قازقستان کی زہمبیل اوبلاست کی معیشت کو جمود کا سامنا
اقتصادی ماہرین اور حکام کا صورت حال کو بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال
الیگزینڈر بوگاتک
2010-07-27
تراز ۔۔ وسطی ایشیا میں قازقستان تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال جزیرے کے طور پر مشہور ہے تاہم اس کی تمام اوبلاستیں اس دولت سے مستفید نہیں ہو رہیں۔
جون میں تراز میں منعقدہ بین الاقوامی فورم زہمبیل انویسٹ 2010 کے دوران اسٹریٹجی اینڈ پارٹنرز کے تجزیہ کاروں نے بتایا کہ تخمینوں کے مطابق زہمبیل اوبلاست کی اقتصادی ترقی اوسط قازقستانی اوبلاست سے بھی کم ہے۔
ان کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت علاقے میں سرمایہ کاری کی ترغیب کم ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بدعنوانی، انتظامی رکاوٹیں اور کم قوت خرید سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کی بڑی وجوہات ہیں۔
اوبلاست کے نائب حاکم مارات بائی زہولداس بائیف نے بتایا کہ اوبلاست کی بنیادی صنعتوں میں زرعی فصلوں کی پیداوار، مویشی بانی اور مرغبانی شامل ہیں۔
زہولداس بائیف نے کہا کہ اس کی وجہ آب و ہوا کے عوامل ہیں۔
مراعات دستیاب ہیں، تاہم انتہائی کماوبلاست کی حاکمت کے محکمہ زراعت کے سربراہ مورت اسیل بیکوف نے بتایا کہ حکومت زراعت میں مالی تعاون کرتی ہے اور گزشتہ سال اس نے 6,000 زرعی مراعات دیں۔
اسیل بیکوف نے بتایا کہ وزارت زراعت رواں سال دس اقسام کی انتقالی ادائیگیاں کرے گی جن میں بیج کی پیداوار میں مدد، فصلوں کی مقدار اور معیار میں اضافہ، آب پاشی کے پانی کے لئے مراعات اور ایندھن کے اخراجات میں کمی شامل ہیں۔
زہمبیل اوبلاست کے ایک کاشت کار آندری وورونکوف نے بتایا کہ مستقل مراعات ہی زراعت کو مضبوط ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہیں، تاہم امداد کی موجودہ سطح سے علاقے کی زرعی سرگرمیوں کا معیار بڑھانے میں مدد نہیں ملے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت دی جانے والی مراعات کے حصول کے لئے بہت سی دستاویزات جمع کرانے اور سرخ فیتے کی نہ ختم ہونے والی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ زہمبیل اوبلاست کے کھیت چھوٹے ہیں اور کاشت کار ہمہ وقت بوائی، آب پاشی اور فصلوں کی کٹائی کے بکھیڑوں میں الجھے رہتے ہیں اور ان کے پاس افسر شاہی کے لوازمات پورے کرنے کے لئے وقت نہیں ہوتا۔
وورونکوف نے بتایا کہ اس کے علاوہ مراعت کی رقم قلیل ہے، مثلاً ایک ہیکٹر رقبے پر اناج کی فصلوں کے لئے محض 300 قازق ٹینگے (2 امریکی ڈالر) فراہم کیے جاتے ہیں۔
زہمبیل اوبلاست کے محکمہ شماریات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کی اوسط ماہانہ تنخواہ 331 امریکی ڈالر ہے، تاہم رواں سال مجموی آبادی کے چھہ فیصد حصے میں بے روزگاری کی شرح میں گزشتہ سال کے مقابلے میں گیارہ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
اوبلاست میں بے روزگار رہنے کے بعد کام کی تلاش میں آستانہ کو نقل مکانی کرنے والے اقتصادی ماہر الیکسے وولوشن نے بتایا کہ اعداد و شمار بالکل غلط ہیں۔ اوبلاست کی ترقی کی رفتار انتہائی سست ہے۔ اکثر لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں اوبلاست کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ بے روزگاری کی اتنی کم شرح بتاتے ہیں کیونکہ وہ صرف انہیں شمار کرتے ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں۔
محکمہ شماریات کے مطابق، اوبلاست میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے 1,485 کاروباری ادارے کام کر رہے ہیں جبکہ مزید 2,659 ادارے مختلف وجوہات کی بناء پر غیر فعال ہیں۔ اس کے علاوہ، 1,919 تحلیل ہو چکے ہیں جبکہ مزید 102 تحلیل کے مراحل میں ہیں۔
سرمایے اور قرضوں کا فقدان کاروبار کے لئے نقصان دہ ہیںزہولداس بائیف نے کاروبار کے لئے ایک اور مسئلہ زیر کار سرمایے کے فقدان اور بینکوں کی جانب سے قرض دینے پر غیر رضامندی کو بتایا۔ یہ عام طور پر کاشت کاروں کے لئے ایک مسئلہ ہے۔
اسیل بیکوف نے بتایا کہ حالیہ سالوں میں کاشت کاروں کے لئے قرض کا واحد ذریعہ ریاستی فنڈ برائے زرعی معاونت رہا ہے۔ تاہم، ترغیب آمیز شرائط کے باوجود فنڈ میں قرضے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔ ہر سال، فنڈ کی رقم میں کمی ہوتی جا رہی ہے۔ سال 2009 میں کاشت کاروں کو زرعی قرضوں کی مد میں کل 30 کروڑ 50 لاکھ قازق ٹینگے (21 لاکھ امریکی ڈالر) فراہم کیے گئے۔
جون میں قازقستان کے ایوان تجارت کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اوبلاست کی ترقی کے لئے اسے ہمسایہ ملکوں ازبکستان اور کرغزستان کے ساتھ سیاحت اور تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
محکمہ برائے معیشت و بجٹ کی منصوبہ بندی کے ڈائریکٹر الماس مادیئیف نے بتایا کہ اگر زہمبیل اوبلاست میں تجارت اور رسد کا مرکز قائم کیا جائے اور تھوک کی غذائی منڈیوں اور سرحد پار تعاون کو فروغ دیا جائے تو یہ علاقائی تقسیم کار مرکز کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔
نیا حاکم، نیا مستقبل؟سال 2009 میں زہمبیل اوبلاست کے حاکم تبدیل ہو گئے۔ اکثر باشندوں نے اب اوبلاست کی ترقی کے لئے اپنی امیدیں نئے رہنما سے وابستہ کر لی ہیں۔
نئے حاکم کانات بوزم بائیف نے بتایا کہ زہمبیل اوبلاست کی موجودہ اقتصادی حیثیت کو دیکھنے کے باوجود میں یہ کہوں گا کہ خطے کو ترقی دینے کے وسائل موجود ہیں۔ ہماری اوبلاست میں بحران کے بعد کے عرصے میں تمام قازقستان کو سہارا دینے کی صلاحیت موجود ہے۔
بوزم بائیف نے بتایا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار اب زہمبیل اوبلاست میں اقتصادی نمو کے مراکز قائم کرنے کے لئے سرمایہ کاری پر آمادہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فصلوں اور مویشی بانی کو صرف خودمختار چھوٹے پیمانے کی پیداوار کے طور پر دیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے خام مال کا مرکز اور پیداوار کے پیچیدہ سلسلے کی ناقابل جدا پہلی کڑی سمجھا جا سکتا ہے۔
حاکم نے بتایا کہ سرمایہ کار لازمی طور پر زرعی شعبے کے منصوبوں میں دلچسپی لیں گے۔ ایک کاروباری شخص بولات عیسٰی بیکوف نے پیش گوئی کی کہ مستقبل قریب میں حالات میں بہتری آنے کا کم ہی امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر رشوت خوری اور بدعنوانی کے باعث تمام حکومتی اقدامات ضائع ہو جاتے ہیں۔
اسٹریٹجی اور پارٹنرز کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر اوبلاست میں اختراعی ٹیکنالوجیاں متعارف کرانے کے عمل کو تیز اور پیداوار میں اضافہ کیا جائے تو بہتری کی جانب مائل تبدیلیاں اب بھی ممکن ہیں۔
بوزم بائیف نے بتایا کہ حاکمت علاقائی ترقی کا ایک پانچ سالہ پروگرام وضع کر رہی ہے۔ یہ ہمارے لئے ایک واضح طویل المیعاد منصوبہ ہو گا جس پر عمل کیا جائے گا۔ اور ہمیں دیگر اوبلاستوں کے نزدیک پہنچنے کے لئے پانچ سالوں میں مجموعی ملکی پیداوار کو دگنا کرنے کی ضرورت ہے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
اوبلاست میں زراعت سے ہٹ کر نئے کارخانوں اور صنعتوں کی ضرورت ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اکا دکا مراعات لوگوں کی زندگیوں کا معیار بہتر کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔
اس مضمون کے لئے شکریہ!