قازقستان عالمی بینک سے ایک ارب امریکی ڈالر کا قرض لے گا

بعض افراد کا کہنا ہے کہ قرض قازق سرمایہ کاری کو متنوع بنانے میں مدد دے گا لیکن دیگر نے اس کی ضرورت پر اعتراض کیا ہے

کاپیزا نور تازینا

2010-01-13

آستانہ، قازقستان – قازقستان کی جانب سے عالمی بینک سے ایک ارب امریکی ڈالر قرض لینے کے ارادے پر ماہرین اقتصادیات کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا گیا ہے۔

31 دسمبر 2009 کو قرض کا اعلان کرتے ہوئے معیشت و بجٹ کی منصوبہ بندی کے وزیر باخت سلطانوف نے کہا تھا کہ یہ رقم 2010 میں بجٹ خسارے کے کچھ حصے پر قابو پانے کے لئے استعمال کی جائے گی اور غیر ملکی کرنسی بانڈوں کے اجراء کو مؤخر کرے گی۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق قازقستان کا بجٹ خسارہ 4 ارب 90 کروڑ امریکی ڈالر یا مجموعی ملکی پیداوار کا 4.1 فیصد ہے۔

قازقستان میں عالمی بینک کے اعلٰی ترین ماہر اقتصادیات جان لٹواک نے کہا کہ بینک ایک ارب امریکی ڈالر مالیت کا ممکنہ ترقیاتی پالیسی قرض دینے پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ قرض حکومت کے اقتصادی پروگرام کی مدد کے طور پر 2010 میں قازقستان کے متوقع بجٹ خسارے میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو گا"۔

لیکن قازقستان کے ایک نامور ماہر اقتصادیات اولزہاس خدائی برگینوف نے قرض کی ضرورت پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا "وہ ملک جس کے قومی فنڈ میں 45 ارب امریکی ڈالر جمع ہوں اس کو چین سے 13 ارب امریکی ڈالر اور عالمی بینک سے ایک ارب امریکی ڈالر کا قرض لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مزید برآں، ایک سنجیدہ اقتصادی ذہن کے نقطہ نظر سے ایک ہاتھ سے رقم دے کر دوسرے ہاتھ سے واپس مانگ لینا سمجھ سے بالاتر ہے"۔

"غیر ملکی کرنسی بانڈوں کے اجراء کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ بجٹ خسارہ، جہاں قرض سے حاصل کی گئی رقم استعمال کی جائے گی، ٹینگے (قازق کرنسی) میں اخراجات سے ہوا ہے۔ مجموعی صورت حال کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران حکومت نے بہت سے ایسے کام کیے جو ملکی حالات اور اس کی ضروریات سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے تھے"، انہوں نے کہا۔

لیکن قازقستان میں سوروس فاؤنڈیشن کے مالیات عامہ میں شفافیت پروگرام کے ایک پالیسی مشیر زہانی بیک خاسان نے کہا "نمو پذیر اور تغیر پذیر معیشتوں والے ملکوں میں ایک ارتقاء پذیر جمہوری حکومت کو بین الاقوامی اداروں کے اضافی فنڈز تک رسائی ہونی چاہیئے۔ اسی دوران، یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ قرضہ جات اور ان کا استعمال شفاف ہو اور حکومت اس کے لئے نہ صرف قرض دہندہ بلکہ مجموعی طور پر معاشرے کے سامنے بھی جوابدہ ہو کیونکہ بالآخر یہ وسیع معاشرہ ہی ہے جو اپنے ٹیکسوں کے ذریعے اس قرض کا کچھ حصہ واپس ادا کرے گا"۔

انہوں نے کہا کہ قرض کا جواز موجود ہے۔ "درحقیقت، عالمی بینک کا قرض مختلف جگہوں سے قرض لینے، شرح سود، قرض کے انتظام اور قرض واپس کرنے کے نقطہ نظر سے حکومت کے لئے سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ اس صورت حال میں طویل عرصے کے بعد واپسی کی شرائط پر ارزاں رقم کا حصول ایک اچھا موقع ہے۔ بنیادی چیز یہ ہے کہ سرمایہ کاری شفافیت، ذمہ داری اور جوابدہی کے ساتھ تقسیم یا خرچ ہو"۔

الماتی کے ایک آزاد ماہر اقتصادیات مگبت اسپانوف نے کہا "اس سے یہ ایک بار پھر ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت گزشتہ سال کے دوران مختص کی گئی رقوم کے نتائج سے کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچی ہے۔ اگر یہ قرض بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی کے پروگراموں کے لئے حاصل کیا جا رہا ہے تو پھر یہ قرض لینا چاہیے، لیکن اگر اس کا مقصد موجودہ ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینا یا سماجی امداد کی ادائیگیوں کے لئے استعمال کرنا ہے تو پھر یہ ملک کے قومی مفادات کے خلاف ہے"۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 3)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • ملک کو ابھی تک کچھ نہیں ملا اور وہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہم امریکیوں کے لیے زندگی پر سکون بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم سونے کی کھدائی کی صنعت کو فروغ دیں اور ٹینگی کو ڈالر سے جوڑ دیں تو ہماری زندگی بھی آسان ہو سکتی ہے۔ لیکن افسوس۔ ۔ ۔

    September 17, 2011 @ 02:09:00AM
    Юрий