کرغزستان کسٹم یونین میں شمولیت سے قریب تر
رکنیت سے تارکین وطن محنت کشوں کے مسائل حل ہو سکتے ہیں مگر دیگر مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے
اسکر سلطانوف
2011-08-11
بشکیک – کرغزستان کے روس، قازقستان اور بیلاروس پر مشتمل کسٹم یونین میں شامل ہونے سے متعلق اب بھی کچھ تحفظات ہیں مگر کسٹم یونین نے ترپ کا پتا کھیلتے ہوئے اسے بار بار یقین دہانی کرائی ہے کہ اس میں شمولیت سے کرغزستان اور کسٹم یونین کے درمیان تجارت میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا، کرغیز برآمدات بڑھیں گی اور تاجروں کو زیادہ مواقع دستیاب ہوں گے۔
کرغیز کسٹم سروس میں روس کی ریاستی کسٹم کمیٹی کے نمائندہ دفتر کے سربراہ آئیگور کرکوف نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے بات چیت میں کہا کہ رواں سال جنوری سے مئی تک کرغزستان کی کسٹم یونین کے رکن ملکوں کے ساتھ تجارت میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 فی صد اضافہ ہوا اور وہ 91 کروڑ 80 لاکھ ڈالر (40 ارب 50 کروڑ کرغیز سوم) تک پہنچ گئی جبکہ اس کی برآمدات میں 30 فی صد اضافہ ہوا۔
کرکوف نے تجارت میں اضافے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کرغزستان کو کسٹم یونین میں شمولیت سے فائدہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ رکن ممالک اقتصادی اہداف کی جانب بڑھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کرغزستان بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ تجارتی رکاوٹوں کو دور کر کے ایک مشترکہ اقتصادی نظام قائم کیا جائے اور اس طرح رکن ملکوں کی معیشتوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ تجارت میں اضافہ کیا جائے۔ اس وقت ایک بین المحکماتی کمیشن کرغزستان کی کسٹم یونین میں شمولیت کے فیصلے پر غور کر رہا ہے۔
کرغزستان میں روس کے تجارتی نمائندے ولادیمیر نکراسوف نے کہا کہ کسٹم یونین کی کرغزستان میں دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ وہاں خوراک اور ہلکا صنعتی سامان تیار ہوتا ہے۔
تاہم حکومت کرغزستان کے اقتصادی شعبے کے پیش گوئی و تجزیہ ڈویژن کے ڈائریکٹر نکولائی چوئیکوف کا کہنا تھا کہ غیر ملکی تجارت میں اضافے کی بنیادی وجہ زرعی پیداوار، توانائی کی پیداوار اور ایندھن کی خریداری ہے۔
ماہر اقتصادیات الماز قاسموف نے کہا کہ تجارت اور برآمدات کے بڑھتے ہوئے اشاریے حوصلہ افزا ہیں مگر دوسری جانب روس کے نمائندے شاطر ہیں اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کسٹم یونین میں ہماری شمولیت سے تھوک کا کاروبار کرنے والے بازار ویران ہو جائیں گے حالانکہ وہ 15 فیصد آبادی کا ذریعہ روزگار ہیں۔
کرغزستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم مستقبل کا منصوبہ کے مطابق کسٹم یونین کے اثرات کی وجہ سے 2011 کی پہلی ششماہی میں معیشت کے کلیدی شعبوں میں پہلے ہی 35 کروڑ 80 لاکھ ڈالر (تقریباً 15 ارب 80 کروڑ کرغیز سوم) کا نقصان ہو چکا ہے۔
کسٹم یونین کے ضوابط کے تحت ماضی میں چین سے ارزاں نرخوں پر سامان خرید کر روس اور قازقستان میں دوبارہ فروخت کرنے والے کرغیز تاجروں کو اب اس پر بلند شرح سے یونین کی کسٹم ڈیوٹیاں ادا کرنا پڑیں گی۔
قاسموف نے کہا کہ اگر کسٹم یونین نے واقعی کرغیز تاجروں کے لئے دروازے کھول دیے تو اس سے ہماری معیشت کی مجموعی صورت حال میں کافی بہتری آئے گی۔
کسٹم یونین سے تارکین وطن محنت کشوں کو زیادہ حقوق ملیں گے
کسٹم یونین نے تارکین وطن محنت کشوں کو روزگار تلاش کرنے میں مدد کا بھی وعدہ کیا ہے جو کہ کرغزستان کے لئے ایک کلیدی اہمیت کا معاملہ ہے۔
کرکوف نے کہا کہ کسٹم یونین میں شمولیت سے روس اور قازقستان میں کام کرنے والے کرغیز تارکین وطن محنت کشوں کے حالات میں غیر معمولی بہتری آئے گی۔ اس وقت ان میں سے بیشتر مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور وہاں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔
کرغزستان کی اقتصادی ترقی کی وزارت کی عوامی نگران کونسل نے جولائی میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا تھا کہ کسٹم یونین میں کرغزستان کی شمولیت سے کوٹا اور پابندیوں کے بغیر آزاد نقل مکانی کی پالیسی کو یقینی بنایا جا سکے گا اور اس سے تارکین وطن محنت کشوں کو میزبان ملک کے شہریوں کی طرح بیشتر سماجی حقوق حاصل ہو جائیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ کسٹم یونین میں کرغزستان کی رکنیت سے یونین کے رکن ملکوں میں ہمارے شہریوں کی نقل مکانی سے جڑے مسائل کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
کرغزستان میں روس کی وفاقی نقل مکانی سروس کے نمائندہ دفتر کے ڈائریکٹر ولادیمیر فلیپوف نے کہا کہ روس میں نقل مکانی کی ایک نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے جس سے خاص طور پر کرغزستان کے اعلٰی درجے کی مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد کی عارضی رہائشی پابندیوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور ان کی دوبارہ آباد کاری کا عمل آسان ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عام لفظوں میں نئے منصوبے سے تارکین وطن محنت کشوں کی سرگرمیوں میں سہولت پیدا ہوگی۔ اس میں کرغزستان کے تارکین وطن کا کوٹا ختم کر دیا جائے گا اور دستاویزات پر کارروائی کا عمل کافی آسان ہو جائے گا۔ اب انہیں 15 دستاویزات پر کرنے کی بجائے صرف روزگار کی تلاش کی دستاویز بھرنا پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ روس کی وفاقی نقل مکانی سروس اور کرغزستان کی وزارت تعلیم ان پیشوں کی تربیت فراہم کریں گے جن کی روس میں انتہائی مانگ ہے۔ ان میں گیس ویلڈر، مکینک، پلمبر اور اسی طرح کے پیشے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اس تربیت کے لئے مالی امداد فراہم کرے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تربیتی مراکز روس میں موجود کرغیز شہریوں کے ساتھ رابطے میں رہیں گے اور انہیں روزگار کے مواقع اور دستاویزات پر کرنے کے طریقہ کار سے متعلق مطلع کریں گے۔
صبر کا پھل میٹھا
چوئیکوف نے کہا کہ روس اور کسٹم یونین کوشش کر سکتے ہیں کہ کرغزستان عجلت میں اس میں شامل ہو جائے مگر کرغزستان اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کرے گا جب تک کہ وہ بنیادی باتوں پر غور نہ کر لے۔
انہوں نے کہا کہ اپریل میں حکومت کرغزستان نے کسٹم یونین میں شمولیت سے متعلق ایک بین المحکماتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کمیشن اس وقت کرغزستان کی غیر ملکی تجارت کے بارے میں ایک جامع رپورٹ تیار کر رہا ہے جو یوریشیائی اقتصادی کمیونٹی کی بین الریاستی کونسل کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ کسٹم یونین کے رکن ممالک 2012 سے قبل کسٹم یونین میں کرغزستان کی شمولیت سے متعلق معاملے کا جائزہ نہیں لیں گے۔
چوئیکوف نے کہا کہ حتمی فیصلہ کرنے کے لئے ایک اہم عنصر 30 اکتوبر کا صدارتی انتخاب ہوگا۔ صدارتی انتخاب سے قبل کسٹم یونین سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور ہر چیز انتخاب پر منحصر ہے۔
خود مختار تجزیہ کار راقم بائی اولو نور دین نے کہا کہ کسٹم یونین میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کے لئے کرغزستان کو سماجی اور اقتصادی عواقب کا تخمینہ لگانے کی ضرورت ہے۔
نور دین نے کہا کہ ہمیں یہ بات یاد رکھنا ہوگی کہ ہم ایک اور ادارے عالمی تجارتی تنظیم کا بھی حصہ ہیں اور کسٹم یونین اور عالمی تجارتی تنظیم کی کسٹم پالیسیوں میں ہم آہنگی کا مسئلہ ہے۔ کرغزستان کو عالمی تجارتی تنظیم میں اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ روس اور قازقستان کرغزستان کے اہم شراکت دار ہیں مگر ہم ایک اور اہم ہمسایہ ملک چین کو فراموش نہیں کر سکتے۔
نور دین نے اس مسئلے پر عوامی مذاکرہ منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ چوئیکوف نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بین المحکماتی کمیشن کے قیام کے بعد اقتصادی ضوابط کی وزارت نے کرغزستان کی معیشت پر کسٹم یونین کے پڑنے والے اثرات سے متعلق مئی اور جون میں تین گول میز مذاکرے اور دو کانفرنسیں منعقد کیں۔
ان میں کرغزستان کے اراکین پارلیمان، غیر سرکاری تنظیموں، تجزیہ کاروں اور ملک میں تھوک کے سامان کے سب سے بڑے بازار دوردوئی کے تاجروں نے بھی شرکت کی۔
چوئیکوف نے کہا کہ اقتصادی ضوابط کی وزارت کسٹم یونین میں شمولیت کی وسیع البنیاد بحث پر مسلسل کام کر رہی ہے۔ وہ وقتاً فوقتاً عوام کو کسٹم یونین میں شمولیت کے فوائد اور مضمرات سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہے۔














رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
اے حکومت کرغزستان کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کرغزستان کسٹم یونین کا حصہ بن جائے؟ قیمتیں بڑھ جائیں گی، لوگوں میں بے چینی پھیلے گی اور فسادات برپا ہو جائین گے۔ صورتحال کو سمجھیں اور مہنگائی میں اضافہ نہ ہونے دیں۔ صرف آج کو ذہن میں رکھ کر ہی پالیسیاں نہ بنائیں۔
ہمارے بہتر یہی ہے کہ ہم سی یو کے ارکان کی ڈبلیو ٹی او میں شمولیت کا انتظار کریں۔ اور اس کے بعد ہی ہم سی یو میں جائیں تب ہمیں کچھ بھی کھونا نہیں پرے گا۔ سی یو کی رکنیت کا فیصلہ کرنے والوں کو عام لوگوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ ہمارے پاس بہت پیسہ ہے اور زندگی بھی بہت ہے۔ مختصر کہوں تو کرغزستان کو آزاد ہونا چاہے ہمیں سی یو سے کوئی فائدہ نہیں۔
کرغزستان کو کسٹم یونین میں شامل ہو جانا چاہیے۔ ہماری معیشت کے لیے یہی بہتر فیصلہ ہے کیونکہ ہمیں مصنوعات، خام مال اور تیار شدہ مال ایکسپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ امپورٹ کسی صورت بھی ایکسپورٹ سے زیادہ نہیں ہونی چاہییں۔ ہمیار ایکسپورٹ زرعی مصنوعات ہیں لہذا کرغزستان ایک زرعی ملک ہے اور مستقبل میں ایک بحران کا خدشہ بھی ہے، صاف قدرتی مصنوعات کی کمی ہے۔ اور ہم صاف قدرتی مصنوعات کا ذریعہ ہیں۔ یہ ہماری دولت ہے، ہمیں اس کی قدر اور ایکسپورٹ کرنی چاہیے۔ کرغزستان اور اس کے لیے لوگوں کے لیے یہ درست فیصلہ ہے۔ میں کسٹمز یونین میں شمولیت کے حق میں ہوں۔
اکیلائی غالبا تمہارے خیال میں کرغزستان کا حال بھی بشکک کے 70 فیصد جیسا ہو گا۔ ۔ ۔ہمیں تین سال صبر کرنا ہو گا اس کے بعد سی یو اپنا مثبت تاثر ظاہر کرے گا۔
دوستو پریشان مت ہوں۔ روس، قازقستان اور دیگر ممالک جلد ہی کسٹم یونین سے علیحدہ ہو جائیں گے اور اس کے بجائے ویسٹرن یونین قائم کریں گے۔ یہ عارضی بے چینی ہے۔ جس کا مقصد ہے کہ لوگ تحفظ کی تلاش کریں جو کہ انہیں کہیں نہیں ملے گا۔ اسی وجہ سے لوگ اقدار اور زندگی کی ترجیحات بھول رہے ہیں۔ سب کے لیے دعائیں۔
مجھے یقین ہے کہ کرغزستان میں عقل سلیم کی فتح ہو گی اور یہ لوگ سی یو میں شامل ہوں گے۔ کرغزستان کو بحیثیت ریاست بچانے کا یہ واحد موقع ہے۔ دیگر تمام راستے "جاگیردارانہ نظام" کی طرف جائیں گے۔
70 فیصد کرغز دودوائی مارکیٹ میں کام کرتے ہوئے جیسے تیسے بچ جاتے ہیں۔ میری مراد صرف تجاروں سے نہیں ہے بلکہ بہت سے نوجوان ٹیکس اور پلاسٹک کی ٹیپ جمع کرتے ہیں۔ لوگ یہاں وہاں سے ٹیپیں جمع کرتے ہیں اور ری سائیکلر کو انہیں 5 سینٹ فی کلو کے حساب سے بیچ دیتے ہیں۔ بہت سے نوجوان لوڈر اور کارڈرائیور کی حیثتیت سے کام کرتے ہیں۔ وہ کہاں جائیں گے یا کیا وہ دوسرے ملکوں میں جا کر غلاموں کی طرح کام کریں گے؟ اس سے بہتر ہے وہ یہاں کوڑا اکٹھا کرنے کا کام کر لیں بجائے اس کے کہ گھر والوں سے دور غلاموں کی سی زندگی بسر کریں اور بھوک اور موسم کی شدت برداشت کریں۔ اگر میں نے لکھنا شروع کر دیا تو یہاں صفحات کم پڑ جائیں گے۔ ایک کمیشن بنائیں جو یہ تحقیقات کرے۔ اگر چین سے مال آنا بند ہو جائے تو دوردوائی کے مزدور آہستہ آہستہ بھوکے مر جائیں گے۔ انہوں نے اپنا ملکیتی سامان گروی رکھا ہے اور ان کے سر پر چھت نہیں رہے گی اور ملک میں افراتفری مچ جائے گی۔ مثال کے طور پر قازق تاجر چین نہیں جا سکتے اگر وہ زیادہ ٹیکسوںکی وجہ سے نئی قیمتیں برداشت نہ کر پائے۔ عام آدمی تو پہلے فاقوں مر رہا ہے اور جلد ہی ان کے بدن پر کپڑے اور پیروں میں جوتے بھی نہیں رہیں گے۔ اب وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں، آر کے میں زندگی بہتر ہے۔ باہر کے ملکوں میں جو بھی رہتا ہے وہ واپس آ رہا ہے۔ اپنے ہی ملک میں کم تنخواہ پر نوکری کرنا ہی اچھا ہے۔ میں نے بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بہت سفر کیا لیکن مصیبتیں ہی دیکھی ہیں۔ ہمارا وسائل سے بھرا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں خودمختاری سے رہنا چاہیے۔ شاید ہم نہیں سمجھتے۔ دوسری طرف کرغزستان کے لیے بہتر ہے کہ وہ کسٹم یونین میں شامل ہو جائے، لیکن اس سے تاجروں کو مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ ممکن ہے میں غلط ہوں لیکن یہ میری رائے ہے۔ میں ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر اپنی قسمت کا انتظار نہیں کر سکتا۔