کرغزستان میں منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کی کوششوں کے اعداد و شمار کی اشاعت
رواں برس کرغزستان میں سات ٹن سے زائد منشیات پکڑی گئی ہے جس کا 66 فی صد حصہ ہیروئن اور افیون پر مشتمل ہے۔
طائر شمشائیف
2009-12-07
کرغزستان ۔ کرغزستان میں منشیات کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے ذمہ دار سلامتی کے اداروں نے اطلاع دی ہے کہ رواں برس انہوں نے سات ٹن سے زائد منشیات پکڑی ہے جس کا 66 فی صد حصہ ہیروئن اور افیون پر مشتمل ہے۔
20 نومبر کو وزارت برائے امورِ داخلہ کے پریس دفتر نے بتایا کہ روس، کرغزستان اور قازقستان کے سلامتی کے اداروں نے روس کے التائی علاقے میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران وسطی ایشیا کے ملکوں سے گزر کر روس جانے والی منشیات کی ترسیل کے ایک اہم راستے کے رابطہ کاروں کو گرفتار کرلیا۔
حالیہ مہینوں میں وسطی ایشیائی ملکوں کے درمیان منشیات سے متعلق جرائم کے سلسلے میں تعاون کہیں زیادہ قریب اور مؤثر ہو چکا ہے اور اس کے نتیجے میں روس میں ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم کی گئی ہے جس میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ یہ ڈیٹا بیس رواں ماہ کے اختتام پر فعال ہو جائے گی۔ اس کے لئے معلومات مشترکہ سلامتی معاہدہ تنظیم کے رکن ممالک نے فراہم کی ہیں۔
رواں برس کرغزستان کے سلامتی کے اداروں کی جانب سے سب سے بڑی کارروائی اگست میں کی گئی جس میں انہوں نے افغانستان سے آنے والی افیون کی ایک بڑی کھیپ پکڑلی جس کی مالیت 70 لاکھ ڈالر سے زائد تھی۔
وزارت برائے امورِ داخلہ کے پریس دفتر کے سربراہ باکت سیتوف نے بتایا کہ کچھ عرصے سے اپنے پیٹ میں چھپا کر منشیات لے جانے والے آلہ کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس کے دوران درجنوں "انسانی صندوقوں" کو گرفتار کیا گیا ہے۔
"بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں کرغزستان منشیات کا نہ صرف سب سے بڑا ترسیل کنندہ بن چکا ہے بلکہ اس میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہوگئی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق، اس کی پانچ فی صد سے زائد آبادی منشیات کی سخت اقسام کے نشے میں مبتلا ہے"، غیر سرکاری تنظیم، منشیات کے خلاف والدین، کے ڈائریکٹر عمر برخانوف نے کہا۔
کرغزستان میں منشیات کے غیر قانونی پودوں، بالخصوص بھنگ کے کھیتوں، کو تلف کرنے کا مسئلہ انتہائی شدت اختیار کر چکا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق، 10,000 ہیکٹر رقبے پر مشتمل بھنگ کے کھیتوں کو تلف کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ حکام انہیں تلف کرنے کے عمل میں مقامی باشندوں کی شمولیت چاہتے ہیں اور وہ اس مقصد کے لئے وسیع پیمانے پر شعور بیدار کرنے کی ایک مہم کا آغاز کریں گے۔














رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )