کرغزستان میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ
شہری آٹے کا ذخیرہ کر رہے ہیں
باکت ابرائیموف
2010-08-30
بشکیک ۔۔ کرغزستان میں روٹی اور آٹے کی مصنوعات کی قیمتوں میں اوسطاً 2 کرغیز سوم (0.04 امریکی ڈالر) فی کلوگرام اضافہ ہو گیا ہے۔ کرغیز شہریوں کو قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، تاہم حکومت نے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔
بشکیک کی ایک بزرگ شہری عائشہ توکتو سونوفا نے بتایا کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک میں بورودنسکی روٹی (بھورے آٹے سے تیار کردہ) 10 کرغیز سوم (0.21 امریکی ڈالر) میں خریدتی تھی۔ اب وہ 11 کرغیز سوم (0.24 امریکی ڈالر) میں فروخت ہو رہی ہے اور آٹا بھی مزید مہنگا ہو گیا ہے۔ پہلے ایک کلوگرام آٹے کی قیمت 14 کرغیز سوم (0.30 امریکی ڈالر) تھی جو اب 16 کرغیز سوم (0.34 امریکی ڈالر) میں فروخت ہو رہا ہے۔
ماہر اقتصادیات جمعہ قادر اکینیئف نے بتایا کہ روس اور قازقستان میں خشک سالی کے باعث جولائی میں گندم کی قیمتوں میں اوسطاً 30 فیصد اضافہ ہوا۔
اکینیئف نے بتایا کہ آج گندم کی فی ٹن قیمت 250 سے 270 امریکی ڈالر ہے اور اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آٹے اور روٹی دس سے پندرہ فیصد مزید مہنگی ہو جائے گی۔
نو اگست کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرغزستان کے وزیر زراعت مامت شارپ توردو کولوف نے کہا تھا کہ وہ گندم کی مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی توقع نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ ہم نے ایک کلوگرام گندم کی قیمت میں 2 کرغیز سوم کا اضافہ دیکھا جو بالکل مناسب ہے۔ وزیر زراعت نے کہا کہ 2010 میں 8 لاکھ 71 ہزار ٹن گندم حاصل ہو گی جو کہ گزشتہ سال کی مقدار سے 1 لاکھ 50 ہزار ٹن کم ہے۔ یہ کمی قازقستان سے گندم خرید کر پوری کی جائے گی۔
توردو کولوف کا کہنا تھا کہ حکومت کرغزستان کے غذائی سلامتی کے منصوبے کے مطابق کاشت کے ذریعے اپنے گوداموں کو بھرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں گندم کی مجموعی طلب 12 لاکھ ٹن ہے۔ ہم کل 5 لاکھ 3 ہزار ٹن گندم کی پیداوار حاصل کریں گے۔ اگست کے وسط میں کرغزستان کے کھیتوں سے 3 لاکھ ٹن فصل حاصل کی جائے گی جبکہ بقایا پیداوار ستمبر کے اختتام سے قبل حاصل ہو گی۔
اکینیئف نے کہا کہ گندم کی فراہمی سے متعلق صورت حال نازک ہے جو کرغزستان میں گندم کی فراہمی کے خاتمے پر منتج ہو سکتی ہے۔ گندم کے ایک بڑے برآمدی ملک قازقستان نے اپنی 2010 کی پیداوار میں کمی کی پیش گوئی کی ہے کیونکہ خشک سالی کے باعث اس کے 80 ہزار ہیکٹر رقبے پر فصل کاشت نہیں ہو سکی۔
آٹے کی ملوں کے بعض مالکان نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ قازقستان کے فراہم کار خشک سالی کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔
آٹا اور آٹے کی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی اکن لمیٹڈ کے ڈائریکٹر رسلان تائیگا رائیف نے بتایا کہ اپنی حکومتوں کے ذریعے کام کرنے والے تھوک فروش اور کمیشن ایجنٹ گندم کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی معاف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے مقامی کمپنیوں کو قازقستان کی ہم عصر کمپنیوں سے مقابلہ کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ کم قیمتوں پر گندم خرید سکتے ہیں۔
تائگا رائیف نے بتایا کہ ملک میں پیدا ہونے والی کمتر معیار کی گندم کے باعث اعلٰی درجے کی گندم درآمد کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلوٹن کی کم مقدار کے باعث اس آٹے سے روٹی تیار کرنا ممکن نہیں ہے، لہٰذا ملک کو قازقستان سے گندم خریدنے کی ضرورت پڑتی رہے گی۔
کرغزستان کو متفقہ زرعی نظریے کی ضرورت ہے
زرعی کاروبار کی مسابقت کے مرکز کے ڈائریکٹر تورو گل بیکوف نے بتایا کہ اسی وجہ سے کرغزستان کو 2020-2010 کے لئے ایک متفقہ زرعی نظریہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
بیکوف نے کہا کہ اس وقت ملک میں زرعی شعبے کی ترقی اور امداد پر مرکوز قوانین اور پروگرام موجود ہیں تاہم وہ سب مختلف سمتوں میں کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2009 میں کرغزستان میں اناج کے ذخائر قومی کھپت کا 120 فیصد تھے۔ قیمتیں کم ہونے کے سبب مقامی کاشت کاروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ بیجوں کے ذخائر کی تجدید کے ایک واحد پروگرام کے تحت ہم قازقستان سے ایک لاکھ ٹن گندم درآمد کر سکتے ہیں۔
اقتصادی ضوابط کی وزارت نے عمدہ قسم کی گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں میں گندم کی قیمت میں ایک سے دو کرغیز سوم کا اضافہ ہوا تاہم دارالحکومت میں اس کی اوسط قیمت کی حد 10 کرغیز سوم ہے۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ درجہ اول آٹے کی قیمت 2.2 سے 2.4 کرغیز سوم (0.047 سے 0.052 ڈالر) اضافے کے بعد 18 سے 22 کرغیز سوم (0.39 سے 0.47 امریکی ڈالر) فی کلوگرام تک پہنچ گئی۔
اقتصادی ضوابط کی وزارت کے مطابق، درجہ اول آٹے کی اوسط پرچون قیمت اکن میں آٹے کی تھوک قیمت سے 9.8 فیصد، النور سے 11.1 فیصد اور یاشر سے 15.8 فیصد زیادہ ہے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
پاکستان میں چینی کا کیا بھاو ہے؟
روٹی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے تاہم گندم کی مصنوعات کے معیار میں بہتری نہیں آئی۔ عام طور پر حکومت اس سے اپنی جیبیں بھر رہی ہے اور لوگ مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
یا اللہ
برائے مہربانی حقیقی تعداد کی تصدیق کریں۔
قازقستان کے طبقہ اشرافیہ کے تعاون کے بغیر کرغیز باشندوں کے لئے اپنے داخلی مسائل کو حل کرنا دشوار ہو گا۔ قازق باشندوں نے ہمیشہ اپنے برادر عوام اور مسائل کا شکار ہمسایہ ملکوں کی مدد کی ہے اورآئندہ بھی کرتے رہیں گے۔
بہت خوب