بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی کرغیز معیشت کو بچانے کی کوششیں
نئی رقم سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں
باکت ابرائیموف
2010-08-12
بشکیک – بین الاقوامی عطیہ دہندگان اپریل اور جون کے ہنگاموں میں تباہ ہو جانے والی کرغیز معیشت کو بچانے کے لئے کوشاں ہیں۔ تاہم، نئی مدد میں نئے خطرات بھی پوشیدہ ہیں۔
ستائیس جولائی کو بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر روزا اوتن بائیفا نے کہا کہ کرغزستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے 10 کروڑ امریکی ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، ملک کے جنوبی علاقوں میں بحالی کے کاموں کے لئے مزید 35 کروڑ ڈالر ناگزیر ہیں۔
عالمی بینک کے یورپ اور وسطی ایشیا کی حکمت عملی اور آپریشنوں کے ڈائریکٹر تھیوڈور اہلرز نے عالمی بینک کے ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی برادری نے کرغزستان کے لئے مشترکہ گرانٹوں اور قرضوں کی مد میں 1 ارب 10 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کر دی ہے۔ یہ رقم اڑھائی سال کے عرصے میں فراہم کی جائے گی جبکہ 60 کروڑ امریکی ڈالر 2010 کے اواخر تک مختص کیے جائیں گے۔
کرغزستان بین الاقوامی برادری کے بیشتر فنڈز سماجی منصوبوں، سرکاری شعبے کی تنخواہوں، حرارت کے تیل، ایندھن اور بے روزگاری کے فوائد پر خرچ کرے گا۔
صدر روزا اوتن بائیفا اس صورت حال کی پیچیدگی کو تسلیم کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم انتظار نہیں کر سکتے۔ ہمیں آستینیں چڑھا کر کام شروع کرنا ہے۔
غیر ملکی قرضوں میں خطرات بھی پوشیدہ ہیں
بین الاقوامی کاروباری کونسل کے ڈائریکٹر کوبان عاشر کولوف نے کہا کہ رقم ادھار لینے میں سب سے بڑا خطرہ اس کے غلط استعمال کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپریل سے قبل ہمارے غیر ملکی قرض کی رقم 2 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ تھی اور فنڈز کے غلط استعمال کے باعث معیشت کی حالت بہتر نہیں ہو سکی۔ ہمارے ملک پر غیر ملکی قرض کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
وزارت خزانہ کی ترجمان بیگم ساتی بلدیئیفا نے اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے تیز اقتصادی بہتری کی توقع لگانا غیر ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا تھا تاہم اپریل اور جون کے واقعات سے صورت حال بدتر ہو گئی۔ کرغزستان میں نجی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ کوئی بھی کاروباری شخص سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی رقم کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا زیادہ تر انحصار سیاسی صورت حال پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نئے پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں صورت حال خراب ہو گئی تو سرمایہ کار ہمارا انتظار نہیں کریں گے۔ تاہم اگر اکتوبر کے اختتام پر جوگورکو کینیش (پارلیمان) نے تعمیری انداز میں کام شروع کر دیا تو پھر ہم اقتصادی بحالی کی امید کر سکتے ہیں۔
عاشر کولوف نے بھی اس سے اتفاق کیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام ملکی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ ہر کوئی سیاسی استحکام اور پارلیمان کے منتخب ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔
تحقیق و مشاورت کی کمپنی آئی کیپ انویسٹمنٹ کے ڈائریکٹر بکائی جونوشیف نے کہا کہ ملک کو قرض کی شرائط پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آزاد ہونے کے بعد کرغزستان کو کافی امداد ملی۔ ان میں سے بیشتر امدادی پیکج تکنیکی امداد اور اضطراری، ہنگامی ادھار اور قرض کے زمروں میں آتے ہیں۔ رقم دینے کی بجائے وہ ہمیں انتہائی مہنگے مشیران بھیج دیتے ہیں اور ہمیں اس طرح حاصل ہونے والے قرضہ جات کی بھی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ ہم دوبارہ اسی جال میں پھنس سکتے ہیں۔
وزیر خزانہ چورو بیک اماشیف نے بتایا کہ اس وقت جن قرضوں کے بارے میں بات کی جا رہی ہے وہ 40 سال کی مدت میں لوٹانا ہوں گے اور ان پر سالانہ شرح سود ایک فیصد ہے اور دوبارہ ادائیگی پر آٹھ سال کی رعایتی مدت ہے۔
ماہرین ادھار لیے جانے والے فنڈز میں شفافیت کے مسئلے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔
نیشنل بینک کے چیئرمین کے مشیر الان سربانوف نے بتایا کہ ہمیں حقیقت پسند ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ عطیہ دہندگان سرکاری بجٹ کی بجائے بینکاری کے نظام کے استحکام میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ رقم کی گردش ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام اور عطیہ دہندگان کے اعتماد کا انحصار اس چیز پر ہے کہ ایک ماہ، تین ماہ، چھ ماہ یا ایک سال میں کیا ہوتا ہے۔
دو اگست کو ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اول امان گلدی مورا لائیف نے کہا کہ میں آپ کو اس بات کا یقین دلا سکتا ہوں کہ بین الاقوامی فنڈز کو مختص کرنے میں کوئی رازداری نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے امداد کے اہداف کے لئے پینشنوں، بے روزگاری فوائد، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور جنوبی کرغزستان کی بحالی کا ذکر کیا۔
صنعت کو بھی مراعات کی ضرورت ہے
جونوشیف نے کہا کہ کچھ رقم صنعت کے لئے بھی مختص کرنے کی ضرورت ہے چاہے یہ نیا کاروبار شروع کرنے کے لئے ہو یا پہلے سے موجود کاروبار کی مدد کے لئے۔
صدر اوتن بائیفا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ تاجروں کو مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار میں منصفانہ مسابقت کی حامی ہے اور 'منصفانہ مسابقت بدعنوانی کی راہ میں رکاوٹ ہے' ہمارا نعرہ بن چکا ہے۔
صدر اوتن بائیفا نے ایک فرمان پر دستخط کیے جس کے تحت نقصانات برداشت کرنے والے کاروباری اداروں کو رعایتی مدت اور قسطوں میں کسٹم ڈیوٹیاں اور ٹیکس ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
بشکیک مرکز برائے اقتصادی تجزیہ کے ڈائریکٹر سپر اروز باکوف نے کہا کہ عطیہ دہندگان کی امداد سے اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا تاہم یہ سب چیزوں کا علاج نہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عطیہ دہندگان کی رقم معیشت کو صرف ایک بار اور کمزور سہارا دے گی لیکن اس سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ اس کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس بات کا خطرہ بھی ہے کہ اگر اس رقم کو بعد میں آگے ادھار دے دیا گیا تو یہ عطیہ دہندگان کے قرض کی واپسی کے لئے کافی نہیں ہو گی۔
اسیل عثمون علیئیفا نے اس رپورٹ کی تیاری میں حصہ لیا۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
برائے مہربانی، سیلاب متاثرین کی مدد کریں۔
یہ مضمون پڑھنے کے بعد بہتر ہو گا کہ تمام سیاست دان اپنی بجائے اپنے ملک اور عوام کی حالت دیکھیں اور صورت حال سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ اگر وہ اپنی بدعنوانی کو ختم نہیں کریں گے تو وہ ملک کو اچھے انداز میں چلا نہیں پائیں گے۔ کرغزستان اور اس کے عوام کے لئے قسمت بخیر۔ اللہ انہیں برکت دے۔ سلام۔