کرغیز حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر چینی کی قلت کے باوجود ملک میں اس کی قیمتیں مستحکم رہیں گی

کرغزستان جو کبھی چینی برآمد کیا کرتا تھا، اب اسے درآمد کرنے پر مجبور ہے

اسیل عثمون علیئیفا

2010-02-03

بشکیک، کرغزستان - عالمی منڈی میں چینی کی قلت اور ملکی پیداوار میں کمی کے باوجود کرغیز حکام نے ملک میں چینی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

چینی کی بین الاقوامی تنظیم نے 2010 کے ابتدائی چھ ماہ میں رسد کے مقابلے میں طلب زیادہ ہونے کے باعث چینی کا عالمی بحران پیدا ہونے کی پیش گوئی کی ہے لیکن کرغیز حکام ان اعلانات کے باوجود عوام کو یقین دہانیاں کرا رہے ہیں۔

28 دسمبر کو ایک پریس کانفرنس میں ریاستی ادارہ برائے انسداد اجارہ داری پالیسی کے ڈائریکٹر نادر بیک ترگن بائیف نے کہا کہ 2010 میں کرغزستان میں چینی کی قیمت کم ہو جائے گی۔

گزشتہ سال کے دوران سفید چینی کی قیمت 400 امریکی ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر 734 ڈالر 50 سینٹ فی ٹن تک جا پہنچی ہے۔ ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ 2010 میں چینی کی عالمی قلت بڑھ کر 90 لاکھ ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔

ترگن بائیف نے کہا کہ کرغزستان کو چینی فراہم کرنے والے دو ملکوں یوکرائن اور بیلاروس میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا جس کے باعث چینی کی قیمتیں کم رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں چینی کی اپنی پیداوار کے باعث چینی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔

کرغزستان میں چینی کھانے کی نو لازمی اشیاء میں سے ایک ہے۔ وزارت زراعت، آبی وسائل و خوراک کی تیاری کی صنعت ملک میں چینی کی ترسیل پر کنٹرول رکھتی ہے جبکہ اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اختیار انسداد اجارہ داری ادارے کے پاس ہے۔

قومی شماریاتی کمیٹی کے مطابق، کرغزستان میں چینی تیار کرنے کے چار کارخانے ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک یعنی جے ایس سی کائندی کانت فعال ہے۔ جے ایس سی کوشوئی، جے ایس سی اپروسخ اور بیلووود اسکوئے نامی چینی کے کارخانے خالی ہاتھ بیٹھے ہیں۔ یہ تمام کارخانے سوویت دور میں تعمیر کیے گئے تھے۔

"[سوویت] یونین کی تحلیل کے بعد، چینی کی صنعت بتدریج سست روی کا شکار ہوگئی"، جے ایس سی اپروسخ کارخانے کے ڈائریکٹر الیگزینڈر باربلات نے کہا۔ "چینی کی پیداوار کے لحاظ سے گزشتہ تین سال کا عرصہ سب سے دشوار رہا ہے"۔

باربلات نے کہا کہ کائندی کانت کی جانب سے غیر سازگار شرائط کی پیشکش کے باعث کاشتکاروں نے زیادہ منافع بخش زرعی فصلیں کاشت کرنا شروع کر دی ہیں۔

"ویتکا" کھیتوں کے مالکان کے مطابق، کائندی کانت چینی کے کارخانے کی سابق انتظامیہ کا کہنا تھا کہ چقندر کارخانے کی مشینوں میں پھنس جاتے تھے اور ان سے کوئی چینی نہیں نکلتی تھی۔ لہٰذا کھیتوں کے مالکان مجبور ہو کر چقندر کو چارے کے طور پر استعمال کرنے لگے۔

شماریاتی کمیٹی نے بتایا کہ گزشتہ سال کرغزستان میں چینی بالکل پیدا نہیں ہوئی۔ 2008 میں ملک میں 10,700 ٹن چینی پیدا ہوئی تھی۔ 2006 سے 2008 تک چینی کی پیداوار میں 81.3 فیصد کمی واقع ہوئی۔ باربلات نے اسے بلاجواز کمی قرار دیا۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لئے درآمدات پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ قومی بینک سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، 2009 کے دس ماہ کے دوران کرغزستان میں 72,100 ٹن چینی درآمد کی گئی۔ زیادہ تر بیلاروس سے درآمد کی جانے والی اس چینی کی اوسط قیمت 555 امریکی ڈالر فی ٹن تھی۔ تاہم، یہ درآمدات بھی چینی کی طلب کو پورا نہ کر سکیں جو اس وقت 115,000 ٹن ہے۔

شماریاتی اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر 2009 کے بعد سے کرغزستان میں چینی کی قیمت میں 16.8 فیصد اضافہ ہو چکا ہے حالانکہ ترگن بائیف نے چینی کی مستحکم قیمتوں کی پیش گوئی کی تھی۔

باربلات مختلف اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گزشتہ دو ماہ کے عرصے میں بیلاروس سے درآمد کی جانے والی چینی کی قیمت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

"اس وقت چینی کی مارکیٹ میں اضطراب چھایا ہوا ہے"، باربلات نے کہا۔ "قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور ملک کے چینی کے کارخانے خالی ہاتھ بیٹھے ہیں۔ اس طرح کی غیر یقینی صورت حال میں کسی قسم کی پیش گوئی کرنا کافی مشکل ہے"۔

معیار کی ترقی اور غذائی سلامتی کے محکمے کی خاتون سربراہ علیم کن منصوروفا نے کہا کہ کرغزستان اس وقت نازک صورت حال کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ ملک میں پیدا ہونے والی چینی کی مقدار ناکافی ہے۔

"ہم تقریباً 90 فی صد (چینی) درآمد کرنے پر مجبور ہیں اور یہ صورت حال ہمارے لئے انتہائی خطرناک ہے"، انہوں نے کہا۔ باربلات بھی ان کی بات سے متفق دکھائی دیتے ہیں۔ "اگر ملک میں چینی کی صنعت کو بالکل ختم کر دیا گیا تو دوسرے ملک چینی کی قیمت طے کریں گے جسے خریدنا عوام کے بس سے باہر ہو گا"۔

حکومت چینی کی درآمد کا کوٹہ مقرر کرتی ہے اور وہ اسے کائندی کانت، کوشوئی اور کوکا کولا کے کارخانوں پر نافذ کر رہی ہے۔

"اگر کوٹہ نہ مقرر کیا جاتا تو کارخانے دیوالیہ ہو جاتے اور وہ باتیں قصہ پارینہ بن جاتیں کہ کبھی ہم تمام وسطی ایشیا کو چینی فراہم کیا کرتے تھے۔ کرغزستان کسی زمانے میں وسطی ایشیا میں سب سے زیادہ چینی پیدا کرنے والے ملک کی عظمت رفتہ کو دوبارہ کبھی حاصل نہیں کر سکے گا"، باربلات نے کہا۔ "ہم ایک نازک موڑ پر آن پہنچے ہیں اور حکومت کے سہارے کے بغیر ہم اس صنعت کو بحال نہیں کر سکتے"۔

چوئی اوبلاست کے ایک کاشتکار مخست بیک نے کہا کہ کئی سال پہلے وہ چقندر اگایا کرتے تھے لیکن مبینہ طور پر بہت زیادہ مٹی اور چینی کی ناکافی مقدار جیسی مختلف وجوہات کی بناء پر کارخانوں کے منتظمین نے انہیں ادا کی جانے والی رقم گھٹا دی، جس کے باعث فصل کی کاشت غیر منافع بخش ہو گئی۔

اب وہ یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ آئندہ موسم میں کارخانوں کا کاشتکاروں کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔ اگر شرائط منافع بخش محسوس ہوئیں تو وہ دوبارہ چقندر اگانا شروع کر دیں گے۔

"اعتماد کی بحالی میں کئی سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ لیکن اب حکومت، صنعت کار اور کاشتکار ایک مشترکہ مفاد کے لئے متحد ہیں۔ اس سے یہ امید پیدا ہو چلی ہے کہ حالات بہتری کی جانب مائل ہو جائیں گے"، باربلات نے کہا۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 8)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • اس معلومات کے لئے بہت شکریہ۔ اگر ممکن ہو سکے تو برائے مہربانی چینی کے ان کارخانوں کا پتا، ای میل اور فون نمبر شامل کر دیں۔ شکریہ، رافعان

    March 8, 2010 @ 12:03:00AM
    کورش
  • میں قازقستان کی چینی کی صنعت کی ترقی کے لئے 50,000 سوم کی سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہوں۔ اس سے زیادہ میرے پاس رقم نہیں۔ دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی صنعت ہونا بہتر ہے۔ یہ طویل عرصے تک موجود رہے گی۔

    March 1, 2010 @ 06:03:00AM
    kkm
  • میں قازقستان کی چینی کی صنعت کی ترقی کے لئے 50,000 سوم کی سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہوں۔ اس سے زیادہ میرے پاس رقم نہیں۔ دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی صنعت ہونا بہتر ہے۔ یہ طویل عرصے تک موجود رہے گی۔

    March 1, 2010 @ 06:03:00AM
    kkm
  • بلند قیمتوں کے باعث چینی کا ذائقہ بھی تلخ ہو گیا ہے۔ ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔

    February 5, 2010 @ 01:02:00AM
    leyla