کسٹم یونین سے کرغزستان کے کاروبار دیوالیہ ہو سکتے ہیں

ماہرین اقتصادیات نے کسٹم یونین میں شمولیت کی تجویز دی ہے

علی شیر کریموف اور ایبک کارا بائیف

2010-07-15

بشکیک -- یکم جولائی کو روس، قازقستان اور بیلاروس پر مشتمل کسٹم یونین کے آغاز سے کرغزستان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

قازقستان کے انسٹیٹیوٹ برائے سیاسی فیصلوں کے مشیر اور کرغیز روسی سلافی یونیورسٹی میں ماہر سیاسیات کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے والے الیگزینڈر کنیازیف نے بتایا کہ کسٹم یونین کے ضوابط کے نتیجے میں کرغزستان کا اقتصادی نظام تباہ ہو سکتا ہے۔

کسٹم یونین کے آغاز کے بعد کسٹم ڈیوٹیوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور غیر رکن ملکوں کے لئے پیچیدہ کسٹم ضوابط کا اطلاق شروع ہو گیا ہے۔ کرغزستان کے صارفین کو اب روس اور قازقستان کے بنے ہوئے سامان کی زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ 92 اوکٹین پٹرول کی قیمت جو مئی میں 30 کرغیز سوم فی لٹر (0.66 امریکی ڈالر فی لٹر) تھی اب بڑھ کر 39 کرغیز سوم فی لٹر (0.88 امریکی ڈالر فی لٹر) ہو چکی ہے۔ روس اور قازقستان کے سامان کی قیمتوں میں 15 سے 30 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔

کرغزستان کی وزارت برائے اقتصادی ترقی کے مطابق، اس طرح کے اعداد و شمار سے کرغزستان کے ہر باشندے کو دھچکا لگتا ہے کیونکہ کرغزستان کی تقریباً 41 فیصد تجارت کسٹم یونین کے تینوں ملکوں سے ہوتی ہے۔ ان میں روس کا حصہ 28.5 فیصد، قازقستان کا 10.7 فیصد اور بیلاروس کا 1.7 فیصد ہے۔

اوتکریتایا پوزیتسیا نامی غیر سرکاری تنظیم کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر اسکر بیشیموف نے وزارت برائے اقتصادی ترقی کی ایک خصوصی رپورٹ میں پیش گوئی کی کہ کرغزستان کو روس اور قازقستان کی تمام اشیاء، بالخصوص کاریں، مہنگے داموں دستیاب ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ملک غیر ملکی گاڑیوں کے کارخانوں پر ڈیوٹیوں میں اضافہ کر دیں گے۔ یہ گاڑیاں متحدہ عرب امارات اور یورپ سے قازقستان اور روس میں درآمد کی جاتی ہیں اور پھر کرغزستان جاتی ہیں۔

کرغزستان کے سیاسی تجزیہ کاروں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ نور عمروف نے شکایت کی کہ سابق حکومت کو ہمیں کسٹم یونین سے درپیش خطرے کا علم تھا تاہم اس نے اس ضمن میں کچھ نہیں کیا اور نئی حکومت کو وقت نہ مل سکا۔

روس کے شہر اومسک کے ایک تاجر یوری میرونوف نے بتایا کہ ان کے ہلکی صنعت کے برآمدی کاروبار کو کرغیز فراہم کاروں سے مال منگوانے کا سلسلہ ترک کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ کرغزستان میں تیار ہونے والی اشیائے صرف کا ہماری تجارت میں 45 فیصد حصہ تھا تاہم اب وہ ہماری کمپنی کے لئے مزید منافع بخش نہیں رہیں۔

قازقستان کے تاجروں کی خودمختار ایسوسی ایشن کے صدر تالگت اکوؤف نے بتایا کہ قازقستان کے ساتھ تجارتی حجم میں کمی نہ ہونے کے باوجود کرغزستان کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ تاجر پیچھے ہٹتے ہوئے مکمل یا نیم غیر قانونی طور پر کام شروع کر دیں گے اور اس سے یہ مراد ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی کا عمل کم ہو جائے گا۔

روس کے اخبار وریمیا نوووستی میں وسطی ایشیا کے مبصر آرکادی دبنوف نے بتایا کہ ایک غیر رکن ملک چین بھی کرغزستان کی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسٹم یونین کے رکن کی حیثیت سے قازقستان کو چین کی جانب سے دوبارہ برآمد کیے جانے والے چینی سامان پر سخت محصولات عائد کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کاروبار کرغزستان اور قازقستان کے تاجروں کے لئے یکساں منافع بخش تھا۔ تاہم اب امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔

سابق کرغیز رکن پارلیمان نکولائی بائلو نے متنبہ کیا کہ کسٹم یونین میں کرغزستان کی شمولیت کے باعث بشکیک میں وسطی ایشیا کے سب سے بڑے بازار دوردوئی کو مزید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت میں چین کرغزستان کو فروخت کی جانے والی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر دے گا۔

وزارت برائے اقتصادی ضوابط کے بین الاقوامی تجارت کے دفتر کی سربراہ انارہن رخمانوفا نے کہا کہ کرغزستان کسٹم یونین میں شمولیت اختیار کرے یا نہ کرے، اسے بہرحال نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انارہن رخمانوفا نے کہا کہ چینی سامان کی دوبارہ برآمد سے حاصل ہونے والا محصول قومی خزانے کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی وجہ سے دوردوئی کے کاروبار کی تنظیم نو کی ضرورت ہے اور حکومت ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ ہم ان کی تمام تجاویز اور شکایات پر غور کریں گے۔

کنیازیف کا کہنا تھا کرغزستان کو تمام سطحوں پر مسابقتی اداروں کو سہولیات بہم پہنچانے اور معیشت کو سہارا دینے کے لئے ملکی وسائل، سرمایہ کاریوں، گرانٹوں اور قرضہ جات سے استفادہ کرنا چاہیے۔

بعض دیگر افراد کسٹم یونین میں کرغزستان کی شمولیت کے حق میں ہیں۔ ماہر اقتصادیات زہومادر اکینیئف نے کہا کہ خودمختار طریقے سے آگے بڑھنا بہت مشکل ہو گا۔ کسٹم یونین کم از کم سیاسی فوائد تو پیش کرتی ہے۔

سرکاری پریس دفتر کے مطابق، صدر روزا اوتن بائیفا نے یوریشیائی اقتصادی کمیونٹی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کسٹم یونین میں شمولیت کا مکمل تہیہ کر رکھا ہے۔

تاہم، ایکسپرٹ قازقستان نامی اخبار کے کالم نگار نکولائی کزمن نے کہا کہ چاہے کرغزستان کو اس کی کتنی شدت سے ضرورت ہی کیوں نہ ہو، اس دروازے کا کھلا رہنا ضروری نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسٹم یونین کے رکن ملکوں کے صدور یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم وہ چند ایسی شرائط رکھیں گے جو کرغزستان اس وقت پوری کرنے کے قابل نہیں۔ یہ ملک ان کے لئے ایک منافع بخش شراکت دار نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، نئی حکومت کو تاحال اپنی امکانیت کو ثابت کرنا ہے جس میں کافی وقت لگے گا۔

قازقستان کے انسٹیٹیوٹ برائے طویل المیعاد مطالعہ کے محقق اعلٰی کونستنتین سائروئیزخن نے بتایا کہ کرغزستان کی حکومت کو اپنے قانونی جواز کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرغزستان میں اس معاملے پر کسی سے بات نہیں کی جا سکتی۔ اوتن بائیفا عبوری صدر ہیں اور کوئی پارلیمان بھی موجود نہیں جو کسی بین الاقوامی معاہدے کی توثیق کر سکے۔

وزیر برائے اقتصادی ترقی ایمل امت علیئیف نے کہا کہ ہمیں درست فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے، لہٰذا ہمیں کوئی جلدی نہیں۔ کرغزستان کی مارکیٹوں کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین سرجیائی پونو ماریوف نے بتایا کہ روس اس سلسلے میں حتمی کردار ادا کرے گا۔ اس بات کو سمجھنا اہم ہے کہ قازقستان اور نہ ہی کرغزستان کسٹم یونین کے لئے اپنی شرائط منوا سکتے ہیں۔ اس کا انتظام اسی کے ہاتھ میں ہو گا جس کے پاس کسٹم یونین کا سب سے زیادہ حصہ ہو گا اور روس کا حصہ 57 فیصد ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 19)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • کرغزستان ایک ناکام ریاست ہے۔ چاہے یہ اکٹھی ہو یا نہیں اس کا کوئی مستقبل نہیں۔

    January 1, 2012 @ 09:01:16PM
    ha;ik
  • سب کو سلام۔

    July 26, 2010 @ 09:07:00AM
    irshad ali