 کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے ادارے نے ماناس کی رزمیہ نظم کو عوامی جمہوریہ چین کے توسط سے غیر مادی ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کر لیا۔

اس رزمیہ نظم کی تاریخ کا اندازہ نہیں ہے۔ حکومت کرغزستان نے 1995 میں اس نظم کی ملکیت کا دعوٰی کرتے ہوئے اس کی 1,000ویں سالگرہ منائی تھی لیکن پہلی بار یہ متن 1792 یا 1793 میں ایک فارسی مسودے میں ملا تھا۔ اس کی درجنوں شکلیں موجود ہیں جن میں سے سب سے طویل 500,000 مصرعوں پر مشتمل ہے۔

یونیسکو کی ویب سائیٹ پر نظم کے اندراج کے بارے میں کہا گیا ہے کہ "چین کے مغرب میں صوبہ ژنگ ژیانگ میں آباد کرغیز نژاد اقلیت ماناس کے ہیرو کا جانشین ہونے پر فخر کرتی ہے"۔

یونیسکو کے اس فیصلے پر کرغیز حکام اور نظم پڑھنے والوں (مناسچی سے موسوم) نے بیک زبان احتجاج کیا ہے کیونکہ کرغزستان میں اسے کرغیز قومیت کی ایک نشانی کے طور پر فروغ دیا جاتا رہا ہے۔ اس نظم میں کیتے اور کالمک کی جانب سے ماناس اور اس کے جانشینوں کے استحصال کی روداد تاریخ وار درج ہے۔

"جب ہم نے یونیسکو کی ویب سائیٹ پر یہ پڑھا کہ ماناس کو چین کی تین رزمیہ نظموں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے تو ہمیں سخت صدمہ پہنچا"، یونیسکو امور پر کرغزستان کے قومی کمیشن کے سابق چیئرمین جائیپر جیک شیئیف نے کہا۔ "نہ تو چین کے یونیسکو کمیشن اور نہ ہی چین میں رہنے والے کرغیز باشندوں نے ہمیں اس کے بارے میں آگاہ کیا"۔

"ہم کرغزستان کے توسط سے ۔۔۔ اس میں فوری اصلاح کی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں"، ایک غیر سرکاری تنظیم آئتیش نے ایک تحریری اپیل میں کہا۔ کرغزستان کی جانب سے غم و غصے کے اظہار کے جواب میں چین کا ردعمل دھیما ہے۔ بشکیک میں چینی سفارت خانے نے سینٹرل ایشیا آن لائن کے استفسارات کا بھی جواب نہیں دیا۔ چین کے یونیسکو مشن میں تعینات ایک نمائندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ چین نے اس رزمیہ نظم کی نامزدگی مغربی چین میں آباد 160,000 کرغیز نژاد باشندوں کے توسط سے کی۔

کرغزستان میں ایسے بیانات تمسخر کا باعث بن رہے ہیں اور بشکیک کے نقطہ نظر سے اس معاملے کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ یونیسکو نے کرغزستان کو رواں سال جون تک یہ ثابت کرنے کی مہلت دی ہے کہ یہ رزمیہ نظم اس کی ملکیت ہے۔

"آج اگر ماناس کی رزمیہ نظم کو چینی تہذیب کا اثاثہ تصور کر لیا جاتا ہے تو پھر کون جانے کہ آئندہ سو یا ہزار سال میں کیا ہو گا"؟ سیاسی تجزیہ کار تورات آکیموف نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین "تبت کی اقدار اور مقدس مقامات" پر قبضہ کر چکا ہے اور چنگیز خان کو "ایک عظیم چینی شہنشاہ" قرار دیتا ہے۔

آکیموف نے کہا کہ ماناس کی رزمیہ نظم کو چین کی ملکیت قرار دینے سے یونیسکو کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1995 میں نظم کی ہزار سالہ تقریبات میں یونیسکو حکام نے بھی شرکت کی تھی۔ یونیسکو نے 2003 میں مناسچی کے داستان گوئی کے فن کو کرغزستان کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

سیاسی محقق جرجال بیک کاسا بولوتوف نے چین کے رویے کی دو وجوہات بیان کی ہیں: پہلی یہ کہ وہ خود کو اقلیتی ثقافتوں کے نگہبان کے طور پر پیش کر رہا ہے اور دوسری یہ کہ وہ کرغیز عوام کی ثقافتی املاک کا دستاویزی قبضہ چاہتا ہے۔

"کل، ترکی بھی ماناس کی رزمیہ نظم پر دعوٰی کر دے گا کیونکہ وہاں بھی کرغیز باشندے رہتے ہیں"، بشکیک میں کرغیز ترکی ماناس یونیورسٹی کے استاد باکت اورن بیکوف نے خبردار کرتے ہوئے کہا۔ "کرغیز باشندے افغانستان اور روس میں بھی رہائش پذیر ہیں اور وہ ایک مشترکہ نامزدگی کی درخواست دے سکتے ہیں۔ ۔۔۔ ماناس کی رزمیہ نظم کو صرف کرغزستان اور دنیا بھر میں آباد کرغیز باشندوں کی ملکیت ہونا چاہیے"۔

لیکن جیک شیئیف نے کرغزستان کی جانب سے یونیسکو کے خیالات کو تبدیل کرنے کے معاملے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ "چین ایسا ملک ہے جو کوئی چیز آسانی سے نہیں چھوڑتا"، انہوں نے کہا۔ "پیرس میں، یونیسکو کی ہر کمیٹی میں چینی نمائندے موجود ہیں۔

جبکہ کرغزستان کے پاس ایک بھی نشست نہیں ہے"۔ ایک مناسچی نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

"ماناس کی رزمیہ نظم نے اپنے ٹوٹے اور بکھرے ہوئے لوگوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا اور عوام کے بڑے دشمن چینیوں کو شکست سے دوچار کیا"، داستان گوئی کے فن میں بہت سے مقابلے جیتنے والے سمات کوچور بائیف نے کہا۔ "صرف کرغیز باشندے ہی ماناس کی روح اور تصور کو سمجھ سکتے ہیں۔ اب مجھے خدشہ ہے کہ چینی ماناس کی رزمیہ نظم کے بارے میں کارٹون اور فلمیں بنانا شروع کر دیں گے"۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 11)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • خانوں کی نظر نہ صرف جدید کرغزستان بلکہ اینیسائے، یرخیت، بیکول، قازائل زار اور پورے شیبر پر نظر ہے۔ مناس پڑھیں ۔۔ اصل کہانی اسی میں ہے۔ کرغزوں کے لیے خان خطرناک دشمن ہیں۔ آپ زنگوری، یوغور، تبتی، منچورین وغیرہ کو جانتے ہیں۔ روسیوں کو ہوشیار رہنے اور اپنی امیگریشن پالیسی خانوں کے لیے حوالے سے سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایسا بم ہیں جو پھٹنے کے قریب ہو۔

    August 24, 2011 @ 06:08:00AM
    Темирбек Усупов
  • دنیا بھر میں انتہائی معتبر تصور کیا جانے والا ادارہ یونیسکو کس طرح ماناس کی رزمیہ نظم کو بلا سوچے سمجھے چین کے حوالے کر سکتا ہے؟ بمطابق ضرورت، اس چیز کی تحقیق اور تصدیق ہونی چاہیے۔ یہ کوئی گیت یا کوئی اور تخلیقی فن پارہ نہیں بلکہ کرغیز عوام کی تاریخ، ثقافتی اثاثہ اور روح ہے۔ اس اقدام کے ذریعے یونیسکو نے اس شعبے میں اپنی نااہلی کا اظہار کیا ہے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ اس سے یونیسکو پر بدعنوانی کا شبہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ چین ہمیشہ ہی دوسروں کے خیالات اور تاریخ کو چوری کرتا آیا ہے۔

    May 25, 2011 @ 08:05:00AM
    Aidana
  • میں کرغزستان میں رہا ہوں اور مجھے علم ہےکہ ماناس کی رزمیہ نظم کرغیز عوام کے لئے کیا اہمیت رکھتی ہے۔ چین بہت سی چیزوں پر دعویدار ہے۔ میں ایک بشکیر باشندہ ہوں اور ہمارے ہاں بھی یورال باتر نامی ایک رزمیہ داستان ہے اور کسی میں ہمت نہیں کہ وہ ہم سے چھین سکے۔ کیا وہ کھلے عام آپ سے چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں؟

    December 21, 2010 @ 09:12:00AM
    Артур
  • ماناس صرف کرغزستان اور کرغیز افراد کی ملکیت ہے۔ چین اور کوئی دوسرا ملک ہماری شناخت اور نظریہ نہیں چھین سکتا۔ میں چین کے اس دعوے کی شدید مخالفت کرتا ہوں کہ یہ رزمیہ نظم اس کی ملکیت ہے۔ ان کا اس پر کوئی حق اور ملکیت نہیں ہے۔ مجھے اس کی قطعی پروا نہیں کہ یونیسکو کی اس پر کیا رائے ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سب اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ ماناس ایک عظیم رزمیہ داستان ہے جس میں کرغیز اور وسطی ایشیا کے دیگر افراد کی عکاسی کی گئی ہے۔ مجھے کرغزستان کا باشندہ ہونے اور اس ملک میں رہنے پر فخر ہے اور میں اپنے عوام کے مستقبل کی بہتری کے لئے لڑوں گا۔

    November 26, 2010 @ 05:11:00AM
    Aman
  • ماناس کی رزمیہ کہانی ہیرو کی کارا خیتائس کے خلاف جنگ کے گرد گھومتی ہے۔ کرغیز عوام چینی لوگوں کو خیتائی کہتے ہیں لیکن کارا خیتائی دراصل منگولوں کی نسل ہیں جو جرچنوں (مانچو خاندان کے آباؤ اجداد) کی جانب سے اپنی سلطنت کے اندرونی منگولیا میں انضمام کے بعد آج کل کے کرغزستان میں آ بسے تھے۔

    June 17, 2010 @ 02:06:00PM
    Truehistory
  • ہم کر بھی کیا سکتے ہیں؟ کیا اس سلسلے میں کسی عرضداشت پر دستخط کرائے جا رہے ہیں؟ کیا ہمیں کسی کو ٹیلی فون کرنا چاہیے؟ ہم کیا کر رہے ہیں؟ میں ایک کرغیز ہوں اور اچھی طرح جانتا ہوں کہ چینی میرے عوام سے ماناس چھین کر مطمئن ہیں۔ میں سنجیدہ ہوں اور کسی بھی سطح تک لڑنے کے لئے تیار ہوں جب تک یہ ہمیں واپس نہیں مل جاتی۔

    April 16, 2010 @ 08:04:00AM
    Asel
  • ہم ماناس کے بغیر زندہ کیسے ہیں۔ کرغزستان کے لوگو، اب تو جاگ جاؤ! سونا چھوڑ دو۔ خواب غفلت میں پڑے ہوئے رہنماؤں کی وجہ سے ہم اپنے بیش قیمت اثاثوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اکائیف نے ماناس کی نصف چوٹی فروخت کر دی تھی اور اب رزمیہ نظم بکائیف کے ضمیر پر بوجھ بن گئی ہے۔ ماناس کے بغیر ہم کرغیز باشندے نہیں کہلا سکتے اور نہ ہی ایک قوم کے طور پر وجود برقرار رکھ سکتے ہیں! ہمارے دشمنوں نے ہمیشہ ہمیں جسمانی لحاظ سے ختم کر دیا لیکن ہماری روح کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ چین ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اور ہماری روح کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ ہمیں اپنے قازق اور ازبک بھائیوں سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ وہ جانتے ہیں کہ ماناس کی کرغیز باشندوں اور کرغزستان کے لئے کیا اہمیت ہے۔ اور بالآخر روس بھی ہماری حمایت کر سکتا ہے کیونکہ ماناس کی طباعت روس میں ہوئی تھی۔ کرغیز قوم ہمیشہ ماناس کے ساتھ زندہ رہی ہے اور رہے گی۔ ماناس کی روح ہماری مدد کرے گی!

    March 14, 2010 @ 01:03:00AM
    bakytbay
  • ماناس کے بغیر کرغیز باشندوں کا وجود ادھورا ہے، ہم ایک قوم کی حیثیت سے محروم ہو تے جا رہے ہیں، آخر حکام اس بات کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ اس مسئلے کو سرکاری سطح پر حل کرنا چاہیے۔ اگر حکام دیگر معاملات کے باعث اس پر توجہ دینے کے قابل نہیں تو عوام کو اس میں مداخلت کرنی چاہیے۔ ہم ماناس کے جانشین ہیں اور ہمیں مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    March 5, 2010 @ 01:03:00AM
    Anonymous
  • یہ ایک معلوماتی اور وقتی تقاضوں کو پورا کرنے والا مضمون ہے۔ میں اسے بہترین قرار دیتا ہوں۔ اس معاملے پر لکھنا ضروری ہے تاکہ ہر کسی کو اس بارے میں پتا چلے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ چین کے توسط سے تین رزمیہ نظموں ماناس، گیسیریادا اور جانگر کو یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ جانگر کالمک باشندوں کی رزمیہ نظم ہے۔ وہ بھی اس پر صدائے احتجاج بلند کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ روس کا حصہ ہیں اور انہیں اس طرح کا موقع حاصل نہیں جو کرغزستان کو ہے۔ مجھے امید ہے کہ چین کے اثر و رسوخ اور طاقت کے باوجود یونیسکو کا فیصلہ منصفانہ ہو گا۔ یہ ایک طرح سے ان کے ضمیر کا پیمانہ ہو گا۔

    February 24, 2010 @ 11:02:00PM
    Марат
  • یہ ایک انتہائی معلوماتی اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ مضمون ہے۔ یہ چین کی جغرافیائی سیاست پر مبنی پالیسی کا حصہ ہے۔ کیا کرغزستان چین جیسے بڑے ملک کی پالیسیوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو سکتا ہے؟ اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ دنیا کے لوگ کرغیز باشندوں کی نسبت چینی لوگوں کو زیادہ جانتے ہیں۔ اور کئی سال بعد یہ رزمیہ نظم چین کی ملکیت ہو جائے گی۔ اس وقت کسے پروا ہوگی کہ ماناس چینی رزمیہ نظم ہے یا کرغیزی؟ ہر کرغیز باشندہ واشگاف الفاظ میں چین کے توسط سے اس نظم کو نامزد کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔ اگر یونیسکو اس نامزدگی پر نظر ثانی اور اپنے فیصلے میں تبدیلی نہیں لاتی تو حکومت کرغزستان کو یونیسکو اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے اداروں سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ اس پر لڑنا اہم ہے کیونکہ ماناس کے بغیر کرغیز بحیثیت قوم قائم نہیں رہ سکتے۔ اس کی حیثیت ایک رزمیہ نظم سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ قومی نظریے کا سوال ہے۔ یہ کرغزستان کا ایک انتہائی بیش قیمت اثاثہ ہے۔

    February 24, 2010 @ 01:02:00AM
    Эля