ال- شباب: صومالیہ کی بحری قذاقی اور دہشت گردی سے اس کے تعلق کا ایک جائزہ

حال ہی میں مغربی توجہ اُس وقت ال- شباب کی طرف مبذول ہو گئی جب اپریل میں صومالی قذاقوں نے امریکہ کے تجارتی جہاز کو بحیرہ ہند میں اغوا کر لیا۔ یہ جھگڑا 12 اپریل کو اس وقت ختم ہوا جب امریکہ کی بحریہ کے نشانہ بازوں نے ان قذاقوں میں سے تین کو ہلاک کر دیا اور امریکہ کے جہاز کے کپتان رچرڈ فیلپس کو آزاد کروا لیا۔

گل مینڈس، سینئر ایڈیٹر سی اے / ال شورفا آن لائن

2009-04-16

ال- شباب (جو کہ نوجوانوں کی جماعت کے نام سے بھی جانی جاتی ہے) صومالی جہادیوں سے الگ ہو کر بنی ہوئی ایک انتہا پسند جماعت ہے۔ اس کا قیام 2006 میں اس وقت ہوا تھا جب ایتھوپیا نے صومالیہ پر حملہ کیا تھا اور جس کے بعد ایک صومالی عبوری حکومت قائم کی گئی تھی۔ اسے امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، ناروے کی پولیس سیکورٹی سروس اور سویڈن کی سیکورٹی سروس نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) قرار دیا ہوا ہے۔

حال ہی میں مغربی توجہ ال- شباب کی طرف مبذول ہو گئی جب اپریل میں صومالی بحری قذاقوں نے امریکہ کے تجارتی جہاز کو بحیرہ ہند میں اغوا کر لیا۔ یہ جھگڑا 12 اپریل کو اس وقت ختم ہوا جب امریکہ کی بحریہ کے نشانہ بازوں نے بحری قذاقوں میں سے تین کو ہلاک کر دیا اور امریکہ کے جہاز کے کپتان رچرڈ فیلپس کو آزاد کروا لیا۔

اگرچہ کہ اس واقعہ اور ال- شباب یا کسی دوسرے دہشت گرد گروہ کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں کیا جا سکا ہے مگر جینز ڈیفینس ویکلی میں ایک حالیہ رپورٹ نے صومالی قذاقوں اور ال- شباب کے درمیان ایک واضح مالیاتی تعلق کی شناخت کی ہے۔ خاص طور پر قسمایو کے قذاق ال- شباب کے ساتھ تعاون کرتے ہیں مگر ال-شباب کے ارکان بظاہری طور پر قذاقی کے کسی عمل میں فعال کردار ادا نہیں کرتے ہیں۔

واشنگٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی معاملات کے ایلیٹ سکول کے معاون پروفیسر ڈیوڈ شِین کے مطابق ال- شباب کچھ بحری قذاقوں سے تاوان میں اکٹھی کی جانے والی رقم کا پانچ سے دس فیصد حصہ تحفظ کی فیس کے طور پر لیتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر وہ بحری قذاقوں کی تربیت کریں تو وہ 20 فیصد تک حصہ وصول کر سکتے ہیں۔ اگر ال- شباب کسی آپریشن کے لیے رقم فراہم کرے تو اس کا حصہ 50 فیصد تک بھی ہو سکتا ہے۔

شِین نے کہا کہ اس بات کے ثبوت بڑھتے جا رہے ہیں کے قذاق ال- شباب کو ہتھیاروں کی سمگلنگ میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک خود مختار بحری فوج بنا رہے ہیں تاکہ وہ غیر ملکی جہادی جنگجووں اور "خصوصی ہتھیاروں" کو صومالیہ میں سمگل کر سکیں۔

قومی سیکورٹی کے بہت سے اعلی حکام نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ال- شباب کی تیزی سے وسعت، اس کے راہ نماوں اور القاعدہ کے درمیان تعلق اور اس کے کیمپوں میں امریکہ اور یورپ میں پیدا ہونے والے جنگجووں کی موجودگی نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا صورت حال پیشگی حملے کا تقاضا کرتی ہے کہ نہیں۔

انسدادِ دہشت گردی کے ایک امریکی آفیسر نے کہا کہ "اس بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش موجود ہے کہ صومالیہ میں کام کرنے والے دہشت گرد کیا کر سکتے ہیں"۔ اس کے علاوہ ال- شباب کے کیمپوں سے کئی ہزار جنگجو تیار ہو چکے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس کی ایجنسیوں نے کہا کہ حالیہ سالوں میں کم از کم بیس افراد امریکہ کو چھوڑ کر صومالیہ گئے ہیں تاکہ وہ ال- شباب کے ساتھ مل کر لڑیں اور ان سے تربیت حاصل کریں۔ یہ جنگ صومالیہ کی حکومت اور ایتھوپیا کی فوجوں کے قبضے کے خلاف ہے۔ فروری میں امریکہ کے ایک 27 سالہ شہری شیروا احمد، جن کا تعلق منی ایپلس، منیسوٹا سے تھا، نے صومالیہ میں ایک خود کش دھماکے میں اپنے آپ اور کئی دیگر افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 0)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • صومالیہ میں زیادہ تر برائیوں کی ذمہ داری غربت پر عائد ہوتی ہے۔ لوگوں کے پاس بہت سا فالتو وقت ہے اور کوئی امید نظر نہیں آتی ہے ، تو پھر ایسا تو ہونا ہی تھا، مایوسی کے حالات میں بد ترین اقدامات ہی کیے جاتے ہیں۔ اگر وہ تمام آدمی تعلیم یافتہ ہوتے اور اپنی نوکریوں میں مصروف ہوتے تو یہ سب کچھ کبھی بھی نہ ہوتا۔ اس بات سے قطعہ نظر کہ ان قزاقوں کی مدد کون کر رہا ہے یا وہ کس سے تعلق رکھتے ہیں، وہ مفلسی کی پیداوار ہیں۔ اگر عالمی برادری مل کر غریب ممالک کی مدد کے لیے کسی منصوبہ کو تیار نہ کر سکی تو ہمیں اس سے بھی زیادہ بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    April 17, 2009 @ 12:04:00AM Anonymous