ازبکستان میں توانائی کی صنعت کے اعلٰی عہدیدار برطرف

برطرفی کی ممکنہ وجوہات میں پٹرول کی قلت اور تیل صاف کرنے والے کارخانوں کے مسائل شامل ہیں

عبید اللو بابا دزہونوف اور شاکر سعدی

2010-07-14

تاشقند -- تیرہ جولائی کو صدر اسلام کریموف کے حکم پر توانائی کے شعبے کے دو اعلٰی سطحی عہدیداروں کو برطرف کر دیا گیا۔

برطرف ہونے والے عہدیداروں میں نائب وزیر اعظم ارگاز شوئس ماتوف اور ازبک نیفتے گیز کے چیئرمین الوگ بیک نذروف شامل ہیں۔

ان کی جگہ بالترتیب ازخم پروم کے سابق سربراہ گلوم دزہون ابراگیموف اور سابق وزیر خزانہ شوکر فیض اللائیف کو تعینات کیا گیا ہے۔

حکومت نے ان برطرفیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور اس کی بجائے سرکاری ویب سائیٹ (www.gov.uz) پر اس کا مختصر سا اعلان شائع ہوا۔

تاہم، مبصرین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

ازبک نیفتے گیز کے ایک عہدیدار جنہیں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرنے کی اجازت نہیں تھی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان برطرفیوں کا تعلق صدر اسلام کریموف کے تیل اور گیس کے شعبے کے حالات پر عدم اطمینان سے ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ حال ہی میں ملک بھر میں ڈیزل ایندھن اور پٹرول کی شدید قلت کا سامنا ہوا۔ اس پر مستزاد، جون میں ایک معائنے سے تیل صاف کرنے کے متعدد کارخانوں میں تیل کی قلت اور مالی مسائل کا پتا چلا۔ یہ سب چیزیں حکام بالا کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہ سکتی تھیں۔

ازبک تجزیہ کار اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اناطولی وولکوف نے بتایا کہ ہر ریاست ایک زندہ جسم کی مانند ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ بیمار ہو جاتا ہے اور آپ کو اس کا علاج کرنے کے لئے بعض اعضاء کو کاٹ کر باہر پھینکنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ازبکستان میں اس طرح کے معاملات ہمیشہ خفیہ رہتے ہیں۔ زیادہ واضح الفاظ میں بات کرنے کے لئے آپ کو آزاد معلومات کی ضرورت پڑتی ہے جو ہمارے ہاں نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں جمہوریت جو نہیں ہے۔

ماہر سیاسیات اسکندر خدوئی برگانوف نے بتایا کہ ازبکستان میں قیادت کی صفوں میں باقاعدگی سے تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ حکام کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوئی اور اب وہ کوئی قربانی کا بکرا دیکھ رہے ہیں۔ وہ کسی شخص کو کسی اہم منصب کے لئے نامزد کرتے ہیں اور اس سے کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں اور پھر وہ پوری نہیں ہوتی۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس میں قصور کسی شخص کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔ یہ سوویت عہد میں تیل اور گیس کے ذخائر سے استفادہ کرنے کے انداز جیسا ہے یعنی ہر ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ تیل اور گیس نکال لینا۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ تیل اور گیس کے شعبے میں مزید گڑبڑ کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایندھن اور توانائی کی صنعتوں کے ذمہ دار شوئس ماتوف کی برطرفی کا تعلق ازبک نیفتے گیز کی کارکردگی پر عدم اطمینان سے ہو سکتا ہے۔ اس کا آسان حل یہ نکالا گیا کہ ازبک نیفتے گیز کے سربراہ اور حکومت میں ان کے سرپرست کو فارغ کر دیا جائے۔

ازبک نیفتے گیز کے نام ظاہر نہ کرنے والے عہدیدار نے بتایا کہ کمپنی کے اندر ان برطرفیوں سے ماحول تبدیل ہو گیا ہے۔

ذریعے نے بتایا کہ کمپنی میں مزید تبدیلیوں کے امکان کی قیاس آرائیاں جاری ہیں اور بہت سے لوگوں کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا اندیشہ ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 35)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • ایک طرف تو پٹرول نہیں ملتا جبکہ دوسری جانب وہ نیم مردہ شیطان کو باپ کہتے ہیں۔ زہیرینوفسکی درست کہتے تھے کہ ہم 2 کروڑ 20 لاکھ بھیڑوں کی مانند ہیں۔ ہم جانوروں جیسے حقوق کے ساتھ غلاموں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں اور اسی طرح ایک روز مر جائیں گے۔ لیکن اس پر کوئی افسوس نہیں۔ جس چیز کا مجھے افسوس ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے بچے اور پوتے پوتیاں بھی اس طرح ہی زندگی گزاریں گے۔ حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔

    November 17, 2010 @ 04:11:00PM
    Улугбек
  • گھڑ سوار پیدل چلنے والوں کا کبھی خیال نہیں کرتا۔ غالباً پرانے لوگوں کی طرح نئے بھی رشوت دے رہے ہیں۔

    August 3, 2010 @ 04:08:00PM
    Фаррух
  • خود کریموف کب تبدیل ہوں گے؟

    August 2, 2010 @ 07:08:00AM
    Муроди
  • مجھے سربراہ مملکت پر انتہائی افسوس ہے۔ انہوں نے جس مضبوط اور متفقہ نظام کی بنیاد رکھی تھی اسے کسی مہذب طریقے سے بہتر بنانا ناممکن ہے۔ حکومت یا نظام کی تشکیل ابتدا سے ہی پرانی طرز پر ہوئی۔ ادھر مشرق میں یہ مقولہ عام ہے کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں اور قافلے اپنی راہ چلتے جاتے ہیں۔ جمہوریت اور شفافیت میں ہی کسی قوم کا استحکام مضمر ہے۔ ایک سمجھدار سیاست دان لوگوں کی رواداری اور اطاعت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ انہوں نے ریاست کو مستحکم کرنے کے لئے بہت کچھ کیا تاہم وہ اپنے عوام کی قسمت بدلنے میں ناکام رہے۔ اس کے نتیجے میں ہمارے ہاں بدعنوانی اور لاقانونیت عام ہوچکی ہے اور حکام نااہل ہیں۔

    July 30, 2010 @ 07:07:00AM
    Олов
  • گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ کیا اس کا تعلق سمرقند میں پٹرول کی قلت سے تھا؟ لوگوں کی حالت ابتر ہے لیکن شہری بابوؤں کو ذرا بھر پروا نہیں۔ غالباً انہیں اس سے فرق بھی نہیں پڑتا۔

    July 26, 2010 @ 01:07:00AM
    зануда
  • ایک چور جاتا ہے، دوسرا چور آ جاتا ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔

    July 17, 2010 @ 10:07:00AM
    ektibor